Jamia Islamia Nabawiya

Jamia Islamia Nabawiya

Share

Islamic Education

24/05/2026

زندگی چند دنوں کا سفر ہے موت ہر انسان کے قریب ہے اس لیے دلوں کو جوڑیں معاف کرنا سیکھیں اور اللہ کو راضی کرنے والی زندگی گزاریں

20/05/2026

فاضلین درس نظامی کیلئے خوشخبری

20/05/2026

جب ایک صحابی نے دوسرے صحابی کو نظر لگادی تو پھر رسول پاک ؐ نے ہمیشہ کےلئے نظر کا کیا علاج بتایا

ایک دن رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کی طرف سفر فرما رہے تھے۔
دورانِ سفر ان کا گزر ایک کنویں کے پاس سے ہوا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس جگہ کا نام (شِعب الخَرَّار) تھا۔
صحابیِ رسول سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے غسل کرنے اور اپنے جسم کو سفر کے گرد و غبار سے صاف کرنے کا ارادہ کیا۔
یہ بات تو سبھی جانتے ہیں کہ مکہ، مدینہ یا عموماً صحرائی علاقوں کے مردوں کی جلد مٹی سے بھری ہواؤں اور انتہائی تیز دھوپ کے براہِ راست اثر کی وجہ سے خشک اور گندمی (سانولی) ہوتی ہے۔
لیکن حیرت انگیز بات یہ تھی کہ سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کی جلد اس کے بالکل برعکس تھی۔
وہ انتہائی سفید، صاف اور خوبصورت تھی۔
یہی وہ چیز تھی جس نے دوسرے صحابی سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی جب انہوں نے سیدنا سہل کو غسل کرتے ہوئے دیکھا۔
انہوں نے (تعجب سے) کہا
(ما رأيت كاليوم، ولا جلد مخبأة)
(یعنی: میں نے آج سے پہلے ایسا منظر کبھی نہیں دیکھا، اور نہ ہی کسی ایسی دوشیزہ (پردہ نشین لڑکی) کی جلد دیکھی ہے جو کبھی دھوپ میں نہ نکلی ہو، بلکہ یہ تو اس سے بھی زیادہ خوبصورت ہے)۔
ابھی عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا سہل کو دیکھا ہی تھا اور یہ جملہ زبان سے نکالا ہی تھا کہ سیدنا سہل بن حنیف فوراً بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے اور پھر ہوش میں نہ آئے۔
صحابہ کرام نے انہیں ہوش میں لانے کی ہر ممکن کوشش کی، مگر افسوس کہ وہ ناکام رہے۔
چنانچہ انہوں نے سیدنا سہل کو اٹھایا اور تیزی سے نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں لے گئے اور عرض کیا:
(اے اللہ کے رسول! کیا آپ سہل کی خبر لیں گے؟ اللہ کی قسم! وہ اپنا سر تک نہیں اٹھا پا رہے ہیں)۔
نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا
(هل تتهمون فيه من أحد؟)
(کیا تمہیں اس معاملے میں کسی پر شک ہے؟)
انہوں نے عرض کیا:
(عامر بن ربیعہ نے انہیں دیکھا تھا)۔
تب رسول اللہ ﷺ نے ایک صحابی کو بھیجا تاکہ وہ عامر بن ربیعہ کو بلا لائیں۔
جب عامر تشریف لائے، تو نبی کریم ﷺ نے شدید ناراضگی میں ان سے سوال کیا اور فرمایا
(علامَ يقتل أحدكم أخاه؟ هلا إذا رأيت ما يعجبك بركت!)
(یعنی: تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو (محض نظر کی چوٹ سے) کیوں قتل کرنے پر تلا ہوا ہے؟ جب تم نے کوئی ایسی چیز دیکھی تھی جو تمہیں پسند آئی، تو تم نے برکت کی دعا کیوں نہ دی؟!)
(هلا إذا رأيت ما يعجبك بركت)
کا کیا مطلب ہے؟
اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی آپ کسی کے پاس کوئی خوبصورت یا اچھی چیز دیکھیں جو آپ کی توجہ کھینچ لے، تو آپ پر لازم ہے کہ اللہ سے دعا کریں کہ وہ اس شخص کے لیے اس چیز میں مزید اضافہ کرے اور برکت عطا فرمائے۔
