Government Higher Secondary School 93/ML karor

Government Higher Secondary School 93/ML karor Join us for bright � future

21/06/2026
سکول کی فلاح و بہبود اور ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے پر جناب عامر سعید صاحب کے لیے ایک تعریفی اور شکریہایک روشن اور بہتر تعل...
15/06/2026

سکول کی فلاح و بہبود اور ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے پر جناب عامر سعید صاحب کے لیے ایک تعریفی اور شکریہ
ایک روشن اور بہتر تعلیمی ماحول کی فراہمی کے لیے جہاں اساتذہ کی محنت شامل ہوتی ہے، وہاں ان کا ایثار اور مخلصانہ تعاون بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسی جذبے کی ایک بہترین مثال ہمارے فاضل استاد جناب عامر سعید صاحب (PST) نے قائم کی ہے۔
سکول میں بجلی کے متبادل اور بہترین نظام کے لیے جاری سولر پینلز پروجیکٹ کے سلسلے میں جناب عامر سعید صاحب نے اپنی جیبِ خاص سے 25,000 روپے (پچیس ہزار روپے) کا گراں قدر مالی تعاون پیش کیا ہے۔
"بہترین لوگ وہ ہیں جو دوسروں کے لیے فائدے کا باعث بنتے ہیں۔"
اس تعاون کے مثبت اثرات:
بچوں کے لیے سہولت: شدید گرمی کے موسم میں سولر پینلز کی تنصیب سے بچوں کے لیے پنکھوں اور پینے کے ٹھنڈے پانی کی بلاتعطل فراہمی ممکن ہو سکے گی۔
تدریسی عمل میں تسلسل: بجلی کی لوڈشیڈنگ کے باوجود تعلیمی سرگرمیاں بنا کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکیں گی۔
دیگر احباب کے لیے ترغیب: عامر سعید صاحب کا یہ اقدام باقی عملے اور مخیر حضرات کے لیے بھی ایک بہترین مثال اور ترغیب ہے۔
کلماتِ تشکر
سکول انتظامیہ، اساتذہ کرام اور طلبہ جناب عامر سعید صاحب کے اس مخلصانہ اور سخاوت مندانہ اقدام پر ان کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔ ہم دعاگو ہیں کہ اللہ پاک ان کے اس جذبے اور مال و جان میں برکت عطا فرمائے اور اسے ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ (آمین)
منجانب:
پرنسپل و انتظامیہ،

☀️ عزمِ نو، روشن کل: فرسٹ ائیر کا شاندار قدم! ☀️​گورنمنٹ ہائیر سکینڈری سکول 93 ایم ایل میں جاری گرین انرجی (سولر سسٹم) پ...
12/06/2026

☀️ عزمِ نو، روشن کل: فرسٹ ائیر کا شاندار قدم! ☀️

​گورنمنٹ ہائیر سکینڈری سکول 93 ایم ایل میں جاری گرین انرجی (سولر سسٹم) پراجیکٹ کے لیے جذبہِ خیر اور ایثار کی ایک خوبصورت مثال سامنے آئی ہے۔

​کلاس فرسٹ ائیر (1st Year) کے غیور اور مخلص طلباء کی جانب سے سکول کے سولر سسٹم منصوبے کے لیے 40,000 روپے کا عطیہ محترم پرنسپل صاحب کو جمع کرایا گیا ہے۔ طلباء کا یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے بچے اپنے تعلیمی ادارے کی ترقی اور اسے لوڈشیڈنگ سے پاک، ایک بہترین تدریسی ماحول فراہم کرنے کے لیے کتنے سنجیدہ ہیں۔

​🤝 فرسٹ ائیر کے تمام طلباء کا شکریہ!

​سکول انتظامیہ، اساتذہ کرام اور تمام طلباء فرسٹ ائیر کے اس تعلیمی اور فلاحی جذبے کو دل سے سراہتے ہیں اور ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے اس تعاون کو قبول فرمائے اور ان کے مستقبل کو بھی اسی طرح روشن رکھے۔ آمین!

​🏷️

11/06/2026

والدین اور نوجوانوں کے نام ایک کھلا خط

بڑے خوابوں کی ہی بقا ہے۔۔۔ بڑا ہاتھ مارنا پڑے گا

محترم والدین اور عزیز نوجوانو

السلام علیکم!

یہ خط آپ دونوں کے نام ہے، کیونکہ مستقبل کے فیصلے ایک طرف والدین کی رہنمائی اور دوسری طرف نوجوانوں کے عزم اور محنت سے تشکیل پاتے ہیں۔ آج کی دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، اور شاید پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے کہ ہم اپنے تعلیمی اور پیشہ ورانہ فیصلے حقائق، گہری سمجھ اور دور اندیشی کی بنیاد پر کریں۔

