Faiz e Alam Research Academy

Faiz e Alam Research Academy Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Faiz e Alam Research Academy, Educational Research Center, Killianwala.

21/09/2024

جلال الدین رومی لکھتے ہیں:

مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو امی کہتے ہیں تو اس لیئے نہیں کہتے کہ وہ لکھائی اور علوم پہ قادر نہ تھے۔ بلکہ اس وجہ سے کہتے ہیں کہ لکھائی، علم و حکمت کو وہ شکم مادر سے پیدائشی طور پہ جانتے تھے نہ کہ محنت سے حاصل کرکے۔ وہ جو چاند پہ رقوم لکھے بھلا ایسا شخص لکھ نہ سکتا ہوگا؟ اور عالم میں ایسا کیا ہوگا جو وہ نہ جانتا ہوگا؟ جب سب نے انہی سے سیکھا ہے، تو عقل جزئی میں ایسی کیا چیز ہوگی جو عقل کل میں نہ ہوگی؟ عقل جزئی اس قابل نہیں کہ خود سے ایسی چیز اختراع کرلے جو اس نے نہ دیکھی ہو۔
فیه ما فیه، فصل سی و هفتم
غیر مسلم محققین کا ماننا ہے کہ لفظ "امی" کا معنی غیر یہودی ہے۔ یہ موقف حق کے سب سے قریب معلوم ہوتا ہے کیونکہ قرآنی آیات کا استقراء و تتبع کیا جائے تو واضح ہے کہ "امیون" کو ہمیشہ اہل کتاب کے مد مقابل بیان کیا گیا ہے۔ پس لفظ امی کا تعلق ناخواندہ ہونے سے نہیں بلکہ اس سے ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غیر اسرائیلی نبی ہیں جو تمام عالم کے لیئے مبعوث ہوئے ہیں۔ واللہ اعلم
منقول

21/09/2024

موتوا قبل ان تموتوا

ایک آدمی نے ایک طوطا پال رکھا تھا۔ وہ طوطا باتیں بھی کرتا تھا، ایک دن اس آدمی نے طوطے سے کہا کہ :
" میں دور کے سفر پر جا رہا ہوں، وہاں سے کوئی چیز منگوانی ہو تو بتا ... "

طوطے نے کہا کہ :
" وہاں تو طوطوں کا جنگل ہے, وہاں ہمارے گُرو رہتے ہیں، ہمارے ساتھی رہتے ہیں، وہاں جانا اور گرو طوطے کو میرا سلام کہنا اور کہنا کہ ایک "غلام طوطا" پنجرے میں رہنے والا ، غلامی میں، پابند ِ قفس آپ کے آزاد طوطوں کو سلام کرتا ہے ... "

سوداگر وہاں پہنچا اور اس نے جا کر یہ پیغام دیا۔ اچانک جنگل میں پھڑ پھڑ کی آواز آئی، ایک طوطا گِرا، دوسرا گِرا اور پھر سارا جنگل ہی مر گیا۔ سوداگر بڑاحیران کہ یہ پیغام کیا تھا، قیامت ہی تھی اور اداس ہوکے چلا آیا۔

واپسی پر طوطے نے پوچھا کہ :
" کیا میرا سلام دیا تھا ...؟ "

اس نے کہا کہ :
" بڑی اداس بات ہے، سلام تو میں نے پہنچا دیا مگر تیرا گرو مر گیا اور سارے چیلے بھی مر گئے ... "

اتنا سننا تھا کہ وہ طوطا بھی مر گیا۔ سوداگر کو بڑا افسوس ہوا۔ اس نے مردہ طوطے کو اٹھا کر باہر پھینک دیا۔ طوطا فوراً اُڑ گیا اور شاخ پر بیٹھ گیا۔

اس نے پوچھا :
" یہ_کیا ...؟ "

طوطے نے کہا کہ :
" بات یہ ہے کہ، میں نے اپنے گُرو طوطے سے پوچھا تھا کہ پنجرے سے بچنے کا طریقہ بتا۔ اس نے کہا کہ مرنے سے پہلے مر جا۔ اور جب میں مرنے سے پہلے مر گیا تو پنجرے سے بچ گیا ... ''


" موتوا قبل ان تموتوا "
یعنی :
" مرنے سے پہلے مر جاؤ "

اپنے نفس یعنی شریر خیالات کو مار دو اور ھمیشہ کی زندگی پاؤ -----------------------------------------------------وہ ایک سجدہ جیسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے ادمی کو نجات....*
Sharing it is free of cost.
منقول

17/09/2024

محمد، حامد و احمد بھی ہیں محمود بھی ہیں
جہاں ہیں طالب صادق وہیں مقصود بھی ہیں
صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم
جن پر دنیا ہی میں کائنات ہست و بود کی لامکانی ڈائمینشنز کے سبھی در کھول دیے گئے ان کے علم و عرفاں کا کیا عالم ہو گا
جنہیں شرف قاب قوسین کی کرسی ء قرب پر زمان جہاں میں فائز کیا گیا ان کے قرب برزخی و اخروی کا عالم کیا ہو گا
جن کے ظاہری اخلاق قرآن تھے ان کے جمالِ باطن کی تاب کسے ہو گی
ترے جمالِ خوش خصال کی ہے حیرتوں میں گم
ہر ایک موجہ ء وجود جو ہے دھڑکنوں میں گم
صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم
محمد وسیم

14/08/2024

تمام امید پسند ، مخلص اور محب وطن پاکستانیوں کو دل کی گہرائیوں سے 77 واں یوم آزادی مبارک

