بدلوذہن جی لو زندگی

بدلوذہن جی لو زندگی

Share

Welcome to the World of Transformation:
i invite you to make an effort to design this life a master

05/05/2024

اپنی ذہانت اور لاشعور کی طاقت کا استعمال کرنا سیکھ کر اپنی زندگی کو خوشحال، آسان اور بہترین بنائیں!

"بدلو ذہن جی لو زندگی"
Author 'Shahid Syed'
(NLP & Hypnosis Coach,
Mind Wellness Counselor)

یہ کتاب دنیا بھر کے ترقی پسند شخصیات کو مختلف چیلنجز کا سامنا کرنے کی صلاحیت دینے والے مہنگے ترین اور پُر اثرعلم 'نیورولنگواسٹک پروگرامنگ' کی پیشرفت تکنیکس اور ٹولز کا اردو زبان میں آسان فہم مجموعہ ہے۔

یہ کتاب آپ کو مثبت ذہنی تبدیلیوں کی راہنمائی کے لیے کاؤنسلنگ فراہم کرتی ہے۔
جس سے آپ ڈیپریشن، اینگزائٹی سٹریس، فوبیاز، منیاز، کم ہمتی، ایڈیکشن، بری لت، پروکراستینیشن، بلاوجہ لڑنےجھگڑنے کا رویہ، درست انداز میں اپنا موقف دوسروں تک نہ پہنچا پانا، پُراثر گفتگونہ کر پانا، شرم وحیا، انجانا اور بے جا خوف، خود اعتمادی میں کمی، قوت فیصلہ کی کمی، اعصابی و ذہنی کمزوریوں، موت کے خوف،خودکشی کے خیالات، انجانےاندیشے، اندھیرے کے خوف، بری سوچ پر قابو اور متعدد دیگر ذہنی و جسمانی مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں اور مثبت تبدیلیوں کے لیے موثر راہنمائی حاصل کرتے ہیں۔

یہ کتاب خود کو مزید بہتر بنانے اور زندگی کو خوشیوں سے بھر دینے کے لیے آمیزشی تجربے اور عملی تدابیر فراہم کرتی ہے۔

چند لمحے پڑھنے کے بعد آپ خود محسوس کریں گے کہ آپ کی ذات میں چھپی طاقتوں کو جگا دینے کا وقت آ گیا ہے!

اپنی کاپی کا آرڈر کرنے کے لیے ابھی وٹس ایپ پر رابطہ کیجیے
03106364612
اور بڑے ڈسکاؤنٹ کے ساتھ فری ہوم ڈیلیوری کا بھر پور فائدہ اٹھائیں ۔ ڈسکاؤنٹ قیمت صرف 1100/- روپے۔

یادرکھیں!

آپ آج جو بھی ہیں، آپ کے حالات اور مسائل جیسے بھی ہیں، ان کا حل اور اپنے خوابوں کو پانے کی طاقت آپ کی اپنی ذات میں موجود ہے۔
کیونکہ بیرونی حالات اور عناصر کسی کو نہیں بدلتے یہ آپ خود ہیں یعنی یہ آپ کا اپنا ذہن ہے جسے آپ کو بدلنا ہے،

تاکہ آپ اپنی تقدیر خود بنائیں،

تبدیلی کی طاقت آپ کے دماغ میں ہے۔

آپ اپنے لاشعور کی طاقت کا استعمال کرکے ان تبدیلیوں کو بہتر سے بہتر بنا سکتے ہیں۔

اپنے خوابوں کو حقیقت میں تبدیل کرنے کا آغاز، یہاں ہے! خود کو بہتر بنائیں اور زندگی کو مثبت راہوں پر لے جائیں۔

اپنے خوابوں کو حقیقت میں تبدیل کرنے کا آغاز، یہاں ہے!
03106364612

29/03/2023

بدلو ذہن جی لو زندگی آن لائن پڑھنے کے لیے ادیب آنلائن لائبریری ایپ انسٹال کیجئے اور

23/10/2022
18/10/2022
13/09/2022

🧠 انسانی ذہن کے گہرے اسرار جاننے کے لیے 🪄

💫 ابھی آرڈر کیجئے
03106364612

کتاب کےصفحات : 400
نرم و ملائم خوبصورت اور دیدہ زیب 68گرام سینچری کاغذ کے ساتھ مضبوط اور خوبصورت بائنڈنگ 💎

اصل قیمت: -/1250

👈خصوصی ڈسکاؤنٹ کے ساتھ رعایتی قیمت صرف: -/ 990روپے ہیں۔

کتاب منگوانے کا طریقہ کار:

اگر آپ🎁 فری ڈیلیوری کی سہولت سے استفادہ چاہتے ہیں تو
Payment method:

Easypaisa | Jazz Cash | Raast Payment ID.

03068660259

پرصرف -/990 روپے بھیج کر

🔰 رقم بھیجنے کی رسید اور
اپنا رابطہ نمبر کے ساتھ مکمل ایڈریس۔
🪀 03106364612
پر وٹس ایپ کر دیجیے۔

اور اگر آپ کیش آن ڈیلیوری منگوانا چاہتے ہیں تو
صرف اپنا مکمل ایڈریس اور رابطہ نمبر بھجوائیے۔

نوٹ : کیش آن ڈیلیوری منگوانے کے چارجز 100 روپے علاوہ ہیں۔

📮آپ کے ایڈریس پر کتاب اسی دن پارسل کر دی جاۓگی
Delivery time: 2 to 4 days maximum.

مزید انکوائری کے لیے واٹس ایپ نمبر 03106364612 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
شکریہ

16/08/2022

اگر آپ سے سوال پوچھا جاۓ کہ دودھ کا بہترین استعمال کرنا ہو تو کیسے کریں گے؟
یقیناَ آپ کا جواب ہوگا کہ دودھ سے چاۓ،لسی، دہی، مکھن،گھی،پنیر،اور کھویا وغیرہ حاصل کر کے ہم دودھ کا بہترین استعمال کرسکتے ہیں۔
اچھا ایک اور سوال کہ آپ اپنی زندگی کا سواد کیسے لیں گے؟
تو یہاں بھی آپ کہہ سکتے ہیں کہ زیادہ دھن دولت کما کر،اچھے سے رشتے بنا کر۔سیرو سیاحت کر کے۔آسائشات اکٹھی کرکے۔ وغیرہ وغیرہ
لیکن یہ دونوں جواب ادھورے ہیں۔کیسے؟
دیکھیں آپ دودھ کا اپنے تائیں جو بھی استعمال کرنا چاہیں کر سکتے ہیں لیکن اس کے لیے آپ کا فوکس ہمیشہ ایک بات پر ضرور ہوتا ہے اور وہ یہ کہ دودھ کسی بھی صورت خراب نہ ہونے پائے۔

Yes or No?

آپ کا جواب یقینا ہاں ہوگا۔

ٹھیک اسی طرح آپ اپنی زندگی کا بہترین یوز کرتے ہوۓ چاہے جو کچھ بھی حاصل کریں۔ جتنا چاہے بڑا بزنس یا بڑی ایمپائر کھڑی کریں۔ جتنی چاہے اچھی نوکری کریں۔ ڈھیروں دھن دولت اکٹھی کریں۔جتنی چاہے اچھی ریلیشن شپ یا پی آر بنائیں۔ جتنی چاہیے سیرو سیاحت کریں وغیرہ وغیرہ۔۔۔
لیکن زندگی کا اصل سواد لینے کے لیے آپ کو ہمیشہ ایک بات کا دھیان رکھنا ہے۔۔۔۔۔

وہ یہ کہ خود کو بکھرنے سے بچانا ہے۔۔۔

اور آپ کے بکھرنے کی سب سے بڑی وجہ اینگزایٹی ،ڈیپریشن،سٹریس، خوف، غم وغصہ، کانفیڈینس کی کمی اور کوئ فوبیا یا مینیا ہو سکتا ہے۔ لیکن!

"گھبرانا نہیں ہے"

اب آپ کے پاس نیورو لنگواسٹک پروگرامنگ(NLP) پہلی بار اردو زبان میں ایک خوبصورت کتاب کی صورت میں موجود ہے۔
جی ہاں ۔ NLP مائنڈ ویلنس کاؤنسلر شاہد سید کی شاہکار کتاب
(بدلو ذہن جی لو زندگی)
آپ کو بکھرنے سے بچانے کے لیے ایک بیسٹ سیلنگ کتاب ہے۔
ابھی آرڈر کیجئے ۔

28/07/2022

(اتنا کچھ جاننے کے بعد بھی ناکام کیوں؟)
اپنے شعبے میں کامیاب ہونے کے لیے شعوری اور لاشعوری ذہن کی ری پروگرامنگ کا فن:

یہاں آپ کے لیے تین اہم باتیں جاننا بہت ضروری ہیں:

(1)۔ شعوری آگہی اور لاشعوری طور پر لاعلمی:
اس کا مطلب ہے کہ جن چیزوں کی آگہی یا جانکاری آپ کے شعوری ذہن کو ہے۔ وہ ضروری نہیں ہے کہ آپ کے لاشعوری ذہن کو بھی ہو۔ مثال کے طور پر ہو سکتا ہے کہ آپ تیرنا نہیں جانتے، تو کیا کسی ماہر تیراک کی لکھی گئی کتاب سے اچھے تیراک بننے کے طریقے پڑھ کر، ان طریقوں کو زبانی یاد کرکے یا سن کر آپ تیرسکتے ہیں؟
جواب ہوگا، بالکل بھی نہیں۔ کیوں؟ کیونکہ یہ آگہی ابھی تک آپ نے شعوری طور پر حاصل کی ہے، آپ نے اس کی ٹریننگ نہیں لی اور نہ ہی پریکٹس کی ہے اس لیے ابھی تک آپ کے لاشعوری ذہن تک اس کی جانکاری نہیں گئی۔ اس لیے وہ پوری طرح سے پروگرامڈ یا ٹرینڈ نہیں ہواہے۔
اب حقیقی زندگی کو دیکھتے ہیں، تھوڑی دیر کے لیے سوچیے کہ آپ کی زندگی میں بہت سارے مقاصد ہیں اور آپ ان سب کو حاصل کرنا چاہتے ہیں مثلاً آپ زیادہ انرجائز رہنا چاہتے ہیں۔ آپ صحت مند ہونا چاہتے ہیں۔ آپ بہت سارا پیسہ اور کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ آپ اچھے ریلیشن شپ کو ڈویلپ کرنا چاہتے ہیں۔ اپنی اچھی ٹیم بنانا چاہتے ہیں۔ اپنے بزنس میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں۔
اس بارے میں آپ نے بہت ساری کتابیں پڑھ کر بہت ساری معلومات اکٹھی کی ہوئی ہیں، اور آپ ہر روز بے تہاشا معلومات اپنے اردگرد ماحول سے، سیمیناز اور خاص کر شوشل میڈیا سے حاصل کر رہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود آپ وہ سب کچھ حاصل نہیں کر پا رہے ہیں۔ کیوں؟
اس کا جواب بھی انتہائی سادہ سا ہے۔ کیونکہ آپ کے شعوری ذہن کو تو سب پتا ہے، یعنی آپ سب کچھ جانتے ہیں۔ لیکن ابھی تک آپ کے لاشعوری ذہن تک یہ ساری جانکاری اور آگہی نہیں پہنچی۔ تبھی تو آپ کا لاشعوری ذہن پوری طرح سے پروگرامڈ یا ٹرینڈ نہیں ہوا ہے۔

(2)۔ لاشعوری آگہی اور شعوری طور پر لاعلمی:
دوسرا پوائنٹ یہ ہے کہ جن چیزوں کی جانکاری آپ کے لاشعوری ذہن کو ہے تو یہ ضروری نہیں ہے کہ اس کی آگہی اور جانکاری آپ کے شعوری ذہن کو بھی ہو۔
مثال کے طور پر آپ کے بال کیسے بڑھ رہے ہیں؟ آپ کےجسم میں خون کیسے بن رہا ہے؟ جب آپ سو رہے ہوتے ہیں تو آپ کا نظام انہضام کیسے آپ کی خوراک ہضم کرنے کا پروسس کر رہا ہے؟ آپ کا شوگر لیول اور بلڈ پریشر کون مین ٹین کر رہا ہے؟ سوتے میں جاگتے میں آپ کے دل کی ڈھرکن کو کون کنٹرول کر رہا ہے؟ کیا ان تمام معلومات کی جانکاری آپ کو شعوری طور پر ہے؟ آپ کا جواب ہوگا، بالکل بھی نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی آپ دیکھتے ہیں کہ آپ کے جسم کے تمام اندرونی اعضاء اپنے اپنے فعل کو ایک پروسس کے ذریعے متواتر انجام دے رہے ہیں تو یہ سارے کام آپ کا لاشعوری ذہن کنٹرول کر رہا ہے۔ کیونکہ یہ ایک ایسا سافٹ وئیر ہے جہاں پر ایک سکرونائز یشن بنا ہوا ہے، اور وہ ایک پروگرامنگ کے ذریعے ہمارے جسم کے تمام معاملات کو دیکھ رہا اور ڈویلپ کر رہا ہے۔

