Private Education Network Kohat -PEN

Private Education Network Kohat -PEN

Share

پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک ایک پرائیویٹ تنظیم ہے۔ جس کا منشا تمام پرائیویٹ سکولز کو ایک فورم پر لاناہے

Photos from Private Education Network Kohat -PEN's post 26/04/2026

محترم آفتاب عالم ایڈووکیٹ، وزیر قانون خیبر پختونخوا کے ساتھ پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک کے نمائندہ وفد نے جناب ہارون نیازی صاحب سینئر نائب صدر پین خیبر پختونخوا کی سربراہی میں ایک اہم ملاقات کی۔ اس موقع پر ضلعی صدر پین، جناب لقمان خٹک نے بھی شرکت کی۔ میٹنگ میں حافظ ذبیح اللہ، حافظ محمد ، پروفیسر منصور، عبد الجلیل، کرنل رئیس ، افراسیاب نے شرکت کی۔ ملاقات کے دوران پرائیویٹ سیکٹر کو درپیش مختلف مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
ہارون نیازی صاحب اور لقمان خٹک نے وزیر قانون کو پرائیویٹ سیکٹر کے مسائل، خصوصاً لیبر، پروفیشنل ٹیکس اور دیگر ٹیکسز میں درپیش مشکلات اور ان میں ترامیم کی ضرورت کے حوالے سے بریفنگ دی۔ وزیر قانون نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پرائیویٹ سیکٹر واقعی مشکلات اور زبوں حالی کا شکار ہے اور حکومت اس کی بھرپور معاونت کرے گی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ان مسائل کے حل کے لیئے مناسب قانون سازی کی جائیگی۔ اور حکومتی سطح پر اس کا بہترین حل نکالا جائیگا۔
مزید برآں، لقمان خٹک نے کوہاٹ ٹاؤن شپ میں قائم نجی اسکولوں کو درپیش مسائل، جمعہ و ہفتہ کی تعطیلات کے حوالے سے بھی آگاہ کیا۔ اس پر وزیر قانون نے فوری طور پر سیکرٹری ایکسائز سے رابطہ کیا اور ہدایت دی کہ پروفیشنل ٹیکس کے لیے فنانس بل کے اندرمناصب سلیب تشکیل دیا جائے اور اضلاع میں ای ٹی اوز کو ہدایات جاری کی جائیں کہ نجی اسکولوں کو بلاوجہ تنگ نہ کیا جائے۔
جمعہ کی تعطیل کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر سے بھی بات چیت کی گئی، جس کے نتیجے میں ہدایات جاری کی گئیں کہ اسکول پہلے کی طرح اپنے معمول کے مطابق جمعہ کے دن کھلے رکھ سکتے ہیں، اور اسسٹنٹ کمشنرز کو بھی ہدایت دی گئی کہ وہ اسکولوں کے خلاف کارروائیاں نہ کریں۔
وزیر قانون نے مزید عندیہ دیا کہ وہ اس معاملے پر وزیراعلیٰ اور سیکرٹری ایجوکیشن سے بھی ملاقات کریں گے تاکہ ہفتہ کی چھٹی کے حوالے سے مسائل کو حل کیا جا سکے۔
اسی طرح کے ڈی اے کے تحت آنے والے اسکولوں کو درپیش مسائل، نوٹسز اور ممکنہ بندش کے معاملات پر بھی وزیر قانون نے پروجیکٹ ڈائریکٹر عبدالحادی صاحب سے فوری رابطہ کیا اور ہدایت دی کہ اسکولوں کو ہراساں نہ کیا جائے۔
پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک، کوہاٹ ڈویژن، محترم وزیر قانون کے ان بروقت اقدامات پر ان کا تہہ دل سے شکر گزار ہے اور ان کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔
شعبہ نشرو اشاعت پین کوہاٹ ڈویژن

26/04/2026

**Huge congratulations** to our Divisional Chairman PEN , Mr. Muhammad Luqman, on his outstanding selection as MNA in the *National Education Assembly (Session 2026–2028)!* 🎉

This is a truly proud and defining moment for all of us. His relentless dedication to education, visionary leadership, and passion for empowering students have earned him this well-deserved recognition.

We are incredibly excited and confident that his voice will uplift the education sector, bring positive change, and open new doors of opportunity for countless learners across the country.

