Rabbia bibi

Rabbia bibi

Share

teacher

25/09/2024

میرا اج کا ارٹیکل ضرور پڑھنا پورا اور اگے شیئر کرنا اپ کا کام ہے
فلور کراسنگ آرٹیکل 63A
السلام علیکم فرض کر لیجئے کہ رات کے وقت کسی گلی میں چوکیدار پہرہ دے رہا ہے وہ ایک شخص کو منہ پر ڈھاٹا باندھے کسی گھر کی دیوار پھیلانگتے ہوئے دیکھتا ہے ایسے میں چوکیدار کو کیا کرنا چاہئے ؟ ظاہر ہے چوکیدار اس شخص کو پکڑنے کی کوشش کرے گا یا کم از کم شور مچائے گا تاکہ وہ چور ڈ ر کر بھاگ جائے اگر چوکیدار شور مچائے نہ چور کو روکنے کی کوشش کرے تو ظاہر ہے چوکیدار بھی چور کا ساتھی سمجھا جائے گا اسی مثال کو اگے بڑھاتے ہوئے فرض کر لیجئے کہ چور کسی نہ کسی طرح سے چوری کر لیتا ہے پھر معاملہ پولیس تک جاتا ہے اور پولیس چور کو پکڑ کر مال برامد کر لیتی ہے یہ مقدمہ عدالت میں جاتا ہے اور عدالت قرار دیتی ہے کہ چور کو اس کے جرم کی سزا ملے گی لیکن مال مسروکہ چور کے پاس ہی رہنے دیا جائے کیونکہ چور نے چوری کے لیے کافی محنت کی ہے کہ عدالت کا یہ فیصلہ کیا فیصلہ کسی بھی طور عقل منطق اور قانون کے مطابق کہلائے گا اس کا سیدھا سا جواب ہے نہیں ہرگز نہیں پاکستان کے دستور میں ارٹیکل 63 اے کا مقدمہ بنیادی طور پر یہی ہے کہ ہمارا حکومتی اتحاد چاہتا ہے کہ چور کو چوری کی سزا تو مل جائے لیکن مال اسی کے پاس چونکہ اس نے کچھ کام تو کیا ہے دستور کے ارٹیکل 63 ایک کا عنوان ہے انحراف کی بنیاد پر نہ اہلی اس کا متن یہ بتاتا ہے کہ اگر کوئی رکن قومی یا صوبہ اسمبلی یا سینیٹر بجٹ ائینی ترمیم یا وزیراعظم اور وزیراعلی کے انتخاب کے موقع پر پارٹی کی ہدایت سے ہٹ کر ووٹ دیتا ہے تو اسے قانون ساز ادارے میں اپنی نشست چھوڑنا ہوگی اس میں یہ واضح نہیں کہ پارٹی کی ہدایات کے برعکس ڈالا گیا ووٹ قبول ہوگا یا نہیں اس ابہام کا ایک جواب سیاسی ہے جو اس وقت مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی دونوں دے رہی ہیں ان کے خیال میں ارٹیکل 63 اے کا مطلب ہے کہ قومی اسمبلی میں 26ویں ائینی ترمیم کے لیے تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی اپنی جماعت کی ہدایت کے خلاف ووٹ ڈالیں تو کچھ نہیں ہوگا زیادہ سے زیادہ ان کی نشست خالی قرار دے دی جائے گی اور ایسا رکن دوبارہ الیکشن لڑ کر اسمبلی میں بیٹھ سکے گا اس تاویل کی سب سے بڑی سیاسی کمزوری یہ ہے کہ دستور میں چودویں ائینی ترمیم کے ذریعے اس شق کو شامل کرنے والے خود جناب نواز شریف تھے لہذا جب ان کے متعلقین اور ان کی جماعت اج فصاحت و بلاغت کے ساتھ اسمبلی میں اپنی پارٹی کے خلاف ووٹ ڈالنے کے عمل کو ہلال قرار دے رہے ہیں تو دراصل اپنے ہی قائد کو غلط ثابت کر رہے ہیں یہ تضاد اتنا نمایاں ہے کہ مسلم لیگ نون کا بڑے سے بڑا لیڈر بھی اپنے موقف پر کسی کو قائل نہیں کر سکتا اس کے علاوہ چودھویں ائینی ترمیم کر کے جناب نواز شریف نے جس عمل کو حرام قطعی قرار دیا تھا اٹھارویں ترمیمے پیپلز پارٹی نے بھی اس کو ایسے ہی رکھا تھا اس طرح پیپلز پارٹی بھی اس تضاد میں گرفتار ہے جس میں مسلم لیگ نون نے خود