27/08/2021
گورنمنٹ اساتذہ کو اکثر ایک طعنہ سننے کو ملتا ہے کہ پرائیویٹ سکولز کا معیار تعلیم سرکاری سکولز سے بہتر ہوتا ہے۔پرائیویٹ سکولز میں میٹرک ایف اے پاس لوگ ہوتے ہیں لیکن ان کی کارکردگی ہر طرح سے سو فیصد ہے ،کیوں؟
گورنمنٹ سکولز میں گریجوایشن سے لے کے پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈرز اساتذہ بیٹھے ہیں لیکن کارکردگی پرائیویٹ سکولز کی بہتر ہے، کیوں ؟
ہمارے خیال میں سب سے پہلے تو اس طرح کی باتیں کرنے والوں کو چاہیے کہ اب وہ گورنمنٹ سکولز کا وزٹ کریں۔
آج سے دس سال پہلے جو سکولز کے حالات تھے وہ اب نہیں رہے۔معیار تعلیم کافی بہتر ہوا ہے،اور اب اسی فیصد اساتذہ کام کرتے ہیں یا کرنا چاہتے ہیں لیکن کچھ مسائل کی وجہ سے وہ صحیح کام نہیں کر پاتے۔
سرکاری سکولز میں تعلیم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ غلط معاشرتی سوچ ہے۔پرائیویٹ سکول میں وہ اپنے لائق بچے کو داخل کرائیں گے۔ان کی ضروریات بھی پوری کریں گے اور ماہانہ ٹیوشن فی الگ سے ادا کریں گے۔
لیکن سرکاری سکولز میں جو بچے بھیجے جاتے ہیں،ستر فیصد والدین ان سے بالکل لا تعلق نظر آتے ہیں۔نہ انہیں ڈھنگ کے کپڑے خرید کے دیں گے اور نہ ہی ان کی باقی ضروریات کا خیال رکھیں گے۔ماہانہ بیس روپے ایف ٹی ایف کیلیے بھی مشکل سے دیں گے۔گھر کے سارے کام بھی انھی بچوں سے کروائیں گے۔یقین جانیں میں کافی ساری فیمیل ہیڈز کو جانتا ہوں جنہوں نے پہلے تو کچھ بچوں کی ماوں کو سکول بلایا لیکن وہ نہیں ائیں۔پھر گھر گھر جا کے ان سے درخواست کی کہ خدارا بچوں کے کم از کم منہ تو دھلا کے سکول بھیجا کریں۔!!
ایک اور معاشرتی رحجان یہ ہے کہ سرکاری سکولز میں صرف غریب لوگوں کے بچے ہی پڑھنے آتے ہیں۔ متوسط اور امیر طبقہ کے لوگوں کی پہلی ترجیح پرائیویٹ سکولز ہوتے ہیں۔ان کی حتی الوسع کوشش ہوتی ہے کہ ہمارے بچے علاقہ یا شہر کے مہنگے ترین سکولز میں پڑھیں ۔سرکاری سکولز میں انہی بچوں کو بھیجیں گے جو مختلف پرائیویٹ سکولز میں ناکام ہو چکے ہوں گے۔
اس کے علاوہ سرکاری سکولز میں اساتذہ کو اپنی مرضی سے اور کھل کے کام نہیں کرنے دیا جاتا۔حکام بالا کی ہدایات کی روشنی میں نتائج سے لاپرواہ ہو کے انہیں کام کرنے کو کہا جاتا ہے۔اور انہیں وہ ہر صورت میں کرنا پڑتا ہے۔
،بچہ چاہے جیسا بھی ہے اسے آپ نے لے کے چلنا ہے۔اس سے باز پرس نہیں کی جا سکتی،اسے فیل یا خارج نہیں کیا جا سکتا۔بچے کئ ذہن میں یہ بات راسخ ہے کہ میں پڑھوں یا نا پڑھوں،میں نے پاس ہو ہی جانا ہے۔اسے ہر چیز مفت میں مل جاتی ہے۔مفت اور زبردستی کی تعلیم کی بھلا کون قدر کرتا ہے۔؟
کچھ والدین کی سوچ اتنی نیچ ہوتی ہے کہ وہ گورنمنٹ اساتذہ کو مختلف بہانوں سے بلیک کرتے ہیں۔بلکہ اب تو طلبا بھی ایسا کرنے لگ گئے ہیں۔تعلیم سے ہٹ کے اساتذہ کو اور مختلف کاموں میں الجھایا جاتا ہے۔جس سے وہ فرسٹریشن کا شکار ہو کے اپنے کام پہ توجہ مرکوز نہیں کر پاتے۔
اکثر سرکاری سکولز میں طلبا کی تعداد بہت زیادہ ہے اور اساتذہ کی تعداد بہت کم۔لہذا کوالٹی اف ایجوکیشن بہتر نہیں رہتی۔
بعض اوقات مجموعی محکمانہ اور عوامی رویہ بھی اساتذہ کے ساتھ بڑا تحقیر آمیز ہوتا ہے۔اتنا کہ استاد بیچارا اپنی ہی نظروں میں گر جاتا ہے۔معاشرہ اور اپنی نظروں میں گرا ہوا شخص بھلا کیا تعلیم و تعلم کا کام کرے گا۔
حالت یہ ہے کہ ایک انیسویں گریڈ کا ہیڈ ماسٹر مانیٹرنگ کے دوران ایڈہاک بیس ریٹائرڈ فوجی کی منتیں کرتا نظر آتا ہے۔
اس کے باوجود بھی ستر فیصد سرکاری سکولز مثالی کام کر رہے ہیں۔ایسے اساتذہ بھی دیکھے ہیں جو سکولز پہ اپنی تنخواہ تک بھی خرچ کر دیتے ہیں۔اگر کسی کو یقین نہ آئے تو بندہ وزٹ کرا سکتا ہے۔اگر پرائیویٹ اور سرکاری سکولز سے پڑھے لوگوں کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو قابلیت کے لحاظ سے سرکاری سکولز سے پڑھے لوگ زیادہ کامیاب نظر آتے ہیں۔پرائیویٹ سکولز تشہیر،ملمع سازی اور کچھ اور کاموں پہ بہت فوکس کرتے ہیں۔لیکن گورنمنٹ سیکٹر میں ایسا کچھ نہیں۔
اور بھی بہت سی باتیں ہیں انشاء اللہ ان پہ کبھی پھر بات کریں گے۔
والسلام