07/01/2026
“آج کی تحریر”
🌷 تنقید کی بجائے حوصلہ افزائی 🌷
ہم میں سے ہر ایک غلطی کرتا ہے — مگر صرف تنقید دل توڑ دیتی ہے،
جبکہ ایک جملہ حوصلہ افزائی کا انسان کو آگے بڑھا دیتا ہے۔
کوشش کرنے والوں کا ہاتھ تھامیں، رہنمائی کریں —
کیونکہ حوصلہ افزائی ہی کامیابی کا دروازہ کھولتی ہے۔
محمد اقبال شاکر
11/12/2025
School Safety Training سیشن کا انعقاد
الہ آباد (محمد اقبال شاکر) سٹی ماڈل ہائی سکول الہ آباد میں کل مورخہ 10 دسمبر 2025 کو ریسکیو کی خصوصی School Safety Training سیشن کا انعقاد کیا گیا۔
اس تربیتی پروگرام کا مقصد طلبہ و اساتذہ کو ہنگامی صورتحال میں بروقت اور درست ردِعمل کی تربیت فراہم کرنا تھا۔
تربیتی سیشن میں درج ذیل اہم موضوعات شامل تھے:
CPR Training:
دل کی دھڑکن بند ہونے کی صورت میں فوری امداد کی عملی مشق
Bleeding Control:
شدید خون بہنے کی صورت میں ابتدائی طبی امداد
Fire Safety:
آگ لگنے کی صورت میں حفاظتی اقدامات اور بچاؤ کے طریقے
Fracture Management:
ہڈی ٹوٹنے کی صورت میں ابتدائی امداد اور سیف ہینڈلنگ
Evacuation Plan:
ایمرجنسی میں سکول خالی کروانے کا منظم طریقہ
ریسکیو اہلکاروں نے طلبہ و اساتذہ کو عملی مظاہروں کے ذریعے تربیت فراہم کی، جس سے نہ صرف ان کا اعتماد بڑھا بلکہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت بھی بہتر ہوئی۔
سکول پرنسپل محمد اقبال شاکر نے اس مفید تربیتی سیشن پر ریسکیو ٹیم الہ آباد (قصور)کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیاں طلبہ کی عملی زندگی میں انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
05/11/2025
سٹی ماڈل ہائی سکول الہ آباد میں سائبر کرائم پر بریفنگ
الہ آباد: (05نومبر 2025)
سٹی ماڈل ہائی سکول الہ آباد کے پرنسپل جناب محمد اقبال شاکر کی زیرِ نگرانی، آج سکول میں ایک اہم سیشن منعقد ہوا جس میں علاقے کے ایس ایچ او الہ آباد محترم جناب ابرارجمیل صاحب نے بطور مہمان شرکت کی اور طلبہ کو سائبر کرائم کے خطرات، تحفظ اور قانونی پہلوؤں کے بارے میں بریفنگ دی۔
اس دوران طلبہ کو آن لائن موبائل ایپلیکیشنز، سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے استعمال کے حوالے سے آگاہی فراہم کی گئی، نیز بتایا گیا کہ سائبر کرائم کے شکار ہونے کی صورت میں کس طرح فوری کارروائی کی جا سکتی ہے۔
پرنسپل محمد اقبال شاکر نے کہا کہ “ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم نئے دور کی ٹیکنالوجی کے ساتھ آنے والے خطرات سے طلبہ کو شعور بخشیں تاکہ وہ نہ صرف محفوظ رہ سکیں بلکہ ذمہ دار صارف بنیں۔” انہوں نے ایس ایچ او الہ آباد کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس اہم موضوع پر روشنی ڈالی۔
سیکھنے والے مراحل میں طلبہ نے سوالات بھی کیے، جن میں سائبر بُلئِنگ، ذاتی ڈیٹا کا تحفظ اور آن لائن فراڈ کے بارے میں خاص دلچسپی دکھائی۔ پرنسپل صاحب نے آئندہ ایسے مزید سیشنز کا وعدہ کیا ہے تاکہ طلبہ کی تربیت وقت کے مطابق جاری رہے۔
22/08/2025
میرے والد محترم – ایک تعلیمی چراغ
تاریخ وفات: 22 اگست2019