کو پھنسا لیا ہے اس کا سیدھا سا یہ مطلب ہے کہ یہ دونوں جماعتیں تحریک انصاف کے اراکین کی فلور کراسنگ کو وقتی طور پر اس لیے حلال سمجھ رہی ہیں کہ اس کا فائدہ انہیں پہنچتا ہے تاریخی طور پر دستور میں اس شق کو اس لیے شامل کیا گیا تھا کہ 1990 کی دہائی میں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کے اراکین کی خرید و فروخت اس قدر وسیع پیمانے پر کیا کرتی تھیں کہ کسی حکومت کا قیام ہی عملی طور پر ناممکن ہو چلا تھا 1947 میں نواز شریف نے اپنے دو دہائی اکثریت کے بل پر دستور میں ترمیم کا جو مسودہ قومی اسمبلی میں پیش کیا اس میں ترمیم کی وجہ یہی لکھی گئی کہ اراکین اسمبلی کی اس طرح کی حرکتوں سے عدم استحکام پیدا ہو رہا ہے اور اس ترمیم کے بعد ایک موثر حکومت کا قیام ممکن ہوگا اس ترمیم کے ذریعے یہ دستور میں یہ لکھ دیا گیا کہ کوئی بھی شخص پارلیمنٹ میں پارٹی بدلنا تو دور کی بات پارلیمنٹ سے باہر بھی اگر ڈسپلن کی خلاف ورزی کرے تو اسے سزا دینے کا فیصلہ پارٹی کا سربراہ کرے گا اور یہی فیصلہ حتمی ہوگا کوئی عدالت اسے بدل نہیں سکے گی یعنی سپیکر اسمبلی اور الیکشن کمیشن محض کھانے کا کام کریں گے 2010 میں جب دستور میں اٹھارویں ترمیم کی گئی تو بھی اس ارٹیکل کا عنوان قائم رکھا گیا یعنی مقصد اب بھی وہی تھا کہ اراکین اسمبلی اہم معاملات میں کسی بھی صورت پارٹی پالیسی سے باہر نہ جانے پائیں اور نااہلی کا خوف انہیں جکڑے رکھے البتہ سزا کو تین موقعوں پر ووٹ کے استعمال سے مشروط کیا گیا پہلا وزیراعظم یا وزیراعلی کے انتخاب یا عدم اعتماد کا موقع دوسرا بجٹ منظوری اور تیسرا ائینی ترمیم ان تین موقعوں کے علاوہ تمام منتخب برکات کو ووٹ کیا ازادی دے دی گئی اس کی وجہ یہ ہے کہ یہی تین موقع ایسے ہوتے ہیں جب فتح و شکست افراد کا نہیں پارٹی کا مسئلہ بن جاتی ہے اگر کوئی بھی رکن ایسے کسی موقع پر پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دے اور پھر سے انتخاب لڑ کر اسمبلی میں ا جائے تو یہ ائین اور اس کے مقاصد کا مذاق اڑانے کے مترادف ہوگا ایک بار پھر وہی سلسلہ شروع ہو جائے گا کہ ہر کچھ عرصے کے بعد چند لوگ اٹھیں گے اس میں اختلاف سے ہاتھ ملائیں گے اور حکومت کو گھر بیچ کر دوبارہ الیکشن لڑ کر اسمبلی میں ا جائیں گے کیونکہ ان کا ووٹ تو شمار ہو رہا ہوگا دستور میں ترمیم کے لیے بھی لوگ خریدے جا سکیں گے اور بجٹ پاس کرتے ہوئے بھی یہی مصیبت ہوگی حکومتیں ایک مذاق بن جائیں گی ہم اس عذاب میں گرفتار ہو جائیں گے جو 1990 کی انتہائی میں ہم پر نازل ہو رہا تھا قانون کے حوالے سے یہ اصول بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ یہ جب بھی اور جہاں بھی ایک جرم کی سزا تجویز کرتا ہے وہاں جرم کو روکنے کا طریقہ کار بھی خود بخود وجود میں ا جاتا ہے یوں سمجھ لیجیے کہ چوری ایک جرم ہے تو قانون صرف اسی وقت حرکت میں نہیں ائے گا جب چوری ہو بلکہ چور کو چوری کے لیے دیوار پھلانگتے ہوئے دیکھ کر بھی چوکیدار کی طرح قانون حرکت میں ا جاتا ہے اور ممکنہ چور کو دھر لیتا ہے اس اصول