24/09/2026
https://www.facebook.com/share/19nQifUFmi/
سندھ حکومت کے شاندار کارنامے!
ملاقات کیجیے اروڑ یونیورسٹی سکھر کے "موسٹ سوٹیبل" وائس چانسلر زاہد حسین کھنڈ سے!
سندھ کے بچوں کے روشن مستقبل کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یونیورسٹی چلانے کے لیے ایک ایسا شخص منتخب کیا گیا ہے جس کی اپنی پروفیسر شپ ہی جعلسازی اور فراڈ پر مبنی ہے!
شواہد اور حقائق بالکل واضح ہیں:
جعلی ڈگری اور معلومات میں تحریف: انہوں نے یونیورسٹی آف لیورپول سے "ڈاکٹر آف ایڈجوکیشن" کی آن لائن ڈگری لی تھی، لیکن سکھر آئی بی اے کے رجسٹرار کے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے "پی ایچ ڈی انفارمیشن سسٹمز" ظاہر کیا اور سال بھی تبدیل کر کے پروفیسر شپ حاصل کی۔
وائس چانسلر کی اہلیت کے لیے دھوکہ دہی: اروڑ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے عہدے پر اپلائی کرنے کی بنیادی شرط پوری کرنے کے لیے انہوں نے یہ جعلی پروفیسر شپ حاصل کی اور میرٹ کی دھجیاں اڑا دیں۔
عدالتی کارروائی اور اریسٹ وارنٹ: ان کے خلاف عدالت میں سنگین کیسز چل رہے ہیں، ضمانت پر ہیں اور عدالت کی جانب سے وارنٹ بھی موجود ہیں۔
سب کچھ معلوم ہونے اور عدالتوں میں کیسز چلنے کے باوجود اگر ایسے نااہل، مجرمانہ ریکارڈ اور جعلسازی میں ملوث شخص کو ہی وائس چانسلر رکھا جا رہا ہے، تو پھر سندھ حکومت کو واضح کر دینا چاہیے کہ شاید یہی ان کی نظر میں سب سے زیادہ "اہل" کینڈیڈیٹ ہے!
اگر اداروں کے سربراہ ایسے لوگ ہوں گے تو اروڑ یونیورسٹی سے نکلنے والے بچے مستقبل میں تعلیمی میدان میں آگے جانے کے بجائے سینٹرل جیل کے چکر ہی کاٹیں گے۔ اب وقت ہے کہ اس کھلے فراڈ کو فی الفور ختم کیا جائے اور زاہد حسین کھنڈ کی غیر قانونی پروفیسر شپ اور وائس چانسلر شپ کو فوراً کینسل کیا جائے!