17/08/2026
ملک کی آزادی میں دارالعلوم دیوبند کا کردار
خطابِ مستطاب: امیر الہند، صدر المدرسین، حضرت الاستاذ، مولانا سید ارشد مدنی صاحب -دامت برکاتہم-
١/ ربیع الاول ١٤٤٨ھ
١٥/ اگست ٢٠٢٦ء، ہفتہ
(*مادرِ علمی؛ دارالعلوم دیوبند* میں آزادیِ ہند کے شہیدوں اور مجاہدینِ آزادی کی یاد میں *"تقریبِ جشنِ یومِ آزادی"* کے عنوان سے ایک عظیم الشان پروگرام کا انعقاد ہوا، جس میں *"حضرت الاستاذ مولانا سید ارشد مدنی صاحب -دامت برکاتہم-"* نے کلیدی خطاب ہوا، بلاشبہ حضرت والا کی ذاتِ گرامی "تاریخِ آزادیِ ہند" کے حوالے سے ایک مستند مصدر کی حیثیت رکھتی ہے، یہ خطاب آپ کے طویل مطالعے، گہرے مشاہدے اور عمر بھر کے تجربے کا نچوڑ ہے، افادۂ عام کی غرض سے اس گراں قدر خطاب کو حتی الامکان تحریری شکل میں محفوظ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔)
الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونؤمن به، ونتوكل عليه، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا ومن سيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلله فلا هادي له، ونشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، ونشهد أن سيدنا ومولانا محمداً عبده ورسوله، أما بعد!
دارالعلوم دیوبند کے عالی قدر مہتمم صاحب، صدرِ جلسہ، اساتذۂ کرام، دارالعلوم کے طلبۂ عزیز!
آج سے ٧٩ سال پہلے ہندوستان کی آزادی اسی تاریخ کو اپنے اختتام کو پہنچی تھی، اپنے مقصد میں ہندو اور مسلمان کامیاب ہوئے تھے، اس کو یاد کرنے کا دن ہے، ۸۰ سال کا یہ پہلا دن ہے، جب ملک آزاد ہوا تھا، اس آزادی کے دن ہم اور آپ اس کی تاریخ کو بیان کرنے کے لیے یہاں بیٹھے ہیں۔
*اپنے بزرگوں کی تاریخ اور قربانیاں:*
ملک کا ہر قوم اور ہر طبقہ اپنے بزرگوں کی تاریخ کو بیان کرتا ہے، ان کی قربانیوں کو بیان کرتا ہے، ہمارا یہ فرض ہے کہ آج خاص طریقے پر ہمارے بزرگوں کی کیا تاریخ ہے؟ انہوں نے کیا کیا؟ اور اس تاریخ پر ان کو کیا ملا؟ آج وہ اس ملک کے قبرستان میں مدفون ہیں، ان میں ایسے بھی لوگ ہیں کہ جن کے خاندان میں اگر ان کے گھر کی دیوار ٹوٹ جائے تو وہ اپنے گھر کی دیوار بھی نہیں بنا سکتے تھے، میں اپنے ان بزرگوں کی تاریخ کو بڑے مختصر انداز میں صرف آپ کے سامنے بیان نہیں کرتا، بلکہ دنیا کے سامنے بیان کرتا ہوں، ان لوگوں نے ملک کی آزادی میں جیلوں کی صعوبتوں کو جھیلا ہے، انہوں نے ملک کی آزادی کے بعد اپنی ان محنتوں کا پھل پوری طرح حاصل کیا؟ ہمارے اکابر بزرگ، جو قبرستان میں موجود ہیں، کوئی مائی کا لال کہہ نہیں سکتا کہ ملک کی آزادی کے بعد ملک سے انہوں نے ایک کوڑی کا بھی فائدہ اٹھایا ہو۔
*دارالعلوم دیوبند کے قیام کا مقصد:*
میرے بھائی! یہ دارالعلوم دیوبند ہے، دارالعلوم دیوبند کی بنیاد کا مقصد ہی ملک کی آزادی تھا، آپ اگر اس کی تاریخ کو پڑھیں گے تو اس کے مطالعہ سے آپ کو یہی بات معلوم ہوگی، حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "میں جانتا ہوں حضرت نانوتوی نے دارالعلوم کو کس مقصد کے لیے آباد کیا تھا۔"؛ لیکن میں ایک بات کہتا ہوں کہ کیوں آباد کیا؟ آپ کے سامنے یہ تاریخ رہنی چاہیے، شاملی کے میدان کے اندر جو کچھ ہوا تھا، ابتداء میں ہمارے اکابر، حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجرِ مکی اور ان سے وابستہ لوگ جیتے، لیکن انگریز کے پاس اس دنیا کی ایک طاقت تھی، جس پر انگریز یہ دعویٰ کرتا تھا کہ ہماری حکومت کے اندر سورج غروب نہیں ہوتا، انجام کے اعتبار سے شکست ہوئی، ١٨٥٧ء کے اندر ناکام ہو گئے، یہ دوسرا جہاد تھا، دنیا یہ سمجھتی ہے کہ ١٨٥٧ء کا آزادیِ ملک کے لیے جہاد پہلا جہاد ہے، مگر وہ نادان ہیں، تاریخ سے ناواقف ہیں۔
*۱۸۳۱ء کا پہلا جہاد:*
