12/05/2026
it's just a broken heart
"I'm alright, it's alright / It's just a broken heart." #zindagi #theartofgoodness #pain #heartful
Jab insan andar se toot jata hai,to phir woh kisi bhi mahol meinkhush nahi reh pata,chahe uske aas paasuski diljui karne walekitne hi log maujood hon. ...
13/03/2026
انڈیا کی انتہائی شمال مشرقی ریاست منی پور میں نسلی کشیدگی اور تنازعات
تنازعات اور کشیدگی کے درمیان پھنسی ہوئی ایک برادری ایسی بھی ہے جس کی آواز بہت کم سنائی دیتی ہے۔ یہ میتی پانگل مسلمان ہیں جو صدیوں پہلے منی پور آئے اور وہیں آباد ہو گئے۔ منی پور میں اس تیسری برادری کی موجودہ صورت حال کیا ہے، جو میتی اور کوکی برادریوں کے درمیان جاری تنازعے کے بیچ پھنسی ہوئی ہے؟
منی پور میں میتی پانگل مسلمانوں کی آمد کی تاریخ
میتی پانگل مسلمانوں کی منی پور آمد کے بارے میں مؤرخین میں کچھ اختلاف پایا جاتا ہے، تاہم 1606ء کو اس حوالے سے ایک اہم اور نسبتاً متفقہ تاریخ تسلیم کیا جاتا ہے ۔
اس وقت کی سب سے معروف داستان منی پور کے شہزادہ سانونگبا سے منسلک ہے۔ شہزادہ سانونگبا اپنے بھائی بادشاہ کھاگیمبا کے خلاف جنگ میں مدد لینے کے لیے کاچار کے راجہ کے پاس گیا۔ کاچار کا راجہ بادشاہ کھاگیمبا کی فوجی طاقت سے خائف تھا، اس لیے اس نے سلہٹ کے علاقے تارَف (موجودہ بنگلہ دیش) کے مسلمان نواب محمد نذیر سے مدد طلب کی ۔
محمد نذیر نے اپنے بھائی محمد ثانی کی قیادت میں ایک ہزار سپاہی منی پور روانہ کیے ۔ اگرچہ ابتدائی جھڑپوں میں بادشاہ کھاگیمبا کو فتح ہوئی اور اس نے محمد ثانی اور اس کے سپاہیوں کو قید کر لیا، لیکن بعد میں جب برمی فوجوں نے منی پور پر حملہ کیا تو بادشاہ کھاگیمبا نے انہی مسلمان سپاہیوں سے مدد طلب کی۔ ان سپاہیوں نے نہ صرف یہ درخواست قبول کی بلکہ میتی فوج کے شانہ بشانہ جنگ لڑی اور فتح حاصل کی ۔
بادشاہ کھاگیمبا ان کی بہادری سے اتنا متاثر ہوا کہ اس نے انہیں منی پور کی وادی میں آباد ہونے کی اجازت دے دی اور میتی زبان میں لفظ "پانگل" (جس کے معنی طاقت یا مضبوط کے ہیں) سے نوازا ۔ وقت گزرنے کے ساتھ، ان سپاہیوں نے مقامی میتی خواتین سے شادیاں کیں، میتی زبان اور ثقافت کو اپنایا اور میتی پانگل برادری کی بنیاد رکھی ۔
میتی مسلمان پانگل برادری کی موجودہ صورت حال
آج میتی مسلمان پانگل منی پور کے معاشی اور سماجی دھارے کا ایک اہم حصہ ہیں۔
· آبادی: 2011 کی مردم شماری کے مطابق، منی پور میں ان کی آبادی تقریباً 240,000 ہے جو ریاست کی کل آبادی کا 8.4 فیصد بنتی ہے ۔ یہ برادری زیادہ تر امپھال وادی اور اس کے گردونواح میں دریاؤں، جھیلوں اور پہاڑی دامنوں کے قریب آباد ہے ۔
· زبان اور ثقافت: ان کی مادری زبان میتی ہے اور انہوں نے میتی لباس اور رسم و رواج کو اپنایا ہے، البتہ اپنی اسلامی شناخت کو برقرار رکھا ہے ۔
· معاشی کردار: میتی مسلمان پانگل برادری منی پور کی معیشت میں خاص طور پر نقل و حمل کے شعبے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ حالیہ تنازعے کے دوران، پانگل ڈرائیور امپھال وادی اور پہاڑی اضلاع کے درمیان اشیاء اور لوگوں کی نقل و حرکت کو یقینی بنانے والی اہم کڑی رہے ہیں، جس کی وجہ سے منی پور کی معیشت کو مکمل طور پر منہدم ہونے سے بچایا جا سکا ہے ۔
میتی اور کوکی کشیدگی میں ایک تیسری برادری کا المیہ
میتی مسلمان پانگل برادری میتی اور کوکی برادریوں کے درمیان جاری تلخ تنازعے کی سب سے بڑی شکار ہے۔ ان کی صورت حال انتہائی نازک ہے کیونکہ وہ نسلی طور پر میتیوں سے جڑے ہوئے ہیں، لیکن مذہبی طور پر (جو کہ مسلمان ہیں) اکثریتی ہندو میتی برادری سے الگ ہیں ۔ اس تنازعے میں ان کی پوزیشن کچھ یوں ہے:
· تشدد کا نشانہ: میتی مسلمان پانگل برادری دونوں طرف سے تشدد کا نشانہ بن رہی ہے۔ ان کے گھروں کو جلایا جا رہا ہے اور انہیں نقل مکانی پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق مئی 2023 میں شروع ہونے والے تنازعے میں اب تک کم از کم آٹھ میتی پانگل ہلاک ہو چکے ہیں ۔ مئی 2023 میں ہی بشنوپور ضلع کے قصبہ کواکتا میں تین میتی پانگل مسلمانوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا ۔
· شناختی المیہ: شدت پسندوں سے خود کو بچانے کے لیے میتی پانگلوں کو مجبوراً اپنے گھروں کے باہر "میتی پانگل" یا "مسلم گھر" لکھنا پڑ رہا ہے ۔
· ماضی کا صدمہ: یہ پہلا موقع نہیں جب اس برادری کو نشانہ بنایا گیا ہو۔ 1993 میں ہونے والے قتل عام میں بھیڑوں نے تقریباً 130 مسلمانوں کو ہلاک کر دیا تھا اور ان کے گھروں اور کاروبار کو آگ لگا دی تھی، اور پولیس پر الزام ہے کہ اس نے تشدد روکنے کے لیے کوئی خاص اقدام نہیں اٹھایا ۔
امن عمل میں شمولیت کا مسئلہ
شاید میتی مسلمان پانگل برادری کے لیے سب سے بڑا دھچکا یہ ہے کہ جاری امن مذاکرات میں انہیں باضابطہ طور پر شامل نہیں کیا گیا ۔
· اعتماد اور رسائی: مسلمان پانگل رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کی برادری دونوں فریقین (میتی اور کوکی) کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتی ہے اور منی پور میں کہیں بھی آزادانہ سفر کر سکتی ہے، اس لیے وہ امن قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں ۔
· مایوسی اور بیزاری: وفاقی وزارت داخلہ نے میتی، کوکی اور ناگا برادریوں کے نمائندوں سے تو بات چیت کی ہے، لیکن مسلم برادری کے کسی نمائندے کو مذاکرات کی میز پر مدعو نہیں کیا گیا ۔
· تنظیموں کا موقف: متحدہ میتی پانگل کونسل (UMPC) جیسی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مرکزی اور ریاستی دونوں حکومتیں اس بحران کے جاری رہنے کی ذمہ دار ہیں کیونکہ وہ مسئلہ حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتیں ۔
خلاصہ یہ کہ میتی پانگل مسلمان، جو صدیوں سے منی پور کا حصہ ہیں، آج ایک ایسے المناک موڑ پر کھڑے ہیں جہاں وہ نسلی بنیادوں پر تو میتیوں سے جڑے ہیں، مذہبی بنیادوں پر الگ ہیں اور سیاسی طور پر یکسر نظر انداز کیے جا رہے ہیں۔ یہ برادری نہ صرف تشدد کا نشانہ بن رہی ہے بلکہ اس تشدد کا خاتمہ کرنے والی امن کی کوششوں میں بھی اسے کوئی کردار نہیں دیا جا رہا۔
10/02/2026
📜 بورس جانسن کا خاندانی پس منظر
مسلم جڑوں سے شناخت کے زوال تک — ایک تاریخی مطالعہ
یہ ایک مستند تاریخی حقیقت ہے کہ سابق برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن کے آباؤ اجداد میں ایک نمایاں شخصیت عثمانی دور کے مسلمان عالم اور سیاست دان علی کمال کی ہے۔ یہ تحقیق ذاتی تنقید کے لیے نہیں بلکہ نسل در نسل دینی شناخت کے تحفظ یا زوال کو سمجھنے کے لیے پیش کی جا رہی ہے۔
---
🕌 1. پردادا: حاجی احمد رضا افندی
پیدائش: 1813ء
مقام: کالفات، چانقری (موجودہ ترکی)
وسطی اناطولیہ کے ایک معزز ترک مسلمان خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔
یہ خاندان عثمانی معاشرے کا حصہ تھا جہاں اسلامی شناخت، دین اور تہذیب مضبوط بنیادوں پر قائم تھی۔
---
📚 2. پردادا: علی کمال (1869–1922)
علی کمال، بورس جانسن کے پردادا تھے۔
وہ ایک معروف عثمانی صحافی، ادیب، کالم نگار اور سیاست دان تھے۔
1919ء میں سلطنتِ عثمانیہ کے آخری دور میں وزیرِ داخلہ بھی رہے۔
🔹 دینی پس منظر
علی کمال نے روایتی اسلامی تعلیم حاصل کی۔
تاریخی ذرائع (BBC اور Who Do You Think You Are?) کے مطابق وہ حافظِ قرآن تھے، جو ایک اعلیٰ دینی مقام ہے۔
