15/05/2026
سرطفیل سرور بلوچ صاحب، پرنسپل پاکستان ماڈل ہائی اسکول اور سرپرست آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن، نے ایک نہایت خوبصورت اور بامقصد نظم پیش کی، جو اُن کا اپنا تخلیق کردہ کلام ہے۔
اپنی نظم میں انہوں نے حکومت، بالخصوص حکومتِ پنجاب سے مؤدبانہ اپیل کی کہ جب بھی تعلیمی پالیسیاں ترتیب دی جائیں تو پرائیویٹ اسکولز کو بھی مشاورت میں شامل کیا جائے تاکہ فیصلے زیادہ مؤثر اور زمینی حقائق کے مطابق ہو سکیں۔
انہوں نے مزید اس امر کی نشاندہی کی کہ حکومت کی جانب سے تعطیلات کم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، مگر اس کے برعکس چھٹیوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس سے طلبہ کی تعلیم شدید متاثر ہو رہی ہے۔
اپنے اشعار کے ذریعے انہوں نے یہ بھی تجویز پیش کی کہ:
* یا تو تعطیلات کو کم کیا جائے
* یا پھر پرائیویٹ اسکولز کو سمر کیمپس کے انعقاد کی اجازت دی جائے
تاکہ طلبہ روزانہ کی بنیاد پر چند گھنٹوں کے لیے اسکول آ کر اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سال بھر میں غیر معمولی تعطیلات کے باعث طلبہ کا تعلیمی نقصان بڑھ رہا ہے، جس کے تدارک کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔
آخر میں انہوں نے اپنی نظم کے ذریعے حکومتِ پنجاب سے مؤدبانہ گزارش کی کہ ان تجاویز پر سنجیدگی سے غور کیا جائے اور عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ طلبہ کا قیمتی تعلیمی وقت محفوظ بنایا جا سکے.