پہلا جہاد ۱۸۳۱ء کا ہے، جس میں شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی کے تربیت یافتہ دو شاگرد؛ سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید شہید ہوگئے، اس کے بعد جو لوگ بچ گئے، وہ دہلی آئے اور انہوں نے ۳۱ء سے لے کر ۱٨٥۷ء تک ملک کی فضا کو بنایا، جہاد کے لیے میدان بنا کر سن ١٨٥٧ء میں ہندو اور مسلمان دونوں کو لے کر جہاد کیا۔
*۱٨٥۷ء کی جنگ اور مسلمانوں کی قربانیاں:*
اس جہاد کے اندر بھی سنبھل، مرادآباد، دہلی، میرٹھ، تھانہ بھون... ان دیہاتوں کو آگ لگا دیا گیا، یہاں کوئی مکان بھی نہیں رہ گیا تھا، اس میں ان لوگوں کو قتل کیا گیا، پھانسی کے تختے پر چڑھایا گیا، صرف دہلی کے اندر ۳۲ یا ۳۳ ہزار لوگوں کو قتل کیا گیا۔
یہ تاریخ ہے ملک کی، اور جس کے اندر سب سے بڑی طاقت مسلمانوں کی تھی، اس کے بعد ہمارے اکابر کو، حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کو جیل میں بھیج دیا گیا۔ حضرت حاجی صاحب کو ان کے شاگردوں نے چھپتے چھپاتے جہاز میں بٹھا کر مکہ معظمہ بھیج دیا، اس لیے کہ وہ بوڑھے تھے اور انگریز کے قید کی صعوبتوں کو برداشت نہیں کر سکتے تھے،
*۱۸٥۷ء کے بعد کا منظر اور دارالعلوم کا قیام:*
حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ یہیں رہے، مگر گرفتار نہیں ہوسکے۔ جب تین سال کے بعد عام معافی کا اعلان ہوا، باہر نکلے، ابھی تک دارالعلوم کا کوئی وجود نہیں تھا، تو یہ دیکھا کہ وہ ہزارہا ہزار ہندو اور مسلمان، جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی، ان کی اولاد بھیک مانگ رہی ہے، اس لیے کہ ماں اپنی عزت کو بچائے ہوئے گھر کے اندر بیٹھی ہوئی ہے، کھانے کے لیے کچھ نہیں ہے، اولاد لوگوں سے بھیک مانگ رہی ہے، کوئی دیتا ہے، کوئی نہیں دیتا ہے، تاکہ اپنے پیٹ کو پال سکے، اور کرسچن لوگ باہر نکل رہے ہیں اور ان بچوں کی ماں کے پاس جاتے ہیں کہ "اس بچے کو ہمیں دے دو۔ ہم اسے مفت کھلائیں گے، مفت پڑھائیں گے، پہننے کے لیے کپڑے دیں گے، اور اس کو ملازمت دیں گے، یہ اپنے پیٹ کو بھی پالے گا، تمہارے پیٹ کو بھی پالے گا، اپنی بہنوں کو بھی زندہ رکھے گا۔" اور وہ ماں، اپنے بیٹے کو -جس کا باپ انگریز کی دشمنی کے اندر اپنی جان دے چکا ہے- انگریز کے حوالے کرتی ہے، انگریز کا وفادار بنانے کے لیے۔
اس صورتِ حال کو دیکھ کر ان کا دل تڑپ اٹھا، اب انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہمیں ایسا ادارہ بنانا چاہیے، جس میں ہم ان بچوں کو پڑھائیں، جن کا باپ بھی مجاہد تھا، انگریز کا دشمن تھا، ہم اس کی اولاد کو بھی انگریز کا دشمن بنائیں گے۔
سن ۱٨٥۷ء کے ۹ سال کے بعد، سن ١٨٦٦ء میں دارالعلوم کی بنیاد ڈالی، اور بالکل اسی طرح "ہمیں یہ بچہ دو، ہم اس بچے کو کھانا دیں گے، پانی دیں گے، پہننے کے لیے کپڑے دیں گے، پیر میں جوتا دیں گے، اس کو پڑھائیں گے، اس کا باپ انگریز کا دشمن تھا، ہم اس کو بھی انگریز کا دشمن بنائیں گے۔"
*دارالعلوم دیوبند کا مجاہدانہ کردار:*
یہ دراصل دارالعلوم کی تاریخ ہے، جس میں دارالعلوم کی بنیاد رکھی گئی، اور بالکل اسی طرح، کوئی تعلق اس کا دنیا سے نہیں ہے، "ہمیں بچہ دو، مجاہد کی اولاد کو ہم مجاہد بنائیں گے۔"
آج دنیا یہ سمجھتی ہے کہ دارالعلوم دیوبند صرف پڑھانے کی درسگاہ ہے، نہیں! تم اس کردار کو نہیں پیش کرسکتے جس کردار کو ہمارے بزرگوں نے پیش کیا ہے۔
*دارالعلوم کے مجاہدینِ آزادی:*
یہیں سے شیخ الہند پیدا ہوئے، یہیں سے مفتی کفایت اللہ پیدا ہوئے، یہیں سے حسین احمد مدنی پیدا ہوئے، یہیں سے حفظ الرحمن پیدا ہوئے، وہ لوگ جنہوں نے اپنی جانیں قربان کیں، آج قبرستان جا کر دیکھو تو دنیا جانتی ہے، بدقسمتی ہے مسلمان نہیں جانتا کہ اس کے پاس اپنی کیا تاریخ ہے۔
*دارالعلوم دیوبند پر ہونے والے اعتراضات کا جواب:*
آج یہ آوازیں دنیا کے اندر اٹھتی ہیں کہ دارالعلوم دیوبند کے اندر شیو لنک ہے، ارے پاگل! عقل و فہم سے مجنون! تم دارالعلوم کے بارے میں کیا معلوم ہے، اگر تم نے ماں کا دودھ پیا ہے، تو دارالعلوم کی تاریخ کو اٹھا کر دیکھو!
