Javed Khan

Javed Khan

Share

A better world, Better life and Better people through freelancing,

17/06/2025
26/11/2024

آسلام آباد کو بیروت اور یروشلیم بنانیوالے خود گھروں میں بیٹھے ہیں. اور قوم کے بچے دونوں طرف سے لڑ مر رہے ہیں. یوتھیوں غیر ملکی اشاروں پر ناچنے سے بعض آ جاؤ.

21/11/2024

.
*`گناہ کے کام اور ہمارے بہانے`*

*رشوت*:
`"یہ تو تحفہ ہے ۔"`

*موسیقی* :
`"یہ تو روح کی غذا ہے۔"`

*بدنظری*:
`"ایک بار دیکھنا حلال ہے۔"`

*غیبت*:
`"میں اس کے منہ پہ بھی یہ بات کہہ سکتا ہوں۔"`

*سود کھانا*:
`"ساری دنیا کھاتی ہے۔"`

*بیہودہ ناول پڑھنا*:
`"ہم انہیں کچھ سکیھنے کے لئے پڑھتے ہیں۔"`

*تہمت*:
`"یہ تو پوری دنیا کہہ رہی ہے۔"`

*حرام محفل*:
`"بس ایک رات کی تو بات ہے۔"`

*بے پردگی*:
`" پردہ تو آنکھ کا ہوتا ہے۔"`

*ترک نماز*:
`"فلاں نمازی ہزار گناہ کرتا ہے۔"`

*شراب نوشی*:
`"اللّٰه غفورالرحیم ہے۔"`

*شادیوں میں بےحیائی*:
`"یہ فاتحہ یا جنازہ تھوڑی ہے ."`

*اسراف*:
`"لوگ کیا کہیں گے۔"`

*عیاشی*:
`"دو دن کی زندگی ہے۔"`

*نماز نہ پڑھنا*:
`"کل سے شروع کریں گے۔"`

12/10/2024

میں ماضی میں ایک معروف پیشہ “ماچھی” کا کام کرنے والے ایک دیہاتی “کمی” کا بیٹا ہوں۔ اور مجھے اس بات پر فخر ہے میرے ماں باپ نے مجھے رزق حلال کما کر کھلایا۔ میری ماں کا گاؤں میں اکلوتا تندور ہوا کرتا تھا ایک بھٹی تھی جہاں سے سارا گاؤں چاول چنے بھنوایا کرتا تھا۔ اور میرے ابا جی چوہدری صاحب کے مزارع تھے۔ انکے ڈیرے پر رہنا حقہ ڈالنا انکے گھر کے کام کاج کرنا اور شام کو گھر آجانا۔ میں میٹرک پاس نہ کر سکا اور چوہدری صاحب یونین کونسل کے چئیرمین بنے تو ان کا ڈرائیور بھرتی ہوگیا۔ سال تھا دو ہزار دو اور میری تنخواہ تھی تین ہزار ماہوار۔

یہ کہنا تھا میرے بہت عزیز دوست ماجد بن رحیم بھٹی صاحب کا جو آج ماشا اللہ ایک پلاسٹک کی پراڈکٹس بنانے والی فیکٹری کے مالک ہیں۔ اور انکے پاس سو کے قریب ورکر کام کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ اسلام آباد ہم ایک ڈنر میں شریک تھے۔ تو مجھے ایک بات سننے کو ملی۔ کمپنی انسان کو جتنی تیزی سے بدلتی ہے اتنی سپیڈ سے کوئی دوسری شے ہماری سوچ اور حالات نہیں بدل سکتے۔ انہوں نے سوچنا شروع کر دیا کہ ہماری تو نسل در نسل کمپنی بڑے لوگوں اور گاؤں کے چوہدری صاحب کے ساتھ رہی ہے۔ وہ ہمیں گھر کا فرد کہتے اور سمجھتے آئے ہیں۔ انکے گھر داخل ہونے کے لیے ہمیں دستک کی بھی ضرورت نہ پڑتی تھی۔ انکے ساتھ کھانا پینا انکے کپڑے جوتے پہن لینا۔