🔹 بین المذاہب شادی
1903ء میں لندن میں انہوں نے ونفریڈ برن (Winifred Brun) نامی ایک عیسائی، اینگلو-سوئس خاتون سے شادی کی۔
یہ شادی دو مختلف تہذیبوں اور مذاہب کے درمیان ایک سنگم تھی۔
🔹 انجام
ترکی کی آزادی کی جنگ کے دوران، علی کمال کو ان کے سیاسی نظریات کی وجہ سے 1922ء میں قتل (لنچ) کر دیا گیا۔
---
👶 3. دادا: عثمان ول فریڈ کمال → ول فریڈ جانسن
پیدائش: 1909ء، برطانیہ
علی کمال کے بیٹے تھے۔
والدہ کی وفات کے بعد ان کی پرورش نانی مارگریٹ جانسن نے کی۔
🔹 شناخت کی تبدیلی
1916ء میں پہلی جنگِ عظیم کے دوران، عثمانی سلطنت برطانیہ کی دشمن تھی۔
اسی وجہ سے بچوں کا نام “کمال” سے بدل کر “جانسن” کر دیا گیا۔
ان کی تربیت عیسائی اور برطانوی ماحول میں ہوئی، اسلامی تعلیم سے رشتہ منقطع ہو گیا۔
Hamara Gojra
---
👨 4. والد: اسٹینلے جانسن
ول فریڈ جانسن کے بیٹے۔
یورپی سیاست میں سرگرم رہے اور یورپی پارلیمنٹ کے رکن (MEP) رہے۔
مکمل طور پر مغربی، سیکولر اور سیاسی شناخت کے حامل تھے۔
---
🇬🇧 5. بورس جانسن
پیدائش: 1964ء، نیویارک
2019–2022 تک برطانیہ کے وزیرِ اعظم رہے۔
خود کو ایک “One-man melting pot” (مختلف نسلوں کا مجموعہ) کہتے ہیں۔
ان کے خاندان میں:
ترک مسلمان
عیسائی یورپی
یہودی النسل
سب شامل ہیں، مگر وہ خود مسلمان نہیں اور نہ ہی اسلام پر عمل پیرا ہیں۔
Hamara Chak Jhumra
---
⚖️ حقائق اور غلط فہمیاں
✔️ یہ حقیقت ہے کہ علی کمال مسلمان اور حافظِ قرآن تھے۔
✔️ یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کی آنے والی نسلیں اسلام پر قائم نہ رہ سکیں۔
❌ یہ کہنا درست نہیں کہ بورس جانسن مسلمان ہیں یا اسلام پر عمل کرتے ہیں۔
---
📌 تاریخی و دینی سبق
یہ خاندانی داستان ہمیں واضح طور پر یہ سبق دیتی ہے کہ:
ایمان وراثت سے نہیں، تربیت سے منتقل ہوتا ہے
اگر:
دینی تعلیم کمزور ہو
اسلامی ماحول میسر نہ ہو
شادی، رہائش اور تربیت میں دین کو ترجیح نہ دی جائے
تو نسلیں چند دہائیوں میں اپنی دینی شناخت کھو سکتی ہیں
یہی وجہ ہے کہ اسلام ایمان، تربیت (Tarbiyah) اور عمل پر زور دیتا ہے
> ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے، مگر اسباب اپنانا والدین اور خاندان کی ذمہ داری ہے۔
Hamara Rawalpindi
---
📚 حوالہ جات (References)
1. Wikipedia — Ali Kemal (Ottoman politician)
2. BBC – Who Do You Think You Are? (Boris Johnson episode)
3. The Genealogist (UK) — Boris Johnson’s family tree
4. Snopes.com — Fact check on Boris Johnson’s Muslim ancestry
5. VOA News — Boris Johnson’s Turkish ancestral village
6. Gulf News — Biography and ancestry of Boris Johnson
Snopes.com
The definitive Internet reference source for urban legends, folklore, myths, rumors, and misinformation.
06/02/2026
برمنگھم سے Syed Mujtaba صاحب کی تحریر
2015 کے موسم گرما میں اچانک پی ایچ ڈی کرنے کا خناس ذہن میں سمایا۔ 2 ماہ کی تگ و دو کے بعد ایک ریسرچ پروپوزل تیار کیا جسکا موضوع تھا
Hudud and Mitigation; A comparative study of Shariah law in Malaysia & Saudi Arabia
ڈھائی ہزار الفاظ پر مشتمل یہ پروپوزل برمنگھم یونیورسٹی اور نیومین یونیورسٹی کے تھیولوجی ڈیپارٹمنٹ کو میل کردیا جسکے بعد کئی ماہ خاموشی رہی لیکن دسمبر کے پہلے ہفتے میں برمنگھم یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر کیتھرین براؤن کی میل موصول ہوئی جس میں ملاقات کا وقت دیا گیا تھا سو میں وقت مقررہ پر پہنچ گیا۔