کیا ہے دارالعلوم؟ تم کیا جانو دارالعلوم کس چیز کا نام ہے؟ اگر دارالعلوم نہ ہوتا، تو ملک کی آزادی کے اندر وہ نہ ہوتے۔
حضرت شیخ الہند رحمتہ اللہ علیہ نے ملک سے باہر نکل کر کے افغانستان کے اندر آزاد حکومت قائم کی، ان کے ذہن کے اندر یہ بات نہیں تھی کہ ملک کے اندر حکومت مسلمان کی ہو، سنو اس بات کو مولانا عبید اللہ سندھی، مولانا برکت اللہ بھوپالی، اگرچہ یہ لوگ اس حکومت کی بنیاد تھے، لیکن اس کا صدر راجہ مہندر پرتاپ سنگھ کو بنایا تھا، اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک کے اندر مسلم حکومت نہیں بنانا چاہتے تھے، ملک کے اندر ملک کے رہنے والے ہندو اور مسلمانوں کی ملی جلی حکومت بنانا چاہتے تھے، انہوں نے جس سیکولرازم کے خواب کو دیکھا تھا، آج ملک کے اندر فرقہ پرست طاقتیں سیکولرازم کے لفظ کو ملک کے دستور سے نکال کر کے پھینکنا چاہتی ہے، ہمارے اکابر نے ملک کے اندر سیکولرازم کا تصور دیا ہے، کون مائی کا لال ہے جو اس تاریخ کا مقابلہ کر لے؟ یا اس کو رد کر دے؟ کوئی نہیں کر سکتا، انکار نہیں کر سکتا، یہ تھی ہماری تاریخ۔
*شیخ الہند کی گرفتاری اور مالٹا کی اسیری:*
حضرت شیخ الہند رحمتہ اللہ علیہ جب سعودی عرب کے علاقہ طائف سے گرفتار کر کے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مصر بھیجے گئے، اور مصر سے لے جا کر ان کو مالٹا کی جیل کے اندر بھیج دیا گیا، کانگریس کے لوگ جانتے تھے ان کی اس تاریخ کو، کوئی اور مائی کا لال اس ملک کے اندر نہیں ہے جس نے ملک کی آزادی کے لیے یہ قربانی دی ہو کہ سات سمندر پار چار سال اس نے انگریز کی قید با مشقت کو کاٹا ہے، اگر کاٹا ہے تو دارالعلوم کے طالب علم نے کاٹا ہے۔
*مالٹا میں دارالعلوم کے پانچ طالب علم:*
پانچ طالب علم ہیں؛ شیخ الہند رحمتہ اللہ علیہ دارالعلوم کے طالب علم ہیں، ان کے چار شاگرد ہیں - حضرت مدنی ہیں، مولانا عزیر گل ہیں، میرے تایا زاد بھائی مولانا وحید احمد ہیں، اور اس کے ساتھ ایک غازی پور کے تھے حکیم نصرت حسین، وہ بھی دارالعلوم کے طالب علم تھے، حکیم نصرت حسین غازی پوری وہیں انتقال ہوگیا تھا، جب بیمار ہوئے تو یہ بات طے ہو گئی کہ اب یہ نہیں بچ سکتے، تو سنو! انگریز نے کہا کہ ہم آپ کو اجازت دیتے ہیں، آپ چاہیں تو ہندوستان چلے جائیں، کہا: "نہیں! میں مالٹا میں آیا ہوں، مرنے کے لیے آیا ہوں، میں یہاں مرجاؤں گا لیکن ہندوستان نہیں جاؤں گا۔" یہ ملک کی تاریخ ہے! ان کی قبر ہے مالٹا کے اندر، کوئی مائی کا لال ہے جو یہ بتائے کہ اس کی تاریخ کیا ہے؟
*مجاہدینِ آزادی کو پیدا کرنا "دارالعلوم" کا اولین مقصد تھا:*
دارالعلوم دیوبند کی تاریخ یہ ہے، حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بزرگوں نے دار العلوم دیوبند کو مجاہدینِ آزادیِ ہند پیدا کرنے کے لیے بنایا تھا، حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی بنیاد رکھی، اپنے استاد سے جس طرح علوم وفنون کو لیا اسی طرح آزادیِ ملک کا تصور جو انہوں نے بویا تھا، اس کو بھی لے کر چلے ہیں اور کبھی چین وسکون کے ساتھ نہیں بیٹھے، ان کے دل کے اندر جس طرح کی انگریز دشمنی تھی، کسی دوسرے کے دل کے اندر ایسی انگریز دشمنی نہیں۔
*شیخ الہند کی انگریز دشمنی:*
مسٹر مسکن جو یوپی کا اس وقت عہديدار تھا، انگریز گورنر تھا، وہ کہا کرتا تھا کہ "شیخ الہند کو اگر جلا کر راکھ کر دیا جائے گا، تو اس کی راکھ سے بھی انگریز کی دشمنی کی بو آئے گی۔" یہ دار العلوم کا کردار ہے! کون مائی کا لال ہے جو اس تاریخ کا انکار کرے؟ یہ ہے دارالعلوم!