(3)۔ ہمارا پوٹینشل اورصلاحیت لاشعوری ذہن کنٹرول کرتا ہے: تیسری بات یہ جاننا ضروری ہے کہ ہمارے پاس کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی جتنی بھی صلاحیتیں ہیں، ان کا بہت بڑا حصہ لگ بھگ 90فیصد ہمارے لاشعوری ذہن میں ڈویلپ ہونے کے بعد سٹور ہوتا ہے۔ اورشعوری ذہن کے پاس بہت کم حصہ ہوتا ہے۔ کیسے؟ مثال کے طور پر آپ گاڑی چلانے کے ایکسپرٹ ہیں، اور آپ گاڑی چلا رہے ہیں۔ اچانک سے سامنے سڑک پر ایک بڑے سے گڑھے پر آپ کی نظر پڑتی ہے تو فوراً آپ ایک ہا تھ جوسٹیرنگ پر ہوگا کی مدد سے گاڑی کی ڈائریکشن کو بدلیں گے، دوسرا ہاتھ خودبخود گئیر پر چلا جائے گا، ساتھ ہی ایکسی لیٹر سے پاؤں ہٹا کر بریک پر لے جائیں گے اور دوسرا پاوں خودبخود کلچ پرجائے گا۔
اس دوران آپ اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے ساتھی سے بات چیت بھی کر رہے ہوں گے ہوسکتا ہے میوزک بھی سن رہے ہوں اور آپ کی آنکھیں متواتر باہر کا جائزہ بھی لے رہی ہوں گی۔
یعنی جونہی آپ کے ذہن نے آنکھ کے ذریعے سڑک پر گڑھا دیکھا تو اسی وقت آپ کے لاشعوری ذہن نے گڑھے کو ایک چیلنج مان کر اپنے اندرجو پروگرامنگ اور ٹرینڈ پٹرن پہلے سے پڑے تھے ان پر فوراً عمل درآمد کرنا شروع کیا اور آپ بنا کسی شعوری کوشش کے بہت آسانی سے اس چیلنج سے باہر آگئے۔
ذرا سوچیے کہ کیا یہ تمام چیزیں ممکن ہو پاتیں، اگر آپ کے پاس پہلے سے ڈرائیونگ کی ٹریننگ نہ ہوتی؟ بے شک ڈرائیونگ کرنے کے طریقے، اچھی ڈرائیونگ کرنے کے سنہری اصول، بہترین ڈرائیونگ کرنے کے راز، اور اس سے ملتی جلتی ساری کی ساری کتابیں پڑھ چکے ہوتے۔ اور آپ اس تمام نالج کو گھول کر پی چکے ہوتے۔ تو کیا آپ اتنی آسانی سے یہ کر لیتے؟ آپ کا جواب ہوگا کہ نہیں۔۔۔ ہرگز نہیں۔ امید ہے کہ آپ میرے پوائنٹ کو سمجھ گئے ہوں گے۔ اس کو ایک اورمثال سے سمجھا نا اور آسان ہوگا۔
جیسے فرض کریں کہ ہمارا شعوری ذہن ایک پائلٹ ہے، اور اس کے پاس تمام جانکاری ہے کہ اپنے جہاز کو کیسے اسٹارٹ کرنا ہے؟ کیسے رن وے پر لے کرجانا ہے؟ کیسے ٹیک آف کرنا ہے؟ کیسے اس کو ہوا میں مین ٹین کرنا ہے؟ اور کس شہر سے ٹیک آف کرنا ہے؟ اور کس ائیرپورٹ پر اورکب لینڈ کروانا ہے؟ یہ تمام معلومات جہازکے پاس نہیں ہیں، اور مان لیتے ہیں کہ جہاز ہمارا لاشعوری ذہن ہے۔ لیکن ہم یہ کہیں کہ کیونکہ پائلٹ کے پاس ساری کی ساری معلومات ہیں، وہ سب جانتا ہے۔ اس لیے پائلٹ بذات خود ٹیک آف کرے یعنی وہ خود ہوا میں اڑجائے اور پھر خود ہی کسی جگہ لینڈ کر جائے۔ تو کیا پائلٹ ایسا کر سکتا ہے؟ آپ کا جواب ہو گا بالکل بھی نہیں۔ بلکہ آپ کو اس بات پر ہنسی بھی آئے گی، کہ کیا بے وقوفانہ سی بات ہے؟
اچھا کیا جہاز خودبخودبغیر پائلٹ کے اڑ جائے گا؟ نہیں۔ حالانکہ جہاز کے اندر اتنی صلاحیت ہے کہ وہ دو سو سے لیکر سات سولوگوں کو، اور ان کے سامان کو ایک ہی بارایک جگہ سے دوسری جگہ لے کر جا سکتا ہے اور لمبے لمبے سفر کر سکتا ہے۔ لیکن جہاز اس کے باوجود بنا پائلٹ نہیں اڑ پائے گا۔ جہاز کو پائلٹ ہی اڑائے گا۔ مطلب جہاز کی صلاحیت کا استعمال پائلٹ ہی کرے گا۔ پائلٹ کے بغیر جہاز بے کار ہے اور جہاز کے بغیر پائلٹ بے کار۔ کیونکہ اگر جہاز کے بغیر پائلٹ ہوا میں اڑنا چاہے تو وہ ہرگز نہیں اڑ پائے گا۔
چنانچہ آپ کو سوچنا ہے کہ جب بھی آپ اپنی زندگی میں اپنے کسی بھی مقصد (outcome) کو پورا کرنا چاہتے ہیں۔ مان لیتے ہیں کہ آپ اپنا ویٹ پرفیکٹ چاہتے ہیں۔ آپ اپنی شوگرکو پرفیکٹ رکھنا چاہتے ہیں۔ آپ چاہتے ہیں آپ کا بلڈ پریشرپرفیکٹ ہو۔ آپ کا کارپوریٹ پرفیکٹ چلے۔ آپ کی ٹیم بلڈنگ پرفیکٹ ہو۔ آپ کی کمیونیکشن پرفیکٹ ہو۔ ریلیشن شپ پرفیکٹ ہوں اور آپ کے پاس پرفیکٹ پیسہ اور دولت آئے۔ یعنی آپ جو بھی کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
تو کیا یہ کافی ہے؟ کہ ان کو حاصل کرنے کی تمام کی تمام جانکاری اور آگہی صرف آپ کے شعوری ذہن میں ہی ہو؟ میرا جواب ہو گا کہ بالکل بھی نہیں۔۔۔ ایسے کام نہیں چلے گا۔ کیوں؟ کیونکہ ہر بیمار اچھی صحت پانے کے سنہری اصول اور اس کی اہمیت کے بارے میں خوب شعوری آگہی رکھتا ہے۔ ہر بھوکے کو شعوری طور پر بہت اچھی طرح معلوم ہے کہ اس کے لیے کھاناکتنا اہم ہے۔ اسی طرح موٹاپے کے شکار لوگوں کو معلوم ہے کہ درست وزن کو حاصل کرنا کتنا اہم ہے۔ اور ان تمام چیزوں کو حاصل کرنے کی بہت ساری معلومات ان سب کے پاس شعوری طور پر پہلے سے پڑی ہیں اور وہ اس کی اہمیت کے بارے میں بھی بخوبی جانتے ہیں۔ اوراسی طرح ہر بد حال شخص کو پتہ ہے، اپنی بے چارگی اور غریبی کاکہ وہ کیوں اس حال میں ہے، اور کیسے باہر نکل سکتا ہے؟ یہ معلومات اسے ہر روز ٹنوں کے حساب سے ملتی ہے۔ اور وہ خوشحالی کی اہمیت اور کردارسے بھی خوب واقف ہے۔ لیکن ان ساری معلومات کے با وجود وہ یہ تمام چیزیں حاصل نہیں کر پارہے ہیں تو اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ ان کے پاس لاشعوری ذہن میں جو پیٹرن ہیں وہ ان کے ہاتھ میں نہیں ہیں اور ان کے ہاتھ میں ہو بھی نہیں سکتے، بشرطیکہ جو جانکاری اور معلومات ان کے شعوری مائنڈ کے پاس ہیں وہ ان کے لاشعوری ذہن میں جا کراچھے سے پروگرام نہ ہوجائے۔
تو یہ سب کچھ آپ اس کتاب کے ذریعے سیکھیں گے۔ یعنی آپ ایک پائلٹ کی طرح اپنے مقاصد کو تیار کریں گے، آپ طے کریں گے کہ آپ نے جانا کہاں ہے؟ آپ کی اپروچ کیا ہونی چاہیں؟ آپ کو ٹیک آف کیسے کرنا، اور کب کرنا ہے؟ آپ نے اڑنا کیسے ہے؟ اور یہ ساری جانکاری پائلٹ کے پاس ہوگی۔ یعنی آپ کے شعوری ذہن کے پاس ہوں گی۔ جبکہ اچھی طرح پروگرامڈ ہو جانے کے بعد باقی کا کام جہاز کی طرح آپ کا لاشعوری ذہن کر رہا ہوگا۔
نیورولنگواسٹک پروگرامنگ پر اردوزبان کی پہلی آسان کتاب "بدلو ذہن جی لو زندگی" سے اقتباس مصنف شاہد سید
#شاہدسید

