The Freelancing School Quaidabad

The Freelancing School Quaidabad

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from The Freelancing School Quaidabad, Education Website, House 77 double story apartment Quaidabad, .

14/08/2025
29/07/2025

15- (حضرت محمد مصطفى صلى اللّٰه عليه وسلم)
رَبِّ اَدْخِلْنِى مُدْخَلَ صِدْقٍ وَاخْرِجْنِيْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِىْ مِنْ تَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيْرًا (الإسراء 17:80)
يا رب! مجهى جهاى داخل فرما اجهائى كم ساته داخل فرما, اور جهان سى نكال اجهائى كم ساته نكال ، اور مجهى خاص اينه پاس س ايسا اقتدار عطا فرما جس كم ساته (تيرى) مدد بو-

25/04/2025

کیا آپ مسلسل بھاگ رہے ہیں، لیکن کہیں پہنچ نہیں رہے؟
کیا آپ واقعی کامیابی کی طرف بڑھ رہے ہیں، یا بس ایک نہ ختم ہونے والی دوڑ میں الجھے ہیں؟
کیا آپ آزاد ہیں، یا اپنے ہی خوابوں اور خواہشات کے غلام؟
کیا کامیابی کا مطلب واقعی ہر وقت کچھ نہ کچھ کرتے رہنا ہے؟

اگر آپ ان میں سے کسی بھی سوال کا جواب چاہتے ہیں تو یہ پوسٹ آپکے لیے ہے.

Summary and Key Takeaways from the Eye-Opening Masterpiece The Burnout Society By Byung-Chul Han

کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ آپ مسلسل بھاگ رہے ہیں، لیکن کہیں پہنچ نہیں رہے؟ ہر وقت کامیابی، محنت، اور نئی منزلوں کے پیچھے دوڑتے دوڑتے زندگی کہیں کھو سی گئی ہے؟ کیا زندگی کا مقصد صرف مصروف رہنا اور ایک کے بعد دوسرا ہدف حاصل کرنا ہے؟
اگر آپ بھی اس احساس سے گزر رہے ہیں، تو آپ اکیلے نہیں ہیں۔ آج کے دور میں لاکھوں لوگ اسی کشمکش کا شکار ہیں—یہ سمجھنے کی کوشش میں کہ اصل خوشی کہاں ہے؟ کیا زیادہ کام، زیادہ کامیابی اور زیادہ مصروفیت ہی ہمیں خوشی دے سکتی ہے؟

یہی وہ سوالات ہیں جن کا جواب مشہور جرمن-کورین فلسفی بیونگ چُل ہان (Byung-Chul Han) نے اپنی کتاب The Burnout Society میں دیا ہے۔

مصنف کے مطابق:
✅ ہم ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جہاں ہر شخص اپنی ہی محنت کا قیدی بن چکا ہے۔
✅ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم آزاد ہیں، لیکن حقیقت میں ہم اپنے ہی خوابوں، دباؤ اور مسلسل کچھ حاصل کرنے کی خواہش کے غلام بن چکے ہیں۔
✅ یہ دوڑ کبھی ختم نہیں ہوگی، جب تک ہم کامیابی اور زندگی کو ایک نئے زاویے سے دیکھنا نہ سیکھیں۔

مصنف کا تعارف:
بیونگ چُل ہان ایک جرمن-کوریائی فلسفی ہیں، جو جدید دور کی نفسیات اور معاشرتی مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان کی کتابیں صرف الفاظ نہیں، بلکہ ایک آئینہ ہیں، جو ہمیں ہماری اپنی زندگی کا اصل چہرہ دکھاتی ہیں۔
بیونگ چُل کی یہ کتاب صرف ایک تجزیہ نہیں، بلکہ ایک ویک اپ کال ہے—ایسی کال جو شاید آپ کی سوچ اور زندگی کو بدل دے۔ تو تیار ہو جائیں، کیونکہ آپ ایک نئے سفر پر نکلنے والے ہیں!
سمری سے پہلے استادِ محترم Khurram Ellahi کا شکریہ جن کی وجہ سے اس کتاب سے متعارف ہوا.