آخر غلطی کہاں پر ہو رہی تھی کہ ہمارے حالات کیوں نہ بدلے؟ وہ کہتے ہیں ایک بار وہ پلاسٹک کے چھابے لینے مارکیٹ گئے۔ اور وہاں لکھا تھا کہ ضرورت برائے فیکٹری ورکر۔ انہوں نے دکان دار سے تفصیل پوچھی تو انہوں نے بتائی کہ انکی اپنی ہی فیکٹری ہے۔ اور ورکر درکار ہیں۔ تنخواہ پلس اوور ٹائم لگا کر ٹارگٹ پروڈکشن دے کر چھ سات ہزار کمایا جا سکتا تھا۔ فورا ڈرائیونگ چھوڑی اور فیکٹری جائن کر لی۔ جوانی تھی جوش تھا کام کی لگن تھی محنت کی عادت تھی تو چند ہی سال میں ورکر سے فورمین پر پرموشن ہوگئی اور پھر مشینری کو تھوڑا بہت مرمت کرنا بھی آگیا۔

فیکٹری کا مالک ایک نئے شہر میں فیکٹری بنانا چاہتا تھا تو اس نے ماجد صاحب کو خود ہی انکی وفاداری اور محنت دیکھ کر شراکت داری کی آفر کر دی۔ماجد صاحب کے پاس دو آپشن تھے جمع پونجی سے شادی کرتے یا گھر بنا لیتے۔ اپنے مالکوں کے مشورے سے وہ رقم بزنس میں انویسٹ کر دی۔ وہ بہت معمولی رقم تھی۔ دس سال لگے اور ماجد صاحب اسی فیکٹری کے اکلوتے مالک بن گئے۔ اللہ نے گاڑی دی شادی ہوئی، گاؤں سے فیملی شہر ایک اچھی سوسائٹی میں شفٹ کر لی۔ گو ابھی گھر کرائے کا ہے مگر پاکستان میں کرائے نہ ہونے کے برابر ہیں۔ بجائے اس کے کہ دو کروڑ روپے لگا کر گھر بنایا جائے۔

کل ہم ملے تو مجھے بتانے لگے خطیب میں چوہدری صاحب کے پاس رہتا تو کبھی بھی چوہدری تو نہیں بن سکتا تھا؟ وہ بہت اچھے اور بیبے انسان ہیں جب میں نے بزنس شروع کیا تو میں انکے پاس سوالی بن کر آیا انہوں نے مجھے دس لاکھ روپے قرض حسنہ دیا۔ میں نے ان سے مانگا پانچ لاکھ تھا۔ اور مجھے کہا بلکہ لکھ کر دے دیا کہ دس سال بعد دس لاکھ ہی لوٹا دینا۔ تم نے تمہارے ابا نے دادا نے ہماری بڑی خدمت کی ہے۔ وہ مجھے میرے سگے والد کی مانند ہیں۔ میرے بڑے کام ایک فون پر نکلوا دیتے ہیں۔ مگر میں انکے سایے میں بڑا نہیں ہو سکتا تھا۔ اور وہ تو مجھے روک بھی نہیں رہے تھے۔ بلکہ ہمیشہ سپورٹ کیا۔ محبت دی مان دیا اپنا بیٹا کہا۔

یہ ہمارے اپنے اوپر منحصر ہوتا ہے کہ ہم خود کو کہاں رکھتے ہیں۔ اپنا مقام کہاں اور کیسا دیکھتے ہیں۔ کیسی کمپنی میں جائیں تو Grow کر سکتے ہیں۔ ایک آم کے درخت کو سکردو کے پہاڑ پر لگا کر ہم اس سے ملتانی آم جیسا پھل تو نہیں لے سکتے نا؟ ہمیں اپنی جگہ خود تلاش کرنا ہوتی ہے۔ ہمیں اپنا سفر خود طے کرنا ہوتا ہے۔ اپنے حصے کی مشکل خود اٹھانی ہوتی ہے۔ اور درست سمت میں کی گئی محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ وہ کہتے ہیں میری جگہ ایک اور لڑکے نے چوہدری صاحب کے پاس ڈرائیوری جائن کی تھی۔ اسکی آج تنخواہ تیس ہزار روپے ہے۔ اور میرے پاس جو ملازم کام کرتے ہیں انکی صرف ماہانہ تنخواہ میں کئی ملین ادا کرتا ہوں۔

