03/02/2026
آپ کو یاد ہوگا کہ شمائل ندوی صاحب سے مناظرے میں جاوید اختر صاحب مسلسل یہ اعتراض دہراتے رہے کہ اگر خدا ہے تو وہ ان سب برائیوں کو روکتا کیوں نہیں؟
جبکہ ایپسٹین فائلز جیسے لیکس ان سوالات کے جواب میں اسلامی موقف کی مکمل تائید کر دیتے ہیں۔ یہ مسئلہ دراصل Problem of Evil نہیں بلکہ Causes of Evil کو ڈسکس کرنے سے سمجھ میں آتا ہے۔
ہم اس بات پر حیران ہوتے ہیں کہ اللہ کا عذاب دنیا میں کیوں آ رہا ہے، خدا ان آفات کو کیوں نہیں روک رہا، جبکہ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ وہ محض کسی خفیہ جزیرے پر کی جانے والی عیاشیوں سے ہی واقف نہیں، بلکہ ان غلط ارادوں کا بھی احاطہ کیے ہوئے ہے جو کسی بدبخت کے دل میں قیام کرتے ہیں۔
یہ دنیا اس قدر سادہ نہیں ہے جتنا لوگ سمجھتے ہیں، اور اس دنیا کے لوگ اتنے باخبر بھی نہیں جتنا وہ دعویٰ کرتے ہیں۔ اس دنیا کے لوگ جنہیں اپنا مسیحا سمجھتے ہیں، وہ نہ صرف چھوٹی بچیوں اور بچوں کے ریپسٹ نکلتے ہیں بلکہ ان کے جسموں کو ٹکڑوں میں کاٹ کر ان کا گوشت کھانے جیسے جرائم کے مرتکب بھی پائے جاتے ہیں۔
اس کے باوجود یہ دنیا ایسے لوگوں کو انبیاء علیہم السلام کے مقابل لا کھڑا کرتی ہے، اور اپنے ان آقاؤں کو طاغوت بنا لیتی ہے۔ نبیوں کی پاکیزہ سیرتیں، جو پوری دنیا کے سامنے ہوتی ہیں، ان پر اعتراضات کیے جاتے ہیں۔ یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شادی پر تو اعتراض کرتے ہیں، لیکن جیفری ایپسٹین کے جزیرے پر ہزاروں بچیوں کے ساتھ پیش آنے والے جنسی استحصال پر خاموش رہتے ہیں۔
جس Scam کو خدا بار بار ایکسپوز کرچکا ہے اسکے پیغمبر ایکسپوز کرچکے ہیں اسی اسکیم کا بار بار شکار ہونے والے لوگ واقعتا معصوم ہیں؟
اگر ایسی دنیا بھی تباہی کی مستحق نہیں، تو پھر کوئی چیز بھی سزا کے لائق نہیں۔ کیا خدا نے بار بار نہیں فرمایا کہ یہ سب برائیاں تمھارے اپنے اعمال کے سبب ہیں؟ کیا خدا کا راستہ چھوڑنا بذات خود سب سے بڑا سبب نہیں؟
آپ آگے کی تفصیلات پڑھنے کے بعد یہ جان لیں گے کہ خدا کیوں اس قدر حلم والا ہے، اس نے کیوں ایک مقررہ وقت پر بہت بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ کیوں اس نے بار بار یہ بیان کیا ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں کے حال جانتا ہے، کیوں فرمایا ہے کہ ان کا ظاہر اور باطن ایک جیسا نہیں، اور کیوں یہ اعلان کیا ہے کہ قیامت کے دن سب کی کارگزاری کھول کر رکھ دی جائے گی۔
جیفری ایپسٹین کے ساتھ جن جن لوگوں کی تصاویر منظرِ عام پر آ رہی ہیں، وہ انتہائی تشویشناک ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور بل گیٹس کو کون نہیں جانتا؟ یہ وہ افراد ہیں جو دنیا کو لیڈ کرتے ہیں، جن کے فیصلے پوری دنیا پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
جو لیڈرز خود چھوٹے بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے ہوں، ان سے یہ توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ انہیں فلسطین میں ہونے والے قتلِ عام پر ترس آئے گا؟ یہ تو خود اسی مرض میں مبتلا ہیں۔