جیسے جیسے انسان پڑھتا ہے، ویسے ویسے اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ کتنا کم جانتا ہے۔ پچھلے کچھ عرصے میں جب میں نے کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت، جدید فزکس، میٹیریلز سائنس، بائیو ٹیکنالوجی اور دیگر علوم کو سمجھنے کی کوشش کی تو بار بار یہی احساس ہوا کہ دنیا بہت بڑی ہے اور ہم میں سے اکثر ابھی تک اس کے ابتدائی تعارف ہی میں مصروف ہیں۔ شاید سیکھنے کا سب سے خوبصورت پہلو یہی ہے کہ یہ انسان کے اندر موجود جھوٹے اطمینان کو ختم کر دیتا ہے اور اسے اپنی محدودیت کا احساس دلاتا ہے۔

والدین کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آپ کے بچوں کا مستقبل صرف ایک ڈگری یا ایک نوکری کے انتخاب کا نام نہیں۔ اسی طرح نوجوانوں کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ان کی اصل طاقت صرف امتحان میں اچھے نمبر لینے میں نہیں، بلکہ مسلسل سیکھنے، مسائل حل کرنے اور نئی راہیں تلاش کرنے میں ہے۔

سائنس کا ہر مضمون اپنی جگہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ چاہے وہ Mathematics ہو، Physics ہو، Chemistry ہو، Biochemistry ہو، Biotechnology ہو یا Artificial Intelligence، ہر میدان میں ایسے مسائل موجود ہیں جن کے حل نئی صنعتوں کو جنم دے سکتے ہیں اور قوموں کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ ایک کامیاب تحقیق، ایک نئی ایجاد، ایک مؤثر سافٹ ویئر، ایک جدید دوا، یا ایک صنعتی حل نہ صرف ایک فرد کی زندگی بدل سکتا ہے بلکہ پوری قوم کی سمت بھی متعین کر سکتا ہے۔

میرا ہمیشہ سے یہ خیال رہا ہے کہ جو ملک درآمدی بل کے بوجھ تلے دبا ہوا ہو، اسے metals، materials، manufacturing اور engineering کی دنیا میں گہرائی سے داخل ہونا ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ چیزیں بنتی کیسے ہیں، memory chips کیسے تیار ہوتے ہیں، processors کیسے ڈیزائن ہوتے ہیں، جدید مواد کیسے وجود میں آتے ہیں، اور وہ کون سی سائنسی بنیادیں ہیں جن پر صنعتی ترقی کھڑی ہوتی ہے۔

جیسے جیسے ان موضوعات کا مطالعہ کیا، یہ بات واضح ہوتی گئی کہ Physics کے بغیر ان میں سے بہت سی چیزوں کا تصور بھی ممکن نہیں۔ MRI، CT Scan، کینسر کی تشخیص اور علاج، سیمی کنڈکٹرز، کوانٹم کمپیوٹنگ، توانائی کے جدید نظام، روبوٹکس اور مواصلاتی نظام، سب کی بنیاد فزکس پر قائم ہے۔ اسی طرح Chemistry صرف تجربہ گاہ کی سائنس نہیں، بلکہ ادویات، بیٹریز، کھادوں، جدید مواد اور صنعتی مصنوعات کی تخلیق کا بنیادی ذریعہ ہے۔

بائیو کیمسٹری اور Biotechnology مستقبل کی صحت، زراعت اور انسانی بہبود کے اہم ترین ستون ہیں۔ Carbon Credit Markets آنے والی معیشت کے اہم شعبوں میں سے ایک بن سکتی ہیں۔ Mathematics ان تمام علوم کی زبان ہے، جبکہ Artificial Intelligence ان سب کی رفتار بڑھانے والا ایک طاقتور ذریعہ بن چکی ہے۔

لیکن شاید ہمارا سب سے بڑا مسئلہ وسائل کی کمی نہیں، بلکہ خوابوں کے چھوٹے ہونے کا ہے۔ ہم نے اپنی سوچ کو محدود کر لیا ہے۔ والدین اکثر اپنے بچوں کے لیے صرف محفوظ راستے تلاش کرتے ہیں، جبکہ نوجوان بعض اوقات صرف فوری نتائج اور آسان راستوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ لیکن دنیا اب مسائل حل کرنے والوں، تخلیق کاروں اور مسلسل سیکھنے والوں کی تلاش میں ہے۔

ہمارا ایک اور بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ چاہے مذہبی علوم ہوں یا سائنسی علوم، ہم اکثر تعارفی اور ابتدائی سطح سے آگے نہیں بڑھتے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے علم ایک پچاس ابواب پر مشتمل کتاب ہو، لیکن ہم پوری زندگی پہلے پانچ ابواب ہی پڑھتے اور پڑھاتے رہتے ہیں۔ یہ نہیں کہ وہ پانچ ابواب غلط ہیں، بلکہ وہ تو بنیاد ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ علم صرف انہی پانچ ابواب تک محدود نہیں۔

عمر گزر گئی مگر ہم تعارفی اور بنیادی باتوں سے آگے نہ بڑھ سکے۔ ہم نے ابتدا کو منزل سمجھ لیا۔ ہم نے بنیادیں تو رکھیں، لیکن ان پر عمارت تعمیر نہ کی۔ ہم نے اصطلاحات یاد کیں، تعارف حاصل کیا، لیکن گہرائی، تحقیق، تخصص اور اختراع کے مرحلے تک بہت کم پہنچ سکے۔

