24/08/2026
پچھلی تحریر میں ہم نے نظام تعلیم کی چند خامیوں کو ہائی لائٹ کیا تھا. اب ہر ایک خامی کے ساتھ مناسب حل اور متبادل تجویز پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں.
نرسری کے بچے کی عمر انتہائی کم ہوتی ہے. یہ عمر لکھنے یا رٹا لگانے کی نہیں ہوتی. .
ایک طرف ان کے ناتواں کندھوں پر دس کلو کے بھاری بستے کا بوجھ، تو دوسری جانب ننھے ذہنوں پر ہوم ورک اور اسکول ورک مکمل کرنے کا دباؤ؛ یہ دونوں بوجھ مل کر بچوں کو جسمانی اور نفسیاتی طور پر مفلوج کر دیتے ہیں۔
اس کا حل کیا ہے؟
حل یہ ہے کہ پانچویں جماعت تک نہ بچے سے تحریری امتحان لیا جائے نہ اسے کاپی یا ہوم ورک لکھوایا جائے. بس بنیادی چیزیں اسے مادری زبان میں سمجھائی جائیں . اور اس انداز میں اسے بار بار دہرائی جائیں کہ اسےخود یاد ہوجائیں.
جہاں تک لکھنے کا تعلق ہے تو صرف کتاب ہی میں مشقیں، خالی جگہوں وغیرہ کی شکل میں لکھوائی جائیں . مزید مشق کےلیے تختی اور سلیٹ(جو پہلے سکولوں میں ہوتے تھے.) سے کام لیا جائے. یہ بچوں کی نفسیات کے قریب بھی ہے اور معاشی لحاظ سے بھی اس کا خرچ کم ہوتا ہے بنسبت کاپیوں اور قلم وغیرہ جو ایک قسم کا کاروبار بن گیا ہے.
یہ ایک خامی اور اس کا متبادل حل تجویز میرے ذہن میں آئی..ہر کسی کا متفق ہونا ضروری نہیں.