06/07/2024
مبشر زیدی، جرڈ پوئن اور مخطوطات صنعاء کی چند ان کہی باتیں
مبشر زیدی صاحب میڈیا کے آدمی ہیں۔ خوب جانتے ہیں کہ اپنی تحریر میں تاثیر پیدا کرنے کےلئے کتنا لکھنا لازم ہے اور کیا نہ لکھنا واجب۔ قرآن پر اپنی پوسٹس میں انہوں نے مخطوطات صنعا ء کے حوالے سے جو کچھ بحوالہ لکھا ہے اسے تو ظاہر ہے درست ہونا ہے لیکن جو نہیں لکھا وہ کتنا اہم ہے شاید وہ آپ اس پوسٹ میں جان پائیں ۔ انہوں نے ڈاکٹر جرڈ رُوڈِیگار پوئن کی تحقیق کے حوالے سے جو نہیں لکھا، اس کی حقیقی وجہ تو وہ خود جانیں چونکہ یہ سراسر ان کا ذاتی معاملہ ہے کہ وہ کیا بنانا چاہتے ہیں اور کیا چھپانا یا نہ بتانا۔ لیکن یہ طے ہے اس نہ بتانے نے حقائق کو یک رخا اور ناقابل شناخت ضرور کر دیا ہے۔ انہوں نے یہ تو بیان کیا کہ ڈاکٹر جرڈ پوئن نے صنعاء مخطوطات پر تحقیق کی لیکن یہ نہیں بتا یا کہ ان کے علاوہ بھی کئی نامور مخطوطہ شناسوں نے ان مخطوطات کےلئے زندگیاں وقف کیں، جن کی تعداد دو درجن سے بھی زیادہ ہے۔ مگر انہوں نے ان میں سے فقط ایک جرڈ پوئن ہی کو اس موضوع پر حوالے کےلئے منتخب کیا۔ پھر یہ تو بیان کیا کہ ڈاکٹر جرڈ نے قرآن کے بارے میں اپنے ایک انٹرویو میں کیا کہا، لیکن یہ نہیں بتایا کہ ڈاکٹر جرڈنے قرآن کے متعلق مذکورہ جملے ادا کرتے ہوئے، انہیں مخطوطات صنعا ءکے تحقیقی حاصلات کہہ کر بیان کیا یا محض دیگر مستشرقین ہی کی طرح ان جملوں کو بطور اپنی ذاتی رائے کے بیان کیا؟ چونکہ مطبوعہ انٹر ویو میں ان جملوں سے قبل جنہیں زیدی صاحب نے اپنی پوسٹ میں نقل کیا ہے، ڈاکٹر جرڈ پوئن کے اپنے الفاظ ہیں کہ یہ میرا خیال ہے:
My idea is that the Koran is……..
Lester, Toby (1 January 1999). "What Is the Koran?". The Atlantic. Washington, D.C.
مبشر زیدی صاحب نے یہ تک نہیں بتایا کہ اسی انٹرویو میں ان کا تعارف کراتے ہوئے ان کے سامنے ان کی صنعا ءمخطوطات پر تحقیقات کے واقعی حاصلات کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا:
his examination revealed:
"unconventional verse orderings,
minor textual variations,
and rare styles of orthography
and artistic embellishment.
"ان کی یعنی ڈاکٹر جرڈ پوئن کی تحقیق نے: (مخطوط میں) آیات کی غیر روایئتی ترتیب، معمولی متنی عدم موافقت، کمیاب ہجائی اسالیب اور جمالیاتی سجاوٹ پائی ہے۔ "
Lester, Toby (1 January 1999). "What Is the Koran?". The Atlantic. Washington, D.C.