محترم والدین! آپ کی ذمہ داری صرف اپنے بچوں کو کسی تعلیمی ادارے میں داخل کروانا نہیں، بلکہ انہیں سیکھنے، سوال پوچھنے، تحقیق کرنے اور بڑے خواب دیکھنے کی حوصلہ افزائی کرنا بھی ہے۔ آپ کے فیصلے خوف، معاشرتی دباؤ یا سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر نہیں، بلکہ حقائق اور تحقیق کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔

عزیز نوجوانو! آپ کی ذمہ داری صرف ڈگری حاصل کرنا نہیں، بلکہ اپنی صلاحیتوں کو اس سطح تک لے جانا ہے جہاں آپ مسائل حل کر سکیں، نئی value پیدا کر سکیں، اور اپنے معاشرے کے لیے مثبت کردار ادا کر سکیں۔ دنیا کو صرف ملازمین نہیں، بلکہ سوچنے والے، تخلیق کرنے والے اور قیادت کرنے والے افراد کی ضرورت ہے۔

بازار میں موجود ہر شخص آپ کے بہترین مفاد کے مطابق مشورہ نہیں دے گا۔ بہت سے لوگ اپنے ذاتی مفادات، محدود تجربات یا وقتی رجحانات کی بنیاد پر کہانیاں سنائیں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ والدین اور نوجوان دونوں حقائق جانیں، تحقیق کریں اور فیصلے معلومات کی بنیاد پر کریں۔

آج AI Systems نے ہمیں ایک غیر معمولی موقع فراہم کیا ہے۔ اب علم تک رسائی پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہے۔ ان نظاموں کی مدد سے مختلف شعبوں کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں، عالمی رجحانات سمجھے جا سکتے ہیں، اور مستقبل کے لیے زیادہ باخبر فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔

شاید یہی وجہ ہے کہ موجودہ دور میں چھوٹے خوابوں کے پورا ہونے کے امکانات پہلے جیسے نہیں رہے۔ ایک وقت تھا جب ایک ڈگری، ایک نوکری اور ایک محدود دائرۂ کار ایک محفوظ زندگی کی ضمانت سمجھے جاتے تھے۔ لیکن Artificial Intelligence، Automation اور عالمی مسابقت نے دنیا کے اصول بدل دیے ہیں۔ اب صرف بنیادی مہارتیں کافی نہیں رہیں۔ اب بقا مسلسل سیکھنے، مسائل حل کرنے اور نئی value پیدا کرنے میں ہے۔

اب بقا بڑے خوابوں کی ہے۔ بڑے خواب صرف زیادہ دولت کمانے کا نام نہیں۔ بڑے خواب ایسے مسائل حل کرنے کا نام ہیں جو انسانیت کے لیے اہم ہوں۔ بڑے خواب نئی صنعتیں پیدا کرنے، تحقیق کو عملی شکل دینے، Intellectual Property تخلیق کرنے، نئی کمپنیاں قائم کرنے اور دوسروں کے لیے مواقع پیدا کرنے کا نام ہیں۔

بڑا ہاتھ مارنا پڑے گا۔ اپنی سوچ میں، اپنی محنت میں، اپنے علم میں اور اپنے منصوبوں میں۔ والدین کو اپنے بچوں کے خوابوں کو وسعت دینی ہوگی، اور نوجوانوں کو ان خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے مسلسل محنت کرنی ہوگی۔ ہمیں صرف روزگار تلاش کرنے والے نہیں، بلکہ روزگار پیدا کرنے والے بننا ہوگا۔ ہمیں صرف صارف نہیں، بلکہ تخلیق کار بننا ہوگا۔ ہمیں صرف علم حاصل کرنے والے نہیں، بلکہ علم کو عمل میں تبدیل کرنے والے بننا ہوگا۔

آخر میں، والدین سے گزارش ہے کہ اپنے بچوں کے خوابوں کو محدود نہ کریں، اور نوجوانوں سے گزارش ہے کہ اپنی صلاحیتوں کو محدود نہ سمجھیں۔ سوال پوچھیں، سیکھتے رہیں، نئے میدان دریافت کریں، اور بڑے مسائل حل کرنے کی ہمت پیدا کریں۔

کیونکہ شاید اس دور کی سب سے بڑی حقیقت یہی ہے کہ اب بقا بڑے خوابوں کی ہے۔

اور اگر بڑے خواب دیکھنے ہیں، تو پھر بڑا ہاتھ مارنا پڑے گا۔

خلوص کے ساتھ،

ڈاکٹر عمران جاوید

سپاس نامہ و تحسینِ خدمات: گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول 93 ایم ایل کا ایک روشن ستارہ​کامیابی کا سفر: سکول کے آنگن سے دبئی ک...
09/06/2026