1.آج کا معاشرہ: برن آؤٹ کا شکار

ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں کامیابی اور ترقی کی دوڑ نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اسے Burnout Society کہا جاتا ہے—ایک ایسا دور جہاں دباؤ باہر سے نہیں آتا، بلکہ ہم خود کو تھکانے اور نچوڑنے میں لگے ہوئے ہیں۔
یہ ایسی غلامی ہے جس میں کوئی زنجیریں نہیں، کوئی جبر نہیں، لیکن پھر بھی ہم مسلسل تھکے جا رہے ہیں۔
یہ معاشرہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اگر آپ تھک رہے ہیں، بے سکون ہیں، ذہنی دباؤ کا شکار ہیں، تو شاید آپ ناکام ہو رہے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف آپ کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک اجتماعی بیماری بن چکی ہے۔ یہ اس سوچ کا نتیجہ ہے جو ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ "زیادہ کام، زیادہ کامیابی، زیادہ نام—یہی زندگی کا مقصد ہے۔"

👈آج کے دور کی نئی غلامی: جہاں زنجیریں نظر نہیں آتیں

پہلے زمانے میں، معاشرتی اصول اور روایات ہمیں بتاتے تھے کہ کیا صحیح ہے اور ہمیں کیا کرنا چاہیے۔
لیکن آج، ہم خود ہی اپنے سب سے بڑے آقا بن چکے ہیں۔
ہمیں کوئی مجبور نہیں کرتا، پھر بھی ہم اپنی مرضی سے وہی دباؤ اپنے اوپر ڈالتے ہیں، جو پہلے دوسروں کے ذریعے ڈالا جاتا تھا۔

یہ ایک عجیب "آزادی" ہے—جہاں ہم کسی کے غلام نہیں، لیکن پھر بھی ایک نہ ختم ہونے والی دوڑ میں الجھے ہوئے ہیں۔
ہم زیادہ کامیابی، زیادہ عزت، زیادہ پہچان کے پیچھے ایسے بھاگتے ہیں کہ خود اپنی ہی قید میں آ جاتے ہیں۔
یہ ایک ایسا جال ہے جہاں ہم سمجھتے ہیں کہ ہم کامیاب ہو رہے ہیں، لیکن درحقیقت ہم اپنے سکون اور ذہنی صحت کی قربانی دے رہے ہیں۔

👈کامیابی کی نئی تعریف:

اگر ہمیں اس Burnout Society میں زندہ رہنا ہے، تو ہمیں کامیابی کی روایتی تعریف پر سوال اٹھانا ہوگا۔
کیا کامیابی واقعی ایک نہ ختم ہونے والی سیڑھی ہے، جس پر ہمیں بس اوپر ہی چڑھتے جانا ہے؟
یا یہ زندگی میں توازن کا نام ہے؟
اصل کامیابی وہ ہے جس میں ترقی اور ذہنی سکون، دونوں شامل ہوں۔
اگر ہم صرف کامیابی کے پیچھے بھاگتے رہے اور خود کو تھکاتے رہے، تو ایک دن احساس ہوگا کہ ہم نے سب کچھ حاصل کر لیا، لیکن خوشی کہیں کھو گئی۔
یہ دنیا مسلسل کام کرنے اور زیادہ سے زیادہ محنت کو عظیم بناتی ہے۔
ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ "جتنا زیادہ کام کرو گے، اتنے کامیاب بنو گے۔"
لیکن حقیقت یہ ہے کہ مسلسل بھاگتے رہنے سے صرف ذہنی اور جسمانی تھکن ملتی ہے۔
ہمیں سیکھنا ہوگا کہ کہاں رکنا ہے، کب آرام کرنا ہے، اور کب اپنی توانائی بحال کرنی ہے۔
اگر ہم اپنے لیے حدود طے نہیں کریں گے، تو اپنی ہی زندگی میں قید ہو جائیں گے۔
اپنے آپ کو آرام دینے، سانس لینے اور زندگی کو انجوائے کرنے کی اجازت دینا، ناکامی نہیں بلکہ ذہانت کی علامت ہے۔

👈کامیابی کو دوسروں کے معیار سے مت تولیں – اپنی خوشی کو بنیاد بنائیں
ہم میں سے اکثر لوگ کامیابی کو دوسروں کی نظر سے دیکھتے ہیں۔
اگر معاشرہ کہے کہ ہمیں ایک خاص معیار تک پہنچنا چاہیے، تو ہم بے سوچے سمجھے اسے اپنا مقصد بنا لیتے ہیں۔
لیکن اگر ہماری کامیابی ہمیں ذہنی سکون نہ دے، تو وہ کیسی کامیابی ہے؟
ہمیں اپنی زندگی خوف یا سوسائٹی کے معیار پر نہیں گزارنی، بلکہ اپنی خوشی اور سکون کو بنیاد بنانا ہوگا۔
اگر ہم صرف دوسروں کو خوش کرنے کے لیے دوڑیں گے، تو ایک دن یہی دوڑ ہمیں ختم کر دے گی۔
سچی کامیابی وہی ہے جو آپ کو اندر سے مطمئن کرے—ورنہ یہ صرف ایک نہ ختم ہونے والی جدوجہد ہے، جس کا انجام صرف تھکن ہے۔

