11/09/2019
Tuition Mathematics and Physics
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Tuition Mathematics and Physics, Education, Utility Store Pindi Road Togh Bala Kohat, Kohat.
11/09/2019
29/07/2019
Right
ریاضی سے کیا ناراضی۔ ۔ ۔!
دسویں قسط
۔
طاق اعداد(Odd Numbers):O
طاق کا مطلب ہے یکتا یعنی جس کا جوڑا نہ بن سکے لہٰذا
" ایسے اعداد جن کے مکمل جوڑے نہ بن سکیں، طاق اعداد(Odd Numbers) کہلاتے ہیں۔ "
٭طاق اعداد کو O سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ یہ 1 سے شروع ہوتے ہیں، (1,3,5,…..) طاق اعداد ہیں۔
1 کا جوڑا نہیں بنتا اس لیے یہ پہلا طاق عدد ہے۔ 3 میں ایک جوڑا بنتا ہے 1 اور 2 کا لیکن 3 کا جوڑا نہیں بنتا اس لیے 3 اگلا طاق عدد ہے۔ یہ سلسلہ اسی طرح لامحدود بڑھتا چلا جاتا ہے۔
نوٹ: طاق اعداد مثبت اور منفی دونوں ہو سکتے ہیں۔
جفت اعداد(Even Numbers):E
جفت کا مطلب ہے جوڑا۔ لہٰذا
" ایسے اعداد جن کے مکمل جوڑے بن سکیں، جفت اعداد(Even Numbers) کہلاتے ہیں۔ "
٭جفت اعداد کو E سے ظاہر کیا جاتا ہے۔یہ 2 سے شروع ہوتے ہیں، (2,4,6,…..) جفت اعداد ہیں۔
نوٹ: جفت اعداد مثبت اور منفی دونوں ہو سکتے ہیں۔
مفرد اعداد(Prime Numbers):P
مفرد کا مطلب ہوتا ہے جدا یا الگ تھلگ۔ یہ اس لحاظ سے مفرد یعنی الگ تھلگ ہوتے ہیں کہ اپنے علاوہ کسی اور عدد پر تقسیم نہیں ہوتے۔ دوسرے لفظوں میں یہ صرف اپنے آپ پر ہی قابلِ تقسیم ہوتے ہیں۔اگرچہ یہ اپنے علاوہ 1 پر بھی تقسیم ہو جاتے ہیں لیکن چونکہ 1 پر تقسیم کرنے سے کسی عدد پر کوئی فرق نہیں پڑتا اس لیے 1 پر تقسیم غیرواضح سمجھی جاتی ہے۔ لہٰذا
" ایسے اعداد جو صرف اپنے آپ پر ہی قابلِ تقسیم ہوں، مفرد اعداد(Prime Numbers) کہلاتے ہیں۔ "
٭مفرد اعداد کو P سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ یہ 2 سے شروع ہوتے ہیں۔ 1 کو مفرد عدد شمار نہیں کیا جاتا کیونکہ یہ فقط اپنے آپ پر ہی تقسیم ہو سکتا ہے اور اس کی اپنی تقسیم غیرواضح ہے۔ (2,3,5,7,11,13,17,19,…..) مفرد اعداد ہیں۔
نوٹ: مفرد اعداد مثبت صحیح ہوتے ہیں۔
مرکب اعداد(Composite Numbers)K
مرکب کا مطلب ہے مخلوط یا ملا جُلا۔ یہ اس لحاظ سے مرکب یعنی ملے جُلے ہوتے ہیں کہ اپنے علاوہ کسی اور عدد پر بھی تقسیم ہو جاتے ہیں۔ معنی کے لحاظ سے مرکب، مفرد کا الٹ ہے۔ یعنی مرکب اعداد، مفرد اعداد کا الٹ(بلحاظ معنی) ہوتے ہیں۔
" ایسے اعداد جو اپنے آپ کے علاوہ کسی اور عدد پر بھی قابلِ تقسیم ہوں، مرکب اعداد(Composite Numbers)
کہلاتے ہیں۔ "
٭مرکب اعداد کو K سے ظاہر کیا جا سکتا ہے جو کہ رشین لفظ(Kompozitnyy) سے لیا گیا ہے۔ مرکب اعداد کو C سے اس لیے ظاہر نہیں کیا جاتا کہ کمپلیکس اعداد کو C سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ مرکب اعداد 4 سے شروع ہوتے ہیں یعنی پہلا مرکب عدد 4 ہے۔ (4,6,8,9,10,12,14,15,…..) مرکب اعداد ہیں۔
نوٹ: مرکب اعداد مثبت صحیح ہوتے ہیں۔