*مالٹا سے واپسی اور آزادی کا عزم:*
جب حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ مالٹا کی جیل سے واپس آئے اور جہاز بمبئی کی گودی کے قریب پہنچا، خبر یہ تھی کہ جب وہ جہاز پہنچ جائے، انگریز نے بہاولپور ریاست -آج وہ پاکستان کے اندر ہے، اس وقت ہندوستان کا حصہ تھا- کے نواب سر رحیم بخش مرحوم -یہ انگریز کے کرتے دھرتے تھے، اور انگریز نے ان کو "سر" کا خطاب دیا تھا- کو بھیجا، انہوں نے جاکر کے حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ سے یہ فرمایا:
"حضرت! آپ چلے گئے جب کہ آپ لوگوں کو ذکر واذکار کی درسگاہیں بخشتے تھے، لوگوں کو بیعت وارشاد سے منسلک کرتے تھے، وہ جگہیں خالی ہوگئی ہیں، آپ نے سب کچھ کیا لیکن انگریز وہیں بیٹھا ہوا ہے، اب آپ آئے ہیں، تو آپ اب بیٹھ جائیے، دار العلوم کی مسند کو زندہ کیجیے، آباد کیجیے، اور جو بیعت وارشاد کا سلسلہ خالی ہوگیا ہے، اب اس بیعت وارشاد کے سلسلے کو جاری فرماییے، اس سے مسلمانوں کو ایک بڑا سہارا مل جائے گا۔"، حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ خاموشی کے ساتھ سنتے رہے، جب ان کی بات ختم ہوگئی، تب آپ نے جواب دیا، ض فرمایا کہ: "میں بوڑھا ہوگیا ہوں، لیکن میں آپ سے کہتا ہوں کہ جس ہندوستان کے اندر انگریز کی حکومت ہے، میں اس ہندوستان میں مالٹا سے آیا ہوں، اس سرزمین کے اندر جینا تو جینا، مجھے انگریز کی حکومت میں مرنا بھی گوارا نہیں ہے، میں تو صرف اس لیے آیا ہوں کہ میں دنیا کو یہ پیغام دوں کہ انگریز کی غلامی حرام ہے، میں بوڑھا ہوگیا، اگر میرے اندر چلنے پھرنے کی طاقت نہیں رہی، تو میں اپنے شاگردوں سے کہوں گا کہ میں ایک پلنگ کے اوپر لیٹ جاؤں، وہ اپنے کاندھوں پر میرا پلنگ اٹھا کر کے گاؤں گاؤں جائیں، اور میں ہر گاؤں میں جا کر یہ اعلان کروں کہ انگریز کی غلامی حرام ہے، میں ہندوستان اسی لیے آیا ہوں" کون مائی کا لال ہے جو اس تاریخ کو بتلا سکتا ہے؟
*حضرت شیخ الہند اور جمعیت علماء کی صدارت:*
آپ وہیں رہے، جمیعت علماء ہند کا پہلا اور مستقل صدر حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کو بنایا گیا، اس سے پہلے مفتی کفایت اللہ تھے، اور یہ بات لکھی ہوئی تھی کہ وہ مستقل نہیں ہیں، حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ آئیں گے، وہ مستقل صدر بنیں گے، جمیعت کا سب سے پہلا اجلاس ان کے آنے کے بعد دہلی میں ہے، اس کے ۱۲ دن بعد حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کا انتقال ہوگیا، صدارتی خطاب خود حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ اپنی بیماری اور کمزوری کی وجہ سے نہیں پڑھ سکے، مولانا شبیر احمد صاحب عثمانی کو یہ ذمہ داری دی گئ، انہوں نے اس کو پڑھا، یہ حضرت شیخ الہند کی تاریخ ہے! میرے بھائی! اس تاریخ کو کون جھٹلاۓ گا؟
*حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کا عزم:*
پھر حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد یہاں آئے، میں نے اپنے والدِ محترم حضرت مولانا حسین احمد مدنی سے سنا ہے کہ: "میرا پروگرام یہ تھا کہ میں مالٹا سے ہندوستان جاؤں گا، میرے مالٹا کے زمانے میں ہی میرے والد، میری والدہ میری بیوی کا انتقال ہوگیا تھا، میں جا کر کے کم از کم ان کی تعزیت لے لوں، مگر حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ یہاں آنے کے بعد انتقال ہوگیا، تو میں نے طے کر لیا کہ جو ان کا مقصد تھا، جب تک ملک آزاد نہیں ہوگا، میں بھی یہی رہوں گا، میں نہیں جاؤں گا، ملک آزاد ہوگا تبھی میں اس ملک میں جاؤں گا۔"
*ہمارے اکابر نے ملک کا استحصال نہیں کیا:*
یہ وہ لوگ تھے جو دار العلوم کی اسی چار دیواری کے اندر اپنی زندگی میں جو حاصل کیا تھا، وہ ملک کی آزادی کے لیے تھا، ملک سے حاصل کرنے کے لیے نہیں تھا، شیخ الہند چلے گئے، انہوں نے کچھ نہیں حاصل کیا، حسین احمد مدنی چلے گئے، کچھ نہیں حاصل کیا، سب چلے گئے، میں اپنے سامنے جانے والوں کو دیکھ چکا ہوں، انہوں نے کچھ نہیں لیا!