چنانچہ آپ کہیں:
(اللهم بارك)
یا کہیں:
(تبارك الله)
یا کہیں:
(بارك الله لك)
سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کو فہمائش اور ملامت کرنے کے بعد، نبی کریم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ سہل کے لیے غسل کریں۔
(يغتسل لسهل)
(سہل کے لیے غسل کرے)۔
(يغتسل لسهل) یعنی سہل کے لیے غسل کرنے کا کیا طریقہ ہے؟
آپ ﷺ نے عامر کو حکم دیا کہ وہ پاک پانی لائیں۔
اس سے اپنا چہرہ، دونوں ہاتھ کہنیوں تک، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں کے اطراف (ٹخنوں اور انگلیوں سمیت) دھوئیں۔
اور اپنے تہبند (لوئی) کا اندرونی حصہ بھی اس برتن کے پانی میں ڈبوئیں۔
یہ سارا پانی ایک ہی برتن میں جمع کیا گیا۔
پھر اس پانی کو پیچھے کی طرف سے سیدنا سہل کے سر اور پیٹھ پر بہا دیا گیا۔
اس کے بعد کیا ہوا؟
جیسے ہی وہ پانی سیدنا سہل پر ڈالا گیا، وہ اسی وقت ہوش میں آ گئے۔
اٹھ کھڑے ہوئے اور صحابہ کے درمیان یوں چلنے لگے جیسے انہیں کبھی کوئی تکلیف ہی نہ ہوئی ہو۔
کیا اس چیز کو "حسد" کہا جائے گا؟
جی نہیں!
اس کو (العین) یعنی نظرِ بد کہا جاتا ہے۔
تو پھر دونوں میں فرق کیا ہے؟
ان دونوں میں بہت بڑا فرق ہے۔
عائن (نظر لگانے والا):
یہ وہ شخص ہوتا ہے جو کسی کے پاس کوئی اچھی یا خوبصورت چیز دیکھتا ہے۔
وہ اسے پسند آتی ہے، لیکن وہ اس کے لیے برکت اور اضافے کی دعا کرنا بھول جاتا ہے۔
نتیجے کے طور پر، بغیر کسی بری نیت یا ارادے کے، اس کی نظر دوسرے کو نقصان پہنچا دیتی ہے۔
نظر لگانے والا کوئی بھی ہو سکتا ہے۔
باپ، ماں، بھائی یا کوئی بھی ایسا شخص جو آپ سے محبت کرتا ہو۔
یہ ضروری نہیں کہ وہ آپ سے نفرت کرتا ہو۔
یہاں تک کہ نظر لگانے والا کوئی نیک انسان، کوئی مذہبی شخص یا کوئی دیندار لڑکی بھی ہو سکتی ہے۔
حاسد (حسد کرنے والا):
یہ وہ بدخواہ اور کینہ پرور شخص ہوتا ہے جو دل میں نفرت چھپائے ہوتا ہے۔
وہ یہ تمنا کرتا ہے کہ آپ کے پاس موجود نعمت آپ سے چھن جائے اور آپ اس سے محروم ہو جائیں۔
ایسے شخص کا عذاب اللہ کے ہاں بہت ہی زیادہ سخت ہے۔
اسی لیے، جب بھی آپ کسی دوسرے کے پاس کوئی اچھی چیز دیکھیں، تو آپ کو کہنا چاہیے
(اللهم بارك، ما شاء الله تبارك الله، اللهم زد وبارك)
اور اگر وہ خوبصورت یا اچھی چیز خود میری اپنی ہو اور میری ملکیت ہو، تو مجھے کہنا چاہیے
(ما شاء الله لا قوة إلا بالله)
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا ہے
(وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ)
[الكهف: 39]
(ترجمہ: اور جب تو اپنے باغ میں داخل ہوا تو تو نے کیوں نہ کہا کہ جو اللہ چاہے، اللہ کی مدد کے بغیر کوئی طاقت نہیں)۔
نظرِ بد کے نقصانات (احادیث کی روشنی میں)
نظرِ بد انسان کو قبر تک پہنچا سکتی ہے، اس لیے اپنے ضمیر کو اس گناہ سے پاک رکھیں، خواہ آپ کو یقین ہی کیوں نہ ہو کہ آپ اس کا سبب نہیں بنے۔
نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے
(العين حق، ولو كان شيء سابق القدر سبقت العين، وإذا استغسلتم فاغسلوا)
(رواہ مسلم)
(ترجمہ: نظر کا لگنا حق (سچ) ہے، اور اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت لے جانے والی ہوتی تو وہ نظرِ بد ہوتی۔ اور جب تم سے غسل کا مطالبہ کیا جائے تو غسل کر دیا کرو)۔