کی بنیاد پر ارٹیکل 63 اے اس وقت حرکت میں ا جائے گا جب کسی رکن اسمبلی کے بارے میں یہ واضح خدشات ہوں کہ وہ ترمیم ہی عدم اعتماد کے نازک موقع پر پارٹی کے خلاف جا رہا ہے مثال کے طور پر سادہ سی صورت یہ ہے کہ پارٹی اسمبلی سے غیر حاضر ہونے کا فیصلہ کر لیں اب کوئی منع کرنے کے باوجود اسمبلی جاتا ہے تو دراصل وہ پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو چکا ہوگا ایسا شخص جو ائین کی صریح خلاف ورزی کا ارادہ باندھ کر چل پڑا ہو تو پھر یہ منطقی نتیجہ ہے کہ اسے ائین کی خلاف ورزی سے روکا جائے اور وہ اپنا ووٹ نہ دے سکے دستور کی خلاف ورزی کے ٹھوس امکان پر قومی اسمبلی کا سپیکر پولیس کی طرح حرکت میں ا کر اسے ووٹ دینے سے روک دے گا اگر متعلقہ رکن نہیں رکے گا تو سپیکر اس کے ووٹ کو شمار ہی نہیں کرے گا وہ یہ انتظار نہیں کرتا رہے گا کہ کوئی رکن پہلے اپنے ووٹ کی چھری سے نظام کو ذبح کر ڈالے اور قانون حرکت میں ائے یعنی اسپیکر ایسے شخص کو نظام سے کھیلنے کی سرے سے اجازت ہی نہیں دے گا سپریم کورٹ ایک صدارتی ریفرنس کے ذریعے پوچھے گئے سوالات میں یہ واضح کر چکی ہے کہ ارٹیکل 63 اے کے تحت اگر کوئی منتخب رکن اپنی پارٹی کی ہدایت کے خلاف کسی بھی ایوان میں ووٹ دیتا ہے تو اس کا ووٹ شمار نہیں ہوگا سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے یہ فیصلہ مئی 2022 میں سنایا تھا جس کے بعد پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے وہ اراکی جنہوں نے حمزہ شہباز کو وزارت اعلی کے لیے ووٹ دیے تھے نااہل ہو گئے اور ان کے ووٹ بھی شمار نہیں ہوئے اب اسی فیصلے کو جناب جسٹس قاضی فائد عیسی کی سربراہی میں ایک بینچ میں نظر ثانی کے لیے لگا دیا گیا ہے سپریم کورٹ میں درخواست لے جانے والوں کو امید یہ ہے کہ نظر ثانی کرتے ہوئے چیف جسٹس جناب جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں عدالت چور کے اوکے مفادات کا تحفظ کریں گے یعنی اسے اسمبلی کی نشست سے فراغت کی سزا تو دے گی مگر چوری کا مال چور کے پاس ہی رہنے دے گی کچھ وکیل عدالت کو یہ سمجھانے کی کوشش کریں گے کہ چوری کا مال واپس مالکان کو دینا دستور کے خلاف ہے عین ممکن ہے یہ طویل اور بے مزہ لطیفہ کمرہ عدالت سے براہ راست نشر بھی کیا جائے گا مفکرین کی ایک بڑی تعداد کے نزدیک قانون درحقیقت اخلاق کے کم ترین اصولوں کا ریاستی قوت کے ذریعے نفاذ ہے اس لیے ارٹیکل 63 ای کی تشریح میں بھی ہمیں یہی پیمانہ ذہن میں رکھنا ہوگا ہمیں سوچنا ہوگا کہ ایک شخص جو ایک پارٹی کے منشور پر جیتے اور اسمبلی میں پہنچ کر اپنے ذاتی مفاد میں کسی دوسری پارٹی اور منشور کی حمایت کر دے تو اس کا یہ عمل کم از کم اخلاقی پیمانے پر درست ہے یا غلط یقین مانیے ہمیں ارٹیکل 63 ای کے حوالے سے بھی اسی ایک سوال کا جواب دے رہا ہے قانونی بحثیں تو صدیوں سے چلتی ائی ہیں صدیوں تک چلتی رہیں گی عمران خان کی مخالفت میں اس حد تک نہ گزر جائیں کہ انA
کی پارٹی کو توڑنے کی کوشش میں دستور قانون عدالت اور اخلاقیات ہی مذاق بن کر رہ جائیں شکریہ