کیا چیز تھی؟ اس لیے کہ انہوں نے جو کچھ کیا تھا، شیخ الہند کی تحریک سے کیا تھا، ملک کے لیے کیا تھا، ملک سے حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا تھا، یہ دار العلوم کی تاریخ ہے! میرے بھائی! اس تاریخ کو ذہن میں رکھنا چاہیے، یاد رکھنا چاہیے! دنیا اس تاریخ کو بھلا دے گی، یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ آج ملک کے اندر جن کے پاس طاقت اور حکومت ہے، وہ مسلمان جس کی تاریخ یہ ہے جس کو میں نے آپ کے سامنے بیان کیا، اس مسلمان کو دہشت گرد بتاتی ہے، آج میں نے اخبار کے اندر دیکھا، اس کے اندر کہتے ہیں کہ ۸۰ فیصد مسلمان ملک کے اندر دہشت گرد ہیں، ارے پاگل! تم نے ملک کی تاریخ کو کیا جانا ہے؟ وہ مسلمان جس کی تاریخ یہ ہے، وہ اس ملک کا دشمن اور دہشت گرد ہوگا؟ جس کو چاہتے ہو پکڑ کر جس طرح چاہو جیلوں کے اندر بند کرتے ہو، تمہاری دہشت گردی چل رہی ہے! صرف طاقتیں دہشت گرد بنی ہوئی ہیں۔
*ہندوستان میں مسلمانوں کی تاریخ:*
ہندوستان کے اندر مسلمان کی تاریخ یہ ہے، جس کو دیکھنا ہے وہ آئے اور دار العلوم کے صفحات کو دیکھے! اس کی تاریخ کو پڑھے، اور دیکھے کہ مسلمان اور ان کے باپ دادا کس طرح ملک کی آزادی کے لیے قربانی دینے والے تھے، جنہوں نے ایک پیسہ بھی ملک سے نہیں لیا ہے، آج کی جو صورتِ حال میں اس کو سمجھنا چاہیے!
جب ملک آزاد ہوا، تو ملک کی دستور ساز کمیٹی تھی، مولانا حفظ الرحمن صاحب (فاضل دارالعلوم دیوبند، جنرل سکریٹری جمیعت علماء ہند) مولانا ابوالکلام آزاد اگرچہ یہ دارالعلوم کے پڑھے ہوئے نہیں تھے، مگر جمیعت علماء ہند کی ورکنگ کمیٹی کے ممبر تھے، ملک کی دستور ساز کمیٹی کے یہ دونوں ممبر تھے، جیسے جیسے ملک کی آزادی قریب آتی رہی، یہ لوگ سمجھتے تھے کہ یہ کیا ہورہا ہے۔
*سیکولر دستور اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ میں جمیعت علماء کا کردار:*
جمیعت علماء برابر جواہر لال نہرو اور گاندھی سے، برابر یہ عہد لیتی چلی آئی تھی کہ ملک آزاد ہوگا تو ملک کا دستور سیکولر دستور بنے گا، جس کے اندر مسلمان کو اپنے مذہب کے ساتھ زندہ رہنے کا حق ہوگا! اور برابر ورکنگ کمیٹی یہ عہد لتی چلی آئی ہے کہ ملک کے اندر ہندوستان میں جو گورنمنٹ بنے گی، تو اس کا دستور سیکولر ہوگا، ہندوستان کے اندر اقلیتیں اور خاص طور پر مسلم اقلیت اپنے مذہب کے ساتھ زندہ رہے گی۔
*کانگریس کا اقلیتوں کے حقوق کا اعلان:*
میں آپ کو اس زمانے کی ایک چیز جو حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے قلم سے لکھی ہوئی ہے، میں آپ کو پڑھ کر سناتا ہوں، آپ اس کو سنیں:
ہری پور ضلع سورت کا اجلاسِ عام، منعقدہ ۱۹، ۲۰، ۲۱ فروری میں، اس تجویز کو درجِ ذیل الفاظ میں پاس کیا گیا ہے کانگریس کے اجلاس میں:
" اکتوبر ۱۹۳۷ء میں کانگریس کی ورکنگ کمیٹی نے کلکتے کی میٹنگ میں اقلیتوں کے حقوق پر جو تجویز پاس کی تھی، اسے کانگریس منظور کرتی ہے، اور نئے سرے سے یہ اعلان کرتی ہے کہ ہندوستان کی اقلیتوں کے تمدنی، مذہبی اور لسانی حقوق کی حفاظت کرنا کانگریس کا پہلا فرض اور بنیادی پالیسی ہے۔"
*مذہبی حقوق کے تحفظ کی یقین دہانی:*
پھر پڑھیے اس لفظ کو!