اور تو اور انہوں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ جرڈ پوئن نے مصاحف صنعاء پر اپنی تحقیقات کے پانچ نکاتی حاصلات اپنے ایک آرٹیکل میں پیش کر دیے ہوئے ہیں ،جو نکات ہی کی صورت میں خلاصۃً درج ذیل ہیں چونکہ یہ پوسٹ تین صفحات کے متن اور ترجمے کی متحمل نہیں:
1- الف کی ناقص لکھائی موجودہ مطبوعہ قرآن سے مختلف ہے
2- الف ہمزہ کی جگہ استعمال ہوا ہے
3- مخطوط صنعا کے قرآنی الفاظ سات کے علاوہ بھی کئی قراءاتوں کا احتمال رکھتے ہیں
4- بعض جگوں پر آیات کے نشانات موجودہ نسخوں سے مختلف ہیں
5- بعض سورتوں کی ترتیب مختلف ہے
Puin, Gerd-R. (1996). "Observations on Early Qur'an Manuscripts in Ṣanʿāʾ". In Stefan Wild (ed.). The Qur'an as Text. Leiden, Netherlands: E. J. Brill. pp. 107–111.
شاید محض ان فائینڈگز سے قرآن کی تبدیلی و تحریف پر قطعی دلیل لانا ممکن نہیں تھا اسی لئے جناب مبشر زیدی نے انہیں نظر انداز کر دیا ہو۔ جہاں تک الف کے ناقص ہونے ، الف کی جگہ ہمزہ اور ایک لفظ کی کئی قرائاتوں کے احتمال کی بات ہے ، یہ ہر اس شخص پر مخفی نہیں جس نے قدیم حجازی و کوفی رسوم الخط پر مبنی مخطوطات دیکھ رکھے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ان ادوا ر میں حروف ہجا ذرا مختلف اسلوب میں لکھے جاتے تھے لہذا الف اور ہمزہ کا موجودہ رسم الخط کے مطابق نہ آنا کسی طرح بھی باعثِ اضطراب و اعتراض نہیں۔ مثال کے طور پر: فسسو، جسے فتثبتوا بھی پڑھا جا سکتا تھا، فتبیِّنوا بھی اور اسی طرح اور کئی طریقوں سے بھی، چونکہ اس دور میں الفاظ پر نکتے درج ہی نہیں کئے جاتے تھے لہذا ایک ہی لفظ کی قراءت کئی طرح سے کی جا سکتی تھی۔ مگر چونکہ اہل اسلام صدری طور پر صحیح قراءت کا فہم رکھتے تھے لہذا ان کےلئے دیگر غیر صیح قراءتوں میں امتیاز کرنا مشکل نہ تھا۔ اس امر کا اعتراف جرڈ کو بھی ہے کہ ان قرآنی محتویات کی مصحفی شکل ، درست قراءت کےلئے پہلے سے قائم شدہ زبانی روایت پر قائم ہے:
The scriptural appearance presupposes an established oral tradition of correct reading
Puin, Gerd-R. (1996). "Observations on Early Qur'an Manuscripts in Ṣanʿāʾ, p:1
مبشر زیدی صاحب یقینا ان معلومات سے آگاہ ہیں لیکن انہوں نے نہیں بتایا ۔ انہوں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ متعدد قراءات کے امکان ، نشانِ آیات کے اختلاف اور ترتیب کے حوالے سے ڈاکٹر اسما ہلالی و دیگر کے محققانہ حاصلات کیا ہیں؟ حالانکہ انہوں نے اپنی ایک اور پوسٹ میں ڈاکٹر ہلالی کا تذکرہ کیا بھی ۔
ایک اور بات جو مبشر زیدی صاحب نے ہمیں بتائی وہ یہ تھی :
"لیکن ایک اور دلچسپ بات بھی معلوم ہوئی۔ کسی نے ایک تحریر کو مٹانے کی کوشش کرکے دوسری تحریر لکھی تھی۔ دوسری تحریر تو قرآن کے موجودہ متن کے مطابق ہے لیکن پچھلی تحریر اس سے مختلف ہے۔"