سپاس نامہ و تحسینِ خدمات: گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول 93 ایم ایل کا ایک روشن ستارہ
​کامیابی کا سفر: سکول کے آنگن سے دبئی کے کاروباری افق تک
​گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول 93 ایم ایل کی تاریخ ایسے ہونہار سپوتوں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے اپنی محنت اور قابلیت سے نہ صرف اپنا بلکہ اپنے ادارے کا نام بھی روشن کیا۔ انہی مایہ ناز فارغ التحصیل طلبہ (Alumni) میں سے ایک نمایاں نام جناب غلام قاسم صاحب کا ہے۔
​غلام قاسم صاحب نے 2006 میں ملک کی مایہ ناز "فاسٹ یونیورسٹی" (FAST-NU) کراچی کیمپس میں بی ایس ٹیلی کمیونیکیشن انجینئرنگ میں میرٹ پر شاندار اسکالرشپ حاصل کر کے اپنی خداداد صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ یہ کامیابی ان کے تعلیمی سفر کا ایک ایسا سنگِ میل تھی جس نے مستقبل کی کئی راہوں کو روشن کیا۔ اپنی انتھک محنت اور عزمِ مصمم کی بدولت آج وہ دبئی (یو اے ای) میں ایک انتہائی کامیاب بزنس مین کے طور پر اپنی پہچان بنا چکے ہیں۔ وہ نہ صرف موجودہ طلبہ کے لیے ایک روشن مینار اور مشعلِ راہ ہیں، بلکہ اپنے والدین، اساتذہ کرام اور ملک و قوم کا نام دنیا بھر میں فخر سے بلند کر رہے ہیں۔
​مادرِ علمی سے محبت اور شاندار عطیہ
​جناب غلام قاسم صاحب اپنی تمام تر مصروفیات اور کاروباری کامیابیوں کے باوجود اپنی مادرِ علمی کو نہیں بھولے۔ انہوں نے اپنے پرانے سکول، گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول 93 ایم ایل، میں جاری سولر پینلز کے منصوبے کے لیے 25,000 روپے کا عطیہ فراہم کیا ہے، تاکہ سکول کے بچے گرمی کے موسم میں بلا تعطل بجلی کی سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں اور دل لگا کر پڑھ سکیں۔
​"ایک بہترین ایلومنائی (Alumni) وہی ہوتا ہے جو کامیابی کی بلندیوں پر پہنچ کر بھی ان راستوں کو نہیں بھولتا جہاں سے اس نے پہلا قدم اٹھایا تھا۔"
​دوستی اور مخلصانہ کاوشیں
​یہ امر بھی ہمارے لیے انتہائی مسرت اور فخر کا باعث ہے کہ جناب غلام قاسم صاحب ہمارے سکول کے انتہائی قابل، محنت کش اور مایہ ناز استاد جناب محمد شکیل صاحب کے گہرے دوست اور کلاس فیلو ہیں۔ یہ محمد شکیل صاحب کی مخلصانہ کوششیں، اپنے ادارے سے محبت اور دیرینہ دوستی کا مان ہی ہے جس کی بدولت یہ کارِ خیر ممکن ہو سکا۔
​اظہارِ تشکر و ممنونیت
​گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول 93 ایم ایل کے تمام سٹاف ممبرز، پرنسپل صاحب اور اہل علاقہ کی طرف سے:
​جناب غلام قاسم صاحب کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے قیمتی سرمائے سے سکول کی بہتری میں حصہ ڈالا۔ اللہ تعالیٰ ان کے رزق اور کاروبار میں مزید برکتیں عطا فرمائے۔
​جناب محمد شکیل صاحب کی ان تھک کاوشوں، سکول کے لیے تڑپ اور اس خوبصورت رابطے کو زبردست الفاظ میں سراہا جاتا ہے۔
​دعاگو:
پرنسپل، تمام سٹاف ممبران اور اہل برادری
گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول 93 ایم ایل

سکول کے مایہ ناز کالم نگاراور افسانہ نگار جناب ملک صدام صاحب کا افسانہ "چالان" آج کے اخبار "نئ لگن" میں شائع ہوا ہے۔آپ ب...
08/06/2026

سکول کے مایہ ناز کالم نگاراور افسانہ نگار جناب ملک صدام صاحب کا افسانہ "چالان" آج کے اخبار "نئ لگن" میں شائع ہوا ہے۔آپ بھی پڑھیں اور محضوظ ہوں۔
افسانہ: چالان
مصنف: صدام ملک
سخت گرمی اور لو لگنے سے اس کا چھوٹا بیٹا بیمار پڑ گیا۔گاؤں میں ایک چھوٹا سا کلینک تھا۔معائنہ کروایا تو ڈاکٹر نے کچھ دوائی تجویز کی اور کہا کہ جلدی سے یہ شہر سے لے آؤ۔جتنی دیر کرو گے بیماری کا حملہ اتنا بڑھ جائے گا اور یہ بچے کے لیے خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔
گاؤں سے شہر تقریباً پانچ کلومیٹر دور تھا۔وہ اپنی موٹر سائیکل باہر نکالنے لگا۔وہ خود ایک غریب آدمی تھا اور اس کی موٹر سائیکل کی حالت بھی انتہائی مخدوش تھی،جسے دیکھ کر تو ثقافتی میلوں پر موت کے کنوؤں میں چلائی جانے والے موٹر سائیکلیں بھی شرمائیں۔ہیڈ لائیٹ ٹوٹی ہوئی،میٹر خراب اور چابی کے بغیر،چاروں اشارے ندارد،وہیل اور ان کے کور زنگ آلود،گدی پھٹی ہوئی اور بریکیں بھی ڈھیلی۔ایک سال سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا تھا اس نے اس کی ٹیونک اور سروس نہیں کروائی تھی۔گاؤں کے دھول مٹی سے اٹے ہوئے ماحول میں کھیتوں میں جانا وہاں سے گھاس پھونس اسی موٹرسائیکل ہی پہ لاد کر گھر لے آنا،گویا موٹر سائیکل کو گدھا ریڑھی بنا رکھا تھا۔