اللہ تبارک و تعالی نے ہمیں یہ وطن عطا کیا اور ہم پر فرض ہے کہ ہم اس کی حفاظت کریں۔ فساد و انتشار سے اپنا اور اپنے اہل وطن کا دامن محفوظ رکھیں۔ ظاہر ہے اس زمین پر امریکہ سمیت کوئی جدید ترین ملک بھی مسائل سے آزاد نہیں،، پاکستان کو بھی بہت سے چیلنجز در پیش ہیں لیکن اس کا ہرگز مطلب نہیں کہ ہر لمحمہ اپنی دھرتی ماں کو کوستے رہیں اور اپنی بد قماشیوں اور فتنہ پردازیوں کو بھول جائیں۔ یاد رکھیں کہ کٹھن سے کٹھن حالات میں بھی مایوسی کفر اور خوش نیتی سے مسلسل کوشش فرض ہے، لھذا اپنے وطن اور اپنی آزادی کی حفاظت کےلئے نہ صرف کمر بستہ اور دعا گو رہیں بلکہ فتنہ گروں اور مایوسی فروشوں سے بھی خبر دار رہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالی ہمارے وطن اور تمام اہل وطن کا حامی و ناصر ہو۔
تمام امید پسند ، مخلص اور محب وطن پاکستانیوں کو دل کی گہرائیوں سے 77 واں یوم آزادی مبارک
م-و

16/07/2024

میرا رب ربّ محمد، مقتدا ہیں پانچ تن
علم اٹھ گیا۔ راستے اٹ چکے۔ غبار جہل و تکبر ہر دلیل کو نگل چکا۔ موتی کنکر پتھر مٹی سونا ظلم و جہل کے گارے میں یکساں ہو چکے۔ ابلہان مدرسہ، روشن خیالانِ جامعات،اپنے اہنے حصے کے صاحبانِ درجہ و مرتبہ کی خواہشاتِ نفس کے پسندیدہ اجزا کو مستند علم مان چکے۔ اصلاح احوال کی ہر کوشش پر حسبِ تربیت: ھذا اساطیر الاولین یا پھر کفر وبد مذہبی کے ٹھپے لگا دیے گئے۔
لیکن حجت چھپائی نہ جا سکی۔ اس لئے کہ ہر باطن کے حجرے میں اُسے عقل ، ارادہ اور اختیار دینےوالے کی مہر ہے اور ہر ظاہر کا ماتھا اپنے مُظہِر کی بذات خود گواہی ہے۔ ہر شے کسی بنانے والے کے دست قدرت و تخلیق کی علامت ہے اور ہر وجود فاطر الوجود کے ارادہ و عطا کا عکس و نشان ہے۔ خیرِ اعلی کی تشخیص، باطن کی میزان عدل کے صدق و اخلاص کو ایکٹِو کر کے، اس کے شعوری اور ارادی استعمال کےذریعے لمحات میں ہو جاتی ہے۔ چونکہ باطن اپنے مصدر کی کھوج، مستقبل کے لئےاپنی راہِ عمل کے تعین اور اپنی طمانیت قلبی اور امن خواہی کی شدید طلب کے جوش سے لبریز ہے۔ اس لئے اسے اپنے مصدر یعنی حقیقی خالق سے جڑنے کی پیاس ہے ، جو اس کے اندر اسی مہربان نے رکھی ہے۔
مہربان ہےتبھی تو اُس نے اِسے خلعتِ وجود، دستارِ علم و شعور اور قدرتِ اختیار و انتخاب کی آزادی دی ہے۔ اور اسی پر بس نہیں کیا بلکہ اپنے راہنما پیغامات اپنے خاص بندوں کے ذریعے عملی طور پر جاری فرما کر بھی اسے ہدایت کی پریکٹیکل مثالوں سے معرفی بھی کرا دیا ہے۔
اس نے اپنے ان خاص بندوں کا خاتم، اسے بنا کر بھیجا جس نے اپنے یقین کے نور، اخلاق حسنہ کی ضیا باریوں، لطف و عطا کی روشنی اور صدق و دیانت کے سورجوں سے، ھدایت و تربیتِ انسان کے ہر گوشے، ہر پہلو اور ہر جہت کو ایسا منور کر دیا ہے کہ طالب حق کےلئے صراط مستقیم ہرگز پنہاں نہیں رہ سکی۔ ایسا کامل ہی منصب خاتمیت کا اہل ہو سکتا تھا۔ اس نے کہا تیرا خالق،مالک اور رب صرف ایک ہی ہے جو ہر ذرہ حقیر کو اپنے الطافِ قیومیت سے ڈھانپے ہوئے ہے۔
اپنے دامنِ احسان و امن کی بُکِّل کے راحت و اطمینان کدے میں چُھپا لینے والے ہی کو تو اہل زبان و معانی اللہ کہتے ہیں۔
آج حالانکہ علم و ہدایت کے راستے نفس پرستی کی گاڑھی گرد سے دانستہ طور پر پاٹ دئے گئے ہیں،مگر آج بھی خالق و الہ واحد تک رسائی کا یکتا واسطہ نبی رحمت، رسول اکرم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے علم و حلم،شعور و بصیرت، صبر و استغنا، شکرگزاری و زہد عن الدنیا، صدق و اخلاص ، عفو و درگزر اورچشم پوشی، کرم گستری و اعدا نوازی، لطف عام و مرحمتِ تام، غرض ہر ارفع صفت انسانی کی کامل ترین تجسیم کی صورت میں، ہر صاحبِ فکر و انصاف اور عادل و غیر متعصب کے عقل و قلب کو ہدایت کے اجالوں سے بھرنے کےلئے کافی ہے۔
آج ایک طرف ربِّ محمد ؛ اللہ پاک ہے اور دوسری طرف مادیت گزیدہ انسانی افکار کے گھڑے ہوئے کروڑوں خود ساختہ بت
میرا چناؤ فقط اللہ ہے
ایک طرف رفعنا لک ذکرک کے حامل امام ہادیاں محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ہیں اور دوسری طرف مادیت کے منگتے اور نفس کے پجاری ہیں
میرا چناؤ محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ہیں
بعینہ ایک طرف محبوبان و ممدوحینِ خدا و مصطفیٰ:
وہ ممدوح و محبوبان خدا و مصطفے جو ہم نفسان و ابنا و نساءنا کے مخاطبین ہیں۔
جن کی مودت اجر رسول ہے
جو چادر تطہیر کے حامل و وارث ہیں
جن میں کے مرد سرداران جنت ہیں
خاتون سیدۃ النساء اہل جنت ہیں
جو آقائے کونین کے لئے بمنزلہ منی و انا منک اور بمنزلہ ہارونِ موسیٰ ہیں۔
جو حاملین شان ولایت ہیں
جن کی محبت کفر و ایمان کی فاروق ہے
جن کے پاس اللہ اور اسکے رسول کا محبوب ہونے کی سند یوم خیبر سے لیکر آج تک محفوظ ہے
جو ثقلین میں سے دوسرے ثقل گراں قدر ہیں
جن سے محبت رسول سے محبت ہے
جن سے جنگ رسول سے جنگ ہے
جن کی اذیت اذیت رسول ہے
یہ: خیر النساء، حسن، حسین علی ہیں،
دوسری طرف حکومت و حشمت کے علمی و عملی رندوں سے تراشے ہوئے بتانِ ہما و شما
میرا انتخاب سیدہ و حسن و حسین و علی ہیں۔
جن سے خوش ہیں پانچ تن ان سب کا میں ادنیٰ غلام
جن سے یہ ناشاد ہیں ایسوں سے ہوں دور و نفور
اپنے اور اپنے بابوں کے خود ساختہ تاویلی کارخانوں کے مالکوں، مینیجروں، سپروائیزروں بلکہمکینکوں،مزدوروں اور ان سے سودا خریدنے والوں تک کو ایک بار ہی سہی، سوچنا ضرورچاہیئے کہ وہ آقا ئے کونین کے جگر گوشوں کو جو اپنی تحریفی چھریوں سےاذیتیں دے رہے ہیں و مصطفیٰ و رب مصطفیٰ کو کیا جواب دیں گے:

روز محشر مصطفی کو منہ کیا دکھلاؤ گے
منکران ھٰؤُلاءِ اہلبیتی سوچ لو

محمد وسیم

مخطوط صنعاء (2)اس سلسلے کی پہلی پوسٹ میں DAM 01-27.1 کے Folio 1A اور اس کے ساتھ موجودہ قرآن کے متعلقہ اوراق کے عکوس پوسٹ...
10/07/2024

مخطوط صنعاء (2)
اس سلسلے کی پہلی پوسٹ میں DAM 01-27.1 کے Folio 1A اور اس کے ساتھ موجودہ قرآن کے متعلقہ اوراق کے عکوس پوسٹ کرنے کی سعادت حاصل کی گئی۔ آج اسی فولیو کی پچھلی پرت Folio 1B اور اس کے ساتھ موجودہ قرآن کے متعلقہ صفحات کے عکوس پوسٹ کئے جا رہے ہیں۔ یہ فولیو سورہ الانعام کی آیت: 61 کے آخری حصے: رسلنا و ہم لا یفرطون، سے شروع ہو کر اسی سورہ کی آیت: 73 ، کے الفاظ: علم الغیب و الشہادہ و ھو، تک پر مشتمل ہے۔ صفحات ِمخطوط کا دیانتدارنہ مطالعہ اس کے سوا کوئی نتیجہ برآمد نہیں کرتا جو مائینز یونیورسٹی، جرمنی کے پروفیسر اور ناہر مخطوطات Manfred Kropp نے اخذ کیا:

"qui bien sûr, à part quelques fautes d'impression, présente le texte canonique."
"Ofcourse which (Quranic Manuscript) apart from some copying errors presents the canonical text."
"جو ( یعنی قرآنی مخطوط) یقیناً بعض کتابتی غلطیوں کے سوا مصحف (عثمانی) کے ہی مطابق ہے۔"
یاد رہے کہ وہ مینفریڈ کروپ ہوں یا فرانسوا دیروش یا دیگرمعاصر مستشرقین، ان میں اگر سب نہیں تو اکثریت ایسی ہے جو قرآن پر تاریخیاتی تنقید کا اطلاق کرنا چاہتی ہےاور قرآن کو الہامی کتاب کی حیثیت نہیں دینا چاہتی۔ کروپ ،فرانسیسی زبان پر مبنی اپنے اسی تحقیقی مقالے میں جس کا اقتباس درج کیا گیا دراصل اسی بات کا رونا رو رہے ہیں کہ مستشرقین کی مخطوطاتِ قرآن پر تحقیق ، تا حال سوائے چند کتابتی غلطیوں کی دریافت کے ، اپنے مقاصد میں سے کچھ بھی حاصل نہیں کر پائی۔
میڈیا کے اس عہد ابلہ فریب میں جب غیر بھی اس اعتراف پر مجبور ہوں تو اپنوں کےلئے دعائے ہدایت کی ضرورت اور بڑھ جاتی ہے۔
ہوں آشکار کیوں نہ تجھ پہ رموزِ حق؟
تو اپنے "دل چراغ" کی لو کچھ بلند تو کر!
محمد وسیم

