Sanabil-Al-Khair

Sanabil-Al-Khair

Share

یارب دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنّا دے
جو قلب کو گرما دے
جو رُوح کو تڑپا دے
محرومِ تماشا کو
پھر دیدۂ بِینا دے
دیکھا ہے جو کچھ میں نے
اوروں کو بھی دِکھلا دے

22/03/2026

وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ
اور ان میں سے اکثر لوگ الله پر ایمان نہیں رکھتے مگر وہ مشرک ہیں
(الله کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں)
۔۔۔۔۔۔۔
کیا فرد اور قوم کی خوشحالی و بدحالی کا توحید سے براہِ راست تعلق ہے؟

ہم نے کبھی خود سے یہ سوال کیا ہی نہیں کہ آخر توحید میں ایسا کیا ہے کہ قرآن بار بار اسی پر زور دیتا ہے؟
ہم نے کبھی خود سے یہ سوچا ہی نہیں کہ کیوں تمام انبیاء کی دعوت کا مرکز توحید ہی رہی؟

یہ سوال ہمارے لیے بہت اہم ہیں ، اور اس کا جواب تلاش کرنا اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔

کیونکہ صرف سوال کرنے سے حقیقت کا ادراک نہیں ہوتا، بلکہ جواب تلاش کرنے سے ہماری سوچ، دل کی حالت، اور عملی زندگی بدلتی ہے۔
جس قوم کی زندگی میں الله کی توحید جتنا زیادہ مضبوط اور غالب ہوتی ہے، اسی قدر اُس کے اندر امن، آشتی، سکون اور حقیقی خوشحالی پیدا ہوتی ہے۔
کیونکہ توحید صرف ایک عقیدہ نہیں، بلکہ ایک مکمل فکری اور اخلاقی نظام ہے جو انسان کے دل، کردار اور معاشرے کو درست سمت دیتا ہے۔

⁉️{کیا ہم واقعی موحد ہیں؟}
یہ سوال کڑوا ضرور ہے، کیونکہ اس کا جواب اکثر ہمیں اپنی حقیقت سے آگاہ کر دیتا ہے۔
ہم دعوے کرتے ہیں، کلمہ پڑھتے ہیں، مگر اکثر ہمارے دل میں الله کی واحدانیت کا مکمل ادراک موجود نہیں ہوتا۔
اور شاید یہی وجہ ہے کہ آج ہماری ذاتی اور اجتماعی بدحالی کا اصل سبب یہی ہے کہ
ہم میں سے اکثر، کلمہ گو ہونے کے باوجود، حقیقت میں موحد نہیں ہیں۔
🔥اب فیصلہ ہر انسان ( مرد/عورت) خود کرے
کیا ہم سچے معنوں میں موحد ہیں یا صرف نام کے لیے ایمان کا دعویٰ رکھتے ہیں؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