17/07/2022

دوسروں کے ذہن میں اپنا اچھا تاثر پیدا کرنے کی تکنیک

اپنی فزیالوجی کو بہتر طریقہ سے استعمال کر کے آپ دوسروں پر بھرپور طریقہ سے مثبت انداز میں اثرانداز ہو سکتے ہیں، یعنی آپ انھیں اپنے مثبت مقاصد کے لیے اپنے زیر اثر کر سکتے ہیں۔ کیسے؟
آپ جانتے ہیں کہ کمیونیکیشن میں سب سے پہلے ہمارے پاس جو سب سے بڑا ایریا ہے وہ ہماری باڈی لینگویج یا فزیالوجی ہے، جو کہ ہماری کمیونیکیشن کا55فیصد ہے۔ چنانچہ جسمانی حرکات و سکنات میں مطابقت پیدا کر کے دوسروں کی تقلید و قیادت کرتے ہیں۔ اس کے لیے ایک اور بہترین تیکنک میچنگ اور مررنگ بھی ہے۔
(میچنگ اینڈ مررنگ تیکنیک)
مطابقت اور عکسی مطابقت کی مہارت

(1) جسمانی حرکات و سکنات
میں مطابقت پیدا کرنا:
اس تیکنیک میں آپ نے دوسرے شخص کے سامنے اس کے باڈی پوسچر کے لحاظ سے، خود کو اس کے عکس کی صورت میں دکھانا ہے۔ یعنی اسے لگے کہ اس کے سامنے آئینہ میں اس کا عکس بیٹھا ہے۔
اور جب آپ ایسا کریں گے توسامنے والے شخص کے لاشعوری ذہن کو لگے گا کہ اس کے سامنے اس کی (mirror image) بیٹھی ہے۔
مثال کے طور پر وہ شخص اگر اپنے دائیں پاؤں کو اپنے بائیں پاؤں کے اوپر رکھ کر بیٹھا ہے۔ اور اس کا دایاں ہاتھ اس کی تھوڑی کے نیچے ہے تو۔
آپ اس کے سامنے اپنے بائیں پاؤں کو اپنے دائیں پاؤں کے اوپر رکھ کر بیٹھیں گے اور اپنے بائیں ہاتھ سے اپنے چہرے کے کسی حصے کو ٹچ کر سکتے ہیں۔ اور یہ سب کچھ آپ بالکل غیر محسوس انداز میں کریں گے۔
مطلب آپ نے دوسرے شخص کی کچھ سیکنڈ کے وقفہ سے اور غیر محسوس انداز میں ہو بہو نقل کرنی ہے۔لیکن عکس کے طور پر۔
مثال کے طور پر کوئی ایک آدمی بیٹھا ہوا ہے اور اس کی گردن اگر دائیں طرف ہلکی سی جھکی ہے اور آپ اس کے سامنے بیٹھے ہیں تو آپ اپنی گردن کو تھوڑا سا بائیں طرف کو جھکائیں گے۔
اس سے کیا ہوتا ہے؟
اس کے پیچھے سائنس یہ کہ جب بھی سامنے والے کی آنکھیں آپ کے اس پوسچر کو دیکھیں گی تو وہ اس کی امیج اپنے لاشعوری ذہن کو بھیجے گی اور اس کا لاشعوری ذہن اپنے نہاں خانے میں جو خود کی تصویر ہے اس کے ساتھ میچ کرے گی اور اس کے مائنڈ میں آواز آئے گی یہ تو میرے جیسا ہے۔ اور ہم ہمیشہ اپنے آپ کو پسند کرتے ہیں تو ایسے میں ایک باہمی اعتماد کا ماحول بن جاتا ہے۔

(2)۔ سانس کے پیڑن میں مطابقت پیدا کرنا:

اسی طرح سے اس کے سانسوں کے پیٹرن کا مشاہدہ کریں کہ آپ کے سامنے والا کیسے اپنے سانسوں کو لے رہا ہے؟ اور اس کی سانس کیسے چل رہی ہیں؟ یہ عموماً تین طرح کا پیڑن ہوتا ہے۔ ایک یا تو کوئی shallow سانس لیتا ہے، اس کا مطلب ہے چھوٹے چھوٹے سانس سینے کے اوپری حصے سے لینا اور سانسوں میں وقفے کم سے کم ہونا۔
دوسرا کوئی بھی شخص بہت لمبے اور گہرے سانس لے رہا ہوتا ہے۔ یعنی وہ پیٹ سے سانس لے رہا ہے۔
اور تیسرا پیڑن ہوتا ہے کہ وہ مکمل طور پر نارمل سانس لیتا ہے۔ جب بھی آپ کسی کی سانسوں کا جائزہ لیں تو آپ کو تھوڑا مدبرانہ طریقے سے جائزہ لینا ہوگا یہ کام آپ بار بار پریکٹس کرتے ہوئے سیکھ جائیں گے۔

(3)۔ چہرے کے تاثرات میں مطابقت پیدا کرنا:

آپ نے بغور مشاہدہ کرنا ہے کہ سامنے والے کے چہرے کے تاثرات کیا ہیں؟ یاد رکھیں کہ جو بھی تاثرات ہیں وہ اس کے مائنڈ میں چل رہی state کا نتیجہ ہیں۔ جب بھی آپ کسی کے بھی چہرے کے تاثرات کو pace کرتے ہیں یا میچ کرتے ہیں یا (mirror) کرتے ہیں تو فوراً آپ بھی اسی سٹیٹ میں پہنچ جاتے ہیں جس سٹیٹ میں وہ آدمی ہے۔
آپ جانتے ہیں کہ سٹیٹ متعدی ہوتی ہے، یعنی سٹیٹ ایک دوسرے پر اثرانداز ہوتی ہے۔ دوسری بات یہ کہ جب ہم ایک ہی سٹیٹ میں ہوتے ہیں تو دراصل ہم ایک ہی جیسے طرزعمل اور رویے اپناتے ہیں۔
یہاں پر ہم نے (reverce engineering) کر دی ہے کہ ہم اس کے رویے اور فزیالوجی کے ساتھ میچنگ اور مررنگ کر رہے تھے تو ہم اسی سٹیٹ کو حاصل کر لیں گے اور جب بھی ہم ایک جیسی سٹیٹ میں ہوتے ہیں تو ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔

(4)۔ بات کرنے کے انداز اور لہجے میں مطابقت پیدا کرنا:

اب ہم بات کرتے ہیں کہ سامنے والے کے لہجے اور آواز کے والیم کو کیسے چیک کریں؟ اگر وہ اونچا بول رہا ہے تو آپ کو بھی اپنے والیم کو بڑھانا ہوتا ہے۔ اگر اس کی سپیڈ تیز ہے تو آپ کو بھی اپنی سپیڈ کو تیز رکھنا ہوگا۔ اگر اس کا والیم کم ہے تو آپ کو بھی اپنا والیم کم رکھنا ہوگا۔ آپ اس کے pause کا جائزہ لیں گے کہ وہ بات کرتے ہوئے کتنا وقفہ لیتا ہے، کتنی بار رکتا ہے؟ جملے کی ادائیگی کیسے کرتا ہے؟ تو آپ کو بھی اسی طرح کے وقفے لینے ہیں۔ اسی طرح اس کی آواز گہری ہے، اونچی ہے، یا ردھم میں ہے تو آپ کو بھی ویسے ہی اسے (mirror) کرنا ہے۔ آپ کو یہ بات دھیان میں رکھنا ہے۔
یعنی اس نے بات کرتے ہوئے اگر اپنے پوسچر کو بدلا ہے تو اب آپ بھی اپنا پوسچر بدلیں گے لیکن کچھ وقفہ دے کر یعنی دو سے تین سیکنڈ کا وقفہ دے کر۔
فوراً نہیں ورنہ اسے محسوس ہو گا کہ آپ اس کی نقل کر رہے ہیں، تو ایسی صورت میں آپ اپنی (rapport) کو ٹھیک کرنے کی بجائے خراب کر بیٹھیں گے۔

(5)۔ درست الفاظ میں مطابقت پیدا کرنا:

جب الفاظ کی بات کرتے ہیں تو آپ کو دھیان سے سننا ہوگا کہ کس طرح سے وہ الفاظ بولتا ہے؟ اس کے الفاظ کی ادائیگی کیسی ہے؟ کون سے مخصوص الفاظ کا زیادہ استعمال کرتا ہے تو انھیں آپ بھی استعمال میں لائیں گے اور اسکے سامنے دھرائیں گے۔ مثال کے طور پر سامنے والا اگر بات کرتا ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے تعلقات کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
تو اگر آپ فوراً بول پڑے کہ اچھے ہیں یا خراب ہیں۔ تو اچھا تاثر پیدا نہیں کر پائیں گے۔ چنانچہ آپ اس کے کچھ الفاظ کو میچ کر لیں مثال کے طور پر آپ بولتے ہوئے کہیں کہ ’’جہاں تک پاکستان اور انڈیا کے تعلقات کا سوال ہے‘‘ اس کے بعد آپ کچھ بھی بولیں اپنی رائے دیں۔ اس طرح آپ دیکھیں گے کہ آپ نے اس کی باتوں میں تین الفاظ میں مطابقت پیدا کی ہے۔ جب بھی کسی کی ای میل یا تحریر پڑھیں گے تو آج سے دیکھیں کہ وہ کن الفاظ سے شروعات کرتا ہے؟ اس کے مخصوص الفاظ کونسے ہیں؟ اور کس طرح کی vacabarry کو کیسے استعمال کر رہا ہے؟
اس طرح سے آپ اچھے انداز میں دوسروں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ یعنی اسے لیڈ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
یہ ہی وہ درست وقت ہے جب آپ اپنی بات، پرپوزل اور مطالبہ کو اس کے سامنے پیش کر سکتے ہیں۔ اور اس طرح 90+ فیصد چانس ہوتے ہیں کہ سامنے والا آپ کی بات سے متفق ہو جائے گا۔ اور آپ کی بات یا پرپوزل کو مان جائے گا۔
اسی پیٹرن میں مثالی ازدواجی زندگی جینے کا راز بھی چھپا ہے