صحیح اعداد(Integers):Z
ریاضی کی اصطلاح میں لفظ "صحیح" کا مطلب ہوتا ہے پوری شے کا شمار یا گنتی۔ یعنی ایسی شے یا اشیاء جن کو توڑا نہ گیا ہو ان کو شمار کریں تو اس شمار کو ایک صحیح عدد کی صورت میں لکھا جاتا ہے۔
" ایسے اعداد جو مکمل یا پوری اشیاء کا شمار ظاہر کریں، صحیح اعداد(Integers) کہلاتے ہیں۔ "
٭صحیح اعداد کو Z سے ظاہر کیا جاتا ہے جو کہ ایک جرمن لفظ "Zahlen" سے لیا گیا ہے۔ صحیح اعداد کو I سے اس لیے ظاہر نہیں کیا جاتا کیونکہ غیر ناطق اعداد کو I سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ صحیح اعداد کسی سمت میں ہو سکتے ہیں اس لئے یہ مثبت بھی ہو سکتے ہیں اور منفی بھی۔ لہٰذا یہ دو قسم کے ہوتے ہیں۔
٭مثبت صحیح اعداد(Positive Integers)Z+: +1,+2,+3,….. مثبت صحیح اعداد ہیں۔
٭منفی صحیح اعداد(Negative Integers)Z-: -1,-2,-3,….. منفی صحیح اعداد ہیں۔
اگر مثبت اور منفی صحیح اعداد کو اکٹھا لکھا جائے تو یوں لکھا جاتا ہے۔ (…..,-3,-2,-1,0,+1,+2,+3,…..)۔ مثبت اور منفی ہونے کی وجہ سے یہ دونوں سمتوں میں بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ نوٹ کریں کہ صفر0 نہ مثبت ہوتا ہے نہ منفی کیونکہ یہ کسی سمت میں نہیں ہوتا اور جب مثبت اور منفی صحیح اعداد کو اکٹھا لکھا جائے تو یہ ان کے درمیان میں آتا ہے۔
٭یاد رکھیں صحیح اعداد کا اصل مقصد سمت ظاہر کرنا نہیں بلکہ پوری شے کا شمار ظاہر کرنا ہے۔
کسری اعداد(Fractional Numbers) یا کسور(Fractions):F
کسر کا مطلب ہوتا ہے کسی شے کے برابر حصوں(ٹکڑوں) میں سے کوئی حصہ(ٹکڑا)۔ گویا کہ کسری اعداد، صحیح اعداد کی طرح پوری شے کا شمار نہیں بلکہ کسی شے کے ایک یا زیادہ حصوں(ٹکڑوں) کا شمار ظاہر کرتے ہیں۔ لہٰذا
" کسی شے کے برابر حصوں میں سے ایک یا زیادہ حصوں کا شمار ظاہر کرنے والے اعداد، کسری اعداد(Fractional Numbers) یا کسور(Fractions) کہلاتے ہیں۔ "
٭کسری اعداد کو F سے ظاہر کر سکتے ہیں۔ کسری اعداد کہاں سے شروع ہوتے ہیں یہ معین نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ان کے بڑھنے کی کوئی ترتیب مقرر کی جاسکتی ہے۔ کسری اعداد کو ہمیشہ دو حصوں میں لکھا جاتا ہے۔ اس کی ایک صورت بٹا لگا کر لکھنا جبکہ دوسری صورت اعشاریہ لگا کر لکھنا ہے۔(کسری اعداد کے بارے میں تفصیلی سبق اگلی پوسٹس میں آئے گا)۔
کسری اعداد کی کچھ مثالیں: 1/2,2/3,5/12 وغیرہ یا 1.7, 3.25,19.72 وغیرہ ہیں۔
٭کسری اعداد، صحیح اعداد کا الٹ ہوتے ہیں۔ یہ مثبت بھی ہو سکتے ہیں اور منفی بھی۔
سمتی اعداد(Directed Numbers):D
" ایسے اعداد جو سمت(Direction) ظاہر کریں، سمتی اعداد(Directed Numbers) کہلاتے ہیں۔ "
٭سمتی اعداد کو سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ کسری اعداد کی طرح ان کی ابتدا اور ترتیب بھی معین نہیں کی جاسکتی۔ یہ صحیح بھی ہو سکتے ہیں اور کسری بھی۔
ریاضی میں صفر(Zero) کا مقام ۔ ۔ ۔ !