ان خاتون نے اپنے فیڈبیک میں کہا کے موضوع اہم ہے لیکن اس میں تھیولوجیکل سے زیادہ لیگل نکات اٹھائے گئے ہیں لہذا اول تو اس کے لیے لاء ڈیپارٹمنٹ کا سپروائزر درکار ہوگا اور دوم فنڈنگ کا حصول محال ہوگا۔ پھر اپنی کہنیاں میز پر ٹکا کر تھوڑا سا آگے کی طرف جھکیں اور بولیں۔ پولیٹیکل اسلام میں اگر دلچسپی ہے تو میں سپروائز بھی کروں گی اور فنڈنگ کا انتظام بھی کردوں گی۔ یہ کہہ کر انہوں نے دو خالی کپ نکالے اور چائے کی کیٹل آن کردی اگلے 10 منٹ ہم اس موضوع پر تبادلہ خیال کرتے رہے۔ پھر میں نے پوچھا
مغرب اس موضوع میں اتنی دلچسپی یا بالفاظ دیگر اتنا خوفزدہ کیوں ہے۔
انہوں نے کہا کے ہمیں اسلام سے نہیں پولیٹیکل اسلام سے خطرہ ہے جسکی بنیاد پر ریاست مدینہ کا قیام عمل میں آیا۔ محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور انکے بعد آنے والے ریاست کے قیام کے بعد خاموش نہیں بیٹھے۔ پولیٹیکل اسلام ایک ورلڈ آرڈر ہے جسے اگر روکا نہ گیا تو پہلے سے قائم ورلڈ آرڈر کا نام و نشان مٹ جائے گا۔ ماضی میں انکے حریف قیصر و کسری تھے جبکہ آج مغربی دنیا ہے۔
کیٹل میں پانی ابلنے لگا لیکن انہوں نے کیٹل آف کردی اور کپ واپس دراز میں رکھتے ہوئے بولیں۔ چائے کہیں اور پیتے ہیں۔
وہ مجھے برابر والے کمرے میں لے گئیں جہاں ایک بوڑھا پروفیسر اور درمیانی عمر کا آدمی بیٹھا ہوا تھا۔ پروفیسر کا نام یاد نہیں رہا لیکن دوسرے شخص کا تعارف یہ کہہ کر کروایا گیا کے یہ رائے جیکسن ہیں اور گلوسٹر یونیورسٹی میں تھیولوجی کے استاد ہیں
پولیٹیکل اسلام پر گفتگو پھر شروع ہوگئی۔ اس بار گفتگو کا محور 4 افراد تھے۔ محمد عبدہ، حسن البنا، سید قطب اور مولانا مودودی۔ کیتھرین اور بوڑھے پروفیسر کی معلومات وسیع تھیں۔ میں بھی محدود علم کے ساتھ شریک گفتگو رہا تاہم رائے جیکسن اس ساری مدت میں خاموش رہا۔ کیتھرین کا خیال تھا کے مصر پولیٹیکل اسلام کی نرسری ہے تاہم کافی دیر بعد جب رائے جیکسن سے اسکی رائے مانگی گئی تو اس نے ایک گہری سانس لی اور بولا
یہ درست ہے کے پولیٹیکل اسلام کی زیادہ تر تحریکیں براعظم افریقہ سے نمودار ہوئیں لیکن اسکی باقاعدہ نظریاتی بنیاد برصغیر میں رکھی گئی۔ بقول روئے جیکن محمد عبدہ کے سوا یہ تمام مفکرین اگرچہ ہم عصر ہیں لیکن
"مودودی ان میں سب سے زیادہ خطرناک ہے"
رائے جیکسن کے مطابق عہد حاضر کی جتنی بھی اسلامی تحاریک ہیں ان سب کی نظریاتی آبیاری فلسفہ مودودی سے کی گئی ہے۔ اس نے مزید کہا کے فلسفہ مودودی قومیت، زبان اور فرقہ وارانہ سرحدوں سے ماوراء ہے یہ وجہ ہے میں امام خمینی کے اسلامی انقلاب کی بنیاد بھی فلسفہ مودودی کو قرار دیتا ہوں۔ پولیٹیکل اسلام کو سمجھنا ہے تو مودودی کو سمجھو۔ مودودی سمجھ آگیا تو پولیٹیکل اسلام بھی سمجھ آجائے گا۔
معلوم ہوا کے رائے جیکسن 4 کتابوں کے صنف ہیں جنکی تفصیل یہ ہے۔
1) What Is Islamic Philosophy? (Routledge, 2014)
2) Fifty Key Figures in Islam (Routledge 2006)
3) Nietzsche and Islam (Routledge 2007)
4) Mawdudi and Political Islam (Routledge 2010)
5) The God of Philosophy: 2nd Edition (Acumen, 2011).
اس دوران ایک ایشین خاتون جو کسی کام سے کمرے میں داخل ہوئیں ہماری گفتگو سننے لگ گئیں۔
اختتامی کلمات کے بعد وہ میرے ساتھ ہی کمرے سے نکل آئیں۔ لفٹ سے نیچے آتے ہوئے انہوں نے بتایا کو وہ ریسرچ فیلو ہیں اور حال ہی میں "اسلام میں فیمینزم بمقابلہ رجعت پسندی" کے موضوع پر پی ایچ ڈی مکمل کی ہے۔
میں نے ان سے پوچھا کے کیا یہ سچ ہے مودودی اور پولیٹیکل اسلام اس وقت تھیولوجی کا ہاٹ ٹاپک ہے تو وہ ہنس پڑی اور بولی۔ میری پوری تھیسس ہی مودودی کے افکار پر ہے۔ اور میری ہی نہیں یورپ کی تمام جامعات میں اسلام پر سب سے زیادہ تحقیق پولیٹیکل اسلام اور مودودی پر ہورہی ہے۔ خدا حافظ کہتے ہوئے اس نے ریسیپشن کے ساتھ لگے نوٹس بورڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ وہاں تھیولوجی کے ممکنہ تحقیقی موضوعات فہرست لگی ہے۔ ایک نظر اس پر ڈال لو۔