امام ابو نعیم اصبہانی نے الحلیہ میں اور ابنِ عدی نے حسن سند کے ساتھ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
(العين تدخل الرجل القبر، وتدخل الجمل القدر)
ترجمہ: نظرِ بد انسان کو قبر میں اور اونٹ کو ہانڈی میں داخل کر دیتی ہے۔

ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے لئے (ان کلمات سے) پناہ طلب کیا کرتے تھے: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ، مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لاَمَّةٍ
''میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے پورے پورے کلمات کے ذریعہ ہر ایک شیطان سے اور ہر زہریلے جانور سے اور ہر نقصان پہنچانے والی نظر بد سے۔" (صحیح بخاری:3371)

اللہ ہم سب کو اپنی امان میں رکھے۔ آمین۔ نظر بد سے بچنے کی یہ مسنون دعا خود بھی پڑھا کریں اور شئیر کرکے دوسروں تک بھی پہنچائیں۔

19/05/2026


قربانی ہر مسلمان پر واجب نہیں، بلکہ صاحبِ نصاب مسلمان پر واجب ہوتی ہے۔
اس مختصر ویڈیو میں جانیے کہ قربانی کن افراد پر لازم ہوتی ہے



ٰی
#قربانی

18/05/2026

قادیانیوں کا تعاقب ہر مسلمان کا آئینی اور دینی فریضہ ہے

18/05/2026

قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کی آخری آسمانی کتاب ہے جو انسانیت کی ہدایت کے لیے نازل کی گئی۔
یہ کتاب زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی، سکون اور کامیابی کا پیغام دیتی ہے۔
قرآنِ پاک کی تلاوت دلوں کو نور اور روح کو سکون عطا کرتی ہے۔
آئیے قرآن کو سمجھیں، پڑھیں اور اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ 🤍












#مکتب
#مدارس



#دعا #حدیث #نعت

#اسلام







16/05/2026

الحمدللہ رب العالمین ✨

جامعہ اسلامیہ نبویہ کے شعبۂ گردان کے پانچ سعادت مند حفاظِ کرام
وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے امتحان کی تیاری کے سلسلے میں
کل مکمل قرآنِ مجید سنائیں گے۔ 📖🌹

یہ مبارک لمحات
اساتذہ کی محنت، والدین کی دعاؤں
اور طلباء کی شب و روز کوششوں کا حسین ثمر ہیں۔

ان شااللہ
📚 بروز: منگل
🗓️ تاریخ: 19 مئی
وفاق المدارس العربیہ پاکستان بورڈ کے تحت امتحان دیں گے

🤲 تمام احباب سے خصوصی دعا کی درخواست ہے کہ
اللہ تعالیٰ ان خوش نصیب حفاظِ کرام کو
امتحان میں شاندار کامیابی، کامل پختگی
اور قرآنِ کریم کی تاحیات خدمت نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین 🌹

🌺 “جن سینوں میں قرآن محفوظ ہو جائیں،
وہ اللہ تعالیٰ کے خاص بندے بن جاتے ہیں۔”

16/05/2026

ماہانہ درس وعقائد واعمال

15/05/2026

ہم اپنی 65 سالہ خدمات اور جد و جہد کی تاریخ رکھتے ہیں اگر کوئی نوزائدہ ہماری خدمات کو مسخ کرنے کی کوشش کرے گا وہ ایسے ہے جیسے دن میں سورج کا انکار کرے حالانکہ وہ سب کے سامنے عیاں ہے

15/05/2026

#پڑوسی صرف ساتھ رہنے والا نہیں، بلکہ اسلام میں ایک عظیم حق رکھنے والا انسان ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ شخص کامل مومن نہیں جس کی تکلیف سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ ہو۔
آئیے اپنے اخلاق، رویّے اور معاملات کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق بنائیں۔
مکمل ویڈیو دیکھیں اور دوسروں تک بھی پہنچائیں تاکہ ہمارے معاشرے میں محبت، احترام اور خیر خواہی عام ہو۔



Want your school to be the top-listed School/college in Kasur?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address

Jamia Islamia Nobvia Mir Sahab
Kasur
55050