۔
انسان کو حیوانِ ناطق کہا جاتا ہے۔ ناطق کا ایک معنی ہے "ذی عقل" یعنی "عقل رکھنے والا" اور اس کا دوسرا معنی ہے "بولنے والا"۔ گویا کہ انسان اپنی ضروریات پوری کرنے اور مسائل حل کرنے میں اپنی عقل سے کام لیتا ہے اور اپنے خیالات اور جذبات کا اظہار کرنے کے لیے کلام کرتا ہے۔ جب انسان نے کلام کو محفوظ کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی ضرورت محسوس کی تو اس نے لکھنا سیکھا۔ لکھنے کے لیے انسان کو اپنا کلام متشکل کرنا یعنی کسی شکل میں لانا تھا تو اس نے کچھ علامات(Symbols) جن کو حروف(Letters) کہتے ہیں، ایجاد کیں۔ حروف سے الفاظ(Words) بنے، الفاظ سے جملے(Sentences) اور جملوں سے کلام(Speech)۔ اس طرح انسان کا کلام مختلف زبانوں(Languages) میں متشکل ہو کر صفحات کی زینت بنا۔ اسی طرح انسان نے ریاضی(Mathematics) ایسی ایک خوبصورت زبان(Language) ایجاد کی جس سے اس نے نہ صرف اپنی دنیا(World) اور کائنات(Universe) کے حیرت انگیز مظاہر کو بیان کیا بلکہ اپنی روزمرہ زندگی کے مسائل کے حل بھی نکالے۔ ریاضی، علامتوں کی زبان(Language of Symbols) ہے۔ ریاضی کا کلام انہی علامات سے ہوتا ہے۔ ان علامتوں میں دس علامتیں، ہندسے(Digits) بھی ہیں۔ انسان گننے کے لیے اعداد(Numbers) استعمال کرتا ہے اور یہ اعداد، انہی دس ہندسوں سے بنائے جاتے ہیں۔ ان ہندسوں میں ایک ہندسہ 0 بھی ہے جسے صفر(Zero) کہتے ہیں۔ صفر کا مطلب ہے کچھ نہیں(Nothing) یا غیرموجودگی(Absence)۔ اب اگر یہاں پر یہ سوال(Question) اٹھایا جائے کہ اگر صفر خود "کچھ" ہے تو یہ "کچھ نہیں" کو کیسے ظاہر کر سکتی ہے۔ سوال بہت دلچسپ ہے!
جب انسان نے شمار یا گنتی(Counting) کے لیے علامات استعمال کرنا شروع کیں تو ان میں صفر کی علامت شامل نہیں تھی۔ پھر آگے چل کر انسان کی ضرورتیں بڑھیں اور انسان نے علامات کو بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ عددی نظام(Number System) بھی تشکیل دیے۔ عددی نظاموں کے لیے ایک اساس(Base) کی ضرورت پڑتی ہے۔ کسی شے کے شمار کی کوئی حد(Limit) مقرر نہیں کی جا سکتی اس لئے اعداد بھی بےشمار ہونے چاہئییں اور ہر عدد کے لیے ایک علامت یا ہندسہ استعمال کرنے سے بےشمار علامتوں یا ہندسوں کی ضرورت ہے۔ اتنے ہندسے ایجاد کرنا اور پھر ان کو یاد رکھنا ایک ناممکن جیسا کام تھا۔ اس ضرورت نے انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ پہلے سے موجود ہندسوں کو ہی استعمال کر کے اعداد بنائے جائیں۔ جیسے چند حروف سے بےشمار الفاظ بنائے جاتے ہیں۔ لیکن اعداد بنانے کے لیے ایک ترتیب بہت ضروری ہے۔ اس مسئلے کا یہ حل نکالا گیا کہ ایک شے یا اکائی(Unit) کی گنتی کرنے میں کرنے میں جب تمام ہندسے استعمال ہو جائیں تو ان بنیادی یونٹس یا اشیاء کو ملا کر ایک نیا اور بڑا یونٹ بنایا جائے اور پھر اسی ترتیب سے یہ سلسلہ جاری رکھا جائے تا کہ یونٹس کا شمار ایک حد سے نہ بڑھے اور پہلے سے موجود ہندسے ہی بار بار استعمال ہوتے رہیں۔