Voice of Universities

Voice of Universities General Information for SALU students

25/09/2026
24/09/2026

سوال تو بنتا ہے!!!

24/09/2026

سندھ حکومت کے شاندار کارنامے!
​ملاقات کیجیے اروڑ یونیورسٹی سکھر کے "موسٹ سوٹیبل" وائس چانسلر زاہد حسین کھنڈ سے!
​سندھ کے بچوں کے روشن مستقبل کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یونیورسٹی چلانے کے لیے ایک ایسا شخص منتخب کیا گیا ہے جس کی اپنی پروفیسر شپ ہی جعلسازی اور فراڈ پر مبنی ہے!
​شواہد اور حقائق بالکل واضح ہیں:
​جعلی ڈگری اور معلومات میں تحریف: انہوں نے یونیورسٹی آف لیورپول سے "ڈاکٹر آف ایڈجوکیشن" کی آن لائن ڈگری لی تھی، لیکن سکھر آئی بی اے کے رجسٹرار کے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے "پی ایچ ڈی انفارمیشن سسٹمز" ظاہر کیا اور سال بھی تبدیل کر کے پروفیسر شپ حاصل کی۔
​وائس چانسلر کی اہلیت کے لیے دھوکہ دہی: اروڑ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے عہدے پر اپلائی کرنے کی بنیادی شرط پوری کرنے کے لیے انہوں نے یہ جعلی پروفیسر شپ حاصل کی اور میرٹ کی دھجیاں اڑا دیں۔
​عدالتی کارروائی اور اریسٹ وارنٹ: ان کے خلاف عدالت میں سنگین کیسز چل رہے ہیں، ضمانت پر ہیں اور عدالت کی جانب سے وارنٹ بھی موجود ہیں۔
​سب کچھ معلوم ہونے اور عدالتوں میں کیسز چلنے کے باوجود اگر ایسے نااہل، مجرمانہ ریکارڈ اور جعلسازی میں ملوث شخص کو ہی وائس چانسلر رکھا جا رہا ہے، تو پھر سندھ حکومت کو واضح کر دینا چاہیے کہ شاید یہی ان کی نظر میں سب سے زیادہ "اہل" کینڈیڈیٹ ہے!
​اگر اداروں کے سربراہ ایسے لوگ ہوں گے تو اروڑ یونیورسٹی سے نکلنے والے بچے مستقبل میں تعلیمی میدان میں آگے جانے کے بجائے سینٹرل جیل کے چکر ہی کاٹیں گے۔ اب وقت ہے کہ اس کھلے فراڈ کو فی الفور ختم کیا جائے اور زاہد حسین کھنڈ کی غیر قانونی پروفیسر شپ اور وائس چانسلر شپ کو فوراً کینسل کیا جائے!

https://www.facebook.com/share/19nQifUFmi/
24/09/2026

https://www.facebook.com/share/19nQifUFmi/

سندھ حکومت کے شاندار کارنامے!
​ملاقات کیجیے اروڑ یونیورسٹی سکھر کے "موسٹ سوٹیبل" وائس چانسلر زاہد حسین کھنڈ سے!
​سندھ کے بچوں کے روشن مستقبل کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یونیورسٹی چلانے کے لیے ایک ایسا شخص منتخب کیا گیا ہے جس کی اپنی پروفیسر شپ ہی جعلسازی اور فراڈ پر مبنی ہے!
​شواہد اور حقائق بالکل واضح ہیں:
​جعلی ڈگری اور معلومات میں تحریف: انہوں نے یونیورسٹی آف لیورپول سے "ڈاکٹر آف ایڈجوکیشن" کی آن لائن ڈگری لی تھی، لیکن سکھر آئی بی اے کے رجسٹرار کے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے "پی ایچ ڈی انفارمیشن سسٹمز" ظاہر کیا اور سال بھی تبدیل کر کے پروفیسر شپ حاصل کی۔
​وائس چانسلر کی اہلیت کے لیے دھوکہ دہی: اروڑ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے عہدے پر اپلائی کرنے کی بنیادی شرط پوری کرنے کے لیے انہوں نے یہ جعلی پروفیسر شپ حاصل کی اور میرٹ کی دھجیاں اڑا دیں۔
​عدالتی کارروائی اور اریسٹ وارنٹ: ان کے خلاف عدالت میں سنگین کیسز چل رہے ہیں، ضمانت پر ہیں اور عدالت کی جانب سے وارنٹ بھی موجود ہیں۔
​سب کچھ معلوم ہونے اور عدالتوں میں کیسز چلنے کے باوجود اگر ایسے نااہل، مجرمانہ ریکارڈ اور جعلسازی میں ملوث شخص کو ہی وائس چانسلر رکھا جا رہا ہے، تو پھر سندھ حکومت کو واضح کر دینا چاہیے کہ شاید یہی ان کی نظر میں سب سے زیادہ "اہل" کینڈیڈیٹ ہے!
​اگر اداروں کے سربراہ ایسے لوگ ہوں گے تو اروڑ یونیورسٹی سے نکلنے والے بچے مستقبل میں تعلیمی میدان میں آگے جانے کے بجائے سینٹرل جیل کے چکر ہی کاٹیں گے۔ اب وقت ہے کہ اس کھلے فراڈ کو فی الفور ختم کیا جائے اور زاہد حسین کھنڈ کی غیر قانونی پروفیسر شپ اور وائس چانسلر شپ کو فوراً کینسل کیا جائے!

Address

Shah Abdul Latif University
Khairpur
2066

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Voice of Universities posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share