Al-Asarian Society

Al-Asarian Society

Share

Welfare of Al-Asar Students in any Walk of LIFE......
Together We Rise AIMS AND OBJECTIVES OF AL-ASARIAN SOCIETY

1.

To maintain a cordial and unabolishable relationship of outgoing students with Academy.
2. To highlight and shoot-up the problems faced to the existing students of the Academy.
3. To promote a culture of collaboration between the former and existing students of the Academy.
4. To provide counseling and highlight the emerging academic pathways for the outgoing students.
5. To help and facilitate o

19/03/2025

10 TECH SKILLS YOU NEED TO LEARN IN 2025

• Programming – Learning Python, Java, or JavaScript.
• Cloud Computing – Understanding AWS, Azure, or Google Cloud.
• Cybersecurity – Protecting data from online threats.
• Blockchain – Exploring decentralized technologies.
• Data Science – Making sense of large datasets.
• AI & Machine Learning – Automating and optimizing tasks.
• Augmented & Virtual Reality – Shaping digital experiences.
• UI/UX Design – Improving digital interfaces.
• Internet of Things (IoT) – Connecting smart devices.
• Automation – Enhancing productivity with AI tools.

These tech skills will open doors to high-paying careers!

27/02/2025

Admissions Open !!!
Entry test date: 23rd March, 2025
For more information, call us on: 0300-5904374

30/12/2024

وہ کام سیکھیں جو آپ کو تھکاوٹ محسوس نا کروائے
مشکل سکلز
01. Python( artificial intelligence)
02. Cloud computing
03. Block chain development
04. Machine learning and data science
05. Cyber security
06. Web Development( with coding )
07. Mobile app development ( with coding )
یہ سکلز مشکل اور ٹیکنیکل ہوتی ہیں اور ان کو سیکھنے کے لئے کم سے کم ایک سے دو سال کا وقت چاہئے ہوتا ہے۔ ان سکلز کی جاب میں زیادہ ڈیمانڈ ہوتی ہے ان سکلز میں ایکسپرٹس کی تنخواہ لاکھوں میں ہوتی ہے اور سافٹ ویئر ہاؤسز اور ٹیک کمپنیز میں ان کی لوگوں کی کافی ڈیمانڈ ہوتی ہے لیکن ان کی جاب بھی کافی محنت طلب ہوتی ہے
آسان سکلز
01. Web development ( WordPress, Shopify without coding)
02. Android app development ( basics )
03. Graphic designing
04. Video editing
05. Video animation
06. Social media marketing
07. Digital marketing
08. Paid ads
09. SEO
10. Amazon virtual assistant
11. Content Writing
12. Copywriting
یہ سکلز ٹیکنیکل سکلز کی نسبت آسان ہوتی ہیں ان سکلز کو سیکھنے کے لئے دو سے چھ ماہ کا وقت درکار ہوتا ہے اور وقت کے ساتھ آپ کے کام میں نکھار آتا جاتا ہے اور آپ ایکسپرٹ بنتے جاتے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ فری لانسنگ میں ان سکلز کی ڈیمانڈ زیادہ ہوتی اور کئی آسان سکلز والے فری لانسنگ میں مشکل سکلز والوں سے زیادہ ارننگز بھی کر رہے ہوتے ہیں بس اس کے لئے صبر محنت پورٹ فولیو اور کمیونیکیشن سکلز کی ضرورت ہوتی ہے
E-commerce
ای کامرس آن لائن بزنس ہوتا ہے اور اس کا مقابلہ کسی سکل سے نہیں کیا جا سکتا کیونکہ بزنس ہمیشہ بزنس ہوتا ہے آپ کا اپنا asset ہوتا ہے اور چل جائے تو وارے نیارے ہو جاتے ہیں لیکن اس میں انویسٹمنٹ چاہئے ہوتی ہے اور ہر بزنس میں کچھ رسک بھی موجود ہوتا ہے
Passive income
اس میں یوٹیوب چینل آٹو میشن ٹک ٹاک مونیٹائزیشن بلاگنگ فیسبک پیج مونیٹائزیشن وغیرہ شامل ہوتی ہے اس میں آپ کا کانٹینٹ آپ کیسی ویڈیوز بناتے ہیں اور قسمت کا کھیل بھی ہوتا ہے آپ کی ویڈیوز چینل وائرل ہو جائے تو آپ سو رہے ہوتے ہیں اور آپ کی ویڈیوز پہ ویوز آرہے ہوں تو آپ کے پیسے بن رہے ہوتے...