موٹر سائیکل باہر نکال کے دو تین ککیں لگائیں لیکن وہ اسٹارٹ نہ ہوئی۔خود سے کہا:
"کچھ کھاتے پیتے نہیں ہو کیا؟۔زرا زور لگاؤ"۔مکمل زور سے کک لگائی تو وہ اسٹارٹ ہو گئ۔کلچ پکڑا اور گیئر لگا کر کلچ چھوڑا تو بند ہو گئ۔اس نے دوبارہ زور سے کک لگائی۔پھر کلچ پکڑا اور گیئر لگا کر آرام سے کلچ چھوڑا۔موٹر سائیکل اب دھیرے دھیرے چلنا شروع ہو گئ۔

اس کے ذہن میں دوائی جلد لانے سے متعلق سوچ نے یہ خیال محو کر دیا کہ بریکیں زرا ڈھیلی ہیں۔گلی کے نکڑ پر پہنچا تو سامنے سے آنے والی کار نے ہارن بجایا۔اس نے پچھلی بریکیں لگانا چاہیں تو وہ فیل۔بہت کنٹرول کیا لیکن موٹر سائیکل گاڑی سے جا ٹکرائی اور اس کا سر بھی گاڑی سے جا لگا۔چوں کہ موڑ تھا تو دونوں کی سپیڈ انتہائی کم تھی اس لیے کسی کو کوئی زیادہ نقصان نہیں پہنچا البتہ گاڑی پہ ہلکا سا ڈنٹ پڑ گیا۔

گاڑی کا مالک جو کہ نوخیز جوان تھا ،نے اپنی نئ نویلی اور نئ نکور گاڑی پہ ڈنٹ دیکھا تو تیش میں آ گیا اور کہا:
"اندھے ہو کیا؟ اگر بریکیں نہیں ہیں تو چلاتے کیوں ہو؟اتنا نقصان کر دیا ہے۔اَبِّا ناراض ہو گا میرا"
چوں کہ گاڑی کا نقصان تو واقعی ہو گیا تھا اس لیے کچھ دیر تو وہ نوجوان کی گالیاں سنتا رہا پھر جب وہ ماں بہن کی گالیاں بکنے لگا تو اسے بھی زرا غصہ آ گیا اور کہا:
"اوئے چھوکرے!جتنا تمھارا نقصان ہوا ہے وہ میں برابر کر دوں گا اب یہ گالیاں دینا بند کرو"
اس کے پراعتماد انداز سےوہ لڑکا بھی زرا ڈھیلا پڑ گیا۔راہ گیروں نے بھی بیچ بچاؤ کرایا۔کار والے کو بھی قدرتی طور پر احساس ہو گیا کہ یہ غریب آدمی ہے اس لیے اس سے پیسے طلب نہیں کرنے چاہئیں۔یوں معاملہ رفع دفع گیا۔

اب اس نے انتہائی حزم و احتیاط سے کام لیتے ہوئے آہستہ رفتار کے ساتھ موٹر سائیکل شہر کی جانب دوڑا دی۔شہر جا کر اسے معلوم ہوا کہ جگہ جگہ پولیس کے ناکے لگے ہوئے ہیں۔پولیس والے شناختی کارڈ،ڈرائیونگ لائسنس،ہیلمٹ،اشارے،شیشے، نمبر پلیٹ اور کاغذات وغیر سب چیک کر رہے ہیں۔اس تناظر میں اس نے اپنی حالت کا جائزہ لیا تو وہ بالکل خالی تھا۔
اس کی بیگم نے سارے خاندان کے شناختی کارڈ گھر کے سب سے محفوظ ٹرنک میں رکھ کر مقفل کر دیے تھے۔ڈرائیونگ لائسنس اس نے زندگی میں کبھی بنوایا تو دور دیکھا تک نہیں تھا۔بائیک اس نے جس آدمی سے خریدی تھی کاغذات اور نمبر پلیٹ لیے ہی نہیں تھے۔ہیلمٹ کا گاؤں میں تصور ہی نہیں تھا۔باقی اشارے، شیشے اور ہیڈ لائٹ وغیرہ اس کی سستی، کاہلی اور کسل مندی کی وجہ سے نہیں تھے۔
اس نے اپنے ارد گرد دیگر موٹر سائیکل سواروں کو دیکھا تو ان میں سے اکثر لوگوں نے ہیلمٹ پہنے ہوئے تھے اور باقی سب لوازمات بھی پورے تھے۔وہ اب سوچ کے گھوڑے دوڑا رہا تھا کہ کس طرح دوائی گھر لے جائے اور ٹریفک پولیس کے ہتھے بھی نہ چڑھے۔
اس نے شہر کی چھوٹی بڑی تمام گلیوں کا نقشہ اپنے ذہن میں پھیلایا اور پھر سوچا کہ میں کس کس گلی میں سے گزر کر اور بچ بچا کر مطلوبہ میڈیکل اسٹور پر پہنچ جاؤں اور دوائی لے سکوں۔

