21/08/2026
روزمیری: خوشبو دار پودا جو باورچی خانے سے باغ تک کام آتا ہے
آج جس پودے کی تصویر آپ کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں اسے انگریزی میں Rosemary کہا جاتا ہے۔ یہ ایک خوبصورت، خوشبودار اور سدا بہار جھاڑی نما پودا ہے۔ اس کے باریک، سوئی نما پتے اسے دوسری جڑی بوٹیوں سے آسانی سے ممتاز کرتے ہیں۔
نام: روزمیری
English Name: Rosemary
Botanical Name: Salvia rosmarinus
پرانا سائنسی نام :Rosmarinus officinalis Family: Lamiaceae
روزمیری اصل میں بحیرۂ روم کے خطے کا پودا ہے اور اسے دھوپ، گرم موسم اور ایسی مٹی پسند ہے جس میں پانی کھڑا نہ ہو۔ یہ خشک سالی کو بھی کافی حد تک برداشت کر لیتا ہے۔ اس کے چھوٹے خوبصورت پھول عموماً نیلے، بنفشی، گلابی یا سفید رنگ کے ہو سکتے ہیں۔
یہ کتنی عمر پاتا ہے؟
روزمیری عام سالانہ پودا نہیں بلکہ ایک سدا بہار جھاڑی ہے۔ مناسب حالات میں کئی سال تک قائم رہ سکتی ہے۔ باغبانی کے لحاظ سے اکثر 7–8 سال بعد پرانے پودے کی جگہ نئی کٹنگ سے پودا تیار کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے، تاہم اچھی دیکھ بھال سے یہ اس سے زیادہ عرصہ بھی زندہ رہ سکتا ہے۔
بیج سے افزائش
روزمیری کو بیج سے بھی اگایا جا سکتا ہے، لیکن عملی طور پر اسے قلم/کٹنگ سے اگانا زیادہ آسان اور عام طریقہ ہے۔ موسمِ بہار میں بیج بوئے جا سکتے ہیں جبکہ نیم پکی شاخوں کی کٹنگ بھی استعمال کی جاتی ہے۔
روزمیری کے فوائد اور استعمال
روزمیری صدیوں سے ایک خوشبودار جڑی بوٹی کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے۔ اس کے تازہ یا خشک پتے کھانوں میں خوشبو اور ذائقہ پیدا کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، خاص طور پر گوشت، روٹی، سبزیوں اور مختلف Mediterranean کھانوں میں۔
اس کے پتوں میں قدرتی خوشبودار مرکبات اور antioxidant خصوصیات رکھنے والے اجزا بھی پائے جاتے ہیں، اسی وجہ سے اسے صرف ایک سجاوٹی پودا نہیں بلکہ ایک مفید culinary herb بھی سمجھا جاتا ہے۔
کچھ احتیاط بھی ضروری ہے
روزمیری کھانے میں معمولی مقدار میں استعمال ہونے والی معروف جڑی بوٹی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے ہر بیماری کا علاج سمجھ کر زیادہ مقدار میں استعمال کیا جائے۔ خاص طور پر اس کا concentrated oil یا بہت زیادہ مقدار میں استعمال عام غذائی استعمال سے مختلف ہے۔
کچھ لوگوں میں روزمیری جلد پر الرجی یا irritation پیدا کر سکتی ہے؛ حساس جلد والے افراد کو پودے کو براہِ راست سنبھالتے وقت احتیاط کرنی چاہیے۔
میرے خیال میں روزمیری کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ یہ ایک ایسا پودا ہے جو باغ کی خوبصورتی، خوشبو اور باورچی خانے کے ذائقے تینوں کو ایک ساتھ جوڑ دیتا ہے۔
20/08/2026
ٹیچنگ سٹاف کی ضرورت ہے!