30/12/2024

2015 میں ہندوستان کے 45 بڑے کاروباری دماغ سر جوڑ کر بیٹھے اور انہوں نے سوچا کہ اگر ہم نے آج ہیومن ریسورس پر انویسٹمنٹ نہ کی تو کل کو ہمارا ملک اور کاروبار دونوں تباہ ہو جائیں گے۔
ان تمام تاجر حضرات نے اپنی زندگی کی سب سے بہترین سرمایہ کاری کا آغاز کیا اور دو ہزار کروڑ روپے سے "پلکشا" یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔ اس یونیورسٹی کے طلبہ وطالبات کا کام نوکری کا حصول نہیں بلکہ نئے اور اچھوتے بزنسس کا آغاز کرنا ہے۔ اس کا سنگ بنیاد رکھنے والے چاہتے ہیں کہ 2031 تک پورے ہندوستان میں کم از کم دس ہزار نئے اسٹارٹپس شروع کیے جائیں اور ایسا کرنے والے "پلکشا" یونیورسٹی کے ہونہار طالبعلم ہوں۔
یہ اس روایتی تعلیم اور تعلیمی نظام کو ختم کرنا چاہتے ہیں جو نوجوانوں کو غلامی اور نوکری کے لئے تیار کرتا ہے پوری دنیا میں ایم- بی- اے تک میں یہ سکھایا جاتا ہے کہ دوسروں کی غلامی آپ کیسے بہتر انداز میں کر سکتے ہیں، لیکن اپنا بزنس کیسے ڈیولپ کرنا ہے اس معاملے میں پورا نظام تعلیم سرے سے خاموش ہے۔
ان 45 چیف ایگزیکٹیوز نے طے کر رکھا ہے کہ وہ دنیا کے بہترین دماغوں کو اس یونیورسٹی میں لے کر آئیں گے۔ اس کام کے لیے انہوں نے ایم- آئی–ٹی، بارکلے، پنسلوانیا اور پرڈیو یونیورسٹیز سے معاہدے کر لیے ہیں جب کہ گوگل اور آئی- بی –ایم" پلکشا" کو آئی -ٹی سپورٹ فراہم کریں گے۔ 2014 میں نریندر مودی کے"ڈیجیٹل انڈیا" کے نعرے کے بعد پورے ہندوستان میں اس پر سوچ بچار کرنے والوں کی تعداد میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے، ہندوستان کم عمر اور بڑی تعداد میں نئے نئے کاروبار اور اسٹارٹپس لینے والے ملکوں میں سرفہرست ہے۔
1985میں پیدا ہونے والے بھویش اگروال نے "OLA" کے نام سے ٹیکسی سروس شروع کردی۔ بھویش کے پاس اپنی ایک بھی ذاتی گاڑی نہیں ہے، جبکہ ان کے سسٹم میں دس لاکھ سے زیادہ گاڑیاں موجود ہیں جو 169 ہندوستانی شہروں میں رواں دواں ہیں۔ اس کے مقابلے میں اوبر جیسی کمپنی صرف 38 شہروں میں محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
18 سال کی عمر میں "OYO" کے نام سے پارٹنرشپ میں ہوٹل شروع کرنے والے رتیش اگروال اب تک دنیا کے 12 ملکوں کے 500 شہروں میں 33 ہزار کمروں کے ساتھ دنیا کی کسی بھی بڑی سے بڑی ہوٹل چین سے بہت آگے ہیں۔ ہندوستان دن بدن سرمایہ کاروں کی جنت بنتا جارہا ہے۔ ہمارا تعلیمی نظام بدقسمتی سے تین قسم کے "مائنڈ سیٹس" پیدا کر رہا ہے۔ ایک وہ مائنڈ سیٹ ہے جو اپنا پیٹ پالنے کے لیے پڑھ رہا ہے یہ "آرڈینری انکم" کے لیے خود کو تیار کر رہے ہیں، ان کو 9 سے 5 کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ ان بیچاروں کا اپنی صلاحیتوں، بے پناہ خوبیوں اور اپنی استعداد کار سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ یہ جیتے ہیں تو نوکری کی حسرت کے لئے اور زندہ رہتے ہیں تو غلامی کے لیے۔