17/03/2026

آج کے حالات میں، جب دنیا میں جنگیں اور انتشار بڑھ رہے ہیں _تو پھر کیا کریں؟

🔥سب سے پہلی اور اہم بات یہ ہے کہ گھبرائیں نہیں۔کیونکہ گھبراہٹ خود ایک فتنہ ہے، اور شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔
جو انسان اندر سے مضبوط ہو وہ بحران میں بھی سوچ سکتا ہے اور جو گھبرایا ہوا ہو وہ غلط فیصلے کرتا ہے
🔥نبی ﷺ نے فرمایا: "المؤمن للمؤمن كالبنيان" —مومن مومن کے لیے عمارت کی طرح ہے جس کے حصے ایک دوسرے کو تھامتے ہیں۔
کمیونیکیشن بلیک آؤٹ کسی بھی قسم کا ہو اس کا حل گھر سے باہر نہیں، گھر کے اندر اور محلے کی سطح پر ہے۔ آپ کا سب سے بڑا سہارا الله کے بعد آپ کا پڑوسی ہے، آپ کی مسجد ہے، آپ کا محلہ ہے۔ اس لیے ابھی سے — اپنے پڑوسیوں سے تعلق بنائیں، مسجد کو مرکز بنائیں
ایک قابلِ اعتماد شخص کو "رابطہ نقطہ" بنائیں
🔥گھر میں ایک بیٹری والا ریڈیو رکھیں کیونکہ جنگ اور بحران میں ریڈیو وہ واحد چیز ہوتی ہے جو کام کرتی رہتی ہے
🔥اے ٹی ایم (ATM) بند ہوسکتے ہیں کچھ نقد رقم گھر میں رکھیں۔
🔥پانی کا ذخیرہ رکھیں
🔥بنیادی دوائیں گھر میں ہوں
🔥تین سے چھے ماہ کا سوکھا راشن اکٹھا کریں
🔥دستاویزات ایک جگہ پر رکھیں
🔥ابھی پاکستان میں مساجد کھلی ہیں، اذان ہو رہی ہے، قرآن پڑھا جا رہا ہے، اپنے آپ کو اور بچوں کو دین سکھانا ممکن ہے — تو ابھی وہ وقت نہیں آیا۔ جو لوگ ابھی سے کہہ رہے ہیں کہ جنگلوں میں نکل جاؤ_ وہ یا تو افواہ پھیلا رہے ہیں یا انہوں نے حدیث کا پورا سیاق نہیں پڑھا۔
ہاں جب شہروں میں دین پر چلنا ناممکن ہو جائے، جب ایمان کو براہِ راست خطرہ ہو، جب معاشرہ اس حد تک فساد میں ڈوب جائے کہ بچنے کی کوئی صورت نہ ہو۔ تو پھر دیکھا جاسکتا ہے
🔥اسکرین سے اپنا تعلق کم کریں اور جو چیز آپ کے دل میں خوف بڑھائے اسے دیکھنا بند کریں کیونکہ یہ خبر نہیں، یہ وساوس ہیں۔
صرف مصدقہ ذرائع پر فوکس رہیں۔
🔥افواہوں سے بچیں کیونکہ سوشل میڈیا پر جان بوجھ کر خوف پھیلایا جاتا ہےاور دشمن چاہتے ہیں کہ عوام پریشان اور منتشر رہیں
یاد رہے کہ افواہ پھیلانا خود گناہ ہے
وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِّنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ
"جب انہیں کوئی امن یا خوف کی خبر ملے تو فوراً پھیلا دیتے ہیں۔"
تو خبروں کو پرکھیں — ہر افواہ سچ نہیں ہے
🔥سب سے اہم ہتھیار "حسبنا اللہ ونعم الوکیل"ہے ۔۔ اس کو اپنا وظیفہ بنا لیں_ یہ دعا ابراہیمؑ نے آگ میں جاتے وقت پڑھی تہی— اللہ نے آگ کو ٹھنڈا کر دیا۔ کوئی بلیک آؤٹ، کوئی جنگ، کوئی قحط اس دعا سے بڑا نہیں
🔥یاد رکھیں کہ ہر دور کے مسلمانوں نے اپنے زمانے کو "آخری زمانہ" سمجھا ہے۔ صحابہ کرامؓ نے بھی، صلیبی جنگوں میں بھی، دونوں عالمی جنگوں میں بھی یہی کہا گیا۔
موجودہ حالات صغریٰ علامات سے مشابہ ہیں،لیکن قیامت آنے والی ہے یہ علم کے بغیر بات ہے
🔥🔥🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰
پاکستان کے حوالے سے حقیقت یہ ہے کہ
خطرات موجود ہیں
سیاسی عدم استحکام ہے
معاشی دباؤ ہے
اور علاقائی جنگوں کے اثرات منڈلا رہے ہیں۔
لھذا نہ اتنے بے فکر ہوں کہ کوئی تیاری نہ ہو،
اور نہ اتنے خوفزدہ ہوں کہ زندگی عذاب بن جائے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"احتَطْ لنفسِك" — اپنے لیے احتیاط کرو
لیکن ساتھ ہی فرمایا:
"لا تَزالُ طائفةٌ من أُمَّتي ظاهرين" — میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ غالب رہے گا
پاکستانی مسلمانوں کو افراتفری نہیں، حکمت چاہیے۔ راشن رکھیں، افواہ نہ پھیلائیں، الله پر بھروسہ رکھیں، اور اپنے گھر اور معاشرے کی اصلاح میں لگے رہیں۔
یاد رکھیں کہ الله کے بعد آپ کا اپنا گھر ،محلہ اور مسجد/مضبوط دینی صحبت — یہی آپ کا قلعہ اور سب سے بڑی حفاظت ہیں۔
Watch video 👇