👈شکرگزاری – زیادہ کی خواہش سے نجات کا واحد راستہ

یہ دنیا ہمیں ہر وقت یہ یاد دلاتی ہے کہ ہمیں مزید چاہیے، ہم ابھی مکمل نہیں ہوئے، ہمیں آگے بڑھنا ہے۔
لیکن اگر ہم کچھ دیر رک کر دیکھیں کہ ہمارے پاس پہلے ہی کتنا کچھ ہے، تو ہم ایک نئی دنیا دریافت کریں گے۔
شکرگزاری، قناعت، اور موجودہ لمحے کی خوشی ہمیں اس بے مقصد بھاگ دوڑ سے نجات دلا سکتی ہے۔
اگر ہم ہر وقت "اور زیادہ" کی خواہش میں مبتلا رہیں گے، تو کبھی خوش نہیں ہو سکیں گے۔
اصل خوشی اپنے سفر کو سراہنے میں ہے، نہ کہ ہمیشہ اگلے مقام پر پہنچنے میں۔
جو کچھ آج آپ کے پاس ہے، کبھی وہی آپ کی سب سے بڑی خواہش تھی۔
خوشی کا راز منزل میں نہیں، بلکہ اس سفر کو محسوس کرنے میں ہے۔

2.ہائپر ایکٹیو دنیا میں سکون کیسے ممکن ہے؟

ہماری زندگی ایک نہ ختم ہونے والی دوڑ میں بدل چکی ہے، جہاں ہر لمحہ ہمیں کچھ کرنے، کچھ حاصل کرنے اور کچھ ثابت کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعی ترقی ہے، یا ہم بس اپنی توانائیاں ضائع کر رہے ہیں؟

👈ملٹی ٹاسکنگ – مہارت یا خودکو دھوکہ؟

ہم فخر سے کہتے ہیں کہ ہم ملٹی ٹاسکنگ کر سکتے ہیں—یعنی ایک ساتھ کئی کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
لیکن حقیقت میں، ملٹی ٹاسکنگ ترقی نہیں بلکہ بقا کی تکنیک ہے۔
جانوروں کی دنیا میں بھی یہی ہوتا ہے—ہرن ایک ہی وقت میں کھاتا بھی ہے، اردگرد خطرے کو بھی بھانپتا ہے اور اپنے بچوں کی حفاظت بھی کرتا ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہم انسان بھی خود کو اسی "بقا کے موڈ" میں لے آئے ہیں۔
ہم کبھی موبائل پر نوٹیفکیشن چیک کر رہے ہوتے ہیں، کبھی ویڈیوز دیکھ رہے ہوتے ہیں، کبھی کام کے دوران سوشل میڈیا اسکرول کر رہے ہوتے ہیں—اور نتیجہ؟
ہماری توجہ تقسیم ہو چکی ہے، ہماری سوچ سطحی ہو گئی ہے، اور ہماری ذہانت گھٹتی جا رہی ہے۔
ہمارے بڑے کتابوں میں غرق ہو کر گھنٹوں غور و فکر کرتے تھے، اور ہم؟
ایک ویڈیو بھی پوری نہیں دیکھ سکتے!
کیا واقعی ہم ذہین ہو رہے ہیں، یا بس اپنی دماغی صلاحیتیں کھوتے جا رہے ہیں؟

👈ڈِیپ بورڈمDeep Boredom: جہاں تخلیقی صلاحیتیں جنم لیتی ہیں
جرمن فلسفی والٹر بینجمن نے کہا تھا:
"Boredom is the dream bird that hatches the egg of experience."
یعنی جب ہم ذہنی سکون اور خاموشی میں جاتے ہیں، تبھی اصلی تخلیقی خیالات اور بڑے نظریات جنم لیتے ہیں۔
لیکن ہم نے خود کو ہر وقت مصروف رکھنے کی ایسی عادت ڈال لی ہے کہ ہمارے پاس غور و فکر کے لمحات ہی نہیں بچتے۔
جب ہم خود کو بور ہونے دیتے ہیں، تو ہمارا دماغ نئے زاویے سوچتا ہے۔
یہی وہ کیفیت ہے جہاں سے بڑے آئیڈیاز، نئی ایجادات، اور انقلابی نظریے پیدا ہوتے ہیں۔
لیکن آج جیسے ہی فارغ وقت ملتا ہے، ہم فوراً فون نکال لیتے ہیں!

