بابا… آپ کے بغیر گزرا یہ ایک سال
تحریر: عبداللہ مدنی، اسلام آباد
آج 5 دسمبر ہے۔ بانی ومہتمم جامعہ عبداللہ بن عباس کچہ کھوہ خانیوال حضرت مولانا عمرسعید صاحب رحمۃ اللہ کو ہم سے بچھڑے پورا ایک سال گزر چکا ہے، مگر دل اب بھی اُس لمحے میں قید ہے جب ایام دوراں نے اچانک ہمارا سب سے قیمتی سہارا ہم سے چھین لیا تھا۔والدین کی جدائی انسانی زندگی کا وہ واحد زخم ہوتا ہے جو وقت کے ساتھ مندمل ہونے کی بجائے بڑھتا رہتا ہے۔ یہ سال ہمارے لیے صرف بارہ مہینوں کا سفر نہیں تھا، یہ صبر، یاد، دعا اور احساسات کی ایک طویل داستان تھی۔کبھی اُن کی مسکراہٹ یاد آتی تو دل بھیگ جاتا۔کبھی ان کی نصیحتیں کانوں میں گونجتیں تو ایسا لگتا جیسے وہ میرے ساتھ ہی بیٹھے ہوں۔کبھی رات کے سکوت میں ان کا چہرہ آنکھوں کے سامنے آجاتا، اور میں خود کو بتاتا کہ والد کبھی بچھڑتے نہیں… صرف نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں۔
میرا والد…
صرف میرے والد نہیں تھے،وہ عالمِ دین تھے، قرآن و حدیث کے استاد تھے، جنہوں نے چالیس برس تک بے شمار دلوں کو علم کی روشنی سے منور کیا۔
ان کے شاگرد آج بھی ان کی نرمی، ان کی گہرائی، ان کی خوش اخلاقی اور ان کی باوقار خاموشی کو یاد کرتے ہیں۔
وہ ایسے شخص تھے جن کی زبان کم چلتی تھی، مگر دل ہمیشہ اللہ کے ذکر سے آباد رہتا تھا۔
ان کی لمبی نمازیں…
ان کی سجدوں میں گم ہو جانے والی عبادت…
ان کی دیر تک رو رو کر مانگی گئی دعائیں…
آج بھی میرے دل کے نیم روشن حصوں میں جگمگاتی رہتی ہیں۔
اور پھر وہ لمحے…
جوان کی جدائی سے ایک ماہ قبل اللہ نے مجھے عطا کیے۔
گزشتہ سال اکتوبر میں وہ کچھ دن میرے پاس اسلام آباد رہے۔
یہ پانچ دن… شاید میری پوری زندگی کا سب سے قیمتی تحفہ تھے۔
میں نے ان کی خدمت کی، ان کے قریب بیٹھا، ان کی آنکھوں کی چمک دیکھی، ان کی خاموشی کو محسوس کیا، اور پہلی بار یوں لگا کہ میں نے اپنی زندگی میں کچھ سچ مچ حاصل کیا ہے۔
ان دنوں میں انہوں نے جو دعائیں مجھے دی تھیں، میں آج بھی اُن پر جیتا ہوں۔
کاش میں جان سکتا کہ یہ چند دن…
میری آخری سعادت ہیں۔
کاش میں جان پاتا کہ یہ مسکراہٹیں، یہ دعائیں، یہ قربت…
اب پوری زندگی کی یاد بن جائیں گی۔
ایک سال ہوچکا ہے…
لیکن ان کا چہرہ، ان کی مہربانی، ان کی خوشبو، ان کی عبادت…
دل سے ایک لمحے کے لیے بھی جدا نہیں ہوئی۔
میں نے اس سال میں بارہا محسوس کیا کہ والد دنیا سے چلے بھی جائیں تو ان کی تربیت، ان کا وقار، ان کی نیکی انسان کے اندر زندہ رہتی ہے۔
ان کی شخصیت کی روشنی اب بھی میرے ہر راستے کو روشن کرتی ہے۔
بابا۔۔۔۔ اللہ جانتا ہے کہ میں نے اس سال میں آپ کو ہر پل یاد کیا—دعا میں بھی، خاموشی میں بھی، اکیلے پن میں بھی، اور زندگی کے ہر موڑ پر بھی...
اے اللہ! ان کے لگائے ہوئے پودے جامعہ عبداللہ بن عباس کچہ کھوہ کی صحیح خدمت کرنے کی توفیق عطا فرما اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔
میرے والد کو اپنے خاص بندوں میں جگہ عطا فرما۔
ان کے دین کی خدمت کو قبول فرما۔
ان کی قبر کو نور اور رحمت سے بھردے۔
اور مجھے ان کا صدقۂ جاریہ بنا دے۔آمین۔
جامعہ عبداللہ بن عباس کچاکھوہ
بچوں اور بچیوں کےلیےدینی وعصری تعلیم کا عظیم مرکز
04/12/2025
جامعہ عبداللہ بن عباس کچہ کھوہ کی پروقار تقریب 17 دسمبر 2025 کو منعقد ہوگی. ان شاءاللہ
خود تشریف لائیے، اپنے دوست واحباب کو ساتھ لائیے
04/11/2025
09/10/2025
درسگاہ قاری امیر معاویہ شعبہ حفظ
ٹھٹھرتے ہوئے موسم طلبہ قرآن کی تعلیم میں مصروف ہیں. اس درسگاہ میں کھڑکیوں اور دروازوں کی فوری اور اشد ضرورت ہے
اہل خیر تعاون فرمائیں.
