06/04/2025
*وظیفۂ سورۂ فیل برائے فلسطین یا عملی جہاد؟ – ایک سنجیدہ تبصرہ*
*آج کل بعض افراد* فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لیے سورۂ فیل کو اجتماعی طور پر پڑھنے کی ترغیب دیتے ہیں، اور یہ تصور پیش کرتے ہیں کہ ابابیل آئیں گی، غیر مکلف مخلوق لڑے گی یا اللہ تعالیٰ براہِ راست یہودیوں کو ہلاک کر دے گا۔
*یہ سب خیالات صرف ایک تمنّا یا خیال تو ہو سکتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ:*
یہ سب کچھ اس وقت ہوگا جب *امتِ مسلمہ خود عملی میدان میں جہاد کرے گی۔*
جب ہم خود ابابیل بن کر دشمن پر جھپٹیں گے، جب ہم اپنی جان، مال، وقت اور صلاحیتیں اللہ کی راہ میں قربان کریں گے، تب اللہ تعالیٰ کی مدد آسمانوں سے نازل ہوگی، تب وہ پتھر بھی بول اٹھیں گے:
*> "يا عبدَ اللهِ! هذا يهوديٌّ ورائي فاقتلْه"*
اے اللہ کے بندے! یہ یہودی میرے پیچھے چھپا ہے، آ اور اسے قتل کر دے۔
(صحیح بخاری و مسلم)
*لہٰذا* :
*صرف 25 کروڑ دفعہ سورۂ فیل پڑھنے پر امت کو نہ لگائیں۔*
*امت کو عملی جہاد کے لیے تیار کریں، تربیت دیں، شعور دیں، قربانی کا جذبہ دیں۔*
*ہم وظائف کی برکت سے انکار نہیں کرتے* ، لیکن ہمارے پاس شریعتِ مطہرہ اور سیرتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا *واضح لائحہ عمل موجود ہے۔* جب مسئلے کا صریح حل ہمیں قرآن و سنت میں ملتا ہے تو اسے چھوڑ کر غیر یقینی اور غیر واضح راستوں کو اپنانا دانشمندی نہیں۔
*ہماری اصل بیماری* :
سستی
دنیا کی محبت
موت کا خوف
*ہماری اصل دوا* :
چستی
بہادری
آخرت کی طلب
اور شہادت کا شوق
اللہ تعالیٰ ہمیں وہ امت بنائے جو ظالم کے خلاف اٹھ کھڑی ہو، *جو دین کی سربلندی کے لیے جان دے،* جو امت کی عزت کے لیے اپنی آرام دہ زندگی کو قربان کر دے۔ *آمین*
*عملی مشورہ* :
اگر کوئی آپ کو صرف سورۂ فیل کا وظیفہ بھیجے، تو اس کے جواب میں یہ مکمل پیغام بھی بھیجیں۔ *تاکہ اسے وظیفے کے ساتھ ساتھ عملی جہاد کی راہ بھی معلوم ہو۔*
اور اسی پیغام کو سوشل میڈیا پر بھی شیئر کریں، تاکہ امت کو ایک توازن والی دعوت ملے – نہ صرف ذکر، بلکہ فکر اور عمل بھی۔
*سیف*