Education is Not a Business

Education is Not a Business

Share

OUR VISION:-
"WE refine the young talent which succeeds by leaps and bounds in

The college holds a vision to nourish the talent and aptitude in you and to make you an eternal winner. Always remember that you are approaching towards a career of great professionalism, winner, sheer intellect and infinite dignity. Our objective is to sharpen your edges and to develop your power and potential to match the highest standards of excellence. Our quest is to impart most qualitative e

09/10/2018
19/10/2017

ایک پانی سے بھرے برتن میں ایک زندہ مینڈک ڈالیں اور پانی کو گرم کرنا شروع کریں - جیسے ہی پانی کا درجہ حرارت بڑھنا شروع ہو گا ، مینڈک بھی اپنی باڈی کا درجہ حرارت پانی کے مطابق ایڈجسٹ کرے گا اور تب تک کرتا رہے گا جب تک پانی کا درجہ حرارت "بوائلنگ پوائنٹ" تک نہیں پہنچ جاتا ۔۔۔۔
جیسے ہی پانی کا ٹمپریچر بوائلنگ پوائنٹ تک پہنچے گا تو مینڈک اپنی باڈی کا ٹمپریچر پانی کے ٹمپریچر کے مطابق ایڈجسٹ نہیں کر پائے گا اور برتن سے باہر نکلنے کی کوشش کرے گا لیکن ایسا کر نہیں پائے گا کیونکہ تب تک مینڈک اپنی ساری توانائی خود کو "ماحول کے مطابق" ڈھالنے میں صرف کر چکا ہو گا
بہت جلد مینڈک مر جائے گا۔۔۔
یہاں ایک سوال جنم لیتا ہے
"وہ کونسی چیز ہے جس نے مینڈک کو مارا؟"
سوچیئے!
میں جانتا ہوں کہ آپ میں سے اکثر یہ کہیں گے کہ
مینڈک کو مارنے والی چیز وہ "بے غیرت انسان" ہے جس نے مینڈک کو پانی میں ڈالا
یا پھر کچھ یہ کہیں گے کہ
مینڈک اُبلتے ہوئے پانی کی وجہ سے مرا۔۔۔
لیکن،
سچ یہ ہے کہ مینڈک صرف اس وجہ سے مرا کیونکہ وہ وقت پر جمپ کرنے کا فیصلہ نہ کر سکا اور خود کو ماحول کے مطابق ڈھالنے میں لگا رہا ۔۔۔
ہماری زندگیوں میں بھی ایسے بہت سے لمحات آتے ہیں جب ہمیں خود کو حالات کے مطابق ایڈجسٹ کرنا پڑتا ہے لیکن ایسا کرتے ہوئے خیال رکھیں کہ کب آپ نے خود کو حالات کے مطابق ڈھالنا ہے اور کب حالات کو اپنے مطابق ۔۔۔۔
اگر ہم دوسروں کو اپنی زندگیوں کے ساتھ جسمانی، جذباتی، مالی، روحانی اور دماغی طور پر کھیلنے کا موقع دیں گے تو وہ ایسا کرتے ہی رہیں گے
اس لیے وقت اور توانائی رہتے "جمپ" کرنے کا فیصلہ کریں ۔۔۔۔اور ہر دفعہ کنوئیں کا مینڈک بننے سے پرہیز کریں ۔۔۔

19/10/2017


★ Pakistan = Urdu
★ India = Hindhi
★ China = Madarin Chinese
★ Bangladesh = Bengali
★ Japan = Japanese
★ Philippines = Filipino
★ Qatar = Arabic
★ Saudia arabia = Arabic
★ Singapore = Malay, Tamil
★ Sri Lanka = Sindhala, Tamil
★ Syria = Arabic
★ Taiwan = Mandarin Chinese
★ Tajikistan = Tajik (Tojik)
★ Thailand = Thai
★ Turkey = Turkish
★ Turkmenistan = Turkmen
★ UAE = Arabic
★ Uzbekistan = Uzbek
★ Vietnam = Vietnamese
★ Yemen = Arabic
★ Oman = Arabic
★ Nepal = Nepali
★ Mongolia = khalkha Mongolian
★ Malaysia = Malay
★ Lebanon = Arabic
★ Loas = Lao
★ Kyrgyzstan = Kyrgyz Russian
★ Kuwait = Arabic
★ Korean South & North = Korean
★ Kazakhstan = Kazak
★ Jordan = Arabic
★ Israel = Hebrew, Arabic
★ Iraq = Arabic
★ Iran = Farsi ( Persian)
★ Indonesia = Bahasa Indonesian
★ Georgia = Georgian
★ Cyprus = Greek, Turkish
★ Cambodia = Khmer
★ Burma = Burmese
★ Brunei = Malay
★ Bhutan = Dzangkha
★ Bahrain = Arabic
★ Azerbaijan = Azerbaijani
★ Armenia = Armenian
★Afghanistan = Pushto
.............................☆☆☆☆☆☆