👈حرکت Movement – جب چہل قدمی بھی ایک نیا تجربہ بن جائے
کبھی غور کیا کہ جب ہم خاموشی سے چہل قدمی کرتے ہیں، تو ذہن میں کیسے حیرت انگیز خیالات آتے ہیں؟
اس کا راز یہ ہے کہ جب حرکت مقصد سے آزاد ہو جائے، تو یہ ایک نیا تجربہ بن جاتی ہے۔
جب ہم سیدھے، ایک ہی راستے پر چلنے کے بجائے، آزادانہ طریقے سے گھومتے ہیں، رکتے ہیں، نظارے دیکھتے ہیں، تو ہمیں ایک نیا زاویہ نظر آتا ہے۔
اسی لیے فلسفی اور شاعر اکثر واک کے دوران بہترین خیالات سوچتے تھے۔
یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب ایک سادہ سی چہل قدمی، ایک رقص میں بدل سکتی ہے۔
یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی محض حاصل کرنے کا نام نہیں، بلکہ جینے اور محسوس کرنے کا نام بھی ہے۔

3.ہماری زندگی – صرف محنت یا حقیقت میں کچھ کرنے کی خواہش؟
فلسفی ہینا آرینڈٹ نے کہا تھا:
"True action is what gives us a new possibility, not just a repetition of daily tasks."

ہم نے اپنی زندگی محض کام، محنت، اور کامیابی کی دوڑ تک محدود کر لی ہے۔
حالانکہ اصل "عمل" (Action) کا مطلب کچھ نیا تخلیق کرنا، سوچنا، اور امکانات کی تلاش ہے۔
لیکن ہم نے "عمل" کو محض کام اور مشقت میں بدل دیا ہے۔
نتیجہ؟
ہم بس محنت کر رہے ہیں، لیکن کوئی بڑا خواب یا نظریہ پیدا نہیں کر رہے۔
ہم سوچتے کم ہیں، اور بس کرتے چلے جاتے ہیں۔

نیورل ایج Neuronal Age – جہاں سب سے قیمتی چیز "دھیان" ہے.
ہم نیورونل ایج (Neuronal Age) میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں سب سے قیمتی چیز "دھیان" (Attention) بن چکی ہے۔
جس کا دھیان جتنا پختہ، اس کی دنیا اتنی بڑی۔
لیکن ہم نے اپنی توجہ بکھیر دی ہے، ہر لمحہ کچھ نیا، کچھ اور، کسی اور چیز کی طرف۔
اگر ہم اس ہائپر ایکٹیو اور بے سکون دنیا میں واقعی ذہین، تخلیقی اور کامیاب ہونا چاہتے ہیں، تو ہمیں تین چیزیں سیکھنی ہوں گی:

✅ ملٹی ٹاسکنگ چھوڑ کر (Deep Focus) کی عادت ڈالیں۔
ڈیپ فوکس:وہ کیفیت جہاں ذہن پوری گہرائی سے ایک کام پر مرکوز ہو، بغیر کسی رکاوٹ یا انتشار کے۔
✅ خود کو کچھ دیر کے لیے "بور" ہونے دیں، تاکہ نیا سوچ سکیں۔
✅ محنت سے زیادہ "عمل" پر توجہ دیں، یعنی ایسا کام کریں جو واقعی فرق ڈالے۔
یہی وہ راز ہے جو ہمیں ایک عام ہجوم سے نکال کر، زندگی کو ایک نیا رنگ دینے کے قابل بنا سکتا ہے۔

