15/09/2026
نہایت ہی افسوس کی بات ہے کہ پچھلے ڈیڑھ مہینے سے یونین کونسل زیارت شیخ اللہ داد کے گاؤں خواجہ پائل کی مکمل بجلی کاٹ دی گئی ہے ۔ بچے اور بوڑھے جبس بے جا میں قید جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ حالت صرف گھروں تک محدود نہیں ۔ سکول میں بھی تندور جیسی تپتی کمروں میں بچے بیٹھنے پر مجبور ہیں۔ 8:00 بجے سے لیکر 12:40 بجے تک تپش سے دہکتی کمروں میں بچے بیٹھے ہوتے ہیں ۔ ایسی حالت میں بچے بے ہوش نہیں ہونگے تو کیا ہونگے ۔
دو مرتبہ تحصیل میئر کو سکول میں سولر پلانٹ لگانے کی درخواست کی ۔ اور اسی طرح دو مرتبہ وزیر قانون جناب آفتاب عالم صاحب سے سکول میں سولر پلانٹ لگانے کی درخواست کی ۔ مگر دونوں صاحبان نے کوئی خاطر خواہ توجہ نہیں دی ۔ جس کی سزا اب بچے ائے روز بے ہوش ہو جانے کی صورت میں بھگت رہے ہیں ۔
کیا اب بچوں کی صحت پر بھی سیاست چلے گی۔ گاؤں یا علاقے کے دیگر مسائل اگر سیاسی اختلافات کے شکار ہیں۔ تو کیا سکول کے بچوں کی زندگی کے ساتھ بھی سیاسی کھیل کھیلا جائے گا ۔
ہم ایک مرتبہ پھر دونوں سیاسی قائدین اور گاؤں کے سیاسی مشران سے بچوں کی صحت کی خاطر سکول میں سولر پلانٹ لگانے کی پر زور اپیل کرتے ہیں ۔ کہ خدارا! بچوں کی زندگیوں کو مزید سیاسی اختلافات کے نذر نہ کیا جائے ۔ اور ترجیحی بنیادوں پر سکول ھذا کے لیے کم سے کم 10 کے وی سولر پلانٹ لگانے کی منظوری دی جائے تاکہ بچے پر سکون ماحول میں اپنا تعلیمی سفر جاری رکھ سکیں ۔