29/09/2025
گزشتہ قسط میں ہم نے یزید پلید کے حق میں پیش کیے جانے والے تین جھوٹے دفاع کا تفصیلی رد پیش کیا تھا
① پہلا جھوٹا دفاع یہ تھا کہ "یزید کو ڈسکس کرنا ضروری نہیں" تو ہم نے واضح کیا کہ جب معاملہ جنت و جہنم تک جا پہنچے تو پھر خاموش رہنا جرم ہے
② دوسرا جھوٹا دفاع یہ تھا کہ "یزید پلید پرانی اُمت میں سے تھا" جس پر ہم نے دلائل سے ثابت کیا کہ یزید نہ صحابی ہے نہ تابعی بلکہ فسق و فجور میں ڈوبا ہوا شخص تھا
③ تیسرا جھوٹا دفاع یہ تھا کہ "صحابہ کرام نے یزید کی بیعت کر لی تھی" جس پر ہم نے صحیح بخاری اور ابن کثیر کے حوالے سے بیان کیا کہ یہ بیعت تلوار اور جبر کے زور پر لی گئی تھی نہ کہ رضامندی سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب آگے بڑھتے ہیں اور دیکھتے ہیں اگلے جھوٹے دفاع کی حقیقت۔ ✅
جھوٹا دفاع نمبر ۴
یزید تابعی شمار ہوتا تھا اور نبی ﷺ کی حدیث ہے کہ "جس نے مجھے دیکھا اور جس نے میرے دیکھنے والے کو دیکھا اس کو جہنم کی آگ نہ چھوئے گی" لہذا یزید جہنمی نہیں۔
ردِّ دفاع برائے حسّان ✅
واہ! اگر یہ اصول مان لیا جائے تو پھر مروان، ابن زیاد، حجاج بن یوسف اور خوارج بھی سب جنتی ٹھہرتے ہیں کیونکہ وہ سب تابعی شمار ہوتے ہیں! لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ حدیث صالح تابعین کے بارے میں ہے، نہ کہ فساق و فجّار کے بارے میں۔
❌ خود قرآن نے بتایا ہے کہ مجرمین کا حسب و نسب یا صرف کسی بزرگ کو دیکھ لینا انہیں نجات نہیں دلا سکتا۔
📚 دلائل:
1. مسند احمد کی حدیث ہے:
"الخوارج کلاب النار" یعنی "خوارج جہنم کے کتے ہیں" (مسند احمد 27761)
کیا خوارج تابعی نہ تھے؟ مگر رسول اللہ ﷺ نے ان کا انجام جہنم بتایا۔
2. صحیح مسلم (حدیث 2865) میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا واقعہ موجود ہے جب وہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے جسدِ اطہر کو دیکھ کر فرما رہے تھے:
"اللہ کی قسم! آپ کثرت سے روزہ رکھنے والے، کثرت سے قیام کرنے والے، اور صلہ رحمی کرنے والے تھے۔ وہ امت جس میں آپ جیسے کو بدترین کہا جائے تو پھر وہ امت تو بہترین ہو گی۔"
یہ کس نے کیا؟ یہی حجاج بن یوسف ثقفی جو تابعی تھا، مگر امت کا سب سے بڑا سفاک ثابت ہوا۔
3. حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے حجاج کو صاف کہہ دیا تھا:
"تو نے عبداللہ (بن زبیر) کی دنیا خراب کی اور اس نے تیری آخرت برباد کر دی۔ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بتایا تھا کہ بنو ثقیف میں ایک بڑا کذاب اور ایک بڑا سفاک ہوگا۔ کذاب کو ہم نے دیکھ لیا، اور سفاک تو تیرے سوا کوئی نہیں!" (صحیح مسلم 2545)
📌 تو معلوم ہوا کہ صرف تابعی ہونا یا صحابی کو دیکھ لینا کسی کی جنت کی ضمانت نہیں۔ اصل کسوٹی ایمان اور اعمال ہیں۔
⚔️ جھوٹا دفاع نمبر ۵
📌 دعویٰ
بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضرت علی کے بیٹے حضرت محمد بن حنفیہ نے یزید کی کافی تعریف کی ہے۔ اور جب ان سے پوچھا جائے کہ کہاں لکھا ہے تو وہ ابن کثیر کی البدایہ والنہایہ کا حوالہ دے دیتے ہیں۔
📌 ردِّ دفاع برائے حسّان
سب سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ یہ وہی روایت ہے جسے یہ لوگ اپنی عادت کے مطابق ادھورا پڑھتے ہیں اور عوام کو دھوکا دینے کے لیے صرف وہی حصہ دکھاتے ہیں جو ان کے مطلب کا ہو۔ لیکن جب پوری روایت سامنے رکھی جائے تو ان کا جھوٹ چاک ہو جاتا ہے۔
البدایہ والنہایہ جلد ۸ صفحہ ۲۹۵ پر واقعہ اس طرح بیان ہوا ہے:
> جب اہلِ مدینہ یزید کے پاس سے واپس آئے تو حضرت عبداللہ بن مطیع اور ان کے اصحاب حضرت محمد بن حنفیہ کے پاس گئے اور چاہتے تھے کہ آپ بھی یزید کو معزول کرنے کے فیصلے میں شامل ہوں۔