آپ اپنا دیکھئے کہ کیسی کمپنی میں ہیں؟ کمپنی ساتھ والی یعنی کیسے لوگوں میں رہ رہے ہیں؟ کیا آپ وہاں رہتے ہوئے آگے بڑھ سکتے ہیں؟ اگر نہیں تو ماجد کی طرح ڈرائیونگ چھوڑ دیجئے آپ چوہدری صاحب کی گاڑی چلا کر کبھی بھی چوہدری نہیں بن سکتے۔“

03/06/2024

ہم ان کی جیت کے لیے دعائیں مانگ رہے ہیں اور یہ اپنی محبت کو دعاؤں میں مانگ رہے ہیں۔۔۔۔ ورلڈ کپ خاک جیتیں گے🤪🤪🤪

06/01/2024

#ہنر سکھانے میں بخل نہ کرو۔
درزی 3، 3 ماہ بچے سے کاج کرواتا رہاہے.
موٹر سائیکل مکینک 3 , 3 ماہ صرف پہیہ کھولنے پہ لگائے رکھتے ہیں۔
یہ غریب گھر کے بچے ہوتے ہیں ماں روزانہ انہیں روٹی دے کر بھیجتی ہے میرا بچہ کام سیکھ رہا ہے جلد کاریگر بن جائے گا
لیکن انہیں 6 ، 6 سال میں ہنر نہیں دیتے۔
ان کو 6 ماہ میں ہنر سکھا کر روزی کمانے کے قابل کر دو عرش کا رب تم پہ بڑی رحمتیں نازل کرے گا۔

اپ جس بھی شہر سے ہیں،
جو بھی ہنر جانتے ہیں اور کام کر رہے ہیں تو لوگوں کو باقاعدہ دعوت دیں یا پوسٹر لگائیں کہ اتنے سال میں فی سبیل اللہ ہنر سیکھیں
ہنر کی تجارت رب کے بندوں سے کریں انعام رب دے گا، کبھی رب سے تجارت کر کے دیکھیں۔🙏🙏

05/01/2024

*My Collection*
Copied
* ......*

1998 میں کوڈک میں 1،70،000 ملازمین کام کر رہے تھے..
وہ دنیا میں 85٪ فوٹو پیپر فروخت کرتے تھے..
کچھ سالوں میں ڈیجیٹل فوٹو گرافی نے انہیں بازار سے نکال دیا..
کوڈک دیوالیہ ہو گیا..
اس کے تمام ملازمین سڑک پر چلے گئے..

ان سب کے معیار میں کوئی کمی نہیں تھی..
پھر بھی وہ مارکیٹ سے باہر.....!!

وجہ......؟؟؟
وقت کے ساتھ ساتھ وہ تبدیل نہیں ہوئے....!!

آنے والے 10 سالوں میں دنیا پوری طرح سے تبدیل ہو جائے گی..
آج چلنے والی صنعتوں میں سے 70٪ سے 90٪ بند ہوجائیں گی..

چوتھے صنعتی انقلاب میں خوش آمدید…

اوبر (Uber) صرف ایک سافٹ ویئر ہے..
اپنی ایک بھی کار نہ ہونے کے باوجود وہ دنیا کی سب سے بڑی ٹیکسی کمپنی ہے..

ایئر بی این بی
(Air BNB)
دنیا کی سب سے بڑی ہوٹل کمپنی ہے..
حالانکہ ان کے پاس اپنا کوئی ہوٹل نہیں ہے..

پیٹیم ، اولا ٹیکس ، اویو کمرے جیسے بہت ساری مثالوں میں ہیں..

اب امریکہ میں نوجوان وکلاء کے لئے کوئی کام باقی نہیں ہے..
کیونکہ آئی بی ایم واٹسن
IBM Watson
سافٹ ویئر ایک لمحے میں بہتر قانونی مشورے دیتا ہے..
اگلے 10 سالوں میں 90% امریکی وکیل بے روزگار ہو جائیں گے ...
جو لوگ 10٪ بچ جائیں گے..
وہ سپر ماہر ہوں گے..

واٹسن نامی سافٹ ویئر انسانوں کے مقابلے میں کینسر کی تشخیص 4 گنا زیادہ درست طریقے سے انجام دیتا ہے..

2030 تک کمپیوٹر انسانوں سے زیادہ ذہین ہوں گے.