بورڈ پر لگ بھگ 50 یا 60 موضوعات درج تھے جن میں 9 پولیٹیکل اسلام سے متعلق تھے اور ہر موضوع کی تحقیق کیلئے ایک ہی حوالہ تھا۔
مودودی۔
میری خواہش تھی کے میں اس موقع کا فائدہ اٹھاتا لیکن کچھ ہی عرصے بعد بیٹی کی بیماری کے باعث تمام سرگرمیوں کو منسوخ کرنا پڑا۔
سید مجتبی۔۔۔برمنگھم یوکے
13/08/2025
سرزمین پنجاب کی باریں
پنجاب کی جغرافیائی تقسیم
==============
پنجاب کی سر زمین کو مختلف ذیلی ناموں میں تقسیم کیا جاتا رہا ہے - مثلاً
1 ۔۔ ستلج سے گھاگھر ندی تک کا علاقہ ۔۔۔۔۔۔پوادھ کہلاتا ھے - یہ علاقہ ضلع روپ نگر، فتح گڑھ , انبالہ، روپڑ، کورالی اور چندی گڑھ سے مل کر بنتا ھے -
2.جالندھر ، ہوشیار پور اور کپور تھلہ کا ۔۔۔۔۔علاقہ ! ستلج اور بیاس کا درمیانہ علاقہ -
3. مالوہ ۔۔۔۔۔۔لدھیانہ، فرید کوٹ، پٹیالہ ، بھٹھنڈا ،گنگانگر ،مالیر کوٹلہ، فاضلکی ، اور فیروز پور کا علاقہ -
4. ماجھا ۔۔۔۔۔۔۔ امرتسر، گورداسپور ، ساہیوال ، پاکپتن ، لاہور ، شیخوپورہ، ننکانہ ، گوجرانوالہ، سیا لکوٹ، نارووال ،اور گجرات وغیرہ کے علاقے - اس علاقے کی زبان کو پنجاب کی ٹکسالی زبان کہا جاتی ھے -
5. لونا پربت دھار ۔۔۔۔۔۔۔۔تقریباً 186 میل کا علاقہ ضلع جہلم کے مشرق کی طرف دریا کے ساتھ ساتھ چکر کاٹتا ہوا خوشاب ،اور چکوال سے ہوتا ہوا کالا باغ تک جاتا ھے ۔۔۔۔۔اس علاقے کا لونا نام اس لئے پڑا کہ یہاں نمک کے ذخائر موچود ہیںؑ ۔۔۔۔۔کھیوڑہ ، کالا باغ اور واڑچھا کی نمک کی کانیں اسی علاقے میں ہیں -
6. پوٹھوہار ۔۔۔۔۔۔۔جہلم کا کچھ حصہ ، گوجر خان ، راولپنڈی ،مری , مارگلہ اور اٹک کا کچھ علاقہ - جبکہ تحصیل حضرو ضلع اٹک کا علاقہ چھچھ کہلاتا ہے -ضلع اٹک کی ایک تحصیل پنڈی گھیب جو کبھی برصغیر کی معروف ریاست رہی ہے پر مشتمل علاقہ گھیب کہلاتا ہے یہاں کے ایک گاوں سے پتھر کے زمانے کے انسانوں کی ہڈیوں کا ڈھانچہ ملا ہے جس کی مماثلت فرانس سے ملنے والے ڈھانچے جیسی ہے - ( بحوالہ اٹک گزیٹیر، گاربٹ ڈپٹی کمشنر پنڈی گھیب ۔۔۔برطانوی دور )
7. دھن ۔۔۔۔۔۔چکوال، تلہ گنگ، کلر کہار چواسیدن شاہ کا علاقہ - چکوال کا پرانا نام بھون تھا یہ دھن کا دارالحکومت بھی رہا ھے -
8. تھل ۔۔۔۔۔میانوالی، خوشاب، بھکر، مظفر گڑھ کا ریگستانی حصہ اور میانوالی کا جنوبی علاقہ ۔
روہی ۔۔۔۔۔چولستان ۔۔ ۔۔۔چول ترکی زبان میں صحرا کو کہتے ہیں ۔۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔روہی اس صحرا کا مقامی نام ۔۔۔۔۔بہاولپور ، رحیم یار خان اور بہاولنگر کے صحراوں پر مشتمل ۔۔۔۔۔۔روہی کا کنارہ راجھستان سے جا ملتا ھے -
9. دامان ۔۔۔۔۔۔دریائے سندھ اور کوہ سلیمان کا درمیانی علاقہ
11/05/2025
تم نے کہاں غلطی کی؟
ایک کھلا خط: نریندر مودی اور امیت شاہ کے نام
اقبال لطیف
© اقبال لطیف، 2025 – جملہ حقوق محفوظ ہیں
محترم وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ،
میں یہ خط کیوں لکھ رہا ہوں؟
میں یہ خط کسی حریف یا مخالف قوم پرست کی حیثیت سے نہیں لکھ رہا۔
میں ایک تاریخ کے مشاہد کی حیثیت سے لکھ رہا ہوں — ایک ایسا مشاہد جو سمجھتا ہے کہ جب داؤ پر ایٹمی سلامتی ہو اور خطہ آتش فشاں ہو، تو سچائی کو غرور سے بلند بولنا چاہیے۔
یہ خط انتقام کے لیے نہیں لکھا گیا۔
یہ جوابدہی کے لیے لکھا گیا ہے۔
یہ اسٹریٹجک عاجزی کی ضرورت کے لیے لکھا گیا ہے — کیونکہ جب وہ غلطیاں کرتے ہیں جو افواج کے کمانڈر ہیں، تو خاموشی کوئی خوبی نہیں رہتی۔
بھارت نے صرف ایک کارروائی نہیں کی—بلکہ پورے خطے کا توازن بدل دیا۔