16/03/2026

وَقَالَ مُوسَىٰ رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُ زِينَةً وَأَمْوَالًا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا عَنْ سَبِيلِكَ ۚ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ
اور موسیٰؑ نے دعا کی:
“اے ہمارے رب! تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں زینت اور مال دیا ہے، تاکہ وہ لوگوں کو تیرے راستے سے گمراہ کریں۔
اے ہمارے رب! ان کے مال کو مٹا دے اور ان کے دل سخت کر دے تاکہ وہ ایمان نہ لائیں جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔”

دنیا میں ظلم کرنے والے، چاہے وہ حکمران ہوں یا طاقتور لوگ، وقتی طور پر غالب ہو سکتے ہیں۔مگر اللہ کی عدالت ہمیشہ قائم رہتی ہے
اور ہر ظالم کو انصاف کے سامنے حساب دینا پڑے گا۔
الله تعالی اج کے فراعنہ اور ان کے سہولت کاروں کے لیے کافی ہے۔۔۔

15/03/2026

درسِ نظامی: کیا روایت نے قیادت کا مقام چھین لیا؟

درسِ نظامی برصغیر (ہند و پاک) کے مدارس میں پڑھایا جانے والا ایک روایتی اسلامی نصاب ہے۔ اس کو مرتب کرنے والے ملا نظام الدین سہالوی ہیں (18ویں صدی، لکھنؤ) —اسی نسبت سے اس نصاب کو "نظامی" کہا گیا۔ یہ نصاب اچانک نہیں بنا، بلکہ ایک خاص دور کی ضرورت کے مطابق مرتب کیا گیا تھا، جس کا مقصد یہ تھا کہ ایسے علماء تیار ہوں جو دین کو سمجھیں، اس کا دفاع کریں اور معاشرے کی رہنمائی کر سکیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا درسِ نظامی اپنے مقصد میں واقعی کامیاب ہوا؟
ابتدائی دور میں کامیابی حاصل ہوئی، مگر جب برصغیر میں نوآبادیاتی نظام قائم ہوا تو حالات بدل گئے۔ اس کے نتیجے میں درسِ نظامی کا کردار قیادت سے حفاظت (preservation) کی طرف منتقل ہو گیا، یعنی معاشرتی رہنمائی کم اور روایت کی حفاظت زیادہ ہو گئی ۔
جب علماء کا کردار صرف روایت کے محافظ بن کر رہ گیا، تو وہ جدید معاشرے میں قائد اور فکری رہنما نہیں بن سکے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ معاشرے کی قیادت دوسرے طبقات کے ہاتھ میں چلی گئی، دین اور زندگی کے درمیان فاصلہ بڑھ گیا، اور عام انسان، خاص طور پر نوجوان، ذہنی الجھن کا شکار ہو گئے۔
جب اثر و تأثیر ختم ہو جائے تو حل یہی ہے کہ دین کو صرف روایت کے طور پر نہیں بلکہ زندہ علم، مضبوط کردار اور وسیع فکری سمجھ کے ساتھ دوبارہ زندہ کیا جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ:
قرآن کی سمجھ حاصل کی جائے جس کے لئے
علم وسیع کیا جائے جس کے لئے کردار مضبوط بنایا جائے اور جس کے لئے فرقہ واریت سے اوپر اٹھا جائے جس کے لئےاپنی تربیت کے ساتھ ساتھ نئی نسل کی صحیح تربیت کی جائے

اور اس اصلاح و تجدید کا آغاز اگر کرنا ہے تو اپنی ذات سے کرنا ہوگا۔
اور یہ آغاز کرنے کے لیے ضروری نہیں کہ درسِ نظامی ہی اختیار کیا جائے بلکہ ابتداء کا سب سے مؤثر ذریعہ قرآن ہے اور اسے خود سے سمجھ کر پڑھنے سے کوئی گمراہ نہیں ہوتا، بشرطیکہ:
علمی بنیاد ہو
تدبر اور غور ہو
زندگی میں نافذ کرنے کی نیت ہو
یاد رہے کہ گمراہی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب علم، تدبر اور رہنمائی کی کمی ہو، نہ کہ قرآن خود پڑھنے کی وجہ سے۔
والله اعلم بالصواب۔

11/03/2026

When people lose awareness, predators become their leaders.
جب محافظ ختم ہو جائے تو دشمن خود سرپرست بننے کا دعویٰ کرتا ہے، اور جب قوم شعور کھو دے تو اس کی قیادت شکاریوں کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے۔