کیا آپ تدریس کا شوق رکھتے ہیں اور ایک بہترین تعلیمی ماحول میں کام کرنا چاہتے ہیں؟
الصادق پبلک ہائی سکول ٹیری (کرک) کو اپنے ادارے کے لیے باصلاحیت اور محنتی مرد اور خواتین اساتذہ (Male & Female Teachers) کی ضرورت ہے۔
اگر آپ کے پاس تجربہ ہے اور آپ اپنی قابلیت کو ثابت کرنا چاہتے ہیں، تو یہ آپ کے لیے ایک بہترین موقع ہے!
کیسے اپلائی کریں؟
اپنی سی وی (CV / Resume) نیچے دیے گئے نمبر پر واٹس ایپ کریں:
📱 0344-9790858
درخواست کی آخری تاریخ: 31 اگست 2026
ایک بہترین تعلیمی ادارے کا حصہ بنیں اور اپنے مستقبل کو روشن بنائیں۔
20/08/2026
ایک بار پھر گزارش Leopard Gecko کے بارے میں
روزانہ کی بنیاد پر مجھے Leopard Gecko کی تصاویر، ویڈیوز اور پیغامات موصول ہوتے ہیں۔ خاص طور پر افغانستان سے بہت سے دوست یہ تصاویر بھیجتے ہیں۔ کچھ حضرات اسے فروخت کرنا چاہتے ہیں اور کچھ خریدنے کے لیے رابطہ کرتے ہیں۔
بھائیو! میں پہلے بھی ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے واضح کر چکا ہوں کہ میں Leopard Gecko کا کاروبار نہیں کرتا اور نہ ہی اس کی خرید و فروخت میں کوئی دلچسپی رکھتا ہوں۔ اس کے باوجود روزانہ پیغامات آتے رہتے ہیں، جس کی وجہ سے اب واقعی کافی تنگ آ چکا ہوں۔
لہٰذا ایک بار پھر سب دوستوں سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ اگر آپ Leopard Gecko خریدنا یا فروخت کرنا چاہتے ہیں تو براہِ کرم اس سلسلے میں متعلقہ افراد اور کاروباری لوگوں سے رابطہ کریں۔ میرے پاس اس حوالے سے کوئی خرید و فروخت کی سہولت یا معلومات نہیں ہے۔
امید ہے اس بار میری گزارش کو سمجھا جائے گا اور مجھے اس معاملے میں مزید پیغامات اور تصاویر بھیج کر زحمت نہیں دی جائے گی۔
شکریہ
20/08/2026
Leptadenia pyrotechnica: صحرا کا ایک عجیب و دلچسپ پودا
آج جس پودے کی تصویر شیئر کر رہا ہوں اسے سائنسی طور پر Leptadenia pyrotechnica کہتے ہیں۔ یہ خشک اور گرم علاقوں میں اگنے والا ایسا پودا ہے جو شدید گرمی اور پانی کی کمی کو بھی برداشت کر لیتا ہے۔ اس کی سبز اور باریک شاخیں دور سے دیکھنے میں کسی خشک جھاڑی جیسی لگتی ہیں، جبکہ اس کے پتے بہت کم ہوتے ہیں۔
اس پودے کی ایک دلچسپ بات ہمارے علاقے میں مشہور ہے۔ جب اس کی نئی نویلی کونپل نکلتی ہے تو ہم اسے کاٹ کر اس میں سے نکلنے والے رس کو ناک کے قریب لے جا کر سونگھتے ہیں، جس سے عموماً چھینکیں آنے لگتی ہیں۔ یہ ہمارے لیے ایک پرانا اور دلچسپ مقامی مشاہدہ ہے، البتہ اس رس کو ناک کے اندر ڈالنا مناسب نہیں کیونکہ جلن یا الرجی ہو سکتی ہے۔
یہ پودا صرف دلچسپ ہی نہیں بلکہ اپنے ماحول کے لیے بھی اہم ہے۔ کم پانی میں زندہ رہنے کی صلاحیت کی وجہ سے یہ بنجر اور صحرائی علاقوں کے نباتاتی نظام کا حصہ بنتا ہے۔ اس کا مضبوط جڑوں کا نظام مٹی کو تھامنے میں مدد دیتا ہے اور بعض علاقوں میں اسے روایتی طور پر مختلف مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