19/10/2017

نیلسن منڈیلا
کبھی کسی حالت میں ہار نہیں ماننا، یعنی جتنے مرضی برے حالات ہو جائیں مایوس نہیں ہونا۔ نیلسن منڈیلا نے کل ستائیس سال ساؤتھ افریقہ میں قید میں گزارے تھے اور اس کے بعد جب وہ آزاد ہوا تو جمہوریت پر بیسڈ الیکشنز کے ذریعے وہ ساؤتھ افریقہ کا صدر منتخب ہوا۔ پوری عوام اس کی دیوانی تھی۔ نیلسن منڈیلا کہتا ہے کہ اگر کسی بھی انسان کا کریکٹر جانچنا چاہو تو اس کے لیے بہت ضروری ہے کہ تم اس کو اس وقت دیکھو جب وہ ہار جائے۔ انسان صرف وہی مضبوط ہوتا ہے جو سو بار گر کر سو بار اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ آپ کی کامیابی آپ کی اصلیت ہرگز نہیں دکھا سکتی لیکن آپ کی ناکامی آپ کا اصلی چہرہ دکھاتی ہے۔ سب لوگوں کا نظریہ ایک سا ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ اس سے بہتر کیا بات ہو سکتی ہے کہ تمام انسان ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور اگر ہم اپنے بیچ کے اس فرق پر لڑنا بند کر دیں اور ایک دوسرے کے مختلف نظریے کو سنیں اور اس سے بہت کچھ سیکھیں تو یہ دنیا کتنی اچھی جگہ بن سکتی ہے۔ ہم سب انسان ایک ہی کشتی کے سوار ہیں۔

پھر اتنی لڑائی جھگڑے کی کیا ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہم سب آگے بڑھتے رہیں اور ایک دوسرے سے لڑائی اور مقابلہ بازی نہ کریں تو دنیا بھر میں ترقیاتی کام ہونے لگیں۔ کوئی بھی چیز جو آسانی سے مل جائے وہ کسی قابل نہیں ہوتی۔ صرف وہ چیز قابل قدر ہے جو ان تھک اور مسلسل محنت سے حاصل کی گئی ہو۔ جو آسانی سے آتے ہیں وہ آسانی سے واپس بھی چلے جاتے ہیں۔اگر کوئی کام بہت دشوار لگے تو سمجھ جاؤ کہ اسے ہر کوئی نہیں کر سکتا تھا۔ اور سب کچھ ہار کر بھی ہمیشہ امید رکھو کہ تم ایک دن ضرور عروج دیکھو گے۔ دنیا کا سب سے موذی ہتھیار تمہاری تعلیم ہے۔ اس پر بہت زور رکھو۔ جتنا علم حاصل کرو گے اتنا ترقی کی راہیں آسان ہوں گی۔ جو انسان کچھ بھی سیکھتا ہے وہ اس کے کام ضرور آتا ہے۔ جو لوگ آپس میں لڑتے ہیں اس کی اصل وجہ علم کی کمی اور ڈر ہوتا ہے اور دونوں کا علاج صرف زیادہ علم حاصل کرنے سے کیا جا سکتا ہے۔ہمیشہ یاد رکھو کہ کوئی کام ایسا نہیں ہے جو تم نہ کر سکتے ہو۔ بس بات محنت کی ہے۔ ہر انسان سمجھتا ہے کہ وہ باقیوں سے پیچھے رہ گیا ہے، یا اس میں عقل یا ہنر کی کمی ہے ۔ جب وہ نیا کام دیکھتا ہے تو سوچتا ہے کہ میں کبھی بھی یہ نہیں کر سکتا مگر جب وہ لگا رہتا ہے اور کام مکمل کر لیتا ہے تو حیران رہ جاتا ہے کہ یہ میں نے کیسے کر لیا؟ تمہاری حکمت اور شفقت ہر دور میں تمہیں بہت طاقت ور بناتے ہیں۔