سمجھدار عورتیں ہمیشہ اپنی اہم باتیں اس وقت اپنے شوہروں سے منواتی ہیں جب وہ دونوں اپنے خاص لمحات میں ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان خاص لمحوں کے دوران دونوں فریق ایک دوسرے کے ساتھ لاشعوری طور پر میچنگ، مررنگ، پیسنگ اور لیڈنگ کے اصولوں پر عمل کر رہے ہوتے ہیں۔ ماہر جاسوس خواتین و حضرات اور طوائفیں اس راز سے بخوبی واقف ہوتی ہیں۔

نیورولنگواسٹک پروگرامنگ کے موضوع پر لکھی پاکستان کی پہلی آسان اور منفرد کتاب
"بدلو ذہن جی لو زندگی" سے اقتباس
مصنف شاہد سید۔
NLP & Mind Wellness Counselor
#گفتگوکافن #شاہدسید

16/07/2022

ہم آہنگی و مطابقت کی مہارت
( Technic of rapport building)
جب بھی آپ کسی کے ساتھ (rapport) بلڈنگ کرنے لگتے ہیں تو ہمیشہ ان دو مراحل
(پیسنگ اور لیڈنگ) پر مشتمل خاص تیکنیک کا استعمال کرنا ہے۔ پیسنگ اور لیڈنگ بنیادی طور پر ایک بہت ہی سادہ اور آسان تیکنیک ہے۔ اور آپ اس تیکنیک کو آج ہی سے لوگوں کے ساتھ اور خود کے ساتھ تجربہ کرنا شروع کریں تو آپ دیکھیں گے کہ کس طرح لوگوں کو آپ لیڈ کر رہے ہیں، اور اچھا لیڈر بن رہے ہیں؟ آپ اس طرح اپنی کمیونیکیشن کوبھی بہتر سے بہتر بنا سکتے ہیں۔ اپنی زندگی کو بہت آسان اور بہتر بنا سکتے ہیں، اپنے رشتے کو بہتر بنا سکتے ہیں اور ان سب کے لیے rapport کا ہونا بےحد ضروری ہے۔

مرحلہ نمبر ۱: تقلید کرنا (Pacing)

سب سے پہلے ہم پیسنگ کو سمجھتے ہیں، مثال کے طور پر آپ ایک صبح جاگنگ کے لیے پارک میں جاتے ہیں، وہاں پاتے ہیں کہ آپ کا باس موجود ہے اور آپ اس سے اپنی کوئی اہم بات کرنا چاہتے ہیں اور آپ کا باس پہلے سے جاگنگ ٹریک پر جاگنک کر رہا ہے یا تیز تیز چل رہا ہے تو آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اس کے لیے آپ بلاشبہ تیز رفتار سے چلتے ہیں یا بھاگتے ہیں اور جب اپنے باس کے پاس پہنچتے ہیں تو باس کے ساتھ ساتھ رہنے کے لیے اور بات چیت کرنے کے لیے، اتنی ہی رفتار میں رہتے ہیں جس رفتار میں آپ کا باس ہوتا ہے۔ یعنی آپ نہ تو اس سے آگے جا رہے ہیں اور نہ ہی پیچھے۔ بلکہ آپ اس ساتھ ساتھ چل رہے ہوں گے۔ جب آپ کسی کے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ دوسرے کی دنیا میں داخل ہو رہے ہیں۔ آپ اسے ماڈل کر رہے ہیں اور آپ اس کی دنیا میں اس کی شرائط و ضوابط پر اور اس کی مرضی سے شامل ہو رہے ہیں۔ وہاں آپ کی مرضی نہیں ہے۔
یاد رکھیں کہ جب آپ کسی کو pace کریں تو آپ کو ایک ہی کام کرنا ہوگا کہ آپ کو دوسرے کے point of view کو سمجھنا ہوگا دوسرے کے نقطہ نظر کے ساتھ associate ہونا پڑے گا۔ اس کے ساتھ میچ ہونا پڑے گا۔ اسے ہی ہم pacing کہتے ہیں۔
یعنی دوسروں کی جگہ پر کھڑے ہو کر دیکھنا
putting your self in other shoes
ایسا کرنے سے کیا ہوگا؟ جب آپ دوسرے کی دنیا میں داخل ہوں گے تو فوراً اس کا لاشعوری ذہن اسے (sameness) کی فیلنگ دے گا اور فوراً سے وہ آپ کو پسند کرنا شروع کر دے گا، جب وہ آپ کو پسند کرنا شروع کر دے گا تو ایک وقت آئے گا کہ وہ اپنی مرضی کو چھوڑ کر آپ کی مرضی پر آجائے گا۔ یعنی اب آپ اسے لیڈ کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ اور یہاں سے لیڈنگ شروع ہوجاتی ہے۔

مرحلہ نمبر ۲: قیادت کرنا (leading)

جب آپ لیڈنگ کر رہے ہیں تو اس وقت پیسنگ pacing سے آپ کا جو ایک اثر یا تاثر پیدا ہوا ہے۔ آپ اسے استعمال میں لائیں گے۔ یعنی اب آپ اسے جو کچھ بھی کہنا چا رہے ہیں وہ سب کہہ سکتے ہیں۔ لیکن آپ اس وقت تک دوسرے کو لیڈ نہیں کر سکتے جب تک وہ خود لیڈ ہونے کے لیے تیار نہ ہو، یا جب تک آپ اسے لیڈ ہونے کے لیے تیار نہیں کرتے۔ اور آپ اسے تب تک تیارنہیں کر سکتے جب تک آپ اس کی اچھی سے پیسنگ نہیں کریں گے۔ اس لیے جب بھی کسی کو lead کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اس کی Pacing کریں۔

جب آپ کسی کی تقلید کریں گے اور اگر آپ کی pacing درست انداز میں ہوئی ہے تو آپ پائیں گے کہ ایک منٹ سے دو منٹ کے درمیان ہی میں آپ اسے لیڈ کرنے لگیں گے یعنی اب آپ جو بھی حرکت کریں گے یا اپنی فزیالوجی میں تبدیلی لائیں گے فوراً سے آپ پائیں گے کہ آپ کے سامنے والا بھی اپنی فزیالوجی کو آپ کے حساب سے بدلے گا۔
یہ ہی وہ درست وقت ہے جب آپ اپنی بات، پرپوزل اور مطالبہ کو اس کے سامنے پیش کر سکتے ہیں۔ اور اس طرح 90+ فیصد چانس ہوتے ہیں کہ سامنے والا آپ کی بات سے متفق ہو جائے گا۔ اور آپ کی بات یا پرپوزل کو مان جائے گا۔
اسی پیٹرن میں مثالی ازدواجی زندگی جینے کا راز بھی چھپا ہے۔
(جاری ہے)
نیورولنگواسٹک پروگرامنگ کے موضوع پر لکھی پاکستان کی پہلی آسان اور منفرد کتاب
"بدلو ذہن جی لو زندگی" سے اقتباس
مصنف شاہد سید۔
NLP & Mind Wellness Counselor
#گفتگوکافن #شاہدسید

15/07/2022

🧠 The Art of Subconscious Reimprinting

👉 NLP (Neuro Linguistic Programming) is the most amazing Human Mind Technology to get Fast and Long lasting results in Human Transformation🪄
نیورولنگواسٹک پروگرامنگ کے موضوع پر پاکستان میں پہلی آسان اور جامع کتاب ہے

👈 "بدلو ذہن جی لو زندگی"📗

👈 اس کتاب کی سب بڑی خوبی ہے کہ یہ آپ کے اندر سوئ ہوئ مہاپُرس طاقت کو جگاۓ گی۔

🗝️Understand and use Subconscious Mind rightly
👈 یہ آپ کے ذہن کے بند دریچے کھول دے گی اور آپ اپنے اندر نئے پن کا احساس انجوائے کریں گے.