لیکن ہر قدرتی چیز فائدہ مند ہی ہو، ایسا ضروری نہیں۔ اس پودے کے رس یا دوسرے حصوں کو بغیر تحقیق کے کھانا، پینا یا علاج کے طور پر استعمال کرنا مناسب نہیں۔ خاص طور پر آنکھوں اور ناک جیسی حساس جگہوں پر اس کے رس سے جلن یا حساسیت پیدا ہو سکتی ہے۔
قدرت کی خوبصورتی یہی ہے کہ ہمارے اردگرد موجود عام سے نظر آنے والے پودوں میں بھی ایسی دلچسپ خصوصیات چھپی ہوتی ہیں جن کے بارے میں اکثر ہمیں علم ہی نہیں ہوتا۔
Leptadenia pyrotechnica: صحرا میں زندگی کی ایک خوبصورت مثال۔
20/08/2026
دُوب گھاس: جسے ہم معمولی سمجھتے ہیں
ہمارے اردگرد اُگنے والی دُوب گھاس کو شاید ہی ہم کبھی خاص اہمیت دیتے ہوں۔ پاؤں تلے آتی ہے، کاٹی جاتی ہے، سوکھ جاتی ہے، مگر پھر کچھ عرصے بعد دوبارہ اُگ آتی ہے۔ یہی اس کی سب سے دلچسپ خصوصیت ہے۔
دُوب کا سائنسی نام Cynodon dactylon ہے۔ انگریزی میں اسے Bermuda Grass اور Couch Grass کہا جاتا ہے۔
یہ ایک کثیر سالہ (Perennial) گھاس ہے۔ اس کی جڑیں عموماً زمین کی اوپری تہہ میں پھیلتی ہیں، لیکن مناسب حالات میں تقریباً 60 سے 90 سینٹی میٹر تک گہرائی میں بھی جا سکتی ہیں۔ تاہم اس کے تیزی سے پھیلنے کی اصل وجہ صرف جڑیں نہیں بلکہ زمین کے اوپر رینگنے والے تنوں Stolons اور زمین کے اندر موجود Rhizomes ہیں۔
اسی وجہ سے اگر دُوب کو اوپر سے کاٹ بھی دیا جائے تو زمین کے اندر موجود Rhizomes اور باقی ماندہ حصوں سے یہ دوبارہ اُگ سکتی ہے۔ یہی اس کی بقا اور پھیلاؤ کا راز ہے۔
دُوب کے کئی فائدے بھی ہیں۔ یہ جانوروں کے لیے چارے کے طور پر استعمال ہوتی ہے، زمین کو کٹاؤ سے بچانے میں مدد دیتی ہے اور لان کے لیے بھی مفید سمجھی جاتی ہے۔ گرمی اور نسبتاً خشک حالات کو برداشت کرنے کی صلاحیت بھی اس کی ایک خوبی ہے۔
لیکن یہی مضبوطی کھیتوں میں اس کے لیے ایک منفی پہلو بن جاتی ہے۔ فصلوں کے درمیان پھیل جائے تو پانی، غذائی اجزا اور جگہ کے لیے فصل کے ساتھ مقابلہ کرتی ہے اور پھر اسے ختم کرنا خاصا مشکل ہو جاتا ہے۔
قدرت کا کمال دیکھیے؛ ایک ہی گھاس کہیں فائدہ مند چارہ ہے، کہیں خوبصورت لان کا حصہ، اور کہیں مشکل جڑی بوٹی۔
شاید فطرت میں کوئی چیز مکمل طور پر اچھی یا بری نہیں ہوتی، اصل بات یہ ہے کہ وہ کہاں، کب اور کس مقدار میں موجود ہے۔
Scientific name: Cynodon dactylon
English names: Bermuda Grass, Couch Grass
اردو نام: دُوب گھاس
20/08/2026
پتے جیسا کیڑا… یا پتے کے درمیان چھپی ہوئی زندگی؟
یہ خوبصورت کیڑا Bush Cricket / Katydid کہلاتا ہے۔ پہلی نظر میں شاید آپ اسے کسی پودے کا عام سا سبز پتہ سمجھیں، لیکن غور سے دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ یہ ایک جاندار کیڑا ہے۔
اس کے جسم اور پروں کی ساخت اس انداز سے بنی ہوتی ہے کہ یہ سبز پتوں کے درمیان تقریباً غائب ہو جاتا ہے۔ یہی قدرتی Camouflage (چھلاوا) اسے شکاریوں سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔
اس کے پروں پر پتوں جیسی لکیریں اور شکلیں ہوتی ہیں۔
لمبی پچھلی ٹانگیں اسے چھلانگ لگانے میں مدد دیتی ہیں۔
بہت سی Katydid انواع رات کے وقت زیادہ سرگرم ہوتی ہیں۔
قدرت نے ہر جاندار کو زندہ رہنے کے لیے کوئی نہ کوئی حیران کن صلاحیت دی ہے۔ اس ننھے کیڑے کا پتے بن کر چھپ جانا بھی قدرت کے انہی خوبصورت رازوں میں سے ایک ہے۔
20/08/2026
سولانم سُراٹینس: Solanum surattense
اردو میں اسے عموماً اَکَل بنٹی، کٹیلی یا بھٹ کٹیا کے نام سے جانا جاتا ہے، جبکہ انگریزی میں اسے Yellow Berried Nightshade کہا جاتا ہے۔ اس کا سائنسی نام Solanum surattense ہے۔
یہ وہ جنگلی پودا ہے جسے ہم اکثر بنجر زمینوں، کھیتوں کے کناروں، سڑکوں کے اطراف اور خشک علاقوں میں دیکھتے ہیں۔ اس کے تنے اور پتوں پر نوکیلے کانٹے ہوتے ہیں، اسی لیے اسے چھونا بھی بعض اوقات مشکل محسوس ہوتا ہے۔ اس کے پھول عموماً نیلے یا جامنی رنگ کے ہوتے ہیں، جبکہ پکے ہوئے پھل زرد رنگ کے ہو جاتے ہیں۔
اس پودے کی دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ صرف ایک عام جنگلی جھاڑی نہیں۔ روایتی طب میں اس کے مختلف حصوں کو صدیوں سے استعمال کیا جاتا رہا ہے، خصوصاً کھانسی، سانس کے بعض مسائل اور سوزش سے متعلق روایتی علاج میں اس کا ذکر ملتا ہے۔ تاہم یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ روایتی استعمال کو جدید طبی علاج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔
ماحولیاتی اہمیت:
اس طرح کے جنگلی پودے خشک اور مشکل ماحول میں بھی زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کے پھول مختلف کیڑوں کو متوجہ کرتے ہیں اور یہ مقامی حیاتیاتی تنوع کا حصہ ہوتے ہیں۔
احتیاط:
Solanum جنس کے بعض پودوں میں ایسے کیمیائی مرکبات پائے جاتے ہیں جو غلط مقدار میں نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ اس لیے اس کے پھل یا پودے کے کسی حصے کو خود سے بطور دوا استعمال کرنا مناسب نہیں۔
قدرت میں ہمارے اردگرد موجود ہر پودا ایک کہانی رکھتا ہے۔ بعض پودے خوبصورت ہوتے ہیں، بعض کانٹوں والے، لیکن ہر ایک اپنے ماحول میں کسی نہ کسی کردار کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔
20/08/2026
پونرنوا (Punarnava): ایک عام سا پودا، مگر دلچسپ خصوصیات کا مالک
ہمارے اردگرد کئی ایسے جنگلی پودے اُگتے ہیں جنہیں ہم عموماً معمولی گھاس سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ Punarnava بھی انہی پودوں میں سے ایک ہے۔
اس کا سائنسی نام Boerhavia diffusa ہے۔ اردو میں اسے عموماً پونرنوا، ساٹھوڑا یا اشکِ سرخ کے نام سے جانا جاتا ہے، جبکہ انگریزی میں اسے Punarnava، Spreading Hogweed یا Red Spiderling کہا جاتا ہے۔
