11/11/2025
اسلام آباد میں جوڈیشل کمپلیکس کے قریب خود کش دھماکے میں 12 افراد شہید اور متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ دنیا نیوز کے مطابق اسلام آباد میں منگل کی دوپہر تقریباً ساڑھے 12 بجے جوڈیشل کمپلیکس میں کھڑی گاڑی میں زور دار دھماکا ہوا جس کی آواز دور دور تک سنی گئی جبکہ دھماکے سے گاڑی میں آگ لگ گئی اور قریب کھڑی گاڑیاں بھی آگ کی لپیٹ میں آگئیں۔ ابتدائی کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں 12 افراد شہید اور 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں وکلا اور سائلین بھی شامل ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق دھماکا خودکش تھا اور جائے وقوعہ سے خودکش حملہ آور کا سر بھی مل چکا ہے، کچہری کے باہر دھماکے میں ہندوستانی حمایت یافتہ اور افغان طالبان کی پراکسی فتنہ الخوارج ملوث ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دھما کے کے وقت کچہری ایریا میں لوگوں کی آمدورفت زیادہ تھی جس سے سائلین بھی زخمی ہوئے، زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لیے پمز ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے، دھماکے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے اور دھماکے کی نوعیت معلوم کی جارہی ہے۔ کچہری کے باہر دھماکے کے بعد عمارت خالی کرا لی گئی، وکلا، ججز اور سائلین کو کچہری سے نکال دیا گیا، جوڈیشل کمپلیکس کے عقبی حصے کی طرف سے شہریوں اور وکلا کو نکالا گیا، ججز کو بھی روانہ کر دیا گیا۔
11/11/2025
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
محترم فیلڈ مارشل جناب عاصم منیر صاحب،
بڑے احترام اور ادب کے ساتھ پاکستانی قوم کی جانب سے چند سوالات آپ کے حضور پیش کیے جا رہے ہیں۔ امید ہے کہ آپ انہیں خلوصِ نیت سے سنیں گے اور دیانتداری سے جواب دینے کی زحمت فرمائیں گے، کیونکہ یہ سوالات کسی ذاتی بغض یا مخالفت کے تحت نہیں بلکہ ایک محبِ وطن پاکستانی کے دل کی آواز ہیں۔
سوال نمبر 1:
جنابِ عالی، عوام میں یہ بات گردش کر رہی ہے کہ آپ سید النسل ہیں، یعنی حضورِ اکرم ﷺ کے خاندانِ اقدس سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگر یہ بات حقیقت پر مبنی ہے تو برائے کرم اس کی وضاحت فرمائیں، کیونکہ یہ اعزاز محض ایک نسبت نہیں بلکہ ذمہ داری اور کردار کی بلند ترین علامت بھی ہے۔
سوال نمبر 2:
یہ بھی مشہور ہے کہ آپ حافظِ قرآن ہیں۔ اگر یہ درست ہے تو پاکستانی قوم کو فخر ہوگا کہ ان کا سپہ سالار قرآن کے حافظ ہیں۔ لیکن ساتھ ہی سوال یہ بھی ہے کہ اگر آپ حافظِ قرآن ہیں، تو یقیناً آپ کو قرآن کے مضامین، مفاہیم اور اصولِ عدل و انصاف کی گہرائیوں سے واقفیت ہوگی۔
سوال نمبر 3:
قرآن ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ “کسی عربی کو عجمی پر، کسی گورے کو کالے پر، اور کسی امیر کو غریب پر کوئی برتری نہیں، سوائے تقویٰ کے۔”
تو پھر حضور والا، جب قرآن کی تعلیمات میں برابری کا تصور اتنا واضح ہے تو یہ ۲۷ویں آئینی ترمیم میں جو استخسنا (Exception) آرمی چیف کے لیے رکھا جا رہا ہے — یعنی آپ کو تا حیات مراعات، قانونی تحفظ، اور آئین سے بالاتر حیثیت دینے کی کوشش — کیا یہ اسلام اور عدل کی روح کے مطابق ہے؟
کیا اسلام کسی کو قانون سے بالاتر ہونے کی اجازت دیتا ہے؟
کیا یہ فیصلہ قرآن و سنت کے عین مطابق ہے؟
کیا یہ ضمیر اور ایمان کی روشنی میں درست محسوس ہوتا ہے؟
سوال نمبر 4:
ہمارے خلفائے راشدین کا طرزِ عمل ہمارے سامنے ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وہ واقعہ پوری امت کے لیے سبق ہے، جب ایک صحابی نے سوال کیا کہ “سب کو ایک ایک چادر ملی ہے، آپ کے پاس دو کیسے ہیں؟”