👈جب تھکن صرف تھکن نہیں رہتی، بلکہ زندگی کا سوال بن جاتی ہے!
ہماری آج کی تھکن عام تھکن نہیں، بلکہ ایک Existential Fatigue (زندگی میں معنی اور مقصد کی کمی سے پیدا ہونے والی تھکن) ہے۔
یہ وہ کیفیت ہے جہاں انسان صرف جسمانی طور پر نہیں، بلکہ ذہنی اور روحانی طور پر بھی تھک جاتا ہے۔
یہ اس نظام کا نتیجہ ہے جہاں کامیابی کو سکون پر ترجیح دی جاتی ہے، اور Productivity کو خوشی اور اطمینان سے زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے۔
لیکن اگر ہم غور کریں، تو یہ Existential Fatigue ہمیں ایک نئی راہ دکھا سکتی ہے۔
یہ تھکن دراصل ایک "تبدیلی کی تھکن" (Transformative Tiredness) ہے، جو ہمیں ایک بہتر زندگی کی طرف لے جا سکتی ہے۔
یہ وہ موقع ہوتا ہے جب ہم خود سے سوال کرتے ہیں:

❓ کیا واقعی کامیابی کا مطلب بس کام اور دوڑ دھوپ ہے؟
❓ کیا میری زندگی صرف اہداف پورے کرنے کے لیے ہے، یا میں اسے جینے کے لیے آیا ہوں؟
❓ کیا مجھے ہر وقت مصروف رہنا ضروری ہے، یا میں کچھ دیر خاموش بیٹھ کر خود کو جان سکتا ہوں؟
یہ سوالات ہمیں مجبور کرتے ہیں کہ ہم رکیں، سوچیں، اور اپنی زندگی کو نئے زاویے سے دیکھیں۔

ہمیں سکھایا گیا ہے کہ "کام، کام، اور بس کام" ہی کامیابی کی کنجی ہے۔
لیکن اگر ہم سکون، غور و فکر، اور آرام کو بھی زندگی کا حصہ بنائیں، تو شاید ہم زیادہ ذہین، زیادہ تخلیقی، اور زیادہ مطمئن ہو سکیں۔
یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب ہم اپنی کامیابی کی تعریف کو دوبارہ سوچتے ہیں۔
شاید کامیابی کا مطلب ہر وقت کچھ نہ کچھ حاصل کرنا نہیں، بلکہ ایک ایسا زندگی کا طریقہ اپنانا ہے جو متوازن ہو۔

👈ضرورت ایک نئے معاشرے کی جہاں سکون بھی ترقی سمجھی جائے
یہ صرف ذاتی فائدے کی بات نہیں، بلکہ ایک بڑے سماجی انقلاب کی ضرورت ہے۔
ہم ایک ایسی دنیا بنا سکتے ہیں جہاں:

✅ آرام کرنا کمزوری نہ سمجھا جائے، بلکہ ذہانت کی نشانی ہو۔
✅ مصروفیت کو نہیں، بلکہ توجہ اور گہرائی کو کامیابی کا معیار مانا جائے۔
✅ صرف کام نہیں، بلکہ زندگی کے تجربات اور سکون کو بھی اہمیت دی جائے۔
یہ وہ معاشرہ ہوگا جو حقیقی ترقی کی طرف بڑھے گا، نہ کہ صرف ایک تھکی ہوئی مشین کی طرح چلتا رہے گا۔
اب فیصلہ آپ کا ہے!

کیا آپ اسی نہ ختم ہونے والی تھکن میں زندگی گزاریں گے؟
یا اپنی کامیابی کو نئے زاویے سے دیکھنے کی ہمت کریں گے؟

4.کامیابی کی نئی تعریف – ایک متوازن زندگی کی طرف سفر

ہم ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جہاں کامیابی کے معنی بدل چکے ہیں۔
یہ اب کسی بیرونی دباؤ کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک خودساختہ مجبوری بن چکی ہے۔
ہم نے کامیابی کو صرف کام، محنت اور مسلسل دوڑ دھوپ تک محدود کر دیا ہے۔
لیکن اس دوڑ کا انجام؟
❌ تھکن
❌ ذہنی دباؤ
❌ خود کو ختم کر دینے والی زندگی

مصنف نے صرف جسمانی تھکن کی بات نہیں کی، بلکہ ایک گہری نفسیاتی اور معاشرتی حقیقت کی نشاندہی کی ہے۔
ہم نے کامیابی، پہچان، اور ترقی کے پیچھے دوڑنا خود پر لازم کر لیا ہے۔
یہ دوڑ آزادی دینے کے بجائے ہمیں ایک نئی قید میں دھکیل رہی ہے۔