یہ ایک بارہماسی جڑی بوٹی ہے جو زمین پر پھیلتی ہوئی بڑھتی ہے۔ اس کے تنے عموماً زمین کے ساتھ ساتھ پھیلتے ہیں اور مناسب حالات میں کافی رقبہ ڈھانپ لیتے ہیں۔ اس کے پتے نسبتاً چوڑے اور نرم ہوتے ہیں جبکہ چھوٹے گلابی یا سرخی مائل پھول اس کی نمایاں پہچان ہیں۔
اس کی ایک خاص بات اس کی جڑ ہے۔
پونرنوا کی جڑ مضبوط اور نسبتاً موٹی ہوتی ہے اور پودا خشک حالات میں بھی کچھ عرصہ زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ بارش کے بعد دوبارہ تیزی سے نمودار ہوتا ہے۔ اسی خصوصیت سے اس کا نام Punarnava نکلا ہے، جس کا مفہوم تقریباً "دوبارہ نیا ہونے والا" لیا جاتا ہے۔
روایتی طب میں استعمال
پونرنوا کو آیورویدک اور روایتی طب میں قدیم زمانے سے مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے، خصوصاً جسم میں اضافی پانی، پیشاب اور سوزش سے متعلق روایتی علاج میں۔ تاہم ان استعمالات کو جدید طبی علاج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ ہر دعوے کے لیے یکساں مضبوط سائنسی شواہد موجود نہیں۔
بعض علاقوں میں اسے جانوروں کے چارے کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ جنگلی حیات اور حشرات کے لیے بھی ایسے مقامی پودے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ Boerhavia نام مشہور ماہر نباتات Herman Boerhaave کے نام سے منسوب ہے۔
یعنی جس پودے کو ہم اکثر راستے کے کنارے ایک عام سی جڑی بوٹی سمجھ کر گزر جاتے ہیں، وہ دراصل اپنی ایک دلچسپ حیاتیاتی اور روایتی تاریخ رکھتا ہے۔
اردو نام: پونرنوا، ساٹھوڑا، اشکِ سرخ
English: Punarnava, Spreading Hogweed, Red Spiderling
Scientific name: Boerhavia diffusa
خاندان: Nyctaginaceae
نوعیت: بارہماسی جڑی بوٹی
پھیلاؤ: بیج اور زمین کے قریب پھیلنے والے تنوں کے ذریعے
18/08/2026
رات کو اچانک میری نظر ایک ننھے سے گرین مینٹس پر پڑی۔ شاید یہ ابھی ابھی اپنی زندگی کے ابتدائی مرحلے میں تھا۔ میں نے اسے رات بھر کے لیے ایک محفوظ کونے میں رکھ دیا اور صبح ہوتے ہی دوبارہ باہر چھوڑ دیا۔
مینٹس میرے خیال میں قدرت کی ان خوبصورت تخلیقات میں سے ایک ہے جسے دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ حشرات کی دنیا بھی کتنی دلچسپ ہے۔ اس کا سبز رنگ اسے پتوں اور پودوں میں چھپنے میں مدد دیتا ہے، جبکہ اس کی اگلی ٹانگیں شکار پکڑنے کے لیے خاص طور پر بنی ہوتی ہیں۔ یہ ایک شکاری حشرہ ہے جو مکھیاں، مچھر، چھوٹے ٹڈے اور دوسرے حشرات کھاتا ہے۔
مینٹس کے بچے شکل میں بالغ مینٹس جیسے ہی ہوتے ہیں، لیکن ان کے پر ابھی مکمل طور پر نشوونما نہیں پاتے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ کئی مرتبہ اپنی بیرونی جلد تبدیل کرتے ہیں اور بالغ ہونے کی طرف بڑھتے ہیں۔
قدرت میں ہر جاندار کا اپنا ایک کردار ہے، چاہے وہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو۔ کبھی کبھی ایک ننھے سے کیڑے کو قریب سے دیکھنا بھی ہمیں قدرت کی پیچیدگی اور خوبصورتی کا احساس دلا دیتا ہے۔