(یاد رکھیں آئندہ ایک شے کے لیے یونٹ کا لفظ استعمال کیا جائے گا)۔ اس طرح انسان کو بےشمار اعداد بنانے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ اس طرح اساس کا تصور وجود میں آیا۔ انسان کے پاس اس وقت تک نو(Nine) ہندسے (1,2,3,4,5,6,7,8,9) موجود تھے اس طرح نو یونٹس کی گنتی تو ان سے کر لی گئی، مسئلہ تب پیدا ہوا جب دسواں یونٹ شامل ہوا۔ اِس کا حل یہ نکالا گیا کہ جب یونٹس دس ہو جائیں (یعنی بنیادی یونٹ دس گنا ہو جائے) تو ان کو ایک گروپ کی شکل میں اکٹھا کر کے ایک نیا اور بڑا یونٹ بنا لیا جائے تا کہ کوئی نیا ہندسہ نہ ایجاد کرنا پڑے۔ جب بنیادی یونٹس کو ملا کر ایک نیا یونٹ بن گیا تو بنیادی یونٹس ختم ہو گئے۔ اب اگر اس نئے یونٹ کو بھی محض 1 لکھا جاتا تو مسئلہ یہ تھا کہ یہ 1 تو بنیادی یونٹ کے لیے بھی استعمال ہو چکا تھا تو ان میں فرق کیسے پتہ چلتا؟ تو اس کا حل یہ تھا کہ نئے یونٹ کو بنیادی یونٹ کے بائیں طرف لکھا جائے تا کہ پتہ چلے کہ دائیں طرف بنیادی یونٹس ہیں اور بائیں طرف نئے یونٹس جو بنیادی یونٹ کا دس گنا تھے۔
اب یہاں پر بہت بڑا مسئلہ پیش آیا کہ بنیادی یونٹس بڑا یونٹ ملانے سے ختم ہو گئے ان کو کیسے ظاہر کیا جائے؟ یعنی کہ "کچھ نہیں" کو بھی ظاہر کرنا ضروری ہو گیا اور ظاہر ہے کہ اس "کچھ نہیں" کو ظاہر کرنے کے لیے "کچھ" چاہیئے تھا۔ اس طرح 0 ایجاد ہوا۔ یوں نیا یونٹ بننے کے بعد عدد 10 لکھا گیا جس کا مطلب ہے کہ بائیں طرف بڑا یونٹ ہے جس کی تعداد 1 ہے جب کہ دائیں طرف بنیادی یونٹ جس کی تعداد 0 ہو گئی ہے۔ پھر اسی طرح اعداد کو آگے بڑھایا گیا۔ بنیادی یونٹس کو ایک ایک ملا کر دس گنا کر کے پھر ایک بڑا یونٹ بنایا گیا۔ اسی طرح جب بڑا یونٹ بھی بڑھتے بڑھتے دس گنا ہو گیا تو ان بڑے یونٹس کو ملا کر مزید ایک نیا اور برا یونٹ بن گیا۔ یہ مزید بڑا یونٹ اپنے سے پہلے والے بڑے یونٹ کا دس گنا تھا۔ اسی طرح سے ہر نیا بننے والا یونٹ اپنے سے پہلے والے کا دس گنا ہوتا تھا اس لیے دس کو اس عددی نظام کی اساس قرار دیا گیا۔ یہ وہی نظام ہے جو آج بھی ہم اپنی روزمرہ زندگی میں استعمال کرتے ہیں۔ اس کے بعد مختلف اساسوں پر اور بھی کئی نظام بنے۔ 0 ہر نظام کا لازمی جزو ہے کیونکہ اس کے بغیر ناموجود یونٹس کو ظاہر کرنا ممکن نہیں۔ اب ذرا غور فرمائیے کہ 0 جس کو ہم بےقیمت سمجھتے ہیں اس کی کیا قیمت ہے؟؟؟! کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ صفر کو ہندسہ یا عدد نہیں کہنا چاہیئے کیونکہ ہندسہ یا عدد مادی طور پر موجود کسی شے کی تعداد کو ظاہر کرتا ہے تو جب کوئی شے ہو گی ہی نہیں تو اس کے لیے ہندسے یا عدد کا استعمال کیوں؟