08/07/2024

مبشر زیدی، جرڈ پوئن اور مخطوطات صنعاء کی چند ان کہی باتیں (2)
پچھلی پوسٹ زیدی صاحب کی ان کہی باتوں میں سے ایک بات یہ بیان کی گئی کہ جرڈ پوئن نے اپنے انٹر ویو میں قرآن کے بارے میں جو بیان دیا اور جسے زیدی صاحب ان کا حاصل تحقیق باور کروایا وہ ان کی ذاتی رائے تھی نہ کہ حاصلِ تحقیق۔ کیونکہ انہوں اپنے ریسرچ پیپر میں ان میں سے کوئی ایک بات بھی رقم نہیں کی تھی جو اپنے انٹر ویو ذکر کی۔ جب کہ انٹرویو میںقرآن کے بارے میں گفتگو کرنے سے پہلے انہوں نے اعتراف بھی کیا کہ یہ ان کا خیال ہے۔ ان کا یہ خیال کیوں ہے اس کی کچھ وضاحت انہی سطور میں آگے آ رہی ہے۔ اپنی پوسٹ کے آخری حصے میں انہوں نےبیان کیا:
"ڈاکٹر جرڈ پوئن نے تین کتابیں لکھی ہیں جن میں سے ایک انگریزی میں ترجمہ ہوچکی ہے۔ اس کا عنوان دا ہڈن اوریجن آف اسلام، نیو سرچ ان ٹو اٹس ارلی ہسٹری ہے۔"
اس کتاب کے انگریزی ترجمے کے سرورق پر مگر ڈاکٹر جرڈ کا نام مصنف کے طور پر نہیں بلکہ کارل ہائینز اَولِگ کے کو ایڈیٹر کے طور پر درج ہے۔ یہ دراصل کوئی طبع زاد کتاب نہیں بلکہ ایک مجموعہ مضامین ہے جسے ان دونوں شخصیات نے ایڈٹ کیا ہے اور کتاب کے کل دس مضامین میں ایک ایک ان دونوں کی کاوش ہے۔ یہ مجموعہ اِنارہ انسٹی چیوٹ فور ریسرچ ان ارلی اسلامک ہسٹری اینڈ دا قرآن ، نے ترجمہ کروا کر شائع کروایا ہے ،۔ انارہ انسٹی ٹیوٹ کا تعارف یہ کہ یہ سارلینڈ یونیورسٹی کی تحریک تجدید کے حامی سکالرز کا ایک گروپ ہے جو اسلام اور قرآن کے مصادر کی تلاش و تفتیش کے لئے وجود میں لایا گیا۔ یہاں سے معاملات دلچسپ مرحلے میں داخل ہو جاتے ہیں کیونکہ مستشرقین نوکی اس تحریکِ تجدید کے مقاصد میں عام مغربی علماءِمستشریقین کے اسلام کی طرف جھکاؤ پر روک لگانا اور قرآن و اسلام کے مصادر سے ہٹ کر یا ان کی تعبیر و تفسیر نو کے ذریعے اسلام اور قرآن کو محض سیاسی وتاریخی واقعات کے تسلسل کا نتیجہ قرار دینا ہے نہ الہامی مذہب کا۔ چنانچہ ان کا کہنا ہے:
we begin by assuming that there must have been some continuity, we need either go beyond the Islamic sources or […] reinterpret them
ہم پہلے ہی سے فرض کر کے چلتے ہیں کہ اس میں کوئی نہ کوئی تسلسل ضرور رہا ہو گا، ہمیں یا تو اسلامی ذرایع سے باہر نکلنا ہو گا یا انہی کی تعبیر نو کرنا ہوگی۔
گویا اسلام کو اسلام کے ذریعے نہیں بلکہ کسی غیر کی آنکھ سے سمجھنا ہی ان کے نزدیک علم کہلا سکتا ہے اور وہ غیر کی آنکھ دراصل ان کا خود ہی سے متعین کرددہ یہ مفروضہ ہےکہ جسے اسلام کہا جاتا ہے وہ بازنطینی روم اور ایران کی سرحدوں کے آس پاس عیسائیت سے متاثرہ ایک وحدت پرست گروہ کے کچے پکے تصورات پر مشتمل ایک سیال سا نظریہ تھا جسے ایک تاریخی و سیاسی تسلسل کے زیر اثر کئی حکمرانوں کی اجتماعی کوششوں نے، نبی اکرم صلی اللہ و علیہ و علی آلہ وسلم کے دیڑھ دو سو سال بعد موجودہ حیثیت دی۔گو مستشرقین کی اس تحریکِ تجدید کو باقاعدہ برپا ہوئے کم و بیش پچاس سال سے اوپر عرصہ ہوگیا، مستشرقینِ تجدید اپنے تمام بہترین وسائل بروئے کار لانے کے با وجود اپنے مفروضات کو اسلامی اور غیر اسلامی دونوں مصادر سے ثابت کرنے میں بری طرح ناکام رہے ۔ لیکن اب وہ چاہتے ہیں کہ قدیم قرآن مخطوطات کی معمولی معمولی سی کتابتی ، رسمیاتی اور ہجائی عدم موافقتوں کو بڑی خوفناک غلطیاں، شدید اختلافات اور تحریفات ثابت کریں۔ چنانچہ انہی نتائج کو حاصل کرنے کےلئے وہ اپنے مجوزہ بالا منصوبے کے دوسرے حصے پر عمل پیرا ہیں اور اسی کی روشنی میں قدیم قرآنی مخطوطات کی من چاہی تعبیرات کے ذریعے حصول مقاصد کے لئے کوشاں ہیں۔ ڈاکٹر جرڈ مستشرقین کی اسی تحریک کے نمائیندے ہیں جس نے جہاں ستر کی دہائی میں یونیورسٹی آف لندن کے سکول اوف اورنٹیئل اینڈ افریقن سٹڈیز میں اپنے پر پرزے نکالے تو دوسری طرف جرمنی کی سار لینڈ یونیرسٹی میں اسی دور میں کارل ہائینز اَولِگ، کرسٹوف لگزن برگ، وولکر پوپ اور ڈاکٹر جرڈ کی سرکردگی میں اپنا رنگ جمایا۔چنانچہ جب ڈاکٹر جرڈ کہتے ہیں کہ قرآن کا کم ازکم پانچواں حصہ اسلام سے سو سال پہلے کا ہے تو وہ یہ بات اپنے کسی تحقیقی حاصل کی بنیاد پر نہیں کہتے ، اپنے اس پری کنسیوڈ نوشن کی بنیا پر کہتے ہیں جسے کسی نہ کسی طرح ثابت کرنا ان کی اعتقادی اور فکری مجبوری ہے۔ ان حقائق کے ثبوت جہاں جرمنی اور لندن میں پھلنے پھولنے والی اس تحریک کے نظریات و مقاصد اور تاریخ میں بوافر مقدار دیکھے جا سکتے ہیں، وہیں مخطوطات صنعاء کے مستند ہونے پر غیر جانب دار محققین کے نتائج ِتحقیق کی روشنی میں مزید سبسٹشی ایٹsubstantiate ہو جاتے ہیں۔ یہاں پنج تن کی مناسبت سے چوٹی کے صرف پانچ محققین کے حوالے پیش ہیں جن میں آسمہ ہلالی اور دیگر کئی نام فی الحال شامل نہیں شامل کئے گئے۔
1- پہلا حوالہ قرآنی مخطوطات پر اتھارٹی سمجھے جانے والے فرانسوا ڈیروش کا ہےجو خود بھی انہی نظریات کے حامل ہیں جو جرڈ پوئن رکھتے ہیں یعنی ان کا بھی خیال ہے کہ قرآن ایک تدریجی سیاسی عمل کا نتیجہ ہے لیکن اس کے باوجود وہ یہ ماننے پر مجبور ہیں:
صنعاء مخطوط عثمان ابن عفان کے اِسی مصحف سے وفادار ہے جو مشہور ہے اور اس عہد میں بھی وہی طبع ہو رہا ہے۔
2- ایک اور مستند عالم مخطوطات مینفریڈ کروپ کا ماننا ہے :
مخطوط صنعاء کے مطالعہ نے واضح کیا ہے کہ اس میں صرف کتابت کی نادر غلطیوں کے علاوہ کچھ بھی ایسا نہیں جو مصحف عثمان سے متفاوت ہو۔
اسلامی مطالعات کے ماہر جوزف لمبارڈ کہتے ہی:
3- قدیم قرآنی مخظوطات کی ریدیو کاربن ڈیٹنگ، مسشرقین ےجدید کےاس تصور کی غیر معقولیت کو واضح کرنے کےلئے کافی ہے کہ قرآن کا مصدر کوئی طویل سیاسی تاریخی عمل ہے۔
4- موجودہ دور کے اہم ترین مخطوط شناس اور سٹینفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر سادَغی کے مطابق:
صنعاء مخطوط میں بعینہ وہی اور اتنی ہی آیات موجود ہیں جو موجودہ مصحف میں ہیں۔
5- لائیڈن یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر اورمخظوط شناس وان پٹن کے مطابق :
تمام حجازی مخطوطات ( بشمول صنعاء ) کی بنیاد و جڑ ایک ہی مصحف یعنی مصحف عثمانی ہے۔
مبشر زیدی صاحب نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی بتایا تھا کہ جرڈ پوین صنعاء نخطوطے کی بحالی کے انچار ج تھے لیکن یہ نہیں بتایا کہ اس پروجیکٹ کا کوئی ایک انچارج نہیں رہا بلکہ مختلف اوقات میں انچارج بھی مختلف متعین ہوتے رہے۔ ڈاکٹر پوئن اس کے ساتھ 1980 سے لیکر 1985 تک وابستہ رہے اور ان کے بعد ڈاکٹر بوتھمر کئی سال تک اس پروجیکٹ سے منسلک رہے۔لیکن زیدی صاحب کے مطابق ڈاکٹر پوئن کو اپنے انٹر ویو کی وجہ سے یمن سے خارج اور مخطوطات پروجیکٹ سے باہر کر دیا گیا تھا:
"پھر ایک انٹرویو پر یمن نے انھیں نکال باہر کیا اور ان مخطوطوں تک ان کی رسائی روک دی۔"
حالانکہ وہ 1985 میں ہی یمن سے چلے گئے تھے۔ اس کی تصدیق گوگل بابا سے با آسانی کی جا سکتی ہے۔