تو حل کیا ہے؟
ہمیں اپنی کامیابی کی تعریف کو بدلنا ہوگا۔

✅ کامیابی صرف اہداف کے حصول کا نام نہیں، بلکہ زندگی کے سفر سے لطف اندوز ہونے کا نام بھی ہے۔
✅ مسلسل محنت اور Productivity ہی سب کچھ نہیں، آرام، غور و فکر، اور ذہنی سکون بھی اتنے ہی قیمتی ہیں۔
✅ خود پر رحم کرنا، حدود قائم کرنا، اور اپنے خوابوں کو بامقصد انداز میں جینا ہی اصل ذہانت ہے۔

👈حقیقی کامیابی وہ ہے جوزندگی کو بامعنی بنا دے

جب ہم سکون، غور و فکر، اور توازن کو اپنی زندگی میں جگہ دیتے ہیں،
تو ہم نہ صرف اپنی فلاح کے لیے کام کرتے ہیں،
بلکہ ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھتے ہیں جو زیادہ پائیدار، متوازن اور انسان دوست ہو۔
یہی وہ سوچ ہے جو ہمیں مسلسل تھکن سے نکال کر، ایک پُرسکون، بامعنی، اور خوشحال زندگی کی طرف لے جا سکتی ہے۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ کوئی اور بھی اس حقیقت کو سمجھے اور اس نہ ختم ہونے والی دوڑ سے باہر نکلنے کا راستہ دیکھ سکے، تو اس پوسٹ کو ضرور شیئر کریں۔ شاید یہ کسی کی زندگی بدلنے کا سبب بن جائے!