اور اس عمل میں، اس نے ایک ایسی برابری کو جنم دیا جس کا برسوں سے انکار کیا جاتا رہا تھا۔
یہ خط غصے میں نہیں لکھا گیا۔
یہ اس سنجیدہ شعور کے ساتھ لکھا گیا ہے جو کسی اسٹریٹجک سانحے کے بعد پیدا ہوتا ہے۔
آپ نے صرف فوجی لحاظ سے غلطی نہیں کی۔
آپ نے نظریہ غلط سمجھا، حریفوں کا غلط اندازہ لگایا، جغرافیائی سیاست کو نظر انداز کیا، اور اس بنیادی توازن کو توڑ دیا جو اب تک اس خطے کو تباہی سے بچائے ہوئے تھا۔
سنسرشپ اور اسٹریٹجک خودفریبی
سالوں تک آپ کے حلقہ اثر نے ان تمام آوازوں کو دبایا جو عاجزی کا درس دیتی تھیں۔
ہر اس تجزیہ کار کو جو رافیل طیاروں کی حد سے زیادہ تشہیر پر سوال اٹھاتا، ملک دشمن کہا گیا۔
ہر اس سفارتکار کو جو مذاکرات کا مشورہ دیتا، کمزور قرار دیا گیا۔
آپ نے اپنے ارد گرد مشیروں کی بجائے آئینے کھڑے کر لیے۔
چنانچہ آپ نے یہ گمان کر لیا کہ چار کھرب ڈالر کی معیشت برتری خرید سکتی ہے۔
کہ وقار کا مطلب خوف ہے۔
کہ کوئی آپ کو چیلنج نہیں کرے گا۔
لیکن آپ کو ان میزائلوں نے جواب دیا جنہیں آپ ناکارہ کہتے تھے۔
ان فضائی پلیٹ فارمز نے جواب دیا جنہیں آپ فرسودہ کہتے تھے۔
اور ایک ایسے نظریے نے جو آپ کی نظروں سے اوجھل رہا۔
تنسیخ، اشتعال انگیزی — اور کوئی تحقیقات نہیں
آپ نے کارگل کے بعد سب سے بڑی علاقائی کشیدگی کو بھڑکایا بغیر کسی فرانزک تحقیق، بغیر کسی سیٹلائٹ امیجری، اور بغیر کسی بین الاقوامی تفتیش کے—صرف قوم پرستی کے مظاہروں کی بنیاد پر۔
آپ نے آبی معاہدوں کو ختم کرنے کا اعلان کیا، ان میں سے ایک انڈس واٹرز ٹریٹی بھی تھی—جو ماضی کی جنگوں میں بھی قائم رہی تھی۔
آپ نے کہا:
> "پاکستان کو ایک قطرہ پانی بھی نہیں ملے گا۔"
یہ محض بیانیہ نہیں تھا—بلکہ آبی جنگ کا اعلان تھا، جو بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت جنگی جرم ہے۔
پھر آپ نے پیشگی فضائی حملے کا حکم دیا، یہ سوچ کر کہ خوف کے ذریعے پاکستان کو جھکایا جا سکتا ہے۔
لیکن اس کے جواب میں، پاکستان نے چند گھنٹوں میں ہی آپ کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔
آپ کہاں غلط ہو گئے؟
آپ نے افسانے پر بھروسا کیا، حقیقت پر نہیں۔
آپ نے میڈیا کی پیش گوئیوں پر اعتبار کیا، نہ کہ سٹیلائٹ ڈیٹا پر۔
آپ نے PR ایونٹس کو حکمت عملی سمجھ لیا۔
آپ نے اختلاف کی آوازوں کو دبا کر خود کو طاقتور سمجھ لیا۔
آپ نے پاکستان کے تحمل کو کمزوری سمجھ لیا۔
اور جب حقیقت سامنے آئی — پاکستان کے ریڈار اور میزائل نظام کے ذریعے — تب آپ کو معلوم ہوا کہ اصل مقابلہ نعرے بازی سے نہیں، نظریے سے تھا۔
ایک نظریہ جسے آپ نے کبھی سمجھا ہی نہیں
جب آپ کے ستر طیارے اڑے، تو وہ ایک ڈیجیٹل کل ویب کے شکار بنے۔
آپ کے 290 ملین ڈالر والے رافیل طیارے—جن کی قیمت پاکستان کے پورے بیڑے سے تین گنا تھی—شکار بنے، جام کیے گئے، اور واپس لوٹنے پر مجبور ہوئے۔
کچھ لوٹ ہی نہ سکے۔
آپ کے ڈرون، جن سے آپ نے غزہ جیسی دہشت پھیلانے کی امید کی تھی، خود نشانے بن گئے۔
آپ کا S-400 دفاعی نظام، جسے علاقائی برتری کا ضامن کہا گیا تھا، ناکام ہو گیا۔
پاکستان کے نو میں سے دس میزائل گجرات، راجستھان، اور سنٹرل کمانڈ کے فضائی اڈوں پر نشانے پر لگے۔
جبکہ آپ اب بھی دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے تھے کہ اسلام آباد گر چکا ہے۔
اسٹریٹجک اثرات
بھارت کا کواڈ میں چین کے خلاف توازن کا کردار ختم ہو گیا۔
مغربی اتحادی اب دیکھ رہے ہیں کہ چین سے مربوط پلیٹ فارمز ان کے اپنے ہتھیاروں سے بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں۔
خلیجی ریاستیں اب پاکستان اور چین کے اتحاد کو ایک سنجیدہ دفاعی محور کے طور پر دیکھتی ہیں۔
آپ سبق سکھانے نہیں گئے تھے—بلکہ سبق سیکھنے گئے تھے۔