"کانگریس اعلان کرتی ہے کہ ہندوستان کی اقلیتوں کے تمدنی، مذہبی اور لسانی حقوق کی حفاظت کرنا کانگریس کا پہلا فرض اور بنیادی پالیسی ہے، تاکہ حکومت کی کسی بھی ایسی اسکیم میں جس میں کانگریس شریک ہو، اقلیتوں کو ترقی اور نشو ونما کا زیادہ سے زیادہ موقع مل سکے، اور وہ قوم کی سیاسی، اقتصادی اور معاشرتی زندگی میں پورا پورا حصہ لے سکیں"
آپ نے سنا؟ اب اس کے بعد سنیے:
"بنا بریں اس بنیاد پر مسلمانوں کو مطمئن رہنا چاہیے کہ آزاد ہندوستان کی حکومت میں ان کا مذہب اور مذہبی فرائض؛ اذان، نماز، جمعہ، عید، روزہ، حج، زکوٰۃ، مذہبی تبلیغ، مساجد، مقابر، قربانی، مذہبی جلوس، مذہبی جلسے وغیرہ جملہ مذہبی رسوم اور مذہبی ادارے محفوظ ہوں گے۔"
*تہذیبی، تعلیمی اور مذہبی اداروں کے تحفظ کی ضمانت:*
اسی طرح ابھی اور سنیے:
"اور اسی طرح ان کی تہذیب، ان کا تمدن، ان کے تعلیمی ادارے، خانقاہیں، امام باڑے، عیدگاہیں، تکیے، کربلائیں، آثارِ قدیمہ، اوقاف وغیرہ سب محفوظ ہوں گے۔"
اور سنیے:
اور اسی طرح ان کی زبان، ان کی شاعری، رسم الخط وغیرہ سب کے سب آزاد اور محفوظ ہوں گے، کسی پر کوئی روک ٹوک نہ ہوگی۔
*موجودہ حکومت اور مسلمانوں کے حقوق:*
آج موجودہ حکومت کے اندر جو اس وقت کانگریس کی طرف سے جو پالیسی اختیار کی گئی تھی آج دوسری پارٹیوں کی پالیسی کیا ہے؟ کیا ہماری مسجدیں محفوظ ہیں؟ مدرسے محفوظ ہیں؟ خانقاہیں محفوظ ہیں؟ مسلمان محفوظ ہیں؟ ہر مسلمان کو دہشت گردی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
میرے بھائی! یہ میری اور آپ کی، اور میرے اور آپ کے بزرگوں کی تاریخ ہے، آپ اس تاریخ کو پڑھیے، دنیا اس تاریخ سے ناواقف ہے۔
*آزادی کے بعد مسلمانوں کے خلاف فسادات:*
میں یہ کہتا ہوں، جب ملک آزاد ہوگیا، ملک کے اندر مسلمانوں کے خلاف فسادات کے سلسلے شروع ہوگئے، ہندوؤں کے خلاف فسادات نہیں ہوئے، ہندوؤں کے خلاف فسادات نہیں ہوئے، کچھ اکا دکا فسادات کرسچنوں کے خلاف ہوئے، لیکن فسادات کے اندر جو جانیں گئیں ٩٨ فیصد فسادات اسی قوم کے لیے ہوۓ جنہوں نے اس ملک کو آزاد کرایا۔
*مسلمانوں کی قربانیوں کی تاریخ:*
میں آپ سے نہیں کہہ رہا ہوں، میں ساری دنیا سے کہہ رہا ہوں کہ مسلمانوں کی اس تاریخ کے مقابلے میں اگر مائی کا لال ہے تو اپنی تاریخ کو پیش کرے، حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی زبانی ہم نے گھر میں سنا ہے کہ جب حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ قیام گاہ پر جہاز سے اتر کر آئے، تو ان کو لینے کے لیے مہاتما گاندھی اور اس زمانے کے جو بڑے بڑے لوگ تھے، سب حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کے قدموں میں گررہے تھے، سہارن پور اور بمبئی کے اندر، کہ دونوں طرف تمام گھروں کی چھتیں، ہندو اور مسلم عورتوں اور بچوں سے بھری ہوئی تھیں، دیکھ رہے تھے کہ یہ عالم کون ہے جس نے ملک کی آزادی کے لیے اتنی صعوبتیں برداشت کیں۔
*شیخ الہند کا تاریخی استقبال:*
جب وہ تشریف لائے ہیں، اور پہلی مرتبہ دیوبند سے مرادآباد گئے ہیں، تو مولانا کو پالکی کے اوپر بیٹھا کر کے اسٹیشن سے ان کو لے جایا گیا، ہندو اور مسلمان پالکی کو کھینچ رہے تھے، گھوڑے نہیں کھینچ رہے تھے، یہ ملک کی تاریخ تھی، آپ کے بزرگوں کی تاریخ ہے، اس سہارنپور کے پڑھے ہوئے لوگوں کی تاریخ ہے۔
*دارالعلوم دیوبند کی خدمات اور موجودہ اعتراضات:*
ارے پاگل! انسانیت کے دشمن! یہ دیوبند نے اس ملک کے لیے یہ کیا ہے، آج تم دیوبند سے پڑھنے والوں کو دہشت گرد کہتے ہو؟ تمہاری عقلوں کے اوپر پردہ پڑ گیا ہے، اور ان پر اللہ کا غضب ہو رہا ہے، یہ آپ کی تاریخ ہے۔