🗝️Gift Yourself Stress Free Mind & Disease Free Body
👈آپ اپنے ذہن کی ری پروگرامنگ کے ماہر بن سکتے ہیں اور اپنے خوف، اضطراب،سٹریس، ڈیپریشن، اینگزایٹی ،مایوسی، کم ہمتی، غم و غصہ ،بری عادات، ایڈکشن، فوبیاز۔ مینیاز، او سی ڈیز، غرض تمام ذہنی و جسمانی امراض سے جان چھڑا کر خوشگوار، صحت مند ،آسان, پرسکون اور مست زندگی جینے کا فن سیکھ سکتے ہیں۔

🗝️Multiply Your Wealth & Success
👈اور اتنا ہی نہیں بلکہ اپنے رشتوں کو مضبوط اور پائیدار بنانے کے لیے گفتگو اور باڈی لینگویج کا فن سیکھ کر خود شناسی اور دوسروں کو بہترین انداز میں سمجھنے کے ماہر بن سکتے ہیں۔

👈 یہ ہی نہیں کہ آپ اپنے متعلقہ شعبہ زندگی میں نیورولنگواسٹک پروگرامنگ کی یونیق اور بے مثال تیکنیکس کو لاگو کر کے کامیابیوں کا جوہر کشید کرنے کا ماہر بن سکتے ہیں۔

🗝️Earn Well as an NLP Practitioner
👈 سیلف ڈیویلپمنٹ کی بہت ساری (سکلز) مہارتیں آپ اس کتاب سے سیکھ سکتے ہیں اور دوسروں کے لیے مددگار بن سکتے ہیں۔

🤔یہ کتاب کن لوگوں کے لیے ہے؟
A must Read for :
👇
Entrepreneurs, CEOs, CFOs, Leaders, Managers,
Life Coaches, Sports Coaches, Doctors, Counsellors, Healers, Patients,
Mind Power Trainers,
Teachers, Lecturers, Students, Younger, Teenagers, Parents, Psychologists, Yogis, Hakeems & Individuals۔ Who wants to Empower their mind for next level of Success !!🥇🏆
کیونکہ !
👈یہ کتاب آپ کی صحت،آپ کے رشتے،آپ کی دھن دولت، آپ کی کامیابی، آپ کے کاروبار میں گروتھ کیلئے
اور آپ کی ذہنی جسمانی نفسیاتی اور روحانی صلاحیتوں کو جِلا بخشنے میں بہت ہی مؤثر اور یونیق تیکنیکس کے ذریعے مثبت انداز میں بھر پور معاون ثابت ہوگی 🪄

📗 بدلو ذہن جی لو زندگی 💫
Written by:
Shahid Syed,
The Best’ NLP & Mind Wellness Coach.

🧠 انسانی ذہن کے گہرے اسرار جاننے کے لیے 🪄

💫 ابھی آرڈر کیجئے
03106364612

کتاب کےصفحات : 400
نرم و ملائم خوبصورت اور دیدہ زیب 68گرام سینچری کاغذ کے ساتھ مضبوط اور خوبصورت بائنڈنگ 💎

اصل قیمت: -/1250

👈خصوصی ڈسکاؤنٹ کے ساتھ رعایتی قیمت صرف: -/ 990روپے ہیں۔

اگر آپ🎁 فری ڈیلیوری کی سہولت سے استفادہ چاہتے ہیں تو
Payment method:

Easypaisa | Jazz Cash | Raast Payment ID.

03068660259

پرصرف -/990 روپے بھیج کر

🔰 رقم بھیجنے کی رسید اور
اپنا رابطہ نمبر کے ساتھ مکمل ایڈریس۔
🪀 03106364612
پر وٹس ایپ کر دیجیے۔

📮آپ کے ایڈریس پر کتاب اسی دن پارسل کر دی جاۓگی۔

نوٹ : کیش آن ڈیلیوری منگوانے کے چارجز 75 روپے علاوہ ہیں۔
Delivery time: 2 to 4 days maximum.

مزید انکوائری کے لیے واٹس ایپ نمبر 03106364612 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
شکریہ🙏
ٹیم شاہد سید 😊

15/07/2022

گفتگو میں ہم آہنگی ومطابقت پیدا کرنا۔
Rapport Building

جب میں مثالی تعلق کے لیے ذہنی و جسمانی طور پر دوسروں کے ساتھ ہم آہنگی پیداکرنے کی بات کر رہا ہوں تو میرا بڑا مقصد بھی یہ ہی ہے کہ ان تینوں سطح پر ہی آپ کو rapportبلڈنگ کرنا سکھاؤں کہ کیسے آپ لوگوں کے ساتھ یہ کرنا سیکھیں؟
کیونکہ ہو سکتا ہے کہ کئی بار لوگ آپ کو بولنے کا موقع ہی نہ دیں تو اس وقت آپ 45فیصد کمیونیکیشن نہیں کر سکتے۔ تب آپ خاموش رہ کر اورکچھ نہ بول کر بھی 55فیصد کمیونیکیشن کر سکتے ہیں۔
کئی بار لوگ آپ کے سامنے نہیں ہوتے، یعنی آپ کال پر بات کرتے ہیں جو کہ بزنس میں اکثر ہو سکتا ہے۔ یا سیلز ٹیم کو بڑھانے کے لیے کسٹمر کیئر کے لیے ہو سکتا ہے اور یہ مارکیٹنگ میں توبہت ہی ضروری ہے۔ تو پھر آپ کے 45فیصد ہی سو فیصدکے برابر ہوں گے۔
اور کئی بار لوگ آپ کے ساتھ نہ براہ راست اپنے لہجے میں بات کرتے ہیں اور نہ ہی باڈی لینگویج کا استعمال کر رہے ہیں مثال کے طور پر آپ شوشل میڈیا اور ای میل پر خط و کتابت کرتے ہیں تو وہاں صرف الفاظ ہی ہوں گے، جہاں یہ 7فیصد ہی آپ کے 100فیصد ہوں گے۔