**A big win for education, a proud moment for our institution, and an inspiring milestone for the future!** 🚀

Photos from Private Education Network Kohat -PEN's post 17/04/2026

پرسوں Son of Kohat اسکول اینڈ کالج کی افتتاحی تقریب شان مرکی ہال میں انتہائی شاندار انداز میں منعقد ہوئی، جس میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے معزز افراد نے شرکت کی۔

یہ تقریب نہ صرف ایک تعلیمی ادارے کے آغاز کی خوشی تھی بلکہ ایک ایسے مشن کی عکاسی بھی تھی جو فلاحی خدمات اور معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے وقف ہے۔ Son of Kohat ہمیشہ سے فلاحی کاموں میں پیش پیش رہا ہے، اور ہمیں یقین ہے کہ کوہاٹ کی سرزمین پر بھی یہ ادارہ تعلیم کے میدان میں نمایاں کردار ادا کرے گا۔

ہم بطور ڈویژنل چیئرمین، جناب واحد بنگش (منیجنگ ڈائریکٹر) کے بے حد شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ہمیں اس خوبصورت تقریب میں بطور Guest of Honor مدعو کیا اور اپنے خیالات کے اظہار کا موقع دیا۔ اس موقع پر ہم نے پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک کے نظریے اور تعلیمی شعبے کو درپیش مسائل کو بھی اجاگر کیا۔

دعا ہے کہ Son of Kohat اسکول اینڈ کالج دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرے اور علاقے میں تعلیم کے فروغ کا روشن مینار ثابت ہو۔

15/04/2026

📰 پریس ریلیز

پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک (PEN)

پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک (PEN) حالیہ امتحانی سیشن کے دوران بعض اداروں میں طلبہ کے احتجاجی رویوں اور ناخوشگوار واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ PEN واضح کرتا ہے کہ کسی بھی صورت میں توڑ پھوڑ، بد نظمی یا متشدد رویہ تعلیمی اقدار، نظم و ضبط اور ادارہ جاتی وقار کے منافی ہے۔

تاہم، PEN ایک ذمہ دار تعلیمی و مشاورتی پلیٹ فارم کے طور پر اس بات کو بھی تسلیم کرتا ہے کہ ایسے واقعات عموماً متعدد انتظامی، نفسیاتی اور ادارہ جاتی عوامل کا نتیجہ ہوتے ہیں، جن کا جامع تجزیہ ناگزیر ہے۔

حالیہ واقعے کے تناظر میں، جہاں بورڈ کے متعلقہ عملے اور وزٹ کرنے والی ٹیم کی موجودگی میں صورتحال پیش آئی، اس امر کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے کہ نہ صرف امتحانی انتظامی طریقۂ کار بلکہ مختلف سطحوں پر موجود ذمہ داران کے کردار، رابطہ کاری اور طرزِ عمل کا بھی ازسرِ نو جائزہ لیا جائے، تاکہ مستقبل میں ایسے حالات کی مؤثر روک تھام ممکن ہو سکے۔

اسی طرح، مقامی سطح پر تعینات ریزیڈنٹ انسپکٹرز اور نگرانی کے فرائض انجام دینے والے متعلقہ عملے کی ذمہ داریوں، ان کے پیشہ ورانہ کردار اور طلبہ کے ساتھ تعامل کے طریقۂ کار پر بھی ایک شفاف اور غیر جانبدارانہ نظرثانی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کا مقصد کسی فرد کو موردِ الزام ٹھہرانا نہیں بلکہ مجموعی نظام کی بہتری اور اعتماد کی بحالی ہے۔

ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ امتحانی نظام میں شفافیت، منصفانہ طریقہ کار اور بروقت مؤثر کمیونیکیشن کو مزید مضبوط بنایا جائے، تاکہ طلبہ میں اعتماد بحال ہو اور ان میں پیدا ہونے والی بے چینی کو کم کیا جا سکے۔

ہم بالخصوص Board of Intermediate and Secondary Education Kohat سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اس پورے نظام کا ایک جامع اور غیر جانبدارانہ جائزہ لے کر ایسے اصلاحی اقدامات کرے جو امتحانی نظم و ضبط اور طلبہ کے اعتماد دونوں کو مضبوط بنائیں۔

