Qadir Ali Qadir official

Qadir Ali Qadir official

Share

بسم اللّٰہ جی آیاں نوں خوش آمدید

06/05/2026

یہ زکر جو امامِ منتظر کا ذکر ہے
دراصل سوا لاکھ پیمبر کا زکر ہے

پنہاں ہیں جس میں کربلا کے سارے فضائل
وہ بابِ حوائج علی اصغر کا زکر ہے

قادر علی قادر 📝🙏

05/05/2026

تحریر کو آخر تک پڑھیں

انسانی فطرت کا ایک عجیب پہلو یہ ہے کہ وہ اکثر مکمل حقیقت تک پہنچنے سے پہلے ہی فیصلہ سنا دیتا ہے۔ آدھی بات سن کر رائے قائم کرنا، ادھوری معلومات پر اختلاف کھڑا کر دینا، اور بغیر سمجھے کسی کے بارے میں حکم لگا دینا—یہ سب ہمارے معاشرتی رویّوں کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ حالانکہ اگر تھوڑا سا صبر کر لیا جائے، بات کو پورا سن لیا جائے، اور مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو نہ صرف بہت سے اختلافات ختم ہو سکتے ہیں بلکہ دلوں میں پیدا ہونے والی دوریاں بھی مٹ سکتی ہیں۔
اسی حقیقت کی ایک خوبصورت مثال یہ ہے جب میری نظر سڑک پر کھڑی ایک گاڑی پر پڑی، جس پر لکھا تھا: "احسان منافق"۔ بظاہر یہ الفاظ چونکا دینے والے تھے۔ ذہن فوراً سوالات میں الجھ گیا کہ آخر کون ایسا شخص ہے جس کے نام کے ساتھ "منافق" جیسا سخت لفظ جوڑ دیا گیا؟ دل میں ایک عجیب سا اضطراب پیدا ہوا، جیسے کسی نے کسی کی عزت پر حرف ڈال دیا ہو۔
مگر جب میری نظر گاڑی کے دوسری جانب پڑی، جہاں سرائیکی زبان میں لکھا تھا: "بُھل ویندے نے"۔
اب جب دونوں حصے یکجا ہوئے تو مفہوم بالکل بدل گیا: "احسان منافق بُھل ویندے نے"
یعنی "احسان کو منافق بھول جاتے ہیں"۔
یہ جملہ دراصل ایک گہری اخلاقی سچائی کو بیان کر رہا تھا، نہ کہ کسی فرد کی توہین۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ احسان کرنے والے کو اکثر وہی لوگ بھلا دیتے ہیں جن کے دلوں میں خلوص نہیں ہوتا۔ یہ ایک شکوہ بھی ہے اور ایک نصیحت بھی—کہ احسان کرنے کے بعد صلہ کی توقع نہ رکھو، کیونکہ دنیا میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو بھلائی کو فراموش کر دیتے ہیں۔

ادب کی دنیا میں بھی یہی اصول کارفرما ہے کہ الفاظ کو سیاق و سباق سے الگ کر کے نہیں سمجھا جا سکتا۔ ہر جملہ اپنے پورے تناظر میں ہی معنی خیز ہوتا ہے۔ جیسے اس گاڑی پر لکھا ہوا جملہ—جو ابتدا میں ایک الزام محسوس ہوا، مگر مکمل ہونے پر ایک حکمت بھرا قول بن گیا۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ:
زندگی میں فیصلے کرنے سے پہلے مکمل حقیقت تک پہنچنا ضروری ہے۔ کیونکہ بعض اوقات آدھا سچ، پورے جھوٹ سے بھی زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔

تحریر قادر علی قادر

05/05/2026

تنظیمِ روزگار کا ناظم جب آئے گا
تبدیلیاں بشر کی وہ فطرت میں لائے گا
دنیا کو اپنا حقِ تصرف دکھائے گا
انسان اپنی سوچ سے بھی آگے جائے گا
خیرات میں امام سے پائے گا معجزات
مٹی کا آدمی بھی دکھائے گا معجزات
🙏

05/05/2026

آٹھ دن پہلے چلے آئے ہیں مقتل میں حسین
یوں نبھاتا ہے بڑا آدمی وعدہ کرتے
🙏

28/04/2026

انشاء اللہ و مولا سجدہِ زکر ادا ہوگا🙏

27/04/2026

11 ذو القعدہ
ظہورِ پرنور حضرت امام رضا علیہ السلام
148ھ بدھ کا دن تھا۔ شہر مدینہ تھا، بنو ہاشم کا محلہ تھا۔ اس محلے
میں امامِ موسیٰ کاظم علیہ السلام کے گھر ایک پاک شہزادے کا ظہور ہوا جس کے ظہور پر آلِ محمدؐ کے گھروں میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ آپ کے ظہور کے بارے میں 11 ذی الحج اور 16 ربیع الاول کے اقوال بھی ہیں۔ آپ کے والدِ گرامی کا اسمِ مبارک حضرت امام موسیٰ بن جعفرؑ اور آپ کی والدہ گرامی کا نام سیدہ ام البنین نجمہ ہے۔ آپ کا اسمِ مبارک "علی" ہے۔ آپ کی کنیت ابوالحسن ہے اور آپ کی خصوصی کنیت "ابوعلی" ہے۔
القاب
سراج اللہ، نور الہدیٰ، قرۃ عین المومنین، مکیدۃ الملحدین، کفو الملک، کافی الخلق، رب السریر، راتاب التدبیر (مصلح)، فاضل، صابر، وفی، صدیق، رضی۔
جب آپ کا ظہور ہوا تو آپ کے والدِ گرامی حضرت موسیٰ بن جعفر علیہ السلام نے حکم دیا کہ ان کے بیٹے کو ان کے پاس لایا جائے۔ جب آپ کو لایا گیا تو آپ سفید کپڑے میں لپٹے ہوئے تھے۔ آنحضرت نے اپنے اس مولود کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی۔ آپ نے دریائے فرات کا پانی بطور گھٹی کے آپ کو پلایا پھر آپ کو اپنی والدہ کی طرف بھیج دیا گیا۔

تحریر قادر علی قادر 📝🙏

25/04/2026

❤️❣️💝💕♥️💞

22/04/2026

مفلس ہیں خالی ہاتھ ہیں کرب و بلا تو ہے
سب کچھ ہمارے پاس خدا کا دیا تو ہے

سرکارِ حسنین اکبر صاحب

16/04/2026

کلامِ قادر علی قادر 📝🙏

14/04/2026

صفِ حسین میں غدار کوئی ہے ہی نہیں 🙏

13/04/2026

ملی غریباں نوں قبراں دی وی نہ جاہ زینب 😭

Want your school to be the top-listed School/college in Kasur?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

رکن پورہ قصور
Kasur
55050