انھیں سوچوں میں مستغرق کچھ دیر بعد اس نے اپنی آنکھوں اور سر کو ایک جانب جھٹکا دیا گویا خود کو بتا رہا تھا کہ راستہ مل گیا ہے چلو۔کک لگائی اور شہر کی چھوٹی اور تنگ گلیوں میں داخل ہو گیا۔تین چار نکڑوں سے مڑتا ہوا وہ مطلوبہ میڈیکل اسٹور پہ جا پہنچا۔دوائی لی اور واپس دوبارہ انھیں گلیوں میں داخل ہو گیا۔
جب وہ مین روڈ پہ چڑھا تو دیکھا کہ ٹریفک پولیس کے دو اہلکار وہاں آ موجود تھے۔ان کی نظریں اس پر پڑیں تو انھوں نے اسے اپنی سمت آنے کا کہا۔

اس نے ان کے اشارے سے ایسے ہی پہلو تہی کی کہ گویا دیکھا ہی نہیں۔واپس مڑنے لگا۔جلدی میں موٹر سائیکل بند ہو گئ۔دوبارہ کک لگائی لیکن بے سود۔اس دوران میں ایک پولیس اہلکار تیزی سے اس کی جانب چل پڑا۔
اسے اپنی طرف آتے دیکھ کر اس نے کک لگانے کی رفتار تیز کر دی۔لیکن موٹر سائیکل گویا چلنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔شاید وہ بھی پولیس کو شکایت کرنا چاہتی تھی کہ ایک مدت ہو گئ ہے یہ مجھ پہ سواری کرتا ہے لیکن اس نے کبھی ٹیونک اور سروس نہیں کروائی۔میرے کل پرزے ہل گئے ہیں لیکن اسے کوئی احساس ہی نہیں۔
"یہ موٹر سائیکل اب ضرور مجھے تھانے کی دال کھلائے گی"
پولیس اہلکار کو اپنی سمت آتے دیکھ کر مسلسل ککیں مارتا ہوا وہ خود سے یہ بول رہا تھا۔

