25/09/2024
میرا اج کا ارٹیکل ضرور پڑھنا پورا اور اگے شیئر کرنا اپ کا کام ہے
فلور کراسنگ آرٹیکل 63A
السلام علیکم فرض کر لیجئے کہ رات کے وقت کسی گلی میں چوکیدار پہرہ دے رہا ہے وہ ایک شخص کو منہ پر ڈھاٹا باندھے کسی گھر کی دیوار پھیلانگتے ہوئے دیکھتا ہے ایسے میں چوکیدار کو کیا کرنا چاہئے ؟ ظاہر ہے چوکیدار اس شخص کو پکڑنے کی کوشش کرے گا یا کم از کم شور مچائے گا تاکہ وہ چور ڈ ر کر بھاگ جائے اگر چوکیدار شور مچائے نہ چور کو روکنے کی کوشش کرے تو ظاہر ہے چوکیدار بھی چور کا ساتھی سمجھا جائے گا اسی مثال کو اگے بڑھاتے ہوئے فرض کر لیجئے کہ چور کسی نہ کسی طرح سے چوری کر لیتا ہے پھر معاملہ پولیس تک جاتا ہے اور پولیس چور کو پکڑ کر مال برامد کر لیتی ہے یہ مقدمہ عدالت میں جاتا ہے اور عدالت قرار دیتی ہے کہ چور کو اس کے جرم کی سزا ملے گی لیکن مال مسروکہ چور کے پاس ہی رہنے دیا جائے کیونکہ چور نے چوری کے لیے کافی محنت کی ہے کہ عدالت کا یہ فیصلہ کیا فیصلہ کسی بھی طور عقل منطق اور قانون کے مطابق کہلائے گا اس کا سیدھا سا جواب ہے نہیں ہرگز نہیں پاکستان کے دستور میں ارٹیکل 63 اے کا مقدمہ بنیادی طور پر یہی ہے کہ ہمارا حکومتی اتحاد چاہتا ہے کہ چور کو چوری کی سزا تو مل جائے لیکن مال اسی کے پاس چونکہ اس نے کچھ کام تو کیا ہے دستور کے ارٹیکل 63 ایک کا عنوان ہے انحراف کی بنیاد پر نہ اہلی اس کا متن یہ بتاتا ہے کہ اگر کوئی رکن قومی یا صوبہ اسمبلی یا سینیٹر بجٹ ائینی ترمیم یا وزیراعظم اور وزیراعلی کے انتخاب کے موقع پر پارٹی کی ہدایت سے ہٹ کر ووٹ دیتا ہے تو اسے قانون ساز ادارے میں اپنی نشست چھوڑنا ہوگی اس میں یہ واضح نہیں کہ پارٹی کی ہدایات کے برعکس ڈالا گیا ووٹ قبول ہوگا یا نہیں اس ابہام کا ایک جواب سیاسی ہے جو اس وقت مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی دونوں دے رہی ہیں ان کے خیال میں ارٹیکل 63 اے کا مطلب ہے کہ قومی اسمبلی میں 26ویں ائینی ترمیم کے لیے تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی اپنی جماعت کی ہدایت کے خلاف ووٹ ڈالیں تو کچھ نہیں ہوگا زیادہ سے زیادہ ان کی نشست خالی قرار دے دی جائے گی اور ایسا رکن دوبارہ الیکشن لڑ کر اسمبلی میں بیٹھ سکے گا اس تاویل کی سب سے بڑی سیاسی کمزوری یہ ہے کہ دستور میں چودویں ائینی ترمیم کے ذریعے اس شق کو شامل کرنے والے خود جناب نواز شریف تھے لہذا جب ان کے متعلقین اور ان کی جماعت اج فصاحت و بلاغت کے ساتھ اسمبلی میں اپنی پارٹی کے خلاف ووٹ ڈالنے کے عمل کو ہلال قرار دے رہے ہیں تو دراصل اپنے ہی قائد کو غلط ثابت کر رہے ہیں یہ تضاد اتنا نمایاں ہے کہ مسلم لیگ نون کا بڑے سے بڑا لیڈر بھی اپنے موقف پر کسی کو قائل نہیں کر سکتا اس کے علاوہ چودھویں ائینی ترمیم کر کے جناب نواز شریف نے جس عمل کو حرام قطعی قرار دیا تھا اٹھارویں ترمیمے پیپلز پارٹی نے بھی اس کو ایسے ہی رکھا تھا اس طرح پیپلز پارٹی بھی اس تضاد میں گرفتار ہے جس میں مسلم لیگ نون نے خود کو پھنسا لیا ہے اس کا سیدھا سا یہ مطلب ہے کہ یہ دونوں جماعتیں تحریک انصاف کے اراکین کی فلور کراسنگ کو وقتی طور پر اس لیے حلال سمجھ رہی ہیں کہ اس کا فائدہ انہیں پہنچتا ہے تاریخی طور پر دستور میں اس شق کو اس لیے شامل کیا گیا تھا کہ 1990 کی دہائی میں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کے اراکین کی خرید و فروخت اس قدر وسیع پیمانے پر کیا کرتی تھیں کہ کسی حکومت کا قیام ہی عملی طور پر ناممکن ہو چلا تھا 1947 میں نواز شریف نے اپنے دو دہائی اکثریت کے بل پر دستور میں ترمیم کا جو مسودہ قومی اسمبلی میں پیش کیا اس میں ترمیم کی وجہ یہی لکھی گئی کہ اراکین اسمبلی کی اس طرح کی حرکتوں سے عدم استحکام پیدا ہو رہا ہے اور اس ترمیم کے بعد ایک موثر حکومت کا قیام ممکن ہوگا اس ترمیم کے ذریعے یہ دستور میں یہ لکھ دیا گیا کہ کوئی بھی شخص پارلیمنٹ میں پارٹی بدلنا تو دور کی بات پارلیمنٹ سے باہر بھی اگر ڈسپلن کی خلاف ورزی کرے تو اسے سزا دینے کا فیصلہ پارٹی کا سربراہ کرے گا اور یہی فیصلہ حتمی ہوگا کوئی عدالت اسے بدل نہیں سکے گی یعنی سپیکر اسمبلی اور الیکشن کمیشن محض کھانے کا کام کریں گے 2010 میں جب دستور میں اٹھارویں ترمیم کی گئی تو بھی اس ارٹیکل کا عنوان قائم رکھا گیا یعنی مقصد اب بھی وہی تھا کہ اراکین اسمبلی اہم معاملات میں کسی بھی صورت پارٹی پالیسی سے باہر نہ جانے پائیں اور نااہلی کا خوف انہیں جکڑے رکھے البتہ سزا کو تین موقعوں پر ووٹ کے استعمال سے مشروط کیا گیا پہلا وزیراعظم یا وزیراعلی کے انتخاب یا عدم اعتماد کا موقع دوسرا بجٹ منظوری اور تیسرا ائینی ترمیم ان تین موقعوں کے علاوہ تمام منتخب برکات کو ووٹ کیا ازادی دے دی گئی اس کی وجہ یہ ہے کہ یہی تین موقع ایسے ہوتے ہیں جب فتح و شکست افراد کا نہیں پارٹی کا مسئلہ بن جاتی ہے اگر کوئی بھی رکن ایسے کسی موقع پر پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دے اور پھر سے انتخاب لڑ کر اسمبلی میں ا جائے تو یہ ائین اور اس کے مقاصد کا مذاق اڑانے کے مترادف ہوگا ایک بار پھر وہی سلسلہ شروع ہو جائے گا کہ ہر کچھ عرصے کے بعد چند لوگ اٹھیں گے اس میں اختلاف سے ہاتھ ملائیں گے اور حکومت کو گھر بیچ کر دوبارہ الیکشن لڑ کر اسمبلی میں ا جائیں گے کیونکہ ان کا ووٹ تو شمار ہو رہا ہوگا دستور میں ترمیم کے لیے بھی لوگ خریدے جا سکیں گے اور بجٹ پاس کرتے ہوئے بھی یہی مصیبت ہوگی حکومتیں ایک مذاق بن جائیں گی ہم اس عذاب میں گرفتار ہو جائیں گے جو 1990 کی انتہائی میں ہم پر نازل ہو رہا تھا قانون کے حوالے سے یہ اصول بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ یہ جب بھی اور جہاں بھی ایک جرم کی سزا تجویز کرتا ہے وہاں جرم کو روکنے کا طریقہ کار بھی خود بخود وجود میں ا جاتا ہے یوں سمجھ لیجیے کہ چوری ایک جرم ہے تو قانون صرف اسی وقت حرکت میں نہیں ائے گا جب چوری ہو بلکہ چور کو چوری کے لیے دیوار پھلانگتے ہوئے دیکھ کر بھی چوکیدار کی طرح قانون حرکت میں ا جاتا ہے اور ممکنہ چور کو دھر لیتا ہے اس اصول کی بنیاد پر ارٹیکل 63 اے اس