آج کے زمانے میں لوگ نرم دل لوگاں کو بے وقوف گردانتے ہیں مگر نیلسن منڈیلا کے مطابق ہر زمانے میں ایک عقلمند اور شفیق آدمی لوگوں کو متاثر کرتا رہے گا اور وہ اس کی بات اور اعمال کی ہمیشہ پیروی کرتے رہیں گے۔ اسلام کی طرح نیلسن منڈیلا کا بھی یہی موقف ہے کہ انسان کا رنگ اور نسل صرف پہچان کے لیے مختلف ہیں اور اس کے مختلف ہونے سے کسی کو کسی پر کوئی برتری حاصل نہیں ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ مت دیکھو کہ کون کہہ رہا ہے ہمیشہ یہ دیکھو کہ کیا کہہ رہا ہے۔ جیت ہمیشہ پیار کی ہوتی ہے۔ نیلسن منڈیلا نے اپنی زندگی کے ستائیس سال ایک کوٹھری میں مقید گزارے۔ ایسا انسان اگر اتنا صبر کرنے کے بعد بھی اتنی مثبت باتیں کر سکتا ہے تو کسی بھی انسان کی اپنی زندگی سے شکایت کرنا صرف بہانہ بازی ہوتی ہے۔ دنیا میں کوئی مشقت کسی کو تھکا نہیں سکتی، کوئی حوصلہ شکنی انسان کو ہرا نہیں سکتی اگر وہ کسی کو اپنے حواس پر ہاوی نہ ہونے دے۔ ہر انسان کو نیلسن منڈیلا سے سیکھنے کی ضرورت ہے کہ کسی قسم کے حالات بھی آپ کا عزم اور حوصلہ کبھی نہیں توڑ سکتے۔ اپنے آپ کو سمجھو۔ اپنے آپ پر غوروفکر کرو، شاید اس نے ستائیس سال جیل میں بند رہ کر اپنے وجود کے بارے میں بہت زیادہ سوچ بچار کی ہو گی۔ اور انسان کی غور و فکر اسے اس مقام پر پہنچا دیتی ہے کہ وہ سمجھ جاتا ہے کہ اس میں کچھ خاص نہیں سب انسان اللہ نے خلیفہ بنا کر اتارے ہیں اور اگر کوئی بھی اپنیصلاحیتوں کا پورا پورا استعمال کرے تو دنیا کو رہنے کے لیے بہت بہتر جگہ بنا سکتا ہے

میں اس کتے سے بھی تیز بھاگ رہا تھا جو چند قدم کے فاصلے پر میرے پیچھے آ رہا تھا۔ وہ بھی میری طرح کمزوری کا شکار تھا جو غالباََ بیروزگاری اور مہنگائی کی وجہ سے خوراک کی کمی کا شاخسانہ تھا ۔ ہم دونوں میں فرق صرف یہ تھا کہ وہ سانس پرقابو پا کر وقفے وقفے سے بھونک رہا تھا اور میں مکمل خاموش تھا۔
کہیں آپ یہ نہ سمجھئے گا کہ میں اورکتا کسی ڈور میں شریک تھےبلکہ اصل وجہ یہ تھی کہ صبح سویرے میری زوجہ محترمہ کی والدہ محترمہ یعنی میری خوش دامن جیسے دیکھ کر دامن خوشی سے خالی ہوجاتا ہے ہمارے غریب خانے پر جلوہ افروز ہوئیں تو میری بیگم صاحبہ کا حکم صادر ہوا کہ چونکہ ان کا قیام کچھ طویل ہوگا لہٰذا ابتدائی دن تومہمانوں جیسا سلوک ہونا چاہیے مہینہ ڈیڑھ بعد پھران سے گھروالوں جیسا سلوک کیا جائے گا۔

اس لئے ہم پر ہر صبح ایک عدد “شیور”مرغی کی قربانی فرض ہو گئی۔ بازار ہمارے گھر سے کچھ فاصلے پر تھا مختلف گلیوں سے گزرکربازارتک پہنچا تھا۔ لہذا بازار سے مرغی، گھی، چاول خرید کر جب واپسی ہوئی توگلی میں سے گزرتے ہوئے ہمیں ایک کوئل کی کوک سنائی دی ہم حیران ہوئے کے مالٹوں اورکنوؤں کے موسم میں یہ کوئل کہا سے کوک پڑی جب ہم نے مردانہ عادت سے مجبور ہو کرآوازکی سمت اونٹ کی طرح گردن اٹھا کر دیکھا تو وہاں لوہے کی ریلینگ سے چپکی ہوئی ایک قبول صورت نہایت چست لباس میں بال بکھرائے فضا میں گھٹا بنے ایک مست سی حسینہ ایک ریڑھی والے سے ٹینڈوں اور ٹماٹروں کا بھاؤ پوچھ رہی تھی۔ اس کے قاتل سراپے پر نظر پڑھتے ہی ہمارے دل پر سے ایک خیال رکشے کی طرح دھواں اگلتا اور شور مچاتا گزرگیا اے کاش ہماری بیگم بھی اس کی طرح سمارٹ اورخوبصورت ہوتی مگر شومئی قسمت کے صحت کے معاملے میں جتنا ہمارا ہاتھ تنگ ہے وہ اتنی ہی خود کفیل ہیں جتنی اونچائی ہے اتنی ہی گولائی ہے اور ہمارا جوڑ کچھ اس طرح سے ہے جیسے سبزی کی دکان پرتربوز کے ساتھ کھیرے پڑے ہوں۔