آخر میں، PEN تمام طلبہ سے اپیل کرتا ہے کہ وہ کسی بھی صورتحال میں پرامن، ذمہ دار اور مہذب رویہ اختیار کریں، کیونکہ پائیدار اصلاحات ہمیشہ مکالمے، برداشت اور ادارہ جاتی اعتماد سے جنم لیتی ہیں۔

---

جاری کردہ:
پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک (PEN)

15/04/2026

*پریس ریلیز۔۔۔*

گورنمنٹ ہائی اسکول درہ آدم خیل واقعہ — تجزیہ و مؤقف
گورنمنٹ ہائی اسکول درہ آدم خیل میں پیش آنے والے حالیہ واقعے کے حوالے سے ہم نے مختلف اسٹیک ہولڈرز اور بورڈ کے اعلیٰ عہدیداران سے معلومات حاصل کیں۔ موصولہ معلومات کے مطابق بورڈ کی طرف سے جن افسران کی ڈیوٹی لگائی گئی تھی، ان میں حق نواز صاحب، طیب صاحب، جناب عارف صاحب اور تخت نصرتی سے ایک اسسٹنٹ پروفیسر شامل تھے۔ یہ افسران امتحانی ہال میں موجود تھے اور انہوں نے نقل کی روک تھام کو یقینی بنایا۔
اطلاعات کے مطابق چونکہ بعض طلبہ نقل کے عادی ہو چکے ہیں، اس لیے دورانِ امتحان چند طلبہ نے احتجاج کیا۔ تاہم امتحان مکمل ہونے، پیپر کی بائنڈنگ اور بینک میں ترسیل کے بعد طلبہ نے باقاعدہ طور پر سڑک بند کر کے احتجاج کیا۔ اس مرحلے پر یہ بات واضح نہیں ہو سکی کہ آیا یہ احتجاج طلبہ کا خودساختہ اقدام تھا یا کسی نے پسِ پردہ انہیں اس پر اُکسایا۔
مزید یہ کہ بورڈ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ ایک اور امتحانی مرکز پر بھی طلبہ کا رویہ تشویشناک تھا، جس کے باعث عملہ کو احتیاطاً وقت سے پہلے وہاں سے نکلنا پڑا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مجموعی طور پر صورتحال حساس ہوتی جا رہی ہے۔
یہ ایک اہم سوال ہے کہ اگر طلبہ کسی دباؤ یا زیادتی کا شکار تھے، تو اس کے لیے باقاعدہ شکایتی طریقہ کار موجود ہے۔ سڑکوں پر آ کر احتجاج کرنا اور ہائی وے بند کرنا کسی بھی صورت مناسب طرزِ عمل نہیں ہے۔ اگر احتجاج کے ذریعے نقل کی اجازت دلوانے کی روایت قائم ہو گئی تو امتحانی نظام کی ساکھ مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔
چیئرمین صاحب نے واقعے کے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے انکوائری کا حکم دیا ہے۔ ہم نے بھی ان سے گزارش کی ہے کہ ایک شفاف اور غیر جانبدار انکوائری کی جائے تاکہ اصل محرکات سامنے آ سکیں اور یہ معلوم ہو کہ طلبہ کو احتجاج پر کس نے آمادہ کیا۔
بچے کیوں احتجاج کے لئے نکل ائے۔ آخر کس نے امتحان کے دوران بچوں کو احتجاج پر مجبور کیا۔
آخر میں، یہ بات نہایت اہم ہے کہ اگر طلبہ کو احتجاج کے لیے سڑکوں پر لایا جاتا رہا تو اس سے نظام کی بہتری کے بجائے مزید خرابی پیدا ہوگی۔ اس لیے ضروری ہے کہ ذمہ داران کا تعین کر کے مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام یقینی بنائی جائے۔ پرائیوٹ ایجوکیشن نیٹ ورک اسی طرح اقدامات کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتی ہیں۔