میرے والد محترم جناب غلام رسول صاحب ایک ایسی شخصیت تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی تعلیم کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ انہوں نے 1984ء میں علاقے گھلن ہٹھاڑ گورنمنٹ ہائی سکول میں بطور ایس ایس ٹی (سائنس) اپنی سرکاری ملازمت کا آغاز کیا۔ یہ وہ وقت تھا جب دیہی علاقوں میں معیاری تعلیم، خاص طور پر سائنس اور ریاضی کے مضامین کی تدریس، ایک بڑی کمی سمجھی جاتی تھی۔ والد صاحب نے اپنی محنت اور اخلاص سے نہ صرف یہ کمی پوری کی بلکہ نئی نسل کے لیے علم کے دروازے کھول دیے۔اور 2015 میں بطور ہیڈ ماسٹر اپنی گورنمنٹ سروس سے ریٹائر ہوئے
سرکاری ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے گھر پر ایک سائنس ٹیوشن سینٹر قائم کیا ۔ کچھ ہی عرصے میں یہ سینٹر علاقے کے طلبہ کے لیے ایک بہترین علمی مرکز بن گیا۔ یہاں ایک وقت میں تین سو کے قریب طلبہ و طالبات زیورِ تعلیم سے آراستہ ہوتے تھے۔ والد صاحب نے ہمیشہ یہ کوشش کی کہ ہر بچہ یکساں توجہ اور رہنمائی حاصل کرے۔
2000ء میں انہوں نے اس تعلیمی مرکز کو اپنے بیٹے کے نام سے موسوم کیا اور یوں اس کا نیا نام "فیضان سائنس اکیڈمی" رکھا گیا۔ یہ نام ان کے لیے محبت اور امید کی علامت تھا۔ اکیڈمی سے بے شمار طلبہ نے علم کی روشنی حاصل کی ،اکیڈمی میں طلبہ کی تعداد بڑھنے کےپیش نظر انہی میں سے دو ہونہار شاگرد سر مشتاق صاحب اور سر ابراہیم صاحب بھی اکیڈمی میں ٹیچنگ کی سرگرمیاں جاری رکھتے
2007ء میں فیضان سائنس اکیڈمی کو دیپال پور روڈ، الہ آباد پر منتقل کیا گیا۔ یہ ایک نئی کامیابی کا نقطہ آغاز تھا۔ کچھ ہی عرصے میں،
والد صاحب نے اپنے مخلص شاگردوں سر مشتاق اور سر ابراہیم کے ساتھ مل کر ایک باقاعدہ اسکول کی بنیاد رکھی جسے "سٹی ماڈل ہائی اسکول" کے نام سے جانا گیا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہ ادارہ نہایت تیزی سے ترقی کی منازل طے کرتا چلا گیا۔ بہترین نتائج، اعلیٰ تدریسی معیار اور باوقار شخصیات سے روابط نے اس ادارے کو علاقے کا ایک نمایاں اور معتبر نام بنا دیا۔
2015ء میں انہوں نے اپنے دو قریبی ساتھیوں کے ساتھ مل کر تاج محل میرج ہال کی بنیاد رکھی۔ یہ میرج ہال علاقے میں شادی بیاہ اور تقریبات کے لیے ایک بہترین سہولت ثابت ہوا اور لوگوں کے لیے خوشیوں کا مرکز بنا۔ یہ ان کے عزم اور جدت پسندی کا عملی اظہار تھا۔
میرے والد محترم کی محبت اور بے مثال جدوجہد کے باعث آج میں ایک سرکاری محکمہ میں آفیسر کے طور پر ڈیوٹیز سرانجام دے رہا ہوں۔ میری یہ کامیابی دراصل والدین کی دعاؤں کا نتیجہ ہے
اس دوران اگرچہ ترقی کے سنگ میل عبور ہوتے رہے، مگر زندگی کی حقیقت جدائی کے غم سے خالی نہیں۔ 22 اگست 2019ء کو وہ عظیم ہستی، میرے والد محترم غلام رسول صاحب، بھی اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
آج ان کے انتقال کو چھ برس مکمل ہو چکے ہیں۔
ان کی جدوجہد، قربانیاں اور علمی خدمات آج بھی یاد کی جاتی ہیں۔ ان کے ہزاروں شاگرد جب بھی ان کا ذکر کرتے ہیں تو محبت، عقیدت اور دعاؤں کے الفاظ ان کی زبان پر آ جاتے ہیں۔ والد محترم کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ محنت، اخلاص اور علم کے ذریعے ایک فرد نہ صرف اپنی بلکہ آنے والی نسلوں کی تقدیر بدل سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ میرے والد محترم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور ہماری دنیا و آخرت سنوار دے۔ آمین۔