وہ بھی پوری دنیا کے وار کالجوں کے لیے ایک "مطالعہ کیس" بن کر۔
کراچی نہیں گرا—دہلی کا نظریہ گر گیا
آئیے حقیقت تسلیم کریں:
کراچی آج بھی قائم ہے۔
عاصم منیر مکمل کنٹرول میں ہیں۔
پاکستان کا سیاسی ڈھانچہ برقرار ہے۔
لیکن بھارت کا "فوری اور فیصلہ کن جوابی کارروائی" کا نظریہ ٹوٹ چکا ہے۔
اور یہ صرف علامتی شکست نہیں—عملی شکست ہے۔
برتری سے تنہائی تک
بھارت کی معاشی طاقت ایک اسٹریٹجک جمود میں بدل گئی۔
مودی کا بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا "ماسٹر اسٹریٹجسٹ" کا امیج ختم ہو گیا۔
اب صرف ایک تلخ حقیقت باقی ہے:
> میزائل پرواہ نہیں کرتے کہ پریس ریلیز کس نے لکھی ہے۔
نظریہ تکبر کو نگل جاتا ہے۔
یہ آپ کی اسٹریٹجک غلطی تھی
آپ نے پاکستان کو توڑنے کی کوشش میں،
اپنے ہی نقائص کو نمایاں کر دیا:
معاشی حد سے زیادہ خود اعتمادی
نظریاتی کمزوری
جنگی اصولوں کی بے توقیری
اور میں پوچھتا ہوں — آپ کہاں غلط ہو گئے؟
جب آپ نے طاقت کو ناقابل تسخیر ہونے کا مترادف سمجھا۔
جب آپ نے جنگ کو بغیر انجام سوچے چھیڑا۔
جب آپ نے پانی، جنگ اور خاموشی کو قابو پانے کے آلے سمجھے۔
یہ دیود اور جالوت کی جنگ نہ تھی—
یہ تو وہ جالوت تھا جو حد سے زیادہ شور کر رہا تھا،
اور دیود خاموشی سے سنتا رہا—اور صحیح موقع پر وار کیا۔
آپ نے صرف زمین نہیں کھوئی۔ آپ نے حکمت عملی کا بیانیہ کھو دیا۔
آپ نے سوچا کراچی پاکستان کی شہ رگ ہے۔
آپ نے بندرگاہ بند کرنے کے خواب دیکھے۔
آپ نے INS Vikrant کو تھیٹر میں تعینات کیا گویا فتح یقینی ہو۔
لیکن حقیقت یہ ہے:
جس کراچی کو آپ مٹانا چاہتے تھے—اسی کراچی نے دکھا دیا کہ ممبئی کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
آپ کی مشرقی بندرگاہیں — وشاکھاپٹنم، چنئی، پردیپ — بھی کمزور ہیں۔
یہ بڑھاوا نہیں۔ یہ برابری ہے۔
اسٹریٹجک برابری
آپ نے اپنی غلط حکمت عملی سے پاکستان کو اسٹریٹجک مساوات عطا کر دی ہے۔
جسے آپ "خستہ حال ریاست" کہتے تھے—
آج وہ آپ کی کھربوں ڈالر کی معیشت کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
یہ صرف ہتھیاروں کی بات نہیں تھی—
یہ عزم اور استقامت کی جنگ تھی۔
اور سب سے بڑی ستم ظریفی؟
آپ نے پاکستان کی روایتی مزاحمتی صلاحیت کو جائز حیثیت دے دی ہے۔
دنیا نے دیکھا کہ کس طرح پاکستان ایئر فورس نے پرسکون اور منظم انداز میں بریفنگز دیں، اور کیسے ایک ذمہ دار جوہری طاقت کا تاثر پیش کیا۔
نتیجہ
آپ سبق سکھانے نہیں گئے تھے—بلکہ اپنی حکمت عملی کا ڈھانچہ کھو آئے۔
آپ جنگ میں گئے—اور بغیر کسی فائدے کے واپس آئے۔
اور اس عمل میں،
آپ نے پورے جنوبی ایشیا کا توازن بدل دیا۔
---
PS: میں نے یہ خط کیوں لکھا؟
یہ خط دشمنی یا نفرت سے نہیں لکھا گیا—بلکہ حقیقت کی زمین پر کھڑے ہو کر ایک خطرناک افسانوی بیانیے کی اصلاح کی کوشش ہے۔
جب اربوں جانوں کا سوال ہو، تو ہمیں شور و غوغا کو حکمت عملی سے الگ کرنا ہوگا۔
اقبال لطیف
12/03/2025
*Don't miss*
*جیسا کہ آپ سب کو پتہ ہے کل میں نے روبی کے حوالے سے اپڈیٹ دی تھی کہ مائننگ ⛏️ سپیڈ 2X یعنی پہلے آپ کو روزانہ اگر 1 روبی کوئین 🪙 مل رہا تھا اب 2 مل رہے ہیں۔ یہ صرف کچھ ہی دنوں کے لئے ہے۔ اپنا مائننگ ⛏️ لازمی کر لیا کریں۔ اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔ جزاک اللہ*
Use referral Code: STAR15060
08/12/2024
بی۔ ایس نرسنگ میں داخلہ
(Admission BS nursing)
*پنجاب گورنمنٹ نے 44 سرکاری ہسپتالوں میں نرسنگ کے ڈگری پروگرام میں داخلوں کا اعلان کر دیا ہے، داخلے کی آخری تاریخ 23 دسمبر ہے۔*
اپلائی کرنے سے پہلے مندرجہ ذیل باتوں کو جاننا ضروری ہے
*`۰` گورنمنٹ ہسپتال شاہدرہ کے علاؤہ باقی تمام کالجز میں صرف خواتین اپلائی کر سکتی ہیں*