محمد وسیم

مخطوط صنعاء کے ایک صفحہ کا عکسکل مخطوطات صنعاء کے حوالے سے: مبشر زیدی، جرڈ پوئن اور مخطوطات صنعاء کی ان کہی باتیں، کے نا...
07/07/2024

مخطوط صنعاء کے ایک صفحہ کا عکس
کل مخطوطات صنعاء کے حوالے سے: مبشر زیدی، جرڈ پوئن اور مخطوطات صنعاء کی ان کہی باتیں، کے نام ایک پوسٹ شئیر کی تھی جس میں مبشر زیدی صاحب کے حقائق کو توڑ مرورڑ کر پیش کرنے پر نہایت شائستہ، علمی اور تحقیقی انداز میں گرفت کی گئی تھی۔ یہ سلسلہ ابھی کچھ وقت تک جاری رہے گا اور اس سلسلے کی مزید پوسٹس بھی آئیں گی۔ لیکن موجودہ پوسٹ کا مقصد مخطوطات صنعاء میں سے اس خاص مخطوط ( Sana’ Palimpsest ) کے ایک صفحہ کا عکس آپ کو دکھانا ہے جس میں دو لکھاوٹیں پائی گئیں اور دعوی کیا گیا کہ بالائی اور زیریں لکھاوٹیں ایک دوسرے مختلف ہیں۔ اس مخطوط کا کیٹیلاگ نمبر : DAM 01- 27. 1 ہے اور کاربن ڈیٹنگ کے مطابق اس کی زیریں تحریر 632 سے 669 عیسوی کے درمیانی عرصے کی ہے۔ اس مخطوط کی زیریں تحریر کے عکوس الٹرا واءی لِٹ( ultra violet (UVشعاعوں سے لئے گئے ۔ ان میں سے ایک صفحہ پیش ہے جس پر سور الانعام کی آیت نمبر 49 کے لفظ: باٰیتنا سے لیکر سورہ الانعام کی آیت نمبر : 61 کے لفظ جاء احد کم الموت ، تک کی درمیانی آیات لکھی ہوئی ہیں۔ مخطوط کی قدامت، رسم الخط کی اجنبیت، نقطوں اور حرکات یعنی زیر زبر پش کی غیر موجودگی ،کاتب و کتابت کے تسامحات اور سب سے بڑھ کر اس مخطوظ کے خلاف برپا کئے گئے طوفان بد تمیزی کے با وجود آپ دیکھیں گے کہ آج کے قرآن اور اس صدیوں پرانے مٹے ہوئے الفاظ کے قرآن میں کوئی بھی جوہری نوعیت کا فر ق نہیں ۔ الحمد للہ کہ یہی عالم اس مخطوط کےدیگر تما م 84 صفحات کا بھی ہے جن میں سے زیادہ تر صفحات وقتا فوقتا آپ سے شئیر کئے جائیں گے۔ ان پارچہ جات کے موجودہ قرآن سے تقابل کے بعد اس امر میں بال بھر بھی شک نہیں رہتا کہ قرآن کل بھی محفوظ تھا اور آج بھی محفوظ ہے
یاد رہے کہ یہ عکس اسی مخطوط کے ایک صفحے کا ہے جس کے اپنے پاس ہونے کا دعوی مبشر زیدی صاحب نے کیا لیکن اسے سامنے لانے سے باوجوہ پرہیز کیا۔ چونکہ اگر وہ ایسا کرتے تو خود ان کے ہاتھوں ان کا اور ان کے ممدوح جرڈ پوئن کا دعوی تحریف دھرا کا دھرا رہ جاتا۔
محمد وسیم

مبشر زیدی، جرڈ پوئن اور مخطوطات صنعاء کی  چند ان کہی  باتیںمبشر زیدی صاحب  میڈیا کے آدمی ہیں۔  خوب جانتے ہیں کہ اپنی تحر...
06/07/2024