توصیف اکرم نیازی

19/10/2024

جو شخص غصے کی کیمسٹری کو سمجھتا ہو وہ بڑی آسانی سے غصہ کنٹرول کر سکتا ہے“
”ہمارے اندر سولہ کیمیکلز ہیں‘ یہ کیمیکلز ہمارے جذبات‘ ہمارے ایموشن بناتے ہیں‘ ہمارے ایموشن ہمارے موڈز طے کرتے ہیں اور یہ موڈز ہماری پرسنیلٹی بناتے ہیں“ ”ہمارے ہر ایموشن کا دورانیہ 12 منٹ ہوتا ہے“ ”مثلاً غصہ ایک جذبہ ہے‘ یہ جذبہ کیمیکل ری ایکشن سے پیدا ہوتا ہے‘مثلاً ہمارے جسم نے انسولین نہیں بنائی یا یہ ضرورت سے کم تھی‘ ہم نے ضرورت سے زیادہ نمک کھا لیا‘
ہماری نیند پوری نہیں ہوئی یا پھر ہم خالی پیٹ گھر سے باہر آ گئے‘ اس کا کیا نتیجہ نکلے گا ؟ ہمارے اندر کیمیکل ری ایکشن ہو گا‘ یہ ری ایکشن ہمارا بلڈ پریشر بڑھا دے گا اور یہ بلڈ پریشر ہمارے اندر غصے کا جذبہ پیدا کر دے گا‘ ہم بھڑک اٹھیں گے لیکن ہماری یہ بھڑکن صرف 12 منٹ طویل ہو گی‘ ہمارا جسم 12 منٹ بعد غصے کو بجھانے والے کیمیکل پیدا کر دے گا اور یوں ہم اگلے 15منٹوں میں کول ڈاؤن ہو جائیں گے چنانچہ ہم اگر غصے کے بارہ منٹوں کو مینیج کرنا سیکھ لیں تو پھر ہم غصے کی تباہ کاریوں سے بچ جائیں گے“
ہمارے چھ بیسک ایموشنز ہیں‘ غصہ‘ خوف‘ نفرت‘ حیرت‘ لطف(انجوائے) اور اداسی‘ ان تمام ایموشنز کی عمر صرف بارہ منٹ ہو تی ہے‘ ہمیں صرف بارہ منٹ کیلئے خوف آتا ہے‘ ہم صرف 12 منٹ قہقہے لگاتے ہیں‘ ہم صرف بارہ منٹ اداس ہوتے ہیں‘ ہمیں نفرت بھی صرف بارہ منٹ کیلئے ہوتی ہے‘ ہمیں بارہ منٹ غصہ آتا ہے اور ہم پر حیرت کا غلبہ بھی صرف 12 منٹ رہتا ہے‘
ہمارا جسم بارہ منٹ بعد ہمارے ہر جذبے کو نارمل کر دیتا ہے“ ”آپ ان جذبوں کو آگ کی طرح دیکھیں‘ آپ کے سامنے آگ پڑی ہے‘ آپ اگر اس آگ پر تھوڑا تھوڑا تیل ڈالتے رہیں گے‘ آپ اگر اس پر خشک لکڑیاں رکھتے رہیں گے تو کیا ہو گا ؟ یہ آگ پھیلتی چلی جائے گی‘ یہ بھڑکتی رہے گی‘
ہم میں سے زیادہ تر لوگ اپنے جذبات کو بجھانے کی بجائے ان پر تیل اور لکڑیاں ڈالنے لگتے ہیں چنانچہ وہ جذبہ جس نے 12 منٹ میں نارمل ہو جانا تھا وہ دو دو‘ تین تین دن تک وسیع ہو جاتا ہے‘ ہم اگر دو تین دن میں بھی نہ سنبھلیں تو وہ جذبہ ہمارا طویل موڈ بن جاتا ہے اور یہ موڈ ہماری شخصیت‘ ہماری پرسنیلٹی بن جاتا ہے یوں لوگ ہمیں غصیل خان‘ اللہ دتہ اداس‘ ملک خوفزدہ‘ نفرت شاہ‘ میاں قہقہہ صاحب اور حیرت شاہ کہنا شروع کر دیتے ہیں“
وجہ صاف ظاہر ہے‘ جذبے نے بارہ منٹ کیلئے ان کے چہرے پر دستک دی لیکن انہوں نے اسے واپس نہیں جانے دیا اور یوں وہ جذبہ حیرت ہو‘ قہقہہ ہو‘ نفرت ہو‘ خوف ہو‘ اداسی ہو یا پھر غصہ ہو وہ ان کی شخصیت بن گیا‘ وہ ان کے چہرے پر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے درج ہو گیا‘ یہ لوگ اگر وہ بارہ منٹ مینج کر لیتے تو یہ عمر بھر کی خرابی سے بچ جاتے‘ یہ کسی ایک جذبے کے غلام نہ بنتے‘ یہ اس کے ہاتھوں بلیک میل نہ ہوتے“ ” لیکن ہم سب بارہ منٹ کے قیدی ہیں‘ ہم اگر کسی نہ کسی طرح یہ قید گزار لیں تو ہم لمبی قید سے بچ جاتے ہیں ورنہ یہ 12 منٹ ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑتے“۔
جب بھی کسی جذبے کے غلبے میں آئیں تو میں سب سے پہلے اپنا منہ بند کر لیں زبان سے ایک لفظ نہیں بولیں میں قہقہہ لگانے کی بجائے صرف ہنسیں اور ہنستے ہنستے کوئی دوسرا کام شروع کر دیں ‘ خوف‘ غصے‘ اداسی اور لطف کے حملے میں واک کیلئے چلے جائیں ‘ غسل کرلیں ‘ فون کرلیں ‘ اپنے کمرے‘ اپنی میز کی صفائی شروع کر دیں اپنا بیگ کھول کر بیٹھ جائیں ‘ اپنے کان اور آنکھیں بند کر کے لیٹ جائیں یوں بارہ منٹ گزر جاتے ہیں‘ طوفان ٹل جاتا ہے‘ عقل ٹھکانے پر آ جائے اور فیصلے کے قابل ہو جائیں ”آسمان گر جائے یا پھر زمین پھٹ جائے‘ منہ نہیں کھولیں
خاموش رہیں اور سونامی خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو وہ خاموشی کا مقابلہ نہیں کر سکتا‘ وہ بہرحال پسپا ہو جاتاہے‘ آپ بھی خاموش رہ کر زندگی کے تمام طوفانوں کو شکست دے سکتے ھیں۔
____منقول