25/09/2024

اپ سب میرے دستر خوان میں کار خیر ضرور بھیج کر غریبوں کو دو وقت کھانا فراھم کرنے میں اپنا کردار ضرور ادا کریں
جزاکﷲ

10/06/2024

جعلی ڈاکٹر اگر مریض کو وینٹی لیٹر پر پہنچا کر بولے کہ اب بڑی سرجری کی ضرورت ہے اور میں جان لگا کر سرجری کرونگا تو ایسے عطائی کیساتھ کیا کرنا چاہئیے ؟ ایسا ہی کچھ بیان کرکٹ بورڈ کے جعلی سربراہ کا بھی ہے جنہوں نے شاید ہی کبھی کرکٹ کھیلی ہو

10/11/2023

‏سوشل میڈیا پر چلنے والے ٹرینڈ مولوی برائے فروخت سے یہ ٹرینڈ چلایا جا رہا ہے انجینیئر محمد علی مرزا صاحب کے اعزاز میں جن کی یقین جانیے دل سے بہت عزت کرتی تھی لیکن ان کی انتہائی بھونڈے فلاسفی اور ناپاک قسم کے صحافتی معیار کے بعد ان کی عزت کرنے کو دل مان نہیں رہا بلکہ دل اب یہ کہہ رہا ہے انجینیئر محمد علی مرزا صاحب بھی کمپرومائزڈ ہو چکے ہیں اس کی وجہ نیو ٹی وی پر انہوں نے تجدید ایمان کرتے ہوئے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ عمران خان نے جو اپنے مورل گراؤنڈز کھڑے کیے تھے معذرت کے ساتھ وہ اس سے گر چکے ہیں عمران خان نے یہ دعوی کیا تھا کہ میں زمین پر ایک فرشتہ ہوں مجھ سے پہلے کوئی ایماندار لیڈر نہیں ایا اس لیے ہم ان کا موازنہ نواز شریف یا بے نظیر سے نہیں کریں گے بلکہ ان کو انفرادی طور پر دیکھیں گے اپنے معیار میں وہ مکمل ایک ناکام انسان ہے تو میرے انجینیئر صاحب اپ مجھے پاکستان کی سیاست میں عمران خان سے اچھا انسان ایک کامل انسان ایک بہترین انسان لا کر دکھا دو میں پہلی مخلوق خدا ہونگی جو اس کو ووٹ دوں گی
سیاست میں سیاستدان کا موازنہ اس کے مخالفین سے ہی کیا جاتا ہے اور کس سے فرشتوں سے کیا جائے گا؟ اپ کا موازنہ کس سے کرتے ہیں ؟ دیگر علماء کرام سے کرتے ہیں نا ؟ ان فرقہ پسند فرقہ پرست مولویوں سے کرتے ہیں کہ جو ممبر کو استحصال کے طور پر استعمال کرتے ہیں اپنے ذاتی مفاد کے طور پر استعمال کرتے ہیں
یا اپ کا موازنہ نواز شریف سے کرتے ہیں یا عمران خان سے کرتے ہیں ؟
نہیں بھائی جو اپ کی فیلڈ ہے اپ کا موازنہ اسی فیلڈ کے اندر اندر رہ کر کیا جائے گا اور دوسری بات میں نے تو عمران خان کی کسی تقریر میں یہ نہیں سنا کہ اس نے کہا ہو کہ میں اس زمین پر فرشتہ ہوں یا مجھ سے پہلے کوئی ایماندار لیڈر نہیں ایا اس نے یہ دعوی ضرور کیا کہ میں نے کوئی چوری کوئی کرپشن نہیں کی عوام کا پیسہ نہیں کھایا بلکہ اپنا پیسہ پاکستان لے کر ایا جس کا عوام کو فائدہ ہوا اس کا سب سے بڑا ثبوت شوکت خانم کینسر ہاسپٹل ہے پوری کوشش کے باوجود اج تک عمران خان پر کوئی کرپشن ثابت نہیں کر سکا یہاں تک کہ اس نے اسی کرپشن کی وجہ سے جہانگیر ترین اور علیم خان سے علیحدگی اختیار کر لی جبکہ عمران خان کے اس کا سیاسی نقصان کیا نہیں کیا اس نے دعوی کیا کہ میں نے پاکستان کا نام روشن کیا جس کا سب سے بڑا ثبوت ورلڈ کپ ہے ہاں عمران خان نے یہ دعوی ضرور کیا کہ زرداری اور نواز شریف صاحب نے مل کر ملک لوٹا اور یہ دعوی کوئی ہوا میں نہیں تھا بلکہ ان دونوں پر ہی سنگین کرپشن کے مقدمات ہیں جو کہ ان کے ہی دور کے ہیں تو ذمہ دار بھی انہی کو کہا جائے گا نا جیسا کہ
خلیفہ وقت نے کہا تھا کہ فرات کے کنارے کتا بھی پیاسا مر گیا تو ذمہ دار میں ہوں گا مجھ سے سوال ہوگا اسی طرح سے جس کی قیادت میں جس کی حکومت میں ملک تباہ و برباد ہوا تو اسی کو کرپٹ کہا جائے گا اسی ذلیل کیا جائے گا اور وہ جواب دینے کے بجائے کمپرومائز کا لیبل اور ڈیل کر لے ملک سے فرار ہو جائے تو پھر اپ بتائیے اس کو چور کہیں لیڈر کہیں راہبر کہیں ریزن کہیں کیا کہیں؟ نواز شریف اور زرداری صاحب تو خود ایک دوسرے کی کرپشن کے ثبوت قوم کو دکھا چکے ہیں دیکھاتے رهتے ہیں اور یہی عمران خان نے بھی کہا اب رہی بات کہ عمران خان کتنا کامیاب انسان ہے یا ناکام تو یہ تو یہ فیصلہ وقت کرے گا حالات کریں گے الیکشن کریں گے اس لیے کیونکہ عمران خان کوئی مذہبی سکالر تو ہے نہیں وہ تو ایک سیاستدان ہے اور سیاست دان کتنا کامیاب ہے اس کا فیصلہ عوام کرتی ہے نہ کہ کوئی انجینیئر اور اگر عمران خان اتنا ناکام ہے تو ذرا انجینیئر ایک بار سوشل میڈیا دیکھ لیں جس کے ذریعے ہی لوگوں نے ان کو جاننا شروع کیا تھا انجینیئر صاحب ذرا ایک بار یوٹیوب دیکھ لیں جس کے نیچے کتنے ہزار لوگ ان کو گالیاں دے رہے ہیں سمجھ ا جائے گی کہ عمران خان کتنا ناکام ہے اور میری نظر میں عمران خان بالکل ناکام نہیں ہے دنیا کا کامیاب ترین لیڈر ہے امت مسلمہ انکو اپنا لیڈر تسلیم کر چکی ہے
ایک شخص جس نے جوانی میں اپنے ملک کے لیے دنیا کا بڑا اعزاز حاصل کیا دولت عزت اور شہرت حاصل کی اپنی ماں کے نام پر کینسر ہاسپٹل بنا کر لاکھوں غریبوں کے مفت علاج کا وسیلہ بنا حکومت میں ایا تو ملک کے سب سے غریب طبقے کو اوپر اٹھانے کی کوشش کی ان کے لیے اقدامات کی لنگر خانے پناہ گائیں ہیلتھ کارڈ جیسی فلاحی اسکیمیں پاکستان میں پہلی بار متعارف کروائیں عمران خان کی قیادت میں پاکستان نے معاشی طور پر تاریخی ترقی کی اس نے اپنی قوم کو صدی کے سب سے بڑے بحران کرونا وائرس سے ایسے بچایا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے اس کی حکمت عملی کی تعریف کی اللہ تعالی نے اس کے ہاتھوں دنیا کے سب سے بڑے پلیٹ فارم سے اسلامو فوبیا کے خلاف قرارداد منظور کروائی بھارت پاکستان جنگ میں عمران خان نے جو حکمت عملی اختیار کی بھارت سے اس کے حق میں لوگوں نے اسلام کا مقدمہ تاریخ میں پہلی بار اس قدر دلیری اور بہترین انداز سے لڑا کہ دوسرے ممالک بھی تعریف کرنے پر مجبور ہو گئے اور اج جب وہ بڑھاپے کی اسٹیج پر ا چکا ہے 70 سال کا ہے تو پاکستان کے بچے بچے کی زبان پر اس کا نام ہے اج جب وہ جیل میں ہے اس کی پارٹی ٹوٹ چکی ہے اس کے پاس ہونے کو کچھ نہیں اور وہ اپنی زندگی کے بدترین دور سے گزر رہا ہے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے یہ بھی یقین نہیں کہ وہ الیکشن میں حصہ لے گا یا نہیں تب بھی ہر غریب اور عام انسان کی زبان پر عمران خان کا نام ہے اج عمران خان ایک طرف پورا سسٹم ایک طرف لیکن پھر بھی وہ نہتا اور جیل میں بند شخص پورے نظام پر بھاری ہے کوئی شخص کامیاب ہو سکتا ہے کہ جس نے جوانی سے لے کر بڑھاپے تک صرف مقبولیت دیکھی ہو جس کو لوگوں نے عزت دی ہو جس سے عالمی لیڈرز ملنے کی خواہشمند رہتے ہوں جس کے ساتھ ایک تصویر کھنچوانا مغربی ممالک میں بھی اعزاز سمجھا جاتا ہو جس کی حکومت کے صرف چار سال اس کے تمام مخالفین پر بھاری ہوں جو قید میں ہونے کے باوجود مرزا صاحب اپ ہی قوم کو بتا دیں ان سب کے باوجود اگر عمران خان کامیاب نہیں تو پھر کون کامیاب ہے انجینیئر محمد علی مرزا جس سے اج نوجوان طبقہ نفرت کا اظہار کر رہا ہے جو کل تک عمران خان کے فضائل بتاتا تھا اج کہہ رہے ہیں کہ عمران خان اپنے معیار سے نیچے گر چکا ہے وہ انجینیئر جس کی مقبولیت کی وجہ سے اس کا یوٹیوب چینل اور سوشل میڈیا بنا اور اج اسی سوشل میڈیا پر اسے گالیاں دی جا رہی ہیں ہر خاص و عام کہتے ہیں کہ انجینیئر بک گیا کیونکہ بھائی نے صرف عمران خان پر تنقید نہیں کی بلکہ عمران ریاض خان کے مقابلے طلعت حسین کی صحافت کے گیت گار ہے انجینیئر صاحب کے بقول طلت حسین کی اتنی کریڈیبلٹی ہے کہ کوی ہاتھ ڈالیں
یقین کریں اپ جیسے نامی گرامی نام نہاد مذہب اسکالروں کی وجہ سے دین اسلام زوال پذیر ہو چکا ہے بڑی معذرت کے ساتھ اپ جیسے ایمانداروں کی ضرورت اسلام کے لیے نہ پہلے کبھی رہی ہے نہ ائندہ کبھی رہے گی اپ اپنا چولا گرم کرتے رہیں
مگر اسلام اور عمران خان کے نام پر پیسے کمانا چھوڑ دیں