اگلے 10 سالوں میں 90٪ کاریں پوری دنیا کی سڑکوں سے غائب ہو جائیں گی..
جو بچ جائیں گی..
وہ یا تو الیکٹرک کاریں ہوں گی یا ہائبرڈ..
سڑکیں خالی ہوں گی..

پٹرول کی کھپت میں 90٪ کمی واقع ہو گی..

تمام عرب ممالک دیوالیہ جائیں گے..

آپ کو اوبر جیسے سافٹ ویر سے کار مل جائے گی..
کچھ ہی لمحوں میں ڈرائیور لیس گاڑی آپ کے دروازے پر کھڑی ہوگی..
اگر آپ اسے کسی کے ساتھ شیر کر لیتے ہیں تو وہ سواری آپ کو موٹر سائیکل سے بھی سستی ہو گی..

کاروں کے ڈرائیور لیس (Driverless) ہونے کی وجہ سے 99٪ حادثات بند ہو جائیں گے..

زمین پر ڈرائیور جیسا کوئی روزگار نہیں چھوڑا جائے گا..

جب 90٪ کاریں شہروں اور سڑکوں سے غائب ہو جائیں گی..
تو ٹریفک اور پارکنگ جیسے مسائل خودبخود ختم ہو جائیں گے..
کیونکہ ایک کار 20 کاروں کے برابر ہو گی..

5 یا 10 سال پہلے ایسی کوئی جگہ نہیں تھی جہاں پی سی او (PCO) نہ ہو..
پھر جب موبائل فون سب کی جیب میں آیا..
تو پی سی او بند ہونا شروع ہوگئے..
وہ تمام پی سی او والے لوگوں نے فون کا ریچارج بیچنا شروع کر دیا..
اب یہاں تک کہ ریچارج آن لائن بھی شروع کر دیا گیا ہے..

آج کل مارکیٹ میں ہر تیسری دکان پر موبائل فون ہیں..
فروخت ، خدمت ، ریچارج ، لوازمات ، مرمت ، بحالی وغیرہ وغیرہ...

اب سب کچھ اے ٹی ایم سے کیا جا رہا ہے..
اب لوگوں نے اپنے فون سے ہی ریلوے ٹکٹ بک کرنا شروع کر دی ہیں..

اب پیسوں کا لین دین بھی تبدیل ہو رہا ہے..
کرنسی نوٹ کو پہلے پلاسٹک منی(اے ٹی ایم کارڈ) نے تبدیل کیا تھا..
اب یہ ڈیجیٹل ہو گئی ہے..

دنیا بہت تیزی سے بدل رہی ہے..

آنکھیں اور کان کھلے رکھیں ورنہ آپ پیچھے رہ جائیں گے..

وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہونے کے لئے تیار رہیں..

لہذا...!
ایک شخص کو چاہئے کہ وہ وقت گزرنے کے ساتھ اپنے کاروبار کی نوعیت کو بھی بدلتا رہے..

کاروبار کو وقت سے ساتھ ساتھ اپ گریڈ کریں..

وقت کے ساتھ آگے بڑھیں اور کامیابی حاصل کریں..
تاکہ اچھا وقت گذاریں.. جاگیردار سیاستدانوں پر نوکریوں کےلیئے مت بھروسہ کریں۔ اپنے بل بوتے پر وہ سب کچھ کر جائیں جسکے کرنے سے اپ ابرومندانہ زندگی کا سفر طے کر سکیں۔

25/11/2023

براہ کرم اپنے کاروبار سے اپنا منافع واپس نہ لیں!

اپنی کمپنی کے ملازم کے طور پر ہمیشہ اپنے آپ کو تنخواہ دیں اور اسے کمپنی چلانے کے لیے ضروری خرچ سمجھیں۔ منافع کو اسکیل کرنے کے لیے دوبارہ سرمایہ کاری کرنی چاہیے..

میں نے محسوس کیا ہے کہ آپ میں سے کچھ کیش آؤٹ کر رہے ہیں، جو کہ صحیح حکمت عملی نہیں ہے۔ اس کے بجائے، اگر آپ کو فنڈز کی ضرورت ہو تو اپنے آپ کو تنخواہ میں اضافہ دینے پر غور کریں!

Want your school to be the top-listed School/college in Kohat?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address

Main Bazar Kohat
Kohat
26070