23/05/2024

Copied

ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم طواف فرما رہے تھے ایک اعرابی کو اپنے آگے طواف کرتے ہوئے پایا جس کی زبان پر “یاکریم یاکریم” کی صدا تھی۔
حضور اکرم نے بھی پیچھے سے یاکریم پڑھنا شروع کردیا۔ وہ اعرابی رُکن یمانی کیطرف جاتا تو پڑھتا یاکریم، پیارے نبی بھی پیچھے سے پڑھتے یاکریم۔
وہ اعرابی جس سمت بھی رخ کرتا اور پڑھتا یاکریم بھی اس کی آواز سے آواز ملاتےہوئے یاکریم پڑھتے۔ اعرابی نے تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کیطرف دیکھا اور کہا کہ اے روشن چہرے والے !اے حسین قد والے !
اللہ کی قسم اگر آپ کا چہرہ اتنا روشن اور عمدہ قد نہ ہوتا تو آپ کی شکایت اپنے محبوب نبی کریم کی بارگاہ میں ضرور کرتا کہ آپ میرا مذاق اڑاتے ہیں.
سید دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم مسکرائے اور فرمایا کہ کیا تو اپنے نبی کو پہچانتا ہے ؟ عرض کیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم ایمان کیسے لائے؟ عرض کیا: بِن دیکھے ان کی نبوت و رسالت کو تسلیم کیا، مانا اور بغیر ملاقات کے میں نے انکی رسالت کی تصدیق کی۔
آپ نے فرمایا: مبارک ہو، میں دنیا میں تیرا نبی ہوں اور آخرت میں تیری شفاعت کرونگا۔
وہ حضور علیہ السلام کے قدموں میں گرا اور بوسے دینے لگا۔ آپ نے فرمایا: میرے ساتھ وہ معاملہ نہ کر جو عجمی لوگ اپنے بادشاہوں کے ساتھ کرتے ہیں۔
اللہ نے مجھے متکبر وجابر بناکر نہیں بھیجا بلکہ اللہ نے مجھے بشیر و نذیر بناکر بھیجا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ اتنے میں جبرائیل علیہ السلام آئےاور عرض کیا کہ اللہ جل جلالہ نے آپ کو سلام فرمایا ہے اور فرماتا ہے کہ اس اعرابی کو بتادیں کہ ہم اسکا حساب لیں گے۔ اعرابی نے کہا: یا رسول اللہ! کیا اللہ میرا حساب لے گا؟ فرمایا: ہاں، اگر وہ چاہے تو حساب لے گا۔ عرض کیا کہ اگر وہ میرا حساب لے گا تو میں اسکا حساب لونگا۔ آپ نے فرمایا کہ تو کس بات پر اللہ سے حساب لیگا؟
اس نے کہا کہ اگر وہ میرے گناہوں کا حساب لیگا تو میں اسکی بخشش کا حساب لونگا۔ میرے گناہ زیادہ ہیں کہ اسکی بخشش؟
اگر اس نےمیری نافرنیوں کا حساب لیا تو میں اسکی معافی کا حساب لونگا۔
اگر اس نے میرے بخل کا امتحان لیا تو میں اس کے فضل و کرم کا حساب لونگا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب سماعت کرنے کے بعد اتنا روئے کہ ریش مبارک آنسوؤں سے تر ہو گئی پھر جبرائیل علیہ السلام آئے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ رونا کم کریں آپ کے رونے نے فرشتوں کو تسبیح و تحلیل بھلا دی ہے اپنے امتی کو کہیں نہ وہ ہمارا حساب لے نہ ہم اسکا حساب لیں گے اور اس کو خوشخبری سنادیں یہ جنت میں آپ کا ساتھی ہوگا۔
"کیا عقل نے سمجھا ہے کیا عشق نے جانا ہے ان خاک نشینوں کی ٹھوکر میں زمانہ ہے" تحریر کو لائک کرنے سے اچھا ہے کہ شیئر کردے یہ آپکے اکاؤنٹ میں نیکیوں کا وزن زیادہ کرتی ہے ۔“
(مسند احمد بن حنبل)

20/04/2024


لابی میں چائے کا گُھونٹ لیتے ہُوئے اُس نے مُجھ سے پُوچھا،
مَدِینَہ میں ہے کوئی جان پہچان والا؟
ِاِس سوال میں جانے کیا تھا کہ،
مُضطَرِب دِل کے سارے تار جَھنجَھلا اُٹھے،
اور پُورے بدن میں اِرتِعاش بپا ہوگیا،
مَیں نے کوئی جواب دیے بغیر،
اپنے آپ سے پُوچھا، مَدِینے میں ہے کوئی جان پہچان والا؟
اور!
اِس سوال کے ساتھ ہی میری آنکھیں بَھر آئِیں،
حَلَق میں نَمَک سا گُھلنے لگا کہ،
"مَدِینے میں بھی بَھلا کوئی اَجنبی ہوتا ہے؟"
مُحَمَّدﷺ
*اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی ,مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ*

*اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ**

Photos from The Freelancing School Quaidabad's post 27/09/2023
27/04/2023

03004080630

Want your school to be the top-listed School/college?

Culinary Team

Attire

Telephone

Website