حضرت محمد بن حنفیہ نے ان کی بات نہ مانی تو ابن مطیع نے کہا: "یزید شراب نوش ہے، نماز چھوڑتا ہے اور کتاب اللہ کے فیصلے سے تجاوز کرتا ہے۔"
اس پر محمد بن حنفیہ نے فرمایا: "جو تم بیان کرتے ہو میں نے تو یہ باتیں اس میں نہیں دیکھیں۔ میں اس کے پاس رہا ہوں، میں نے اسے نماز کا پابند اور خیر کا طالب پایا۔ وہ سنت کا پابند اور مسائلِ فقہ دریافت کرنے والا ہے۔"
اس پر انہوں نے کہا: "اس نے یہ سب کچھ آپ کے سامنے تصنع اور ڈرامے کے طور پر کیا ہے۔"
تو محمد بن حنفیہ نے فرمایا: "اسے مجھ سے کیا خوف یا امید ہے کہ وہ میرے سامنے عاجزی کا اظہار کرے؟ اور اگر واقعی اس نے تمہارے سامنے اپنی شراب نوشی کا ذکر کیا ہے تو تم خود بھی اس کے شریک ہو، اور اگر اس نے نہیں کیا تو پھر تمہیں جائز نہیں کہ تم اس بات پر گواہی دو جس کے متعلق تمہیں علم نہیں۔"
یعنی یہاں حضرت محمد بن حنفیہ نے اصل میں دو باتیں کیں:
۱۔ اپنی آنکھوں دیکھی گواہی دی کہ یزید نے ان کے سامنے نمازیں پڑھیں اور اچھے اخلاق کا مظاہرہ کیا۔
۲۔ ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ اگر عبداللہ بن مطیع کا الزام درست ہے تو پھر وہ خود بھی شریک ہیں، اور اگر درست نہیں تو جھوٹ پر گواہی دینا حرام ہے۔
اس سے صاف ظاہر ہے کہ محمد بن حنفیہ نے کوئی قطعی "تزکیہ" یا "تائید" یزید کی ذات کے لیے نہیں دی، بلکہ صرف اتنا کہا کہ جو کچھ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، وہ وہی بیان کریں گے۔ اور ساتھ ہی یہ بھی واضح کر دیا کہ یزید کی اصلیت کچھ اور بھی ہو سکتی ہے، کیونکہ وہ ایک موقع پرست اور دکھاوا کرنے والا شخص تھا۔
یہ روایت ہمارے مخالفین کے خلاف خود ان کے گلے کا پھندا ہے۔
✔️ ایک طرف محمد بن حنفیہ فرما رہے ہیں کہ "جو میں نے دیکھا وہ بتا رہا ہوں"۔
✔️ دوسری طرف حضرت عبداللہ بن مطیع جیسے صحابی کھلم کھلا اعلان کر رہے ہیں کہ "یزید شراب پیتا ہے، نماز چھوڑتا ہے، اور قرآن کے خلاف فیصلے کرتا ہے"۔
⚔️ جھوٹا دفاع نمبر ۶
دعویٰ
یزیدی وکیل صفائی کہتے ہیں کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کو یزید نے نہیں بلکہ کوفیوں نے قتل کیا تھا۔ یزید کا اس میں کوئی کردار نہیں۔
رد دفاع برائے حسّان
بلکل! امام حسین علیہ السلام کو کوفیوں نے شہید کیا تھا، مگر سوال یہ ہے کہ وہ کوفی کون تھے❓
یہ وہی کوفی تھے جو یزید کے گورنر عبیداللہ بن زیاد کے کنٹرول میں تھے۔ وہ یزید کی حکومت اور امیرِ شام کی پالیسی کے تحت چلنے والے لوگ تھے۔
یعنی قاتل یزید کے گورنر کے ماتحت فوجی تھے، نہ کہ آزاد عوام۔ اس کو ایسے سمجھو جیسے آج پنجاب ایک صوبہ ہے اور اگر وہاں کوئی ظلم ہو تو اس کا براہ راست ذمہ دار صوبے کا گورنر اور بالآخر پورے ملک کا حکمران ہوتا ہے۔
📌 مسئلہ ذمہ داری
یزیدی دفاع کرنے والوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ تاریخ میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا مشہور قول ہے:
"اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاس سے مر جائے تو اس کا ذمہ دار میں ہوں گا۔"
اب سوال یہ ہے❓
اگر ایک جانور کی ہلاکت کا ذمہ دار خلیفہ ہے تو نواسۂ رسول ﷺ کی شہادت کا ذمہ دار کون ہوا؟
کیا یہاں حضرت عمر کا اصول لاگو نہیں ہوگا؟
یقیناً ہوگا۔ اور اس سے صاف ثابت ہے کہ یزید براہ راست اس جرم کا ذمہ دار ہے کیونکہ وہ اس وقت پوری امت کا نام نہاد حکمران تھا۔
یہ قسط نمبر ۲ کا اختتام ہے۔
اب بھی یزیدی وکیلوں کے کئی جھوٹے دفاع باقی ہیں۔ ان شاء اللہ اگلی دو اقساط میں ہم مزید ان کے "مذموم دلائل" کا بوسیدہ پردہ ہٹائیں گے۔
وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَىٰ
(سلامتی ہو اُن پر جنہوں نے ہدایت کی پیروی کی)
✍️ حسّان محسن
29/09/2025
29/09/2025
29/09/2025
29/09/2025