مبشر زیدی، جرڈ پوئن اور مخطوطات صنعاء کی چند ان کہی باتیں
مبشر زیدی صاحب میڈیا کے آدمی ہیں۔ خوب جانتے ہیں کہ اپنی تحریر میں تاثیر پیدا کرنے کےلئے کتنا لکھنا لازم ہے اور کیا نہ لکھنا واجب۔ قرآن پر اپنی پوسٹس میں انہوں نے مخطوطات صنعا ء کے حوالے سے جو کچھ بحوالہ لکھا ہے اسے تو ظاہر ہے درست ہونا ہے لیکن جو نہیں لکھا وہ کتنا اہم ہے شاید وہ آپ اس پوسٹ میں جان پائیں ۔ انہوں نے ڈاکٹر جرڈ رُوڈِیگار پوئن کی تحقیق کے حوالے سے جو نہیں لکھا، اس کی حقیقی وجہ تو وہ خود جانیں چونکہ یہ سراسر ان کا ذاتی معاملہ ہے کہ وہ کیا بنانا چاہتے ہیں اور کیا چھپانا یا نہ بتانا۔ لیکن یہ طے ہے اس نہ بتانے نے حقائق کو یک رخا اور ناقابل شناخت ضرور کر دیا ہے۔ انہوں نے یہ تو بیان کیا کہ ڈاکٹر جرڈ پوئن نے صنعاء مخطوطات پر تحقیق کی لیکن یہ نہیں بتا یا کہ ان کے علاوہ بھی کئی نامور مخطوطہ شناسوں نے ان مخطوطات کےلئے زندگیاں وقف کیں، جن کی تعداد دو درجن سے بھی زیادہ ہے۔ مگر انہوں نے ان میں سے فقط ایک جرڈ پوئن ہی کو اس موضوع پر حوالے کےلئے منتخب کیا۔ پھر یہ تو بیان کیا کہ ڈاکٹر جرڈ نے قرآن کے بارے میں اپنے ایک انٹرویو میں کیا کہا، لیکن یہ نہیں بتایا کہ ڈاکٹر جرڈنے قرآن کے متعلق مذکورہ جملے ادا کرتے ہوئے، انہیں مخطوطات صنعا ءکے تحقیقی حاصلات کہہ کر بیان کیا یا محض دیگر مستشرقین ہی کی طرح ان جملوں کو بطور اپنی ذاتی رائے کے بیان کیا؟ چونکہ مطبوعہ انٹر ویو میں ان جملوں سے قبل جنہیں زیدی صاحب نے اپنی پوسٹ میں نقل کیا ہے، ڈاکٹر جرڈ پوئن کے اپنے الفاظ ہیں کہ یہ میرا خیال ہے:
My idea is that the Koran is……..
Lester, Toby (1 January 1999). "What Is the Koran?". The Atlantic. Washington, D.C.
مبشر زیدی صاحب نے یہ تک نہیں بتایا کہ اسی انٹرویو میں ان کا تعارف کراتے ہوئے ان کے سامنے ان کی صنعا ءمخطوطات پر تحقیقات کے واقعی حاصلات کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا:
his examination revealed:
"unconventional verse orderings,
minor textual variations,
and rare styles of orthography
and artistic embellishment.
"ان کی یعنی ڈاکٹر جرڈ پوئن کی تحقیق نے: (مخطوط میں) آیات کی غیر روایئتی ترتیب، معمولی متنی عدم موافقت، کمیاب ہجائی اسالیب اور جمالیاتی سجاوٹ پائی ہے۔ "
Lester, Toby (1 January 1999). "What Is the Koran?". The Atlantic. Washington, D.C.
اور تو اور انہوں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ جرڈ پوئن نے مصاحف صنعاء پر اپنی تحقیقات کے پانچ نکاتی حاصلات اپنے ایک آرٹیکل میں پیش کر دیے ہوئے ہیں ،جو نکات ہی کی صورت میں خلاصۃً درج ذیل ہیں چونکہ یہ پوسٹ تین صفحات کے متن اور ترجمے کی متحمل نہیں:
1- الف کی ناقص لکھائی موجودہ مطبوعہ قرآن سے مختلف ہے
2- الف ہمزہ کی جگہ استعمال ہوا ہے
3- مخطوط صنعا کے قرآنی الفاظ سات کے علاوہ بھی کئی قراءاتوں کا احتمال رکھتے ہیں
4- بعض جگوں پر آیات کے نشانات موجودہ نسخوں سے مختلف ہیں
5- بعض سورتوں کی ترتیب مختلف ہے
Puin, Gerd-R. (1996). "Observations on Early Qur'an Manuscripts in Ṣanʿāʾ". In Stefan Wild (ed.). The Qur'an as Text. Leiden, Netherlands: E. J. Brill. pp. 107–111.
شاید محض ان فائینڈگز سے قرآن کی تبدیلی و تحریف پر قطعی دلیل لانا ممکن نہیں تھا اسی لئے جناب مبشر زیدی نے انہیں نظر انداز کر دیا ہو۔ جہاں تک الف کے ناقص ہونے ، الف کی جگہ ہمزہ اور ایک لفظ کی کئی قرائاتوں کے احتمال کی بات ہے ، یہ ہر اس شخص پر مخفی نہیں جس نے قدیم حجازی و کوفی رسوم الخط پر مبنی مخطوطات دیکھ رکھے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ان ادوا ر میں حروف ہجا ذرا مختلف اسلوب میں لکھے جاتے تھے لہذا الف اور ہمزہ کا موجودہ رسم الخط کے مطابق نہ آنا کسی طرح بھی باعثِ اضطراب و اعتراض نہیں۔ مثال کے طور پر: فسسو، جسے فتثبتوا بھی پڑھا جا سکتا تھا، فتبیِّنوا بھی اور اسی طرح اور کئی طریقوں سے بھی، چونکہ اس دور میں الفاظ پر نکتے درج ہی نہیں کئے جاتے تھے لہذا ایک ہی لفظ کی قراءت کئی طرح سے کی جا سکتی تھی۔ مگر چونکہ اہل اسلام صدری طور پر صحیح قراءت کا فہم رکھتے تھے لہذا ان کےلئے دیگر غیر صیح قراءتوں میں امتیاز کرنا مشکل نہ تھا۔ اس امر کا اعتراف جرڈ کو بھی ہے کہ ان قرآنی محتویات کی مصحفی شکل ، درست قراءت کےلئے پہلے سے قائم شدہ زبانی روایت پر قائم ہے:
The scriptural appearance presupposes an established oral tradition of correct reading
Puin, Gerd-R. (1996). "Observations on Early Qur'an Manuscripts in Ṣanʿāʾ, p:1
مبشر زیدی صاحب یقینا ان معلومات سے آگاہ ہیں لیکن انہوں نے نہیں بتایا ۔ انہوں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ متعدد قراءات کے امکان ، نشانِ آیات کے اختلاف اور ترتیب کے حوالے سے ڈاکٹر اسما ہلالی و دیگر کے محققانہ حاصلات کیا ہیں؟ حالانکہ انہوں نے اپنی ایک اور پوسٹ میں ڈاکٹر ہلالی کا تذکرہ کیا بھی ۔
ایک اور بات جو مبشر زیدی صاحب نے ہمیں بتائی وہ یہ تھی :
"لیکن ایک اور دلچسپ بات بھی معلوم ہوئی۔ کسی نے ایک تحریر کو مٹانے کی کوشش کرکے دوسری تحریر لکھی تھی۔ دوسری تحریر تو قرآن کے موجودہ متن کے مطابق ہے لیکن پچھلی تحریر اس سے مختلف ہے۔"
لیکن یہ نہیں بتایا کہ کسی قدیم پارچے پر ماقبل تحریر کو مٹا کر اس پر دوبارہ لکھاوٹ قدیم ادوار میں کوئی غیر معمولی یامعیوب بات نہیں تھی چونکہ اس دور میں قابل تحریر مواد کی کمیابی کے سبب یہ سرگرمی معمول کی چیز تھی اور ایسے پارچہ جات وغیرہ کو جدید علمی اصطلاح میں Palimpsests کہا جاتا ہے، اسکی تفصیل اور کہیں نہیں تو وکی پیڈیا ہی پر جا کر دیکھی جا سکتی ہے۔
یہ تفصیل اس لئے بھی بیان کی جانا چاہیئے تھی تاکہ قارئین بلاوجہ اس مخمصے کا شکار نہ ہو جائیں کہ کسی تحریر کو مٹا کر دوسری تحریر لکھنا یہ صرف اسی مخطوطے کے ساتھ خاص ہے لہذا یہاں اپنے دین کو بچانے کےلئے مسلمانوں نے ضرور کوئی بڑی کارروائی ڈالی ہو گی۔ نہیں بھلے لوکو یہ پچھلے ادوار میں پڑہنے لکھنے والوں کا معمول تھا۔ قرآن کے ایسے کئی مخطوطات Palimpsests ،پچھلی صدی میں بھی برآمد ہوئے تھے ، انہیں بھی عثمانی دور سے ماقبل کے مانا گیا تھا اور ان پر بھی بڑی ہاہاکار مچی تھی لیکن محققین نے ان میں بھی کوئی ایسی چیز نہ پائی جسے تحریف یا تبدیلی کا نا م دے کر مطعون کیا جا سکے:
‘despite their being pre-‘Uthmānic, the newly discovered leaves ‘did not in any way affect any doctrine of Islam’.
"ان کے ماقبل عثمانی ہونے کے باوجود نئے دریافت ہونے والے صفحات کسی بھی لحاظ سے کسی بھی اسلامی نظریے کو متاثر نہیں کرتے۔"
Tisdall, William St. Clair. ‘New Light on the Text of the Qur’ân, pp. 148-149