0300 6891496
JazzCash
Title :Khursheed Abbas
09/10/2025
جا معہ عبداللہ بن عباس بائ پاس کچا کھوہ خانیوال میں ایک حفظ کی درسگاہ کیلئے دو دروازے پانج ونڈوز اور گرلوں کی ضرورت ہے.
تخمینہ لاگت تقریبا اڑھائی لاکھ روپے ہے
اہل خیر اس صدقہ جاریہ میں حصہ لیں
0300 6891496 JazzCash
میزان بینک اکاؤنٹ 26980109635397
Title :Khursheed Abbas
14/08/2025
جامعہ عبداللہ بن عباس کچہ کھوہ خانیوال میں 78 واں جشن آزادی شان وشوکت سے منایا گیا۔ اس موقع پر طلبہ نے ملی نغمے اور وطن کی محبت میں تقاریر پیش کیں۔ کلیدی خطاب میں مہتمم جامعہ مفتی خورشید عباس صاحب نے آزادی اہمیت اور اس کی قدر کرنے کے متعلق خطاب فرمایا۔ آخر میں پرچم کشائی ہوئی اور دعا کے ساتھ تقریب کا اختتام ہوا۔
جامعہ عبداللہ بن عباس کچہ کھوہ خانیوال کی انتظامیہ کی جانب سے تمام اہل وطن کو 78 واں جشن آزادی مبارک ہو.
اللہ تعالی ہمیں اس وطن کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے. آمین
02/03/2025
رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں اپنی دعاؤں کے ساتھ ساتھ زکوۃ وصدقات اور عطیات کے ذریعے بھی جامعہ عبداللہ بن عباس کو یاد رکھیے گا۔
حافظ القرآن و الحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی رحمۃ اللّٰہ علیہ ایک مرتبہ مسجد نبوی شریف میں، گنبد خضریٰ کے سامنے وعظ ارشاد فرما رہے تھے، دوران وعظ فرمایا ایک وظیفہ بتلاتا ہوں جو میرا آزمودہ ہے، جب بھی کسی چیز کی حاجت پیش آتی ہے تو میں یہ پڑھ لیتا ہوں، اللہ تعالیٰ اتنا عطاء فرماتے ہیں کہ پھر سمبھالا نہیں جاتا، پڑھنے کا طریقہ درج ذیل ہے صبح کی نماز کے بعد تین مرتبہ ، اور مغرب کی نماز کے بعد تین مرتبہ اول آخر درود شریف کے ساتھ ، انشاللہ چند دنوں میں تمام حاجات پوری ہوتی نظر آئیں گی بشرطیکہ صدق دل اور یقین سے پڑھا جائے،
- اَللّٰهُمَّ مَالِكَ الْملْكِ تُؤتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ رَحْمٰنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَرَحِيْمَهُمَا تُعْطِيْهِمَا مَنْ تَشَآءُ وَتَمْنَعُ مِنْهُمَا مَنْ تَشَآءُ ارْحَمْنِيْ رَحْمَةً تُغْنِيْنِيْ ِبهَا عَنْ رَحْمَةِ مَنْ سِوَاكَ.
روایت میں ہے کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ پر قرض تھا تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ایسی دعا نہ سکھاؤں کہ اگر تم پر اُحد پہاڑ جیسا قرض ہو تو بھی اللہ تعالیٰ تمہاری طرف سے ادائیگی کا انتظام فرمادیں؟ پھر آپ ﷺ نے انہیں درج بالا دعا پڑھنے کی تلقین فرمائی۔ (رواہ الطبراني في المعجم الصغير)
2- " تَوَكَّلْتُ عَلَى الْحَیِّ الَّذِيْ لَا یَمُوْتُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُن لَّهُ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلِّ ۖ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا. "
3- " اَللّٰهُمَّ اكْفِنِيْ بِحَلاَلِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَ أغْنِنِيْ بِفَضْلِكَ عَنْ مَنْ سِوَاكَ. "
نوٹ حضرت درخواستی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی طرف سے وظیفہ پڑھنے کی اجازت عام ہے ،
طالب دعاء مرغوب الرحمن درخواستی ۔
ترے بغیر گزر جائے گی یہ عمر دراز
مگر وہ لطف فضائے بہار ہو کہ نہ ہو
آج جامعہ عبداللہ بن عباس کچہ کھوہ خانیوال میں تکمیل صحیح بخاری کا پروگرام منعقد ہوا. جس میں مولانا مفتی عبداللہ صاحب مدظلہ العالی سینئر استاذ جامعہ خیر المدارس ملتان، مولانا پیر ریاض جمیل صاحب لاہور تشریف لائے.
حضرت والد صاحب رحمہ اللہ کے انتقال کے بعد یہ پہلا پروگرام ان کی غیر موجودگی میں ہوا. اللہ تعالی ان کی قبر کو اپنے نور سے منور فرمائے. آمین
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Khanewal
58100