لیکن یہ نہیں بتایا کہ کسی قدیم پارچے پر ماقبل تحریر کو مٹا کر اس پر دوبارہ لکھاوٹ قدیم ادوار میں کوئی غیر معمولی یامعیوب بات نہیں تھی چونکہ اس دور میں قابل تحریر مواد کی کمیابی کے سبب یہ سرگرمی معمول کی چیز تھی اور ایسے پارچہ جات وغیرہ کو جدید علمی اصطلاح میں Palimpsests کہا جاتا ہے، اسکی تفصیل اور کہیں نہیں تو وکی پیڈیا ہی پر جا کر دیکھی جا سکتی ہے۔
یہ تفصیل اس لئے بھی بیان کی جانا چاہیئے تھی تاکہ قارئین بلاوجہ اس مخمصے کا شکار نہ ہو جائیں کہ کسی تحریر کو مٹا کر دوسری تحریر لکھنا یہ صرف اسی مخطوطے کے ساتھ خاص ہے لہذا یہاں اپنے دین کو بچانے کےلئے مسلمانوں نے ضرور کوئی بڑی کارروائی ڈالی ہو گی۔ نہیں بھلے لوکو یہ پچھلے ادوار میں پڑہنے لکھنے والوں کا معمول تھا۔ قرآن کے ایسے کئی مخطوطات Palimpsests ،پچھلی صدی میں بھی برآمد ہوئے تھے ، انہیں بھی عثمانی دور سے ماقبل کے مانا گیا تھا اور ان پر بھی بڑی ہاہاکار مچی تھی لیکن محققین نے ان میں بھی کوئی ایسی چیز نہ پائی جسے تحریف یا تبدیلی کا نا م دے کر مطعون کیا جا سکے:
‘despite their being pre-‘Uthmānic, the newly discovered leaves ‘did not in any way affect any doctrine of Islam’.
"ان کے ماقبل عثمانی ہونے کے باوجود نئے دریافت ہونے والے صفحات کسی بھی لحاظ سے کسی بھی اسلامی نظریے کو متاثر نہیں کرتے۔"
Tisdall, William St. Clair. ‘New Light on the Text of the Qur’ân, pp. 148-149
انہوں نے مزید یہ بتایا کہ رزان غسان حمدون نے اس مخطوطہ کو اپنی تحقیق کا موضوع بنایا اور یہ مقالہ ان کے پاس موجود ہے۔ لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس مقالہ میں رزان غسان حمدون نے ان تمام مخطوطات کا موجودہ مطبوعہ قرآن کے ساتھ دقیق مقارنہ و موازنہ کیا ہے اور اپنے حاصل تحقیق کو یوں قلمبند کیا:
و من خلال هذه الدراسة برهنا أن مخطوطات دراسة هي من القرن الأول, و هي موافقة للمصحف المعاصرفي إطار قراءات القرآن الكريم والرسم الاصطلاحى والقياسى
"اس مطالعہ کے ذریعےہم نے واضح کر دیا ہے کہ یہ مخطوطات قرن اول کے ہیں جو قراءات اور اصطلاحی و قیاسی رسوم قرآن سے موافقت رکھتے ہیں۔ "
Hamdoun R. G., 2004. The Quranic manuscripts in Sanaa from the first century. Master’s Thesis, Al-Yemenia University, Yemen. P:352
اس تحریر کا مقصد ہرگز توہین و تحقیر نہیں اور نہ ہی صنعاء مخطوطات کے تمام مباحث کو سمیٹنا ہے بلکہ صرف حقائق کے اس پہلو کو بیان کرنا ہے جس کا بیان اس موضوع پر اتنی گفتگو کےلئے ضروری تھا جتنی صاحبِ پوسٹ نے کی تاکہ عاجز جیسے طالب علموں پر سکے کا دوسرا پہلو بھی کچھ نہ کچھ ہی روشن ہو سکتا۔ اس لئے بھی کہ بہر حال اس میڈیا کے دور میں ہر شخص کو روشنی بھی تو اپنی ہی پسند کی چاہیئے۔
والسلام علی من اتبع الھدی
محمد وسیم