بل گیٹس، جو عرصۂ دراز تک دنیا کے سب سے امیر آدمی رہے، متعدد ویکسینز کے اسپانسر بھی ہیں۔ ان کے بارے میں آتا ہے کہ کم عمر روسی لڑکیوں کے ساتھ جنسی بداعمالیوں کی لت کے باعث وہ جنسی مسائل کا شکار ہو گئے تھے۔ ایسے لوگوں سے آپ یہ توقع کیسے رکھ سکتے ہیں کہ وہ دنیا کو خلوص کے ساتھ مفت ویکسین فراہم کریں گے؟
ایلان مسک، جو ایکس (سابق ٹوئٹر) کے مالک ہیں اور جن کی ایک ایک پوسٹ کروڑوں لوگوں تک پہنچتی ہے، ان کا نام بھی اس فہرست میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ وہ اپنے ایک دوست کی بیوی کے ساتھ افیئر میں بھی پکڑے جا چکے ہیں، جبکہ ان کے والد اپنی ہی سوتیلی بیٹی سے دو بچوں کے باپ ہیں۔
رچرڈ ڈاکنز، جو الحادِ جدید کے بانی ہیں اور جن کی کتاب The God Delusion جدید ملحدین کے لیے وہی حیثیت رکھتی ہے جو اہلِ ایمان کے لیے مذہبی کتابوں کی، ان کا نام بھی اس فہرست میں شامل ہے۔
لارنس کراس، مشہور ملحد اور مناظر، بھی اس فہرست میں شامل ہیں، جبکہ وہ کھلے عام مناظروں میں in**st یعنی محرم رشتہ داروں کے ساتھ جنسی تعلق کو جائز قرار دے چکے ہیں۔
اسٹیفن ہاکنگز جیسے حالیہ دنیا کے سب سے معروف ملحد سائنسدان بھی اسی فہرست میں ہیں۔
اس کے علاوہ مسلمانوں کے "خیر خواہ" شیخ محمد زید کی تصویر بھی دو شیزاؤں کے ساتھ، الطاف بھائی کی زبان میں، “ایک پپی ادھر، ایک پپی اُدھر” والی کیفیت میں منظرِ عام پر آ چکی ہے۔
ملکہ الزبتھ کے تیسرے بیٹے پرنس اینڈریو کی ایک کم عمر لڑکی کے ساتھ تصویر بھی منظر عام پر آ چکی ہے، جس میں وہ اس لڑکی کے مخصوص مقامات کی طرف ہاتھ بڑھاتے نظر آتے ہیں۔
سابق امریکی صدر جو بائڈن کو بھی کئی مرتبہ چھوٹے بچوں کے ساتھ نازیبا حرکات کرتے ہوئے نوٹ کیا گیا ہے۔
یہ صرف وہ جانی اسکینڈلز ہیں جو بچوں کے ساتھ ہیں ورنہ بل کلنٹن کی اپنی 19 سالہ نوکرانی مونیکا لیونسکی اور جان کینیڈی کی میڈلین منرو کے ساتھ رنگ رلیاں ایک الگ موضوع ہے۔
اس حوالے سے CIA کے خفیہ پروگرام MKUltra کی دستاویزات کو بھی دیکھنا چاہیے۔
ان تمام خبروں کو پڑھ کر کل سے وہ تمام Conspiracy Theories ذہن میں گھوم رہی ہیں جنہیں ہم کبھی Secret Societies یا Illuminati کے نام سے پڑھتے تھے۔ اس بات پر تو یقین تھا کہ بلب اور ٹیوب لائٹ سے روشن کی گئی اس دنیا کی ایک تاریک حقیقت ضرور ہے، مگر یہ اندازہ نہیں تھا کہ دنیا اس قدر تاریکی میں ڈوب چکی ہے۔
اوپر جن حضرات کا ذکر ہوا، یہ سب محض مہرے ہیں۔ انہیں جنسی خواہشات کے ذریعے ٹریپ کیا جاتا ہے اور یہ اس میں پھنس جاتے ہیں۔ سوچیے کہ ان کے اصل کرتا دھرتا کس قدر شیطان صفت ہوں گے۔ اور یہ تو وہ ہیں جو سب کے سامنے ہیں، ورنہ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ
جو ان کے دلوں میں ہے وہ اس سے کہیں زیادہ گھناونا ہے۔