جب ہم کسی شے کی مادی طور پر غیرموجودگی بتانا چاہتے ہیں تو اپنی زبان کے مطابق اس غیرموجودگی کے لیے کوئی نہ کوئی لفظ استعمال کرتے ہیں۔ لفظ ایک مادی وجود رکھنے والے شے ہیں لیکن اس سے ہم کسی دوسری شے کا "نہ ہونا" بتاتے ہیں۔ بالکل اسی طرح ریاضی اپنی زبان میں "نہ ہونے" یا "کچھ نہیں" کے لیے 0 استعمال کرتی ہے۔ مزید یہ کہ ہم اپنی زندگی میں بہت سے ایسے الفاظ بھی استعمال کرتے ہیں جو کہ کسی غیرمادی چیز کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جیسے خوشی، غم وغیرہ۔ اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ غیرمادی اشیاء کے لیے بھی ہر زبان میں کوئی نہ کوئی لفظ موجود ہوتا ہے سو اسی طرح ریاضی میں 0 ہے۔ آخر میں ایک مثال پر غور کریں۔ ایک جملہ ہے "میری جیب میں کچھ نہیں ہے"۔ اب ہم کہتے ہیں کہ لفظ "نہیں" تو غیرموجودگی کو ظاہر کر رہا ہے لہٰذا اسے لفظ نہیں کہنا چاہیے۔ چلیں اس کو جملے سے نکال دیتے ہیں۔ جملہ یوں ہو جائے گا، "میری جیب میں کچھ ہے"۔ اب اگر میری جیب کسی بھی شے سے خالی ہو اور اس پر یہ جملہ بولا جائے تو کیا جملہ درست ہو گا؟ اسی طرح اگر ہم صفر کو کوئی ہندسہ یا عدد تسلیم نہ کریں تو بےشمار مسائل اٹھ کھڑے ہوں گے۔ 101 میں صفر نہ لگانے سے یہ 11 لکھا جائے گا تو پھر 101 اور 11 میں فرق کیسے کیا جائے گا۔۔۔! اس بحث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ 0 کو بھی ایک ہندسہ یا عدد تسلیم کرنا چاہیئے کیونکہ یہ ریاضی میں اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ دوسرے ہندسے یا اعداد۔
سوال:تعوذ کسے کہتے ہیں؟
جواب:اَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ
سوال:تسمیہ کسے کہتے ہیں؟
جواب:بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
سوال:قرآن مجید میں کتنی منزلیں ہیں؟
جواب:سات
سوال:قرآن مجید کی پہلی منزل کہاں سے کہاں تک ہے؟
جواب:سورۂ فاتحہ سے سورۂ نساء تک
سوال:قرآن مجید کی دوسری منزل کہاں سے کہاں تک ہے؟
جواب:سورۂ مائدہ سے سورۂ توبہ تک
سوال:قرآن مجید کی تیسری منزل کہاں سے کہاں تک ہے؟
جواب:سورۂ یونس سے سورۂ نحل تک
سوال:قرآن مجید کی چوتھی منزل کہاں سے کہاں تک ہے؟
جواب: سورہ بنی اسرائیل سے سورۂ فرقان تک
سوال:قرآن مجید کی پانچویں منزل کہاں سے کہاں تک ہے؟
جواب:سورۃ الشعراء سے سورۂ یٰسٓ تک
سوال:قرآن مجید کی چھٹویں منزل کہاں سے کہاں تک ہے؟
جواب:سورۃ الصفت سے سورۃ الحجرا ت تک
سوال:قرآن مجید کی ساتویں منزل کہاں سے کہاں تک ہے؟
جواب:سورۂ ق سے سورۃ الناس تک
سوال:وہ کونسی سورت ہے جس کی ہر آیت میں لفظ اللہ موجود ہے؟
جواب: سورۃ المجادلہ
سوال:ام القری کے علاوہ مکۃ المکرمہ کو دوسرے کس نام سے قرآن مجید میں یاد کیا گیا ہے ۔
جواب:بکہ
سوال:قرآن پاک کی سب سے لمبی آیت کونسی ہے؟
جواب:سورۂ بقرہ کی آیت نمبر (۲۸۲)