شعبہ نشرو اشاعت پین کوہاٹ ڈویژن

14/04/2026

آج یہ تیسرا واقعہ سامنے آیا ہے۔ اس سے پہلے ہنگو میں سنٹر 192، پھر بلی ٹنگ، اور آج ایف جی ڈگری کالج ڈوڑا روڈ پر بھی صورتحال کشیدہ رہی اور روڈ بلاک کیا گیا۔
ہمیں یہ سمجھ نہیں آتی کہ اگر کوئی بچہ صرف پانچ منٹ تاخیر سے (9:05) امتحانی ہال میں داخل ہوتا ہے تو اسے ایم سی کیوز پیپر سے محروم کر دیا جاتا ہے، تو کیا ایسے میں طلباء کو احتجاج کا حق حاصل نہیں؟ خاص طور پر جب کلسٹر سسٹم کے تحت بچوں کو 15 سے 20 کلومیٹر دور امتحانی مراکز میں بھیجا جا رہا ہے۔
اگر سختی ہی کرنی ہے تو یکساں ہونی چاہیے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ سپرنٹنڈنٹ خود 9:20 یا 9:30 پر پیپر لے کر ہال میں داخل ہوں، مگر طلباء کے لیے پانچ منٹ کی تاخیر بھی ناقابل قبول ہو؟ یہ دوہرا معیار ناقابل قبول ہے۔
ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ:
ہم نقل (cheating) کے ہرگز حامی نہیں ہیں۔
لیکن طلباء کے بنیادی حقوق کا تحفظ ضروری ہے۔
کسی بھی صورت طلباء کے مستقبل کے ساتھ ناانصافی برداشت نہیں کی جائے گی۔
جہاں کہیں بھی طلباء کو ان کے جائز حق، خصوصاً ایم سی کیوز پیپر سے محروم کیا جائے گا، وہاں پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک ڈویژن کی سطح پر ان کے ساتھ کھڑا ہوگا، ان شاء اللہ۔
ہم تمام متعلقہ گورنمنٹ افسران اور سپرنٹنڈنٹس سے اپیل کرتے ہیں کہ خدارا انصاف سے کام لیں۔ آپ کی ڈیوٹی چند دنوں کی ہے، مگر ان بچوں کا مستقبل دائو پر لگا ہوا ہے۔

شعبہ نشرو اشاعت پین کوہاٹ ڈویژن

11/04/2026

میرے خیال میں ہمارے تمام معزز پرائیویٹ اسکولز اونرز اور پرنسپلز صاحبان، جو اس گروپ کا حصہ ہیں، انتہائی سنجیدہ اور تعلیم دوست لوگ ہیں۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ہم سب کو اجتماعی طور پر اپنی پالیسیوں اور فیصلوں پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ کہنا کہ ہر بچہ صبح 9 بجے امتحانی مرکز میں لازمی داخل ہو، ایک غیر حقیقت پسندانہ تقاضا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ:
سوالیہ پرچہ خود 9 بجے بینک سے حاصل کیا جاتا ہے
پھر سپرنٹنڈنٹ حضرات 9:20، 9:30 یا اس کے بعد سنٹر پہنچتے ہیں
اس کے بعد پیپر کھولا جاتا ہے
تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب سسٹم خود تاخیر کا شکار ہے تو طلبہ سے وقت کی سخت پابندی کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟
مزید برآں، کلسٹر سسٹم کے تحت بچوں کو 10 سے 20 کلومیٹر دور سنٹرز میں بھیجا جا رہا ہے۔
کئی بچے پیدل آتے ہیں
کچھ سوزوکی یا محدود ٹرانسپورٹ پر انحصار کرتے ہیں
پٹرول کی مہنگائی اور ٹرانسپورٹ کی کمی ایک بڑی رکاوٹ ہے
ایسے حالات میں 9 بجے تک ہر بچے کی حاضری ممکن ہی نہیں۔
ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ بچوں کا احتجاج ان کا حق ہے، کیونکہ وہ حقیقی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ لیکن سب سے زیادہ تشویشناک پہلو دوہرا معیار (Double Standard) ہے:
ایک سنٹر (مثلاً سنٹر نمبر 192) میں درجنوں بچوں کو صرف تاخیر کی بنیاد پر پیپر نہیں دیا گیا، حالانکہ وہ دور دراز علاقوں سے اور خراب موسم میں آئے تھے
جبکہ دوسرے سنٹرز میں شہری طلبہ کے احتجاج پر انہیں پیپر فراہم کر دیا گیا
یہ رویہ نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ پورے نظام کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔
ہماری واضح مطالبہ ہے:
تمام طلبہ کے ساتھ یکساں سلوک (Equality) یقینی بنایا جائے
پالیسی کو زمینی حقائق کے مطابق بنایا جائے
دور دراز علاقوں کے طلبہ کے لیے خصوصی رعایت یا بہتر انتظام کیا جائے
اور دوہرے معیار کا فوری خاتمہ کیا جائے
کیونکہ انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔
*نوٹ*
اگر مئگریشن کا قانون سب کے لئے ہے تو شہریار کے کہنے پر میگریشن کیوں ہوتا ہے۔