میں انہی خیالوں میں گم حسرت بھری نگاہوں سے اس قیامت کو دیکھ رہا تھا کہ گلی کے درمیان ایک سوئے ہوئے کتے کی دُم پر پاؤں جا پڑا۔ وہ ایک زور کی ٹاوں کے ساتھ الیکشن کے دنوں میں کسی لیڈرکی طرح سویا ہوا جاگ پڑا اور ایک جمائی لے کر مجھے خونخوار نظروں سے دیکھا جن کی تاب نہ لا کر میں اچھالا اورہاتھ میں پکڑے ہوئے بھاری بیگوں کو مضبوطی کے ساتھ پکڑ کرسرپٹ بھاگا۔ اس نامراد کتے کے بچے نے ایک جمپ لیا اور میری شلوار کا پائنچہ منہ میں لے کر جوکھینچا تو گز بھر کپڑا اس کے منہ میں تھا۔ ابھی غنیمت کے ازار بند کی جگہ الاسٹک نہ تھا ورنہ کتے کے ساتھ ہاتھوں میں پتھر لئے گلی کے بچے بھی پیچھے ہوتے اورہماری عزت گلی کی گندی نالی میں بہہ جاتی۔ متاثرہ شلوار جھنڈا بنی ہوئی تھی میں ڈررہا تھا کہ بیگم ہمیشہ ہماری شلوارمیں پرانے ازار بند ڈال دیتی ہے اگر ایک اورجھٹکا لگ گیا توپھر ہماری عزت بھی ملک کے خزانے کی طرح لٹ جائے گی اور لوٹنے والے لیڈروں کی طرح اس کتے کو کس نے پوچھنا ہے۔

اتنے میں سامنے اپنا مکان نظرآگیا جس کا گیٹ بھی کھولا رہ گیا تھا ہم نے “یاہو” کا نعرہ لگایا ایک لانگ جمپ مارا اور گیٹ کے اندر۔۔۔۔ اور پھر بڑی تیزی کے ساتھ گیٹ بند کر دیا اور بیٹھ کر لگے ہانپنے۔۔۔ کہ عقب سے بیگم کی غصے بھری آواز آئی ۔
“عجیب حرکات ہیں تمہاری بھی۔۔۔۔ اتنے بیگ اٹھا کر بچوں کی طرح دوڑتے گلی میں سے آ رہے تھے اتنی عمر ہونے کو آئی مگر سنجیدگی قریب نہیں پھٹکی ہر وقت نجانے کیوں مچلتے رہتے ہو ۔۔۔۔۔ اور ہاں۔۔۔ یہ شلوار کیسے پھاڑ ڈالی؟۔۔۔۔ ہزار بار کہا ہے کپڑوں کی حفاظت کیا کرو اللہ جانے کن جھاڑیوں سے الجھتے پھرتے ہو۔۔۔۔ نہ جانے کب عقل آئے گی تمہیں۔۔”
اور میں بیٹھا سوچتا رہا۔۔۔۔۔۔ کب عقل آئے گی مجھے۔۔۔۔۔!

17/10/2017


Land of Rising Sun Japan (Asia)
Land of Rivers Bangladesh (Asia)
Land of Midnight Sun Norway (Europe)
Land of White ElephantsThailand (Asia)
Land of thousand Lakes Finland (Europe)
Land of Golden Fibre Bangladesh (Asia)
Land of Five Rivers Punjab (Pakistan, Asia)
Land of Many Races Colombia (South
America)
City of Dead Moenjodaro (Pakistan)
City of Palaces Calcutta (India, Asia)
City of Bazars Cairo (Egypt, Africa)
City of Roses and Nightingales Shiraz (Iran,
Asia)
City of Popes Rome (Italy, Europe)
City of lights Paris (France, Europe)
City of Eagles Sargodha (Pakistan, Asia)
City of Mosques Dhaka (Bangladesh, Asia)
City of Graveyards Multan (Pakistan, Asia)
City of Parks Kiev (Ukraine, Europe)
City of Canals Osaka (Japan, Asia)
City of Angels Bangkok