سوال:قرآن پاک کی سب سے چھوٹی آیت کونسی ہے؟
جواب:والضحیٰ پھر و الفجر
سوال:وہ کونسی آیات ہیں اور کتنی ہیں جس میں الف سے لے کر "ی "تک تمام حروف موجود ہیں؟
جواب:ایسی تین آیتیں ہیں سورۂ بقرہ آیت نمبر (۲۸۲) سورہ’ آل عمران آیت نمبر(۱۵۴)
سورۃ فتح آیت نمبر (۲۹)
سوال:پہلی مدنی سورت کا نام بتائیے؟
جواب:سورۃ الانفال
سوال:قرآن مجید میں کل کتنی سورتیں ہیں؟
جواب:۱۱۴
سوال:قرآن مجید کی کونسی دو سورتیں ایک ساتھ نازل ہوئیں؟
جواب:سورۃ الفلق اور سورۃ الناس
سوال:قرآن مجید کے تیسویں(۳۰) پارے میں کتنی سورتیں ہیں؟
جواب:۳۷
سوال:قرآن مجید میں کتنی سورتیں ایسی ہیں جو شخصیات کے نام پر ہیں،جیسے سورۂ یونس، سورۂ یوسف، سورۂ مریم وغیرہ؟
جواب:۹
سوال:مدنی سورتوں کی تعدادکتنی ہے
جواب:۲۸
سوال:مکی سورتوں کی تعداد کتنی ہے؟
جواب:۸۶
سوال:قرآن مجید میں کل کتنے پارے ہیں؟
جواب:۳۰
سوال:قرآن مجید میں کل کتنی آیتیں ہیں؟
جواب:۶۶۶۶
سوال:ایسی آیتیں جن میں وعدے ہیں کتنی ہیں؟
جواب:۱۰۰۰
سوال:قرآن مجید میں سجدے والی کتنی آیتیں ہیں؟
جواب:۱۴
سوال:ایسی آیتیں جن میں کسی کام سے روکا گیا ہو کتنی ہیں؟
جواب:۱۰۰۰
سوال:ایسی آیتیں جن میں کسی کام کے کرنے کا حکم ہو کتنی ہیں؟
جواب:۱۰۰۰
سوال:قرآن مجید میں ایسی آیتیں کتنی ہیں جن میں کسی چیز کے حلال ہونے کا حکم ہے؟
جواب:۲۵۰
سوال:قرآن مجید میں ایسی آیتیں کتنی ہیں جن میں کسی چیز کے حرام ہونے کا حکم ہے؟
جواب:۲۵۰
سوال:قرآن مجید میں قصوں سے متعلق کتنی آیتیں ہیں؟
جواب: ۱۰۰۰
سوال:قرآن مجید میں کتنے رکوع ہیں؟
جواب:۵۴۰
سوال:قرآن مجید میں آخری آیت ِسجدہ کس سورت میں ہے؟
جواب:سورۃ العلق
سوال:حروف مقطعات کی تعداد کیا ہے؟
جواب:۲۹
سوال:قرآن مجید کی تین سب سے چھوٹی سورتیں کونسی ہیں؟
جواب:سورۃ الکوثر ، سورۃ العصر اور سورۃ الاخلاص
سوال:قرآن مجید کی سورتوں کو کس نے ترتیب دیا تھا ؟
ج: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
سوال:لفظ " سورۃ" کا استعمال قرآن مجید میں کتنی مرتبہ ہوا ہے؟
جواب: ۱۰
سوال:وہ کونسی سورت ہے جس کا ایک رکوع مکہ میں اور دوسرا رکوع مدینہ میں نازل ہوا؟
جواب:سورۃ المزمل
دغاباز جواری
کمپیوٹر ایک عرصے سے شطرنج کھیلتے آ رہے ہیں اور شطرنج کے عالمی چیمپیئن کمپیوٹر سے شطرنج کا کھیل کئی بار ہار چکے ہیں- اس میں اچنبھے کی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ شطرنج منطق کا کھیل ہے جس میں کمپیوٹر کو اپنی اور اس کے مخالف کے تمام مہروں کی پوزیشن یعنی شطرنج کی پوری بساط کا علم ہوتا ہے اور وہ ہر مرحلے پر مہروں کی موجودہ پوزیشن سے ہر ممکنہ چال کے نتائج کا تجزیہ کر کے بہترین چال کو چن سکتا ہے- اس کے برعکس تاش کے کچھ کھیل کہیں زیادہ پیچیدہ ہوتے ہیں کیونکہ ان میں ہر کھلاڑی کو صرف اپنے پتوں کا علم ہوتا ہے، مخالف کے پاس کیا پتے ہیں ان کا علم نہیں ہوتا- تاش کے کچھ کھیل ایسے ہیں جن میں جیسے جیسے کھیل آگے بڑھتا ہے مخالف کی چالوں سے آپ اس کے ہاتھ میں موجود باقی ماندہ پتوں کا اندازہ لگا سکتے ہیں- اس قسم کے کھیلوں میں بھی کمپیوٹر انسان کو آسانی سے شکست دے سکتے ہیں