*`۰` امیدواروں کا میٹرک (سائنسی مضامین کے ساتھ) اور ایف ایسی پری میڈیکل میں 50 فیصد نمبرز کے ساتھ پاس ہونا اور پنجاب کا ڈومیسائل رکھنا لازمی ہے*
*`۰` عمر کی حد اب پچیس کی بجائے 35 سال کر دی گئی ہے اور اب امیدوار کا غیر شادی شدہ ہونا بھی شرط نہیں ہے*
*`۰` چار سالہ ڈگری پروگرام کے دوران امید وار کو ماہانہ 31470 سٹائپینڈ دیا جائے گا، جب کہ انٹرن شپ میں سیلری کا معاملہ ابھی تک زیر بحث ہے*
*`۰` اپلائی کرنے کےلیے ویب سائیٹ پہ شناختی کارڈ رجسٹرڈ کر کے سائن کرنا ضروری ہے۔ تاکہ داخلے کی درخواست سمیت 500 کا چالان بھی وہیں سے اپلوڈ ہو سکیں*
*`۰` امید وار کے پاس پنجاب کا ڈومیسائل ہونا بھی لازمی ہے*
03/11/2024
اللہ کریم کے خصوصی فضل سے اپنی نوعیت کی منفرد کتاب"غیر معمولی تعلیمی قیادت" پرنٹ ہوگئی ہے۔ایڈوانس پے منٹ کرنے والے احباب کو روانہ کر دی گئی ہے۔ آپ بھی اس کتاب کا مطالعہ کر کے سینکڑوں سکولوں کے تجربات میں شریک ہو سکتے ہیں۔
* کتاب حاصل کرنے کے لیے نمبر 03008122697 پر رابطہ کیجیے۔
* آپ کتاب کو بک لائین 38 ۔اردو بازار لاہور سے بھی حاصل کر سکتے ہیں۔
آپ سے دعاوں کی خصوصی درخواست۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے ملک کی بہتری کے لیے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے(آمین)
25/08/2024
پیرنٹنگ کے تین بڑے اصول۔۔۔
جو ہماری والدہ نے ہمیں سکھائے اور زندگی میں بہت کام آئے۔
جب ہم آٹھ بہن بھائی ابھی بچے تھے تو خدا کی قسم آنکھ کی گھوری سے سمجھ جایا کرتے تھے کہ والدہ کی رضا کیا ہے؟
1۔ چیز ونڈی دی لئی جاؤ۔۔۔
کبھی پلیٹ یا کولا پکڑ کر گلی سے، کسی کے گھر سے اور چوک چوراہوں سے کھانے پینے والی کوئی چیز، خیرات یا نیاز لینے جانے کی ہمیں اجازت بالکل نہیں تھی نہ سبیلوں سے کبھی کوئی ڈرنک لے کر پینے کی اجازت تھی۔ درباروں اور میلوں ٹھیلوں سے دال روٹی ،تبرک لے کر کھانے کی بھی سختی سے ممانعت تھی۔
امی جی کہتی تھیں جس نے چیز بانٹنی ہے وہ گھر دے کر جائے تو شوق سے اور سکون سے کھا لو۔۔۔ یہ اصول آج تک قائم ہے۔
2۔ جنج لٹنا۔۔۔ بارات سے پیسے چننا۔۔۔
باراتوں میں دولھے پر پھینکے جانے والے پیسے اٹھانے کی اجازت نہیں تھی نہ کبھی ہمارا بہت زیادہ دل کرتا تھا اٹھانے کو۔ یہاں تک کہ کبھی پانچ روپے کا نوٹ قریب آ کر گرا بھی تو جھک کر نہیں اٹھایا۔ کسی اور بچے نے قریب آ کر حیران ہو کر ہمیں دیکھا اور وہ نوٹ اٹھا کر چلا جاتا۔
3۔ ہمسایوں کے گھر سے کچھ کھانا پینا۔۔۔
ہمسایوں یا آس پڑوس کے گھر جا کر بچوں کے ساتھ کھیلنے کی اجازت تو تھی مگر ان کے گھر سے کھانے پینے کی چیز لے کر کھانے کی اجازت بالکل نہیں ہوتی تھی۔ اکثر تائی ، چچی یا کوئی ہمسائی کوئی چیز دیتی، اصرار کرتی، تو ہم سب بہن بھائی نہ نہ کرتے رہتے۔ اگر امی آنکھ سے اشارہ کرتی کہ لے لو تب لے لیا کرتے تھے۔
اب یہ مت سمجھیے گا کہ ہم کوئی والئ ریاست تھے۔ ابو جی کی لگی بندھی تنخواہ آتی تھی جو مہینے کے آخری عشرے میں ہمیشہ ختم ہو جایا کرتی تھی۔۔۔ لیکن امی جی کو مینج کرنا آتا تھا۔
ان تین اصولوں نے ہماری زندگیوں سے ندیدہ پن ،شوہدہ پن اور بھوکا پن کشید کر کے نکال دیا تھا۔ انہی اصولوں اور والدین کی تربیت کی وجہ سے زندگی میں خودداری، وضع داری، محنت، قناعت اور خودی در آئی جو زندگی میں بہت کام آئی۔
از نرگس بانو
12/08/2024
علم و عرفان کی روشنی جس قدر پھیلتی ہے، بصیرت کی رسائی جس قدر بڑھتی ہے، قلب میں جتنی وسعت پیدا ہوتی جاتی ہے، یہ مادی اور حسی پردے اُٹھتے چلے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ "نسلیت“ کو ”انسانیت" کے لیے اور "وطنیت" کو "آفاقیت" کے لیے جگہ خالی کرنی پڑتی ہے۔