*ہندوستانی مدارس اور دارالعلوم دیوبند:*
وقت بہت ہوگیا ہے، میں ایک بات اور بھی بتاتا ہوں، یہ حقیقت ہے کہ ملک کی موجودہ صورت حال کے اندر ایک ایک مسلمان کا یہ کردار ہے، دوسرے ہندوستان کے اندر ٩٩ فیصد جو مدرسے ہیں وہ سب دارالعلوم کی شاخیں ہیں، یہی کے پڑھے ہوئے لوگوں نے ان مدرسوں کی بنیاد رکھی ہے، جن مدرسوں کے اوپر تم بلڈوزر چلا رہے ہو، جن مسجدوں پر بلڈوزر چلا رہے ہو۔
*اخوت ومحبت اور ہندو مسلم اتحاد:*
میں کہتا ہوں کہ وہ اسی دارالعلوم کی شاخیں ہیں، اس کی بنیاد یہی ہے کہ ہندوستان کے اندر اخوت ومحبت، ہندو مسلم اتحاد ہے، میں ان لوگوں کو جانتا ہوں، میں نے دیکھا ہے، سہارنپور کی جیل میں حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس لوگ آیا کرتے تھے، اور روزانہ ہندو مسلم سب آیا کرتے تھے، ایک ہندو آتے تھے، چند دنوں کے بعد انہوں نے آنا چھوڑ دیا، حضرت نے کسی اور ہندو سے فرمایا کہ: 'فلان صاحب کہاں چلے گئے؟ آ نہیں رہے ہیں، کیا طبیعت خراب ہے؟ اگر ہے تو میں جاؤں دیکھنے کے لیے؟ چناں چہ وہ گئے اور آکر کے حضرت سے فرمایا: "طبیعت ٹھیک ہے ان کی۔" اگلے دن وہ آگئے پھر حضرت کی مجلس میں، حضرت نے فرمایا: "کیا بات ہے؟ کیوں نہیں آتے آپ؟ ان سے کچھ کہا؟" بولے: "مولانا! میں آپ کی مجلس میں نہیں بیٹھوں گا، مجھے یہ خطرہ ہے اگر میں بیٹھا کروں گا تو میں اپنے مذہب کو چھوڑ کر اسلام مذہب کو اختیار کرلوں گا، اور میں اپنے مذہب کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔"
یہ آپ کی تاریخ ہے! بھائی چارے کی تاریخ ہے! پیار ومحبت کی تاریخ ہے! آج کی حکومت کی بنیاد نفرت کے اوپر قائم ہے، یہ ملک کی بنیادی پتھر اور اس بھائی چارے کی تاریخ سے بالکل الگ ہے۔
*اسلام کو مٹانے کی کوششیں اور گھر واپسی کا نعرہ:*
میں کہہ رہا ہوں اس بات کو، اور کیا ہو رہا ہے ہندوستان کے اندر؟ آپ اسلام کو مٹانا نہیں چاہتے ہیں؟ اسلام کی تاریخ کو مٹانا چاہتے ہیں؟ مسلمان کو گھر واپسی کے پروگرام کے اندر داخل کر کے ہندو بنانا نہیں چاہتے ہیں؟ یہ پیار و محبت کی تاریخ نہیں ہے، یہ نفرت کی تاریخ ہے، جس کو آپ بڑھانا چاہتے ہیں، ہم اس کے خلاف ہیں، آپ اس تاریخ کو دیکھیے کہ کتنے دن چلا سکتے ہیں، یہ تاریخ ہے اسلام کی، جو آج کی تاریخ نہیں ہے، اسلام کی ١٤٠٠ سال کی تاریخ ہے۔
*مکہ مکرمہ کی آزمائشیں:*
پہلے بھی جب لوگوں کو طاقت ملی ہے، مکے کی زندگی کے اندر، مکہ آپ کا مخالف ہوگیا، تیرہ سال وہاں گذارا، جب یہ زمین اتنی تنگ ہوگئی کہ فیصلہ کرلیا گیا کہ آج گھر سے نکلیں محمد علیہ الصلوۃ والسلام کو قتل کر دو، اللہ نے انہی کے درمیان سے نکالا، ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر گئے، وہاں سے دونوں کے دونوں غار میں آکر چھپ گئے، اور وہاں سے اٹھے اور اس کے بعد مدینہ منورہ چلے آئے، یہ اسلام کی تاریخ ہے۔
*مدینہ منورہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلّم کے خلاف سازشیں:*
مکہ معظمہ کے اندر سے آئے مدینہ منورہ، آپ کو زہر دیا گیا، جادو کیا گیا، آپ کے اوپر سے پتھر ڈھال کر، یہودیوں نے آپ کو قتل کرنا چاہا، یہ تمام چیزیں، اور جنگ پر جنگ ہوتی رہیں، لیکن مسلمان زندہ ہیں، اور جو لوگ مسلمان کو فنا کرنا چاہتے تھے، اللہ نے ان کو فنا کر دیا، مکہ فتح ہوگیا۔
*اسلام کا دوام اور مخالف طاقتوں کا زوال:*
اس زمانے سے لے کر آج تک، اسلام کے خلاف سازشیں چل رہی ہیں، ہر طاقت ختم ہوئی ہے، اسلام اپنی جگہ پر قائم ہے، مسلمان بھی زندہ ہے.