وقت حرکت میں ا جائے گا جب کسی رکن اسمبلی کے بارے میں یہ واضح خدشات ہوں کہ وہ ترمیم ہی عدم اعتماد کے نازک موقع پر پارٹی کے خلاف جا رہا ہے مثال کے طور پر سادہ سی صورت یہ ہے کہ پارٹی اسمبلی سے غیر حاضر ہونے کا فیصلہ کر لیں اب کوئی منع کرنے کے باوجود اسمبلی جاتا ہے تو دراصل وہ پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو چکا ہوگا ایسا شخص جو ائین کی صریح خلاف ورزی کا ارادہ باندھ کر چل پڑا ہو تو پھر یہ منطقی نتیجہ ہے کہ اسے ائین کی خلاف ورزی سے روکا جائے اور وہ اپنا ووٹ نہ دے سکے دستور کی خلاف ورزی کے ٹھوس امکان پر قومی اسمبلی کا سپیکر پولیس کی طرح حرکت میں ا کر اسے ووٹ دینے سے روک دے گا اگر متعلقہ رکن نہیں رکے گا تو سپیکر اس کے ووٹ کو شمار ہی نہیں کرے گا وہ یہ انتظار نہیں کرتا رہے گا کہ کوئی رکن پہلے اپنے ووٹ کی چھری سے نظام کو ذبح کر ڈالے اور قانون حرکت میں ائے یعنی اسپیکر ایسے شخص کو نظام سے کھیلنے کی سرے سے اجازت ہی نہیں دے گا سپریم کورٹ ایک صدارتی ریفرنس کے ذریعے پوچھے گئے سوالات میں یہ واضح کر چکی ہے کہ ارٹیکل 63 اے کے تحت اگر کوئی منتخب رکن اپنی پارٹی کی ہدایت کے خلاف کسی بھی ایوان میں ووٹ دیتا ہے تو اس کا ووٹ شمار نہیں ہوگا سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے یہ فیصلہ مئی 2022 میں سنایا تھا جس کے بعد پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے وہ اراکی جنہوں نے حمزہ شہباز کو وزارت اعلی کے لیے ووٹ دیے تھے نااہل ہو گئے اور ان کے ووٹ بھی شمار نہیں ہوئے اب اسی فیصلے کو جناب جسٹس قاضی فائد عیسی کی سربراہی میں ایک بینچ میں نظر ثانی کے لیے لگا دیا گیا ہے سپریم کورٹ میں درخواست لے جانے والوں کو امید یہ ہے کہ نظر ثانی کرتے ہوئے چیف جسٹس جناب جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں عدالت چور کے اوکے مفادات کا تحفظ کریں گے یعنی اسے اسمبلی کی نشست سے فراغت کی سزا تو دے گی مگر چوری کا مال چور کے پاس ہی رہنے دے گی کچھ وکیل عدالت کو یہ سمجھانے کی کوشش کریں گے کہ چوری کا مال واپس مالکان کو دینا دستور کے خلاف ہے عین ممکن ہے یہ طویل اور بے مزہ لطیفہ کمرہ عدالت سے براہ راست نشر بھی کیا جائے گا مفکرین کی ایک بڑی تعداد کے نزدیک قانون درحقیقت اخلاق کے کم ترین اصولوں کا ریاستی قوت کے ذریعے نفاذ ہے اس لیے ارٹیکل 63 ای کی تشریح میں بھی ہمیں یہی پیمانہ ذہن میں رکھنا ہوگا ہمیں سوچنا ہوگا کہ ایک شخص جو ایک پارٹی کے منشور پر جیتے اور اسمبلی میں پہنچ کر اپنے ذاتی مفاد میں کسی دوسری پارٹی اور منشور کی حمایت کر دے تو اس کا یہ عمل کم از کم اخلاقی پیمانے پر درست ہے یا غلط یقین مانیے ہمیں ارٹیکل 63 ای کے حوالے سے بھی اسی ایک سوال کا جواب دے رہا ہے قانونی بحثیں تو صدیوں سے چلتی ائی ہیں صدیوں تک چلتی رہیں گی عمران خان کی مخالفت میں اس حد تک نہ گزر جائیں کہ انA
کی پارٹی کو توڑنے کی کوشش میں دستور قانون عدالت اور اخلاقیات ہی مذاق بن کر رہ جائیں شکریہ
25/09/2024
25/09/2024