کچھ ہی لمحوں بعد پولیس اہلکار اس کے قریب پہنچ گیا اور بولا:
ہاں اوئے! یہ ککیں لگانا بند کرو اور بتاؤ کہاں سے آرہے ہو اور کہاں کا قصد ہے؟"
اس نے جواب دیا:
"سرکار گھر سے شہر آیا تھا بچے کی دوائی لینے، اب گھر واپس جارہا ہوں"
اہلکار نے ایک نظر موٹر سائیکل پہ ماری۔بڑی مشکل سے اپنی ہنسی روکی اور قدرے طنزیہ انداز میں کہا:
یہ کیسی حالت بنائی ہوئی ہے تم نے موٹر سائیکل کی؟نہ اشارے ہیں نہ شیشے۔نہ لائیٹ ٹھیک لگ رہی ہے اور نہ ہی نمبر پلیٹ ہے"
اس کے پاس طنز برداشت کرنے کے سوا کوئی اور جواب نہیں بن پا رہا تھا سوائے یہ کہ اپنی غربت کا راگ الاپے۔پولیس والے نے مزید پوچھا:
لائسنس بنوایا ہوا ہے؟
اس سوال کا جواب دینے میں اس کی زبان میں رعشہ پیدا ہونے لگا۔
وہ پھر گویا ہوا:
"شناختی کارڈ ہے تمھارے پاس؟"
اس سوال سے تو اس کا تنفس بھی تیز ہونے لگا۔گھبراتے ہوئے بولا:
"سرکار گھر پڑا ہے بیگم نے ٹرنک میں رکھا ہوا ہے جب الیکشن آتے ہیں تو ووٹ دینے کے لیے ہی باہر نکالتے ہیں"
اہلکار زیر لب ہنسا۔
بائیک کے کاغذات ہیں؟
اس نے مزید استفسار کیا۔
اس نے پھر نفی میں سر ہلا دیا۔
اس کی موجودہ حالت نے تو گویا پولیس والے کو بھی حیران کر دیا تھا کہ آج کل اتنی سختی کے باوجود بھی اس طرح کے لوگ کھٹارا موٹر سائیکلیں لے کر شہروں میں آ جاتے ہیں۔
"موٹر سائیکل سمیت میرے پیچھے آؤ" اس نے تحکمانہ انداز میں کہا۔
وہ اسے دوسرے اہلکار کی طرف لے گیا۔اسے ساری صورت حال بتائی اور مشورہ کیا کہ کیا کرنا چاہیے۔مشورہ کرنے کے بعد پھر تحکمانہ انداز میں بولا:
ہاں اوئے کیا نام ہے تمھارا؟
اس نے جواب دیا:"سرکار جھنگی"
پورا نام بتاؤ۔
جا جا جہانگیر۔۔۔۔۔جہانگیر عباس سرکار جہانگیر عباس۔
"اچھا اوئے جھنگی تمھارا پھر مکمل چالان کرنے لگے ہیں ہیڈ لائیٹ،ہیلمٹ،شیشے،اشارے،نمبر پلیٹ،لائسنس اور کاغذات کچھ بھی نہیں ہے تمھارے پاس تو سب ملا کر کوئی چودہ ہزار کا چالان بنتا ہے۔بنا رہے ہیں ہم اور ابھی جا کر جمع کرواؤ"
چودہ ہزار سن کر تو جھنگی کے چودہ طبق گل ہو گئے۔
"سرکار میں غریب آدمی ہوں۔چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔چودہ ہزار تو کیا چودہ روپے بھی نہیں ہو سکیں گے مجھ سے۔رحم کرو سرکار رحم"
وہ نہایت فدویانہ انداز سے دست بستہ ہونے لگا اور کہنے لگا کہ سرکار تھوڑی بہت زمین ہے۔فصل کا بارشوں اور بیماریوں نے ناس مار دیا ہے۔جھنگی کی منت سماجت، اس کی ظاہری صورت حال اور کھٹارہ موٹر سائیکل کو دیکھ کر پولیس اہلکار بھی زرا سا پسیج گیا۔چالان کی رقم چودہ ہزار سے کم کر کے دو ہزار کر دی۔سختی سے کہا:
"چلو اب چودہ ہزار سے دو ہزار پہ لے آیا ہوں حکومت کی طرف سے بہت سختی ہے اور پھر یہ سب تمھارے ہی فائدے کے لیے کی جارہی ہے"
جھنگی نے چالان لیا جیب میں ڈالا۔موٹر سائیکل کو کک لگائی۔اس بار پہلی ہی کک میں موٹر سائیکل اسٹارٹ ہو گئ۔
"ناامراد زرا پہلے بھی ایسے ہی چل پڑتی"
جھنگی غصے میں اپنی بائیک سے گویا ہوا اور چالان جمع کرانے کے لیے چل پڑا۔
بڑی مشکل سے آفس ڈھونڈا اور بادل ناخواستہ چالان جمع کرا کے اور پولیس والوں اور حکومت کو کوستا ہوا سراپا اضطراب بن کر اپنی کھٹارا موٹر سائیکل پر سوار گھر کی اور چل پڑا۔