دوسرا مائنڈ سیٹ "پورٹ فولیو انکم" کے لئے تیار ہو رہا ہے۔ یہ ڈاکٹر بن کر نوٹ چھاپنا چاہتے ہیں یا وکیل بن کر "بکنا" چاہتے ہیں یا پھر اپنی کوئی دکان لگا کر کچھ "بیچنا" چاہتے ہیں۔ تیسری قسم کا مائنڈ سیٹ وہ ہے جو پیسے کے لئے تیار ہو رہا ہے یہ بیٹھ کر پیسہ کمانا اور کھانا چاہتا ہے۔ یہ باپ دادا کی جائز ناجائز کمائ سے ورثے میں ملی ہوئ بلڈنگ پر کرایہ یا پھر زمین پر زمین خریدتے ہیں اور پھر بیچتے ہیں.. اور اس طرح گھر بیٹھے ایک "لگژری لائف" انجوائے کرتے ہیں۔
چوتھی قسم کا مائنڈ سیٹ جس سے ہمارا تعلیمی نظام، ہمارے والدین، ہمارے اساتذہ اور ہمارا معاشرہ سب کے سب نابلد اور عاری ہیں وہ "آئیڈیاز" کا مائنڈ سیٹ ہے اور خوش قسمتی سے ہندوستان کے کاروباری حضرات نے اس کام کا بیڑا اٹھا لیا ہے کہ وہ چوتھا مائنڈ سیٹ پیدا کریں۔
یہ سوشل انٹرپرینورز ہیں۔ یہ عبدالستار ایدھی، ڈاکٹر امجد علی ثاقب اور ڈاکٹر عبدالباری جیسے لوگ ہیں یہ معاشرے کے درد کو اپنا درد اور قوم کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھتے ہیں۔ یہ بل گیٹس، مارک زکر برگ اور اسٹیو جابز جیسے لوگ ہیں، یہ معاشرے کی دکھتی رگوں پر ہاتھ رکھتے ہیں۔ یہ سارے ہی لوگ چوتھے مائنڈ سیٹ کے لوگ ہیں یہ "آئیڈیاز" پر کام کرتے ہیں، یہ پیسے کے بجائے "آئیڈیاز" کے پیچھے بھاگتے ہیں یہ اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنی بے شمار خوبیوں اور لامحدود استعداد کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں اورخوشیاں پیدا کردیتے ہیں۔
یہ ایدھی فاؤنڈیشن بنا کر لوگوں کے دکھ درد بانٹتے ہیں تو کوئی "فیس بک" بنا کر لوگوں کو آپس میں جوڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر کوئی مفت اسپتال چلاتا ہے تو کوئی اور ساری دنیا کو ایک" کلک" کے فاصلے پر لے آتا ہے، کوئی لوگوں کو بلا سود قرضہ حسنہ دیتا ہے تو کوئی اور اس کے لئے سسٹم ڈیولپ کر دیتا ہے۔
آزمائش اور دشمن دونوں سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہئے کہ دشمن بھی بہرحال آزمائش ہی ہوتا ہے۔ کہتے ہیں کہ اگر آپ کے پڑوس میں دشمن ہو تو آپ چوکنا اور ہوشیار رہتے ہیں لیکن ہم وہ بد قسمت لوگ ہیں جو اپنے دشمن سے بھی کچھ سیکھنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ آپ بدمعاش ہی کیوں نہ ہوں لیکن جب آپ اپنے دروازے اپنے یا غیر سرمایہ کاروں کے لیے کھول دیتے ہیں تو پھر ساری دنیا آپ کے قدموں میں جھکنے کے لئے تیار ہو جاتی ہے۔
پھر آپ اسرائیل ہوں یا ہندوستان ساری دنیا سے لوگ علم کے حصول اور کاروبار کی بڑھوتری کے لیے آپ ہی کے پاس آتے ہیں۔ مائیکروسافٹ اور سسکو بھی اپنا ڈویلپمنٹ سینٹر آپ کے ملک میں ہی کھولتے ہیں، اگر ہمارے تاجر اپنی خود غرضی کے "خ*ل" سے باہر آئیں اور ہمارا علمی طبقہ بے حسی کی غفلت کو "خیرباد" کہے تو ہم مل کر کوئی ایسا تعلیمی نظام یا کم از کم ایسا تعلیمی ادارہ ضرور تشکیل دے سکیں جو ہمارے نوجوانوں کو معاشی خودمختاری دے سکے، جو ان میں کم ہمتی کے بجائے بلند ہمتی پیدا کرے اور جو غلامی کے بجائے خود داری کا درس دے، ہمیں غلام نہیں آزاد نوجوانوں کی ضرورت ہے۔۔۔ ایسے نوجوانوں کی کہ جن کا طریق امیری نہیں فقیری ہو، جو خودی کو بیچنے والے نہ ہوں اور بقول اقبال
شیشہ گراں فرنگ کا احسان رکھنے کے بجائے خود سے مینا و جام پیدا کرنے کا ہنر جانتے ہوں
Masud Qazi