منجانب۔۔ شعبہ نشرو اشاعت پین کوہاٹ ڈویژن

11/04/2026

*اپیل برائے گورنمنٹ ملازمین*

جب کوئی امتحان میں انسپکشن کے لئے جائے تو شور شرابہ مت کریں اور بچوں کو نہ ڈرائیں... بیمار ذہن والے بچوں کو دھمکیاں دیتے ہیں جن کی وجہ سے جو کچھ آتا ہو اس میں بھی کنفیوز ہوجاتے ہیں.

10/04/2026

پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹورک کوہاٹ ڈویژن آج ہونے والے جماعت نہم کے بورڈ امتحان کے پرچے میں سامنے آنے والی سنگین غلطیوں پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کرتا ہے۔ جماعت *نہم کے طلبہ اپنی تعلیمی زندگی میں پہلی مرتبہ بورڈ امتحان میں شریک ہوتے ہیں، اس لیے امتحانی پرچے کی تیاری، جانچ اور طباعت کا عمل نہایت حساس اور ذمہ دارانہ مرحلہ سمجھا جاتا ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس تمام عمل سے گزرنے کے باوجود آج کے پرچے میں سیکشن B اور سیکشن C میں نمایاں غلطیاں موجود تھیں۔*

کلاس *دہم کے سیکشن اے میں پہلی دو ایم سی کیوز میں غلطیاں ہونے پر تشویش کا اظہار کیا۔*
ان غلطیوں کی وجہ سے طلبہ شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار رہے، جبکہ بعض سوالات میں خرابی کے باعث طلبہ کے لیے دیے گئے آپشنز بھی محدود ہو کر رہ گئے۔ اس صورتحال نے امتحانی ماحول کو متاثر کیا اور طلبہ کی کارکردگی پر بھی منفی اثر پڑنے کا خدشہ پیدا ہوا۔

پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹورک اس قسم کی کوتاہی کو انتہائی سنجیدگی سے لیتا ہے اور متعلقہ بورڈ انتظامیہ کی اس غفلت کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ طلبہ کے ساتھ ہونے والی اس ناانصافی کا فوری ازالہ کیا جائے۔ بالخصوص سیکشن B کے چار نمبر اور سیکشن C کے چھ نمبر، مجموعی طور پر دس نمبر اور جماعت دہم کے سیکشن اے میں دو ایم سی کیوز کے دو نمبر طلبہ کو بطور گریس مارکس دیے جائیں تاکہ انہیں اس غلطی کا نقصان نہ اٹھانا پڑے۔

مزید برآں، *پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹورک چیئرمین بورڈ سے مطالبہ کرتا ہے کہ اس معاملے کی فوری اور شفاف انکوائری کرائی جائے اور جو بھی اہلکار اس غفلت کے ذمہ دار ہوں، خواہ وہ کسی بھی عہدے پر فائز ہوں، ان کے خلاف سخت ترین تادیبی کارروائی کی جائے۔*

ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ مستقبل میں امتحانی عمل میں اس نوعیت کی کوتاہی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور طلبہ کے تعلیمی مفاد کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کی جاتی رہے گی۔