گاؤں پہنچ کر جس جس سے بھی جھنگی کا سامنا ہوا اس نے اپنے چالان کی درد بھری داستان سنائی کہ کس طرح پولیس والوں نے آج اس غریب کو لوٹا ہے۔زرا بھی احساس نہیں کیا۔
چوں کہ اس کا چہرا پریشانی کی آماج گاہ بنا ہوا تھا تو لوگ بھی اس سے اظہار ہم دردی کر دیتے جس سے اس کا کچھ کیتھارسز ہو جاتا،من ہلکا ہو جاتا۔
گاؤں کے ایک پڑھے لکھے اور سلجھے ہوئے نوجوان سمیع اللہ سے بھی اس کا سامنا ہوا۔اس نے اسے بھی یہی روداد سنائی۔اس نے جھنگی کو سمجھایا کہ اگرچہ تمھارے ساتھ برا ہوا لیکن یہ بھی تو دیکھو کہ قصور سراسر تمھارا اپنا ہی تھا۔نہ تمھارے پاس کاغذات ہیں نہ لائسنس موٹر سائیکل کی حالت بھی بے حد خراب ہے۔خود کردہ علاج نیست۔لہذا چالان تو بنتا تھا۔جھنگی جو پہلے ہی بے حد غصے میں تھا اب تو باقاعدہ آگ بگولہ ہو گیا۔بلکہ لڑنے پر تیار ہو گیا اور کہا:
"پولیس والوں نے لوٹا ہے مجھے،تم مجھ سے ہم دردری کرنے کی بجائے ان کی حمایت کر رہے ہو"۔بہرحال اردگرد کے لوگوں نے بیچ بچاؤ کرایا۔
یوں جھنگی بعد از خرابی بسیار اپنے گھر پہنچا۔بچے کو دوائی دی۔
اس کی بیگم نے جھنگی کے چہرے کا اضطراب دیکھتے ہوئے پوچھا:
کیا ہوا ہے؟ پریشان لگ رہے ہو۔
جھنگی نے اپنے ساتھ بیتی داستان غم تمام گھر والوں کو سنائی۔گھر والے بھی جھنگی کی موجودہ حالت اور چالان ہونے سے پریشان ہو گئے۔سبھی نے حکومت اور ٹریفک پولیس اہلکاروں کو برا بھلا کہا کہ سب کی غریبوں ہی پہ چلتی ہے امیروں کو کوئی ہاتھ نہیں لگاتا۔
شام کے وقت کچھ رشتہ دار اور جھنگی کے چند قریبی دوست ازراہ ہم دردی اس کا حال پوچھنے آئے۔چاچا عاقو بھی اڑتی خبر سنتا ہوا چلا آیا اور جھنگی کو دلاسا دیتے ہوئے بولا:
٫پتر مجبوری کا نام صبر ہے۔پریشان نہ ہو غریب کا اللّٰہ ہی ہوتا ہے"
جوں جوں رات گزرتی گئ تو آہستہ آہستہ سب اپنے اپنے گھروں کو جانے لگے۔گھر والے بھی سو گئے لیکن جھنگی کو نیند نہیں آرہی تھی۔سارے دن کے تمام واقعات ایک فلم کی طرح اس کے زہن میں چل رہے تھے۔گھر سے نکلتے ہوئے پیش آنے والا حادثہ،پھر شہر میں ٹریفک پولیس اہلکار سے چالان ہو جانا،واپس علاقہ والوں کی باتیں،اپنے موٹر سائیکل کی ظاہری حالت اور اس نوجوان سمیع اللہ کی تلقین کہ قانون کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان تو ہو گا،یہ سب اس کے زہن میں یکے بعد دیگرے چل رہا تھا۔
جھنگی سوچنے لگا کہ قانون تو شہر والوں کے لیے ہوتے ہیں دیہات میں کون قانون پہ عمل کرتا ہے؟ اس لیے میں بھی نہیں کرتا۔
لیکن پھر اسے اپنا محلے والا حادثہ یاد آیا کہ اگر میں نے ہیلمٹ پہنا ہوتا اور موٹر سائیکل کی بریکیں ٹھیک ہوتیں تو آج یہ حادثہ پیش نہ آتا۔مجھے اس نوجوان کی باتیں نہ سننا پڑتیں اور سر پر چوٹ بھی نہ لگتی۔پھر وہ سوچنے لگا کہ خدا نا خواستہ اگر اسے کچھ ہو جاتا تو اس کے پیچھے بیوی بچوں کا کیا بنتا۔ان کا کون پرسان حال ہوتا؟
وہ مزید سوچنے لگا کہ اگر اسے ٹریفک پولیس والا واقعی چودہ ہزار کا چالان کر دیتا تو اتنے پیسوں کا بندوست وہ کہاں سے کرتا۔
یوں آہستہ آہستہ اسے بطور شہری اپنے فرائض کا احساس ہونے لگا کہ قانون لوگوں ہی کی فلاح کے لیے بنائے جاتے ہیں۔اگر سب لوگ ان پہ عمل کریں گے تو ہمارے شہروں اور دیہاتوں کا نظام بہتر ہو جائے گا۔حادثات کم ہو جائیں گے۔نقصانات کم ہوں گے۔یوں اسے بطور شہری اپنی زمہ داری کا احساس ہونے لگا اور اس نے تہیہ کر لیا کہ کل صبح ہوتے ہی وہ شہر جائے گا۔اپنا ڈرائیونگ لائسنس بنوائے گا،ہیلمٹ خریدے گا،بائیک کی ٹیونک و سروس کروائے گا اور جو جو سامان نہیں ہے وہ ڈلوائے گا اور پھر لشکارے مارتی ہوئی اور تمام لوازمات پورے کرتی ہوئی موٹر سائیکل کے ساتھ چالان والی جگہ سے گزرے گا۔اگر وہی اہلکار اسے ملے گا تو نوابوں کی طرح اس کے سامنے سے گزرے گا ہارن بجا کر اسے صلح مارے گا اور اسی طرب سے واپس گھر لوٹے گا۔ان مثبت خیالات سے اس کے سارے جسم میں تازگی کا گداز ہونے لگا اور وہ نیند سے بغل گیر ہو گیا۔

01/06/2026

Shadi Mubarak

29/05/2026ہم اپنے پیارے دوست ملک سعد شمیم اسرا صاحب کو نکاح کی مبارکباد پیش کرتے ہیں ۔بَارَكَ اللهُ لَكَ وَبَارَكَ عَلَي...
31/05/2026

29/05/2026
ہم اپنے پیارے دوست ملک سعد شمیم اسرا صاحب کو نکاح کی مبارکباد پیش کرتے ہیں ۔
بَارَكَ اللهُ لَكَ وَبَارَكَ عَلَيْكَ، وَجَمَعَ بَيْنَكُمَا فِيْ خَيْرٍترجمہ:"اللہ آپ کے لیے (یہ نکاح) بابرکت بنائے، آپ پر اپنی برکتیں نازل فرمائے اور آپ دونوں کو نیکی و بھلائی کے ساتھ
یکجا رکھے
اس خوبصورت اور بابرکت سفر کے آغاز پر آپ دونوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد! اللہ آپ کے اس رشتے کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے، محبتیں بڑھائے اور زندگی میں سکون عطا فرمائے۔ آمین!

Address

Karor Lal Isa

Telephone

+923126059093

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Government Higher Secondary School 93/ML karor posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Government Higher Secondary School 93/ML karor:

Shortcuts

Share

Category