لیکن پوکر ایک ایسا کھیل ہے جس میں ایک کھلاڑی کو اور اس کے مخالف کو محدود تعداد میں پتے تقسیم کیے جاتے ہیں- پوکر کے کسی کھلاڑی کو یہ علم نہیں ہوتا کہ اس کے مخالفین کے پاس کون سے پتے ہیں- ہر کھلاڑی کو صرف یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ اس کے خیال میں اس کے پتے مخالفین کے پتوں سے بہتر ہیں یا نہیں- دو کھلاڑیوں کی گیم میں اگر ایک کھلاڑی کو یہ خیال ہو کہ اس کے پتے مخالف سے بہتر ہیں تو وہ بڑی شرط بدتا ہے اور اگر اسے یہ محسوس ہو کہ مخالف کے پتے بہتر ہیں تو وہ ہار تسلیم کر لیتا ہے- جب دونوں میں سے ایک ہار تسلیم کر لے تو دونوں اپنے پتے ایک دوسرے کو دکھا دیتے ہیں اور جیتنے والا ہارنے والے سے اس کی bid کے مطابق رقم وصول کر لیتا ہے-
پوکر کی کھیل میں ایکٹنگ کا بہت دخل ہوتا ہے- بعض اوقات ایک کھلاڑی بڑے پتے ہونے کے باوجود مصنوعی طور ہر گھبرانے کی ایکٹنگ کرتا ہے تاکہ دوسرا یہ سمجھے کہ اس کے پاس چھوٹے پتے ہیں اور وہ بڑی شرط کی بد لگا لے اور ہار جائے- بعض اوقات چھوٹے پتوں کے ساتھ بھی اعتماد کی ایکٹنگ کر کے کھیل جیتا چا سکتا ہے تاکہ دوسرا کھلاڑی مرعوب ہو کر ہار مان لے- چنانچہ جب کوئی کھلاڑی شرط بدتا ہے تو اسے نہ صرف مخالف کی شرط کو دیکھنا ہوتا ہے بلکہ اس کا یہ فیصلہ بھی کرنا ہوتا ہے کہ مخالف کے تاثرات اس کے اندرونی جذبات کا پتہ دے رہے ہیں یا دغا دے رہے ہیں- اس وجہ سے پوکر کو خصوصی طور پر ایسا کھیل سمجھا جاتا ہے جو صرف انسان ہی کھیل سکتے ہیں- کمپیوٹر یہ کھیل نہیں کھیل سکتے کیونکہ کمپیوٹر نہ تو لوگوں کے جذبات پڑھ سکتے ہیں اور نہ ہی دھوکہ دے سکتے ہیں-
لیکن کارنیگی میلون یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے اس دعوے کو غلط ثابت کر دیا ہے اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک ایسا کمپیوٹر سافت ویئر ڈیزائن کیا ہے جو عام کمپیوٹرز پر چلتا ہے اور جس نے دنیا کے پوکر کے پانچ بہترین کھلاڑیوں کے ساتھ بیک وقت پوکر کھیلی اور سب کو ہرا دیآ- اس سسٹم کا نام پلوریبس ہے-
اس سے دو سال قبل اسی ٹیم نے ایک سسٹم ڈیزائن کیا تھا جس کا نام لبراٹس تھا اور جو ایک وقت میں ایک پوکر پلیئر کو ہرا سکتا تھا- لبراٹس سو مائیکروپراسیسرز کو استعمال کرتا تھا اور اسے بہت زیادہ کمپیوٹر میموری درکار تھی- اس کے برعکس پلوریبس صرف دو مائیکروپرسیسرز پر چل سکتا ہے اور اسے محض 128 گیگا بائٹس میموری درکار ہوتی ہے- یعنی اس کے لیے کسی خاص ہارڈ ویئر کی ضرورت نہیں اور یہ ہائی اینڈ پی سی پر بھی چل سکتا ہے-