انسان کی کوئی اپنی کریڈیبلٹی ہوتی ہے مگر انجینیئر صاحب کو نہیں معلوم کہ وہ کیا ہوتی ہے منافقت جھوٹ اسلام کے دائرے سے انسان کو باہر سمجھتی ہے
شکریہ

10/01/2023

پچھلی بار ن لیگ کی حکومت میں پاکستان ترقی کرتے کرتے گرے لسٹ میں پہنچ گیا تھا

اس بار ترقی کرتے کرتے کنگال لسٹ میں پہنچ گیا ہے 😄

26/12/2022

خان نے 13 پارٹیوں کا فٹبال بنایا ہوا ہے اور 22 کروڑ تماشاٸی
ہر کِک مارنے پر تالیاں بجا رہے ہیں۔
میچ کمال کا چل رہا ہے۔
😊😀

26/12/2022

کتوں 🐕 کی آپس میں جتنی بھی دشمنی ہو انسان کے آنے پر سب ایک ہو جاتے ہیں سمجھدار کیلئے اشارہ کافی ہے
😂😂
فل سیاسی پوسٹ

Want your school to be the top-listed School/college in Kohat?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

Kohat KDA Gate No. 32 House No. 254 Nazd Post Office Kohat Balmaqabil Orakzai Clothe House KDA
Kohat