Photos from Al-Asarian Society's post 16/11/2024

An international conference on "Integration of Social Sciences: Challenges and Pathways for Pakistan" was held at Kohat University of Science and Technology (KUST), Kohat, on November 15, 2024. During the event, the esteemed Vice Chancellor of KUST, Prof. Dr. Naseer Ud Din, commended the significant contributions of Haji Ahmad Raza, Managing Director of Al Asar Academy, Usterzai Payan, Kohat. The Vice Chancellor described Haji Ahmad Raza as an unsung hero, highlighting his dedicated efforts towards education and his exceptional support for orphans, which deserve recognition.

As a token of appreciation, the Vice Chancellor presented Haji Ahmad Raza with a souvenir, honoring him as the Guest of Honor.

The event was attended by several distinguished guests, including the Director of Quality Assurance, Higher Education Department, Peshawar; the Vice Chancellor of FATA University; the Registrar of Khushal Khan Khattak University, Karak; and the heads of various departments.

16/11/2024

HEC announces registration schedule for fully funded Chinese government scholarships for Pakistani students for Bachelor, Masters and PhD Programs. CSC is China's largest scholarship program offering admissions with scholarships at China's 289 universities.

*Full tuition fee funded, monthly stipend and travel expenses included. Application deadline is December 09, 2024.*

Visit HEC Website.
www.hec.gov.pk.

08/11/2024

بری بچت

بہت بری بچت یہ ہے کہ بچے کی تعلیم پر پیسہ نہ لگایا جائے، بچت کی جائے۔ بہت بری بچت یہ ہے کہ سکول والے جب کوئی ایکٹیویٹی پلان کریں تو اس ایکٹیویٹی میں بچت کے چکر میں بچے کو شریک نہ ہو نے دیا جائے۔ بہت بری بچت یہ ہے کہ تعلیمی ادارے کیا سکھا رہے ہیں، اسکو چھوڑ کر سستے تعلیمی اداروں میں جایا جائے۔
بدترین بچت یہ ہے کہ بچے کے لباس پر خرچ نہ کیا جائے۔ بری بچت یہ ہے کہ بچے کو کھیلنے کا سامان نہ لے کر دیا جائے۔ بری بچت یہ ہے کہ اسے کسی ٹرپ یا recreation کی ایکٹیویٹی میں شریک نہ ہو نے دیا جائے۔

بچے کی تعلیم کے معاملے میں کی جانے والے بچت بدترین بچت ہوتی ہے جسکا خمیازہ وہ بچہ بھی تاحیات بھگتے گا اور والدین بھی۔ سیکھنے کے عمل کی پیمائش آ سان نہیں ، یہ پیمائش ہونے میں زندگی لگ جاتی ہے۔ نمبر ڈگر یاں تو کہیں سے بھی میسر ہیں۔

امیروں کی اولادوں کی تربیت میں بری بچتیں نہیں ہوتی۔ مڈل کلاس بری بچت کے ذریعے بچے کو غریب کر دیتی ہے۔

سب بدل گیا ہے، تعلیم میں بھی سب بدل گیا۔ پھٹی لکھنے، پھٹی پوچنے ، خوش خطی کی ٹینشن کا دور گزر گیا، رٹے کا بھی گزر گیا۔ اب تو تاحیات سیکھنا ہے، نیا سیکھنا ہے۔ بندہ ہو یا ٹیکنالوجی کی ڈیوائس، جو اپڈیٹ نہ ہوا ، ناکارہ کر کے پھینک دیا جائے گا۔

ان پڑھ بندہ کسی کا م کا نہیں رہے گا اور پڑھا لکھا وہ کام کا ہو گا، جو سیکھے ہوئے کو بیچ سکھے۔ مارکیٹ ظالم چیز ہیں ، چیخ کی پرواہ کرتی ہے نہ منت کی۔

بری بچت سے پرہیز ضروری ہے۔
سوچئے

ڈاکٹر عمران جاوید

10/10/2024
05/10/2024

Happy Teachers' Day!

Today, we honor the dedicated, passionate, and inspiring educators who transform lives every day!

To the teachers who:
Ignite curiosity and creativity, nurture minds and growth, believe in every student's potential, listen, empathize, and understand, empower, encourage, and support, foster inclusivity and respect.

Not to the teachers who:
Look down on students, make fun of them in front of their peers, fail to understand and empathize, discourage curiosity and creativity.

However, we also acknowledge that not all educators uphold these values. To those who demotivate, belittle, and discourage, we say: teaching is not just about imparting knowledge, but about inspiring and nurturing young minds.

Want your school to be the top-listed School/college in Kohat?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address

Kohat