ایسی دنیا جسکو ان لوگوں نے تشکیل دیا وہ راستہ جو ایسے لوگوں نے تعمیر کیا اسکو خدا کے راستے پر ترجیح دینا، پیغمبروں سے بہتر قرار دینا ، موسی کے مقابلے میں فرعون کو ترجیح دینا، اور پھر یہ سمجھنا کہ یہ لوگ معصوم ہیں انکا کوئی جرم ہی نہیں، بھلا اس سے بڑا کوئی جرم ہوگا؟
اس لیے اللہ تعالی نے بتایا ہے کہ اجر اور عذاب کے فیصلے میرے ہاتھ رہنے دو میں جانتا ہوں کون مخلص ہے، کون غافلی، کون ہٹ دھرم اور کون منافق۔ بظاھر جو نیک لگتا ہے شاید وہ دنیا کا سب سے بڑا منافق ہو۔
نبی علیہ السلام نے فرمایا تھا آخری وقتوں میں خائن کو سب سے بڑا امانت دار سمجھا جائے گا اور جھوٹے کی تصدیق جبکہ سچے کی تكذيب ہوگی۔
کیا یہ حرف بحرف سچ نہیں ہورہا؟
اگر ابھی بھی آپ کو یہ ساری باتیں مبالغہ آمیز لگ رہی ہیں تو ذرا The Arrivals نامی ڈاکومنٹری ضرور دیکھیں، جہاں واضح شواہد کے ساتھ یہ دکھایا گیا ہے کہ کس طرح مغرب نے بچوں کے کارٹونز میں ہی جنسی عمل کو Subliminal Messages کے ذریعے پروموٹ کیا۔
یا یہ کہ کس طرح ہالی ووڈ کے گانوں میں شیطان کی پوجا اور Symbolism کو فروغ دیا جاتا ہے، جس کا اعتراف متعدد مشاہیرِ انڈسٹری خود کر چکے ہیں۔
شیطان کی پوجا ان تمام کاموں کا سب سے اہم پہلو ہے۔ بظاہر جو لوگ خدا کا انکار کرتے ہیں، وہ انکار کی وجوہات میں انہی باتوں کو گنواتے ہیں جو دراصل ان کی اپنی شیطانی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔ خدا کا ظاہری انکار کرنے والے درحقیقت شیطان کے ایسے پجاری ہوتے ہیں کہ اسے خوش کرنے کے لیے بچوں کی قربانی تک دے دیتے ہیں، اور یہ سب کچھ گانوں اور ویڈیوز کی صورت میں دکھایا جاتا رہا ہے۔
ایک صدی قبل جس دنیا میں تمام علاقوں کی خواتین انتہائی مھذب لباس پہنتی تھیں اس دنیا میں Po*******hy کو قانونی جواز دے کر کثیر تعداد میں خواتین کے ہر ہر انگ اور ایک ایک عضو کو پوری دنیا کے سامنے پیش کردینا شیطانیت نہیں تو اور کیا یے؟
چاہے وہ روڈی پائپر کی فلم They Live ہو، ٹام کروز کی Eyes Wide Shut ہو یا The Simpsons کی پیش گوئیاں—کوئی نہ کوئی ہمیں اپنے انداز میں خبردار کرتا رہا ہے۔ کتنی ہی دستاویزات ایسی ہیں جو منظر عام پر آنے سے پہلے ہی روک دی گئیں۔
اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ خدا کے وجود کو دشمن بھی مانتا ہے، کیونکہ اگر شیطان ہے تو خدا کا وجود اس سے پہلے لازم ہے۔ دشمن دوسرے کیمپ میں ہے، اور ہمیں خدا کے کیمپ میں ہونا ہے۔ یاد رکھیں: ہیرو اور ولن ہی کو اصل سچ معلوم ہوتا ہے، باقی سب سائیڈ کردار ہوتے ہیں جو غفلت میں مبتلا رہتے ہیں۔ آپ ہیرو بنیے۔
وقت آ گیا ہے کہ ان پرانی کتابوں سے مٹی جھاڑی جائے، ابن صفی کے دونوں ناولز ایش ٹرے ہاؤس اور تین سنکی کو دوبارہ کھنگالا جائے، آرکائیوز سے وہ ڈاکومنٹریز دوبارہ نکال کر دیکھی جائیں، اور نئے سرے سے غور و فکر کیا جائے—کیونکہ ماضی کی Conspiracy Theories آج کی ایک اٹل حقیقت بن چکی ہیں۔
03/02/2026
23/05/2024
03/04/2021