*روسی کمیونزم اور مسلمانوں کی تاریخ:*
اور آپ قریب میں دیکھیے، یہ رشیا ہے، بڑا ایٹم بم ہے اس کے پاس، ٧٠ - ٨٠ سال تک حکومت کی، یہ جو مسلمان ممالک ہیں، یہ سب روس کی حکومت میں تھے، آج سے ٨٠ - ٩٠ سال پہلے کمیونزم آیا تھا، وہاں کے مسلمانوں کو جیلوں میں بھر کے گولیوں سے بھون دیا گیا تھا، مسجدوں اور مدرسوں کو گودام بنا دیا گیا تھا، مسجدوں کے اندر اذان کی آواز بند ہوگئی،
*کمیونزم کا خاتمہ:*
لیکن وہی کمیونزم پانی کے حباب اور بلبلے کی طرح ختم ہوگیا، اور تمام مسلم ریاستیں قائم ہوگئیں، تمام ممالک آزاد ہو گئے، میں گیا ہوں، جن مسجدوں کو گودام بنا دیا گیا تھا، آج ان مسجدوں سے پانچ وقت کی آواز "اللہ اکبر، اللہ اکبر" کی پھر آ رہی ہے، اور آج دنیا کے مسجد میں روس کا صدر جا کر کے قرآن کو اٹھا کر کے اپنے آگے اپنے سینے سے لگایا اور دنیا اس کی تصویر کو دیکھتی ہے۔
*نورِ اسلامی کی بقا:*
میں کہتا ہوں کہ جن طاقتوں نے اسلام اور مسلمانوں کو مٹانا چاہا، اللہ کا وعدہ ہے:
"يريدون أن يطفئوا نور الله بأفواههم ويأبى الله إلا أن يتم نوره ولو كره الكافرون"
سب طاقتیں مٹ گئیں، اسلام تو اپنی جگہ پر زندہ ہے، اور میرا یہ ایمان ہے، میرا دعویٰ ہے کہ قیامت کے قریب تک اسلام اسی طرح زندہ رہے گا، جو طاقتیں آج ابھر رہی ہیں اور اسلام کو مٹانا چاہتی ہیں، انشاء اللہ وہ طاقتیں مٹ جائیں گی، اسلام زندہ رہے گا۔
*گھر واپسی کے بجائے پیار ومحبت:*
میرے بھائی! میں پھر کہتا ہوں کہ گھر واپسی کے پروگرام کو ختم کرو، پیار اور محبت کی زندگی کو پھر ابھارو، اس تاریخ کو زندہ کرو، ملک بھی زندہ رہے گا، ملک میں بسنے والے بھی زندہ رہیں گے، اور اگر تم اس کے خلاف چلو گے تو میرا ایمان اور عقیدہ ہے کہ اللہ کا یہ فیصلہ ہے کہ اسلام کو زندہ رکھنا ہے، اسلام زندہ رہا ہے، اسلام زندہ ہے، اسلام انشاء اللہ زندہ رہے گا۔
*ہماری تاریخ کو زندہ رکھنے کا عزم:*
میرے بھائی! یہ تاریخ ہے ہماری اور آپ کی، ہم اس تاریخ کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری یہ تاریخ انشاء اللہ، اللہ چاہے گا تو زندہ رہے گی۔
*اسلام کی ابدیت اور اقبال کا شعر:*
اقبال نے جس شعر کو پڑھا تھا، میں اس شعر کو پڑھتا ہوں
کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری! کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری، صدیوں رہا ہے دشمن دورِ زمان ہمارا۔
اس وقت سے لے کر آج تک دشمن رہا ہے، اقبال صحیح کہتے ہیں، کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری، بات کیا ہے؟ اللہ کا وہ وعدہ ہے جو قرآن کے اندر کیا ہے: "يريدون ليطفئوا نور الله بأفواههم والله متم نُورِهِ"، اللہ اپنے اس نور کو یعنی اسلام کو پورا کر کے رہے گا، اور یہ ہمارا عقیدہ ہے، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب قربِ قیامت ہوگا اور دنیا میں اللہ اللہ کہنے والا کوئی بھی زمین میں نہیں رہے گا، تو ان لوگوں کے اوپر قیامت آئے گی۔
*ملک میں پیار ومحبت کو فروغ دیں:*
ہم پیار اور محبت کی اس تاریخ کو ملک میں زندہ رکھنا چاہتے ہیں، یہ ہماری تمنا ہے، ہم ملک میں فساد نہیں چاہتے،
ٹھیک ہے؟ اسکول، کالج اور یونیورسٹیوں کے طلبہ جمع ہوتے ہیں تو آپ کے پہلو بدلنے لگتے ہیں، ہم یہ سب کچھ نہیں چاہتے، ہم دنیا کو امن کا پیغام دیتے ہیں، طلبہ کو پیار اور محبت سکھاتے ہیں، ہمارے طلبہ کبھی اس طرح کی چیزوں کے اندر دخل نہیں دیتے ہیں، پھر بھی ہمیں دہشت گرد بتایا جاتا ہے، جھوٹ ہے، جھوٹ ہے، جھوٹ ہے!
*حب الوطنی اور ہندی مسلمان:*
دہشت گرد مسلمان کو وہ محبت ہے اپنے ملک سے جو میں نے آپ کے سامنے پیش کیا ہے، دنیا کے لیے نہیں، حکومت کرنے کے لیے نہیں، ہم تو صرف ملک کے واسی ہیں، رہنے والے ہیں، ہم اس ملک کو زندہ رکھنے کے لیے کرتے ہیں، جو بھی کرتے ہیں پیار اور محبت کو زندہ رکھنے کے لیے کرتے ہیں، کرتے چلے آئے ہیں اور کرتے رہیں گے، ہم مرجائیں گے، ہماری اولاد انشاء اللہ کرتی رہے گی، ملک ہمارا ہے اور یہ زندہ رہا ہے، زندہ ہے اور انشاء اللہ پیار اور محبت کے ساتھ زندہ رہے گا۔
*یومِ آزادی کی مبارکبادی اور اختتامی کلمات:*
میں آج کے دن میں پھر آپ کو مبارکباد دیتا ہوں اور میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ ہمارے اس ملک کی وہ پرانی پیار اور محبت کی جو تاریخ رہی ہے، اللہ اس تاریخ کو زندہ رکھے اور ملک کے اندر پیار اور محبت کی تاریخ کا نشو ونما ہو، آگے بڑھیں اور اسی تاریخ کی زندگی کے ساتھ آگے بڑھیں۔
اللہ تعالی خیرات و برکات سے نوازے، دارالعلوم کی بھی اللہ حفاظت فرمائے اور دارالعلوم کو جس مقصد کے لیے قائم کیا گیا تھا اللہ اس مقصد کے اندر کامیابی اور کامرانی دارالعلوم کو، دارالعلوم سے وابستہ لوگوں کو، دارالعلوم کی خدمت کرنے والوں کو، دارالعلوم میں پڑھنے والوں کو، سب کو اسی نقطے کے اوپر پیار اور محبت کے اللہ قائم و دائم رکھے، اور پیار و محبت کے لیے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين۔