شعبہ نشرو اشاعت پین کوہاٹ ڈویژن

10/04/2026

معزز گروپ ممبران!
جیسا کہ آپ سب بخوبی آگاہ ہیں کہ حالیہ امتحانات تمام تر گورنمنٹ اسکولز میں منعقد کیے گئے ہیں۔ Board of Intermediate and Secondary Education Peshawar کے چیئرمین کی جانب سے Khushal Model School پشاور پر دس لاکھ روپے جرمانہ عائد کرتے ہوئے اسے ڈی افیلیٹ کر دیا گیا ہے، اور ساتھ ہی Private Schools Regulatory Authority (PSRA) کو اس کی رجسٹریشن منسوخی کے لیے بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
بحیثیت ذمہ دار تعلیمی رہنما اور کوہاٹ ڈویژن کی نمائندگی کرتے ہوئے، آپ سب سے نہایت مؤدبانہ گزارش ہے کہ:
کسی بھی صورت میں اسکول اونرز واٹس ایپ گروپس میں شامل نہ ہوں جہاں امتحانی مواد کا تبادلہ ہو۔
پیپر لیک یا اس کی ترسیل جیسے غیر قانونی عمل سے مکمل اجتناب کریں۔
نقل کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی کریں اور اپنے ادارے کی ساکھ کو مقدم رکھیں۔
واضح رہے کہ Federal Investigation Agency (FIA) مکمل طور پر متحرک ہو چکی ہے، اور کوہاٹ ڈویژن کے مختلف اضلاع میں نگرانی کا عمل جاری ہے۔ اسکول اونرز، سپرنٹنڈنٹس اور متعلقہ افراد کے نمبرز زیرِ مشاہدہ ہیں۔ ایسی کسی بھی سرگرمی میں ملوث ہونے کی صورت میں نہ صرف قانونی کارروائی ہوگی بلکہ ادارے کی رجسٹریشن بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
لہٰذا، اپنی عزت، ادارے کی ساکھ اور طلبہ کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے احتیاط برتیں۔ ایسا نہ ہو کہ بعد میں پچھتاوا ہو۔
مجھے یقین ہے کہ کوہاٹ ڈویژن کے تمام معزز پرنسپل صاحبان اور اونرز اس منفی عمل کا حصہ نہیں بنیں گے اور اپنی پیشہ ورانہ ساکھ کو ہر حال میں برقرار رکھیں گے۔

شعبہ نشرو اشاعت پین کوہاٹ ڈویژن

10/04/2026

پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک (PEN) کوہاٹ بورڈ کی گزشتہ سال کی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتا ہے۔ گزشتہ امتحانی سیشن میں او ایم آر شیٹس کی کمپیوٹرائزڈ مارکنگ کے حوالے سے سنگین مسائل سامنے آئے، جہاں یا تو سسٹم بروقت دستیاب نہ تھا یا تکنیکی خرابیوں کا شکار رہا، جس کے نتیجے میں مارکنگ کا عمل دستی طور پر مکمل کیا گیا۔ اس دوران بے ضابطگیوں کی متعدد رپورٹس بھی منظرِ عام پر آئیں، جس سے طلبہ اور تعلیمی اداروں کا اعتماد متاثر ہوا۔

موجودہ سال میں تین پرچے ای-مارکنگ شیٹس کے تحت لیے جا رہے ہیں۔ اس تناظر میں ہمیں یہ خدشہ لاحق ہے کہ آیا اس جدید نظام کے لیے درکار سکینرز، مشینری اور دیگر تکنیکی تیاری مکمل اور مؤثر انداز میں یقینی بنائی گئی ہے یا نہیں۔

ہم امید رکھتے ہیں کہ اس مرتبہ کوہاٹ بورڈ تمام ضروری انتظامات بروقت اور مؤثر انداز میں مکمل کرے گا تاکہ مارکنگ کا عمل شفاف، منصفانہ اور درست طریقے سے انجام پائے، اور نتائج کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جا سکے۔

تاہم، اگر خدانخواستہ اس حوالے سے کسی قسم کی غفلت یا نااہلی سامنے آتی ہے جس کے نتیجے میں طلبہ کا مستقبل متاثر ہوتا ہے، تو پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک (PEN) طلبہ، ان کے حقوق، نجی تعلیمی اداروں کے مفادات اور میرٹ کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ایسی کسی بھی نااہلی یا انتظامی کمزوری کی مکمل ذمہ داری متعلقہ بورڈ حکام پر عائد ہوگی۔

شعبہ نشرو اشاعت
پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک (PEN)کوہاٹ ڈویژن

08/04/2026

تمام نجی تعلیمی اداروں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ روایتی (مینول) سرٹیفکیٹس کے بجائے ڈیجیٹل سرٹیفکیٹس جاری کرنے کے پابند ہیں۔
لہٰذا آئندہ کوئی بھی ادارہ مینول سرٹیفکیٹ جاری نہ کرے۔
ڈیجیٹل سرٹیفکیٹس کے اجرا سے نہ صرف شفافیت میں اضافہ ہوگا بلکہ ریکارڈ کو محفوظ اور قابلِ تصدیق بھی بنایا جا سکے گا۔
تمام ادارے اس ہدایت پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔

Want your school to be the top-listed School/college in Kohat?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address

Kohat
Kohat
26000