خلیفہ وقت نے نہ غصہ کیا، نہ اسے گستاخ کہا، بلکہ وضاحت دی کہ “ایک میری ہے، ایک میرے بیٹے کی۔”
یہ ہے وہ کردار جسے اسلام نے قیادت کا معیار بنایا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ آپ کن بنیادوں پر تاحیات مراعات اور قانونی تحفظ لے رہے ہیں؟
کس شریعت میں یہ اجازت ہے کہ ایک مسلمان خود کو قانون سے ماورا سمجھے؟
کیا یہی قرآن کی وہ تعلیم ہے جس کا آپ اپنی تقاریر میں ذکر فرماتے ہیں؟
سوال نمبر 5:
اگر آپ واقعی قرآن کے ماننے والے اور نبی ﷺ کے خانوادے سے ہیں تو پھر آپ ہی کو پہل کرنی چاہیے۔
قوم آپ سے یہ درخواست کرتی ہے کہ آپ ایک قومی کانفرنس بلائیں، اور سب کے سامنے اعلان کریں کہ:
> “میں نے کوئی استثنا نہیں مانگا، میں تاحیات مراعات نہیں چاہتا، میں قانون سے بالاتر نہیں ہوں۔ میں بھی اسی آئین اور اسی قانون کا تابع ہوں جس کے تابع ایک عام پاکستانی ہے۔”
اگر آپ یہ اعلان کر دیں تو یقین مانیے، تاریخ آپ کو صرف ایک آرمی چیف نہیں بلکہ ایک سچے مسلمان اور عادل رہنما کے طور پر یاد رکھے گی۔
اور اگر آپ خاموش رہے تو یہ سوالات قوم کے دلوں میں ہمیشہ گونجتے رہیں گے، کیونکہ سوال کرنا ہمارا حق ہے — ادب کے دائرے میں، سچائی کے جذبے کے ساتھ۔
---
🌿🍃🥀🌾🌱
✍️ رائٹر: فہیم خٹک
03/11/2025
کیا دانتوں کا دماغی بیماریوں سے کوئی تعلق ہے؟
🌱 W̶r̶i̶t̶e̶r̶ F̶a̶h̶i̶m̶ K̶h̶a̶t̶t̶a̶k̶ 🌱
اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ برش نہ کرنا صرف مسکراہٹ کا مسئلہ ہے تو اسے ضرور ہوشیار ہونا چاہیے، کیونکہ نئی سائنسی تحقیق بتاتی ہے کہ گندے دانت صرف چہرے کی خوبصورتی نہیں بگاڑتے بلکہ دماغ پر بھی خطرناک اثرات چھوڑ سکتے ہیں۔ دانتوں کی باقاعدہ صفائی محض ظاہری آرائش نہیں، یہ دماغ کی صحت کا ایک بنیادی راز ہے۔ تازہ تحقیقات کے مطابق مسوڑھوں کی بیماری اور دانتوں کے کیڑے فالج اور دماغی نقصانات کا باعث بن سکتے ہیں۔ جن افراد کو یہ امراض لاحق تھے، ان کے دماغ کے وائٹ میٹر میں وہ تبدیلیاں پائی گئیں جو عام طور پر سوزش اور رگوں کے سخت ہونے سے پیدا ہوتی ہیں۔ مرکزی محقق ڈاکٹر سووک سین، جو یونیورسٹی آف ساؤتھ کیرولائنا میں نیورولوجی کے پروفیسر ہیں، کہتے ہیں کہ مسوڑھوں کی بیماری جسم کے اندر سوزش کو بڑھاتی ہے اور یہی سوزش وقت گزرنے کے ساتھ دماغ اور خون کی نالیوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔ مزید یہ کہ ایک دوسری تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جن لوگوں کو دانتوں کا کیڑا اور مسوڑھوں کی بیماری دونوں ہوں، ان میں فالج کا خطرہ 86 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ ڈاکٹر سین کے مطابق یہ دوہرا حملہ ہے، جس کے نتیجے میں فالج اور دل کے امراض کے امکانات تقریباً دوگنے ہو جاتے ہیں۔ لیکن امید کی کرن بھی موجود ہے: روزانہ برش کرنا، فلاسنگ کرنا اور دانتوں کا باقاعدہ معائنہ فالج کے خطرے کو 80 فیصد تک کم کر سکتا ہے۔ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ اگرچہ دانتوں کی خرابی براہِ راست فالج کا سبب نہیں بنتی، لیکن منہ میں پیدا ہونے والی سوزش دماغی صحت کو ضرور متاثر کرتی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق، دنیا بھر میں 3.5 ارب افراد مسوڑھوں یا دانتوں کے امراض کا شکار ہیں، جبکہ صرف امریکہ میں ہی ہر سال تقریباً آٹھ لاکھ افراد فالج کا سامنا کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ صحت مند زندگی چاہتے ہیں، تو دماغ کے ساتھ ساتھ اپنی مسکراہٹ کی حفاظت بھی ضروری ہے، کیونکہ ممکن ہے کہ آپ کے دانت ہی آپ کے دماغ کی تقدیر لکھ رہے ہوں۔
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