Rapport
ہم آہنگی و مطابقت کیا؟

باہمی تعلق میں ہم آہنگی پیدا کرنے کا مطلب ہے کہ ’’دو لوگوں یا گروہ کے مابین ایک قریبی ہم آہنگی کا ماحول (atmosphere) قائم ہونا جہاں وہ ایک دوسرے کے خیالات اور جذبات کو بہتر انداز میں سمجھتے ہوئے اچھی طرح سے باہمی بات چیت کرتے ہیں‘‘۔ اسے ہم ’’تال میل‘‘ بھی کہتے ہیں۔ اس کا ہرگز مطلب دوستی نہیں ہے۔ اور نہ ہی یہ کہ لوگ جب بھی آپ کے ساتھ ’ہم آہنگی‘ میں ہوں گے تو وہ ہمیشہ آپ کی ہر بات پر متفق ہوں گے، اور آپ کی ہر بات کو من و عن مانیں گے۔ کوئی اختلاف نہیں کرے گا۔ ایسا ہرگز نہیں ہے۔
ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ لوگ آپ کے ساتھ (rapport) میں بھی ہوں، لیکن اس کے باوجود وہ کسی بھی بات اور معاملے میں آپ سے اتفاق نہ کریں۔
متفق نہ ہونے کا ہرگز مطلب نہیں ہے کہ وہ آپ کے ساتھ (rapport) میں نہیں ہیں۔
کئی بار اس کا الٹا بھی ہوسکتا ہے کہ جب لوگ آفس میں، کارپوریٹ میں، گھر پر یا کسی محفل میں؛ آپ سے کسی معاملے میں اتفاق کرتے ہوئے بھی آپ کے ساتھ (rapport) میں نہیں ہوتے۔
مثلاً باامر مجبوری جب لوگ اپنے سینئرز کے سامنے ان کی کسی بات پربظاہر متفق تو ہو جاتے ہیں، لیکن اصل میں وہ اس وقت (rapport)میں نہیں ہوتے۔
اور اسی طرح ہم بہت سارے رشتوں میں دیکھتے ہیں کہ جہاں آپس میں بہت زیادہ عزت، احترام اور پیار ہے، لیکن وہاں لوگ ایک دوسرے سے سخت اختلاف بھی کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود وہ ایک دوسرے کے ساتھ (rapport) میں بھی ہیں۔

Rapport Building
ہم آہنگی و مطابقت پیدا کرنے کے لیے ضروری باتیں:

جیسا کہ پہلے بات کی ہے کہ مثالی تعلق قائم کرنے کے لیے ہم آہنگی و مطابقت پیدا کرنے میں چندباتیں بہت اہم ہیں اور ان کو ہمیشہ ایک ساتھ استعمال کرنا ہے۔

(1) فزیالوجی کو مدنظر رکھنا

جب ہم باڈی لینگویج یا فزیالوجی
کی بات کرتے ہیں تواس کی باڈی پوسچرز، جیسچرز، سانسوں کا انداز، چہرے کے تاثرات اور آنکھوں کی موومنٹ کو دیکھنا ہوتا ہے اور یہ سب آپ کی کمیونیکیشن کے 55 فیصد میں آتی ہیں۔

(2) بات کرنے کا انداز:

اس کالہجہ اور بات کرنے کا انداز، بات کرنے کی سپیڈ، والیم کا اتار چڑھاؤ اور وقفے شامل ہیں اور یہ 38فیصد ہیں۔

(3) درست الفاظ کا چناؤ:

ہم یہ دیکھتے ہیں کہ وہ کون کون سے الفاظ بار بار استعمال کرتا ہے؟ اور کن کن الفاظ کو یا Phrases کو اپنی زبان میں استعمال کر رہا ہے؟

(4)۔ اوور ایکٹنگ سے پرہیز:

جب بھی آپ کسی بھی شخص کے ساتھ ہم آہنگی میں آنا چاہیں تو آپ کو خیال رکھنا ہے کہ اس کے ساتھ ہمیشہ اپنے قدرتی طریقہ سے پیش آنا ہے، نہ کہ آرٹیفیشل یاغیرضروری ایکٹنگ کے ذریعے۔ یعنی جب کبھی آپ اپنا انٹروڈکشن دے لے رہے ہوں، تو دوسروں کے سامنے غیر فطری ایکٹنگ کی بجائے حقیقی دلچسپی کے ساتھ قدرتی طور پر طرزعمل کا اظہار کرنا ہے۔

(5)۔ دوسرے کے موقف کا احترام:

اس کے ساتھ اپنا ایک تعلق استوار کرنے کوشش کرنی ہے تو آپ اس بات پر مکمل توجہ دیں کہ وہ کس کلچرسے تعلق رکھتا ہے؟ اور وہ کیا سوچتا ہے؟ اس کے سامنے عزت اور اعتمادکے طور اپنے رویے کا اظہار کرنا ہے۔ اسے یہ محسوس کروانا ہے کہ آپ اس کی حقیقت میں عزت کر رہے ہیں نہ کہ ضرورت اور رتبے کے اعتبار یا کسی غرض اور لالچ کے زیر اثر۔

(6) اظہار دلچسپی اور لگاؤ:
(Association):

آپ نے اسے یہ احساس دلوانا ہے کہ آپ اس سے کچھ جاننے کے لیے کتنے مشتاق ہیں؟ اور اس کی باتوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے آپ دھیان دیں کہ آپ اچھے سامع بنیں۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ ہمیشہ اپنی باڈی کو تھوڑا سا آگے کی طرف جھکا کر بات کریں۔ جب بھی ہم اپنی باڈی کو آگے کی طرف جھکاتے ہیں تو فوراً ہم فزیالوجی associate میں آجاتے ہیں، یعنی یہ باڈی لینگویج ان کے ساتھ لگاؤ کا اظہار محسوس کرواتی ہے، اور دوسروں سے (association) پیدا کرواتی ہے۔

(جاری ہے)
نیورولنگواسٹک پروگرامنگ پر پاکستان میں پہلی اردو کتاب "بدلو ذہن جی لو زندگی" سے اقتباس
مصنف شاہد سید

#شاہدسید #گفتگوکافن

نوٹ : کتاب آرڈر کرنے کے لیے وٹس ایپ: 03106364612

Want your school to be the top-listed School/college in Khanewal?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address

Khanewal