03/03/2026

دِیں ہاتھ سے دے کر اگر آزاد ہو ملّت
ہے ایسی تجارت میں مسلماں کا خسارا
دنیا کو ہے پھر معرکۂ رُوح و بدن پیش
تہذیب نے پھر اپنے درِندوں کو اُبھارا
اللہ کو پامردیِ مومن پہ بھروسہ
اِبلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا
تقدیرِ اُمَم کیا ہے، کوئی کہہ نہیں سکتا
مومن کی فراست ہو تو کافی ہے اشارہ

02/03/2026

حالات نظر آتے ہیں، مگر انجام الله کے علم میں ہوتا ہے۔
اسی لیے مومن امید نہیں چھوڑتا، کیونکہ اس کا یقین حالات پر نہیں بلکہ الله کے وعدے پر ہوتا ہے۔

16/02/2026

اچھے لوگ خاموش رہیں،تو غیر منصف تاریخ کے مصنف بن جاتے ہیں۔ ⚖️
پاکستان کی سیاست میں ہر ردعمل کا وزن مستقبل طے کرتا ہے۔

04/02/2026

کیا واقعی دنیا کی بڑی آبادی کو اس لیک سے کوئی فرق پڑے گا؟
مختصر جواب: نہیں پڑے گا۔
وجوہات:
*اخلاقی بے حسی (Moral Fatigue)
کل جو scandal تھا، آج وہ content ہے۔
*نسبیت پسند اخلاقیاتMoral Relativism
جب خیر و شر absolute نہ ہوں، بلکہ “personal choice” بن جائیں، تو Epstein جیسے کیس بھی پورے نظام، طاقت کے ڈھانچوں اور اداروں کی خاموش شمولیت یا سرپرستی سے جنم لینے والا جرم نہیں بلکہ individual excess سمجھے جاتے ہیں۔
*طاقت کا بیانیہ کام کرتا ہےاور اس کے لیے نظام خود اپنے زخم کھولتا ہے تاکہ:
بڑے نام بچ جائیں
عوامی غصہ diffuse ہو جائے
اصل power structures پر بات نہ ہو
یعنی:
سچ اتنا بتایا جائے کہ نظام بچ جائے، اتنا نہیں کہ ٹوٹ جائے۔اور ویسے بھی اکثر ایسے انکشافات اس وقت سامنے آتے ہیں جب اشرافیہ یا بیوروکریسی کے اندر لڑائی ہو۔۔
اصل خطرہ یہ نہیں کہ گندگی سامنے آگئی
اصل خطرہ یہ ہے کہ اس وقت سامنے لائ گئ جب ضمیر نے react کرنا چھوڑ دیا
یہ وہ مرحلہ ہے جسے ابن خلدون نے “فسادِ طبع” کہا تھا
اور قرآن نے “قساوة القلوب”
الله رحم کرے🤲

16/10/2024

بیچ کر تلواریں مصلے خرید لیے تم نے
بیٹیاں لٹتی رہیں اور تم دعا کرتے رہے
ایک طرف بیٹیاں لٹ رہی ہیں اور دوسری طرف بیٹیاں نچائی جا رہی ہیں
انا لله و انا الیه راجعون
جو لوگ سارا سال تبلیغ کے لیے اپنی جان مشقت میں ڈال کے رکھتے ہیں، وظائف کے ذریعے حالات کو پرامن رکھنے کی بات کرتے ہیں کیا صرف وظیفے کرنے سے لوگوں کو ہدایت مل سکتی یا دشمن اپنی دشمنی سے باز رہ سکتے ہیں ؟

30/09/2024

مسلم معاشرے میں حرام اور کرپشن کے ذریعے دنیا کی تمام مال و دولت ‘ فائدے و لذتیں اور نعمتیں و آسائشیں وغیرہ خود اپنے لئے اور اپنے اہل و عیال کیلئے جمع کرتے رہنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ دنیا میں ایسے لوگ جیسے بھی اعلٰی عہدے پر فائز ہو جائیں‘ جتنے بھی بڑے تاجر بن جائیں‘ جیسے بھی عالیشان محلات اور عالیشان گاڑیوں کے مالک ہوں‘ جتنے بھی عیش و عشرت کی زندگی گزاریں لیکن ان کی اوقات انکے رب نے بیان کر دی ہے اور آخرت میں ان کا کچھ حصہ نہیں ہے

Want your school to be the top-listed School/college in Karanchi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

Gulshan-e-iqbal
Karanchi