انہوں نے مزید یہ بتایا کہ رزان غسان حمدون نے اس مخطوطہ کو اپنی تحقیق کا موضوع بنایا اور یہ مقالہ ان کے پاس موجود ہے۔ لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس مقالہ میں رزان غسان حمدون نے ان تمام مخطوطات کا موجودہ مطبوعہ قرآن کے ساتھ دقیق مقارنہ و موازنہ کیا ہے اور اپنے حاصل تحقیق کو یوں قلمبند کیا:
و من خلال هذه الدراسة برهنا أن مخطوطات دراسة هي من القرن الأول, و هي موافقة للمصحف المعاصرفي إطار قراءات القرآن الكريم والرسم الاصطلاحى والقياسى
"اس مطالعہ کے ذریعےہم نے واضح کر دیا ہے کہ یہ مخطوطات قرن اول کے ہیں جو قراءات اور اصطلاحی و قیاسی رسوم قرآن سے موافقت رکھتے ہیں۔ "
Hamdoun R. G., 2004. The Quranic manuscripts in Sanaa from the first century. Master’s Thesis, Al-Yemenia University, Yemen. P:352
اس تحریر کا مقصد ہرگز توہین و تحقیر نہیں اور نہ ہی صنعاء مخطوطات کے تمام مباحث کو سمیٹنا ہے بلکہ صرف حقائق کے اس پہلو کو بیان کرنا ہے جس کا بیان اس موضوع پر اتنی گفتگو کےلئے ضروری تھا جتنی صاحبِ پوسٹ نے کی تاکہ عاجز جیسے طالب علموں پر سکے کا دوسرا پہلو بھی کچھ نہ کچھ ہی روشن ہو سکتا۔ اس لئے بھی کہ بہر حال اس میڈیا کے دور میں ہر شخص کو روشنی بھی تو اپنی ہی پسند کی چاہیئے۔
والسلام علی من اتبع الھدی
محمد وسیم

02/07/2024

علی کا بغض ہو جس آدمی کے سینے میں
قدم قدم پہ وہ لعنتیں وصول کرے
علی کے منکرو جنت حرام ہے تم پر
دعا کرو کہ جہنم تمہیں قبول کرے

شاعر نا معلوم

24/06/2024

مولا علی مومنین کے مولا انہی معنوں میں ہیں، جن معنوںں میں خود آقا کریم علیہ السلام مومنین کے مولا ہیں:
من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ

اہل ایمان کو یوم غدیر مبارک
24/06/2024

اہل ایمان کو یوم غدیر مبارک

Address

Killianwala

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Faiz e Alam Research Academy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share