پلوریبس کو صرف پوکر کے بنیادی قوانین سکھائے گئے تھے لیکن شرط بدنے کی تراکیب نہیں سکھائی گئی تھیں- اسے صرف یہ goal دیا گیا تھا کہ اس نے اپنی جیت کی رقم کو زیادہ سے زیادہ کرنا ہے- اس نے پوکر سیکھنے کے لیے اپنے جیسے پانچ اور کمپیوٹرز کے ساتھ کھربوں بار پوکر کھیلی اور ہر بار نتائج کا تجزیہ کیا- اس طرح آہستہ آہستہ پلویبس نے bluff کرنا سیکھ لیا یعنی اچھے ہاتھ پر یہ ظاہر کرنا کہ ہاتھ کمزور ہے اور کمزور ہاتھ پر یہ ظاہر کرنا کہ ہاتھ مضبوط ہے اور یوں مخالفین کو غلط تاثر دے کر انہیں غلط فیصلہ کرنے پر مجبور کر دینا- اس طرح پلوریبس نے اپنے کھیل کے انداز میں نت نئی جدتیں پیدا کیں-
لوگ عموماً یہ سمجھتے ہیں کہ bluff کرنا ایک آرٹ ہے جو صرف تجربہ کار کھلاڑی ہی جانتے ہیں جو اپنے مخالفین کے چہرے کے تاثرات کو اچھی طرح پڑھ سکتے ہیں- لیکن درحقیقت bluff کرنا ریاضی کے ذریعے (یعنی probability کو استعمال کر کے) سیکھا جا سکتا ہے-
اس طرح کی کھربوں کھیلوں کے بعد سائنس دانوں نے یہ اعلان کیا کہ اب یہ کمپیوٹر دنیا کے بہترین پانچ کھلاڑیوں سے بیک وقت پوکر کھیلنے کے لیے تیار ہے- یہ کھلاڑی عام طور پر اپنی شرط کا آغاز 250 ڈالر سے کرتے ہیں اور اس کے بعد شرط بڑھاتے جاتے ہیں جب تک کہ باقی تمام کھلاڑی شکست تسلیم نہ کر لیں- آخری بچنے والا کھلاڑی کھیل جیت جاتا ہے اور باقی تمام کھلاڑیوں کی لگائی گئی شرط کی رقم جیتنے والے کھلاڑی کو مل جاتی ہے- یہ تجربہ کار کھلاڑی ایک دوسرے سے کھیلنے کے عادی تھے اور ایک دوسرے کے کھیل کے سٹائل سے واقف تھے- البتہ انہیں کمپیوٹر کے ساتھ کھیلنے کا کوئی تجربہ نہیں تھا- چنانچہ یہ تجربہ کار کھلاڑی بالکل اندازہ نہیں لگا سکے کہ کمپیوٹر کس وقت درست شرط لگا رہا ہے اور کس وقت bluff کر رہا ہے- یوں دیکھتے ہی دیکھتے کمپیوٹر ان بہترین کھلاڑیوں سے دس لاکھ ڈالر جیت گیا-
ہارنے کے بعد پوکر کے کھلاڑیوں میں سے ایک نے کہا کہ پوکر کے کھیل میں مصنوعی ذہانت کو انسانوں کے مقابلے میں بہت زیادہ فوقیت (advantage) حاصل ہے کیونکہ کمپیوٹر کبھی تھکتے نہیں ہیں، انہیں کبھی بھوک پیاس نہیں لگتی، وہ کبھی جذباتی نہیں ہوتے، کبھی سٹریس میں نہیں آتے، اور ہمیشہ اپنی توجہ اپنے مقصد کے حصول پر ہی مرکوز کیے رہتے ہیں.
Muhammad Danish MS Mathematics.
Tuition available.
WhatsApp 03369915347
Utality Store Pindi Road Togh Bala, Kohat.
21/07/2019
Tuition Mathematics and Physics from class 9th to Bsc
Tuition Mathematics and Physics Education
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Kohat
Opening Hours
| Monday | 15:00 - 21:00 |
| Tuesday | 15:00 - 21:00 |
| Wednesday | 15:00 - 21:00 |
| Thursday | 15:00 - 21:00 |
| Friday | 15:00 - 21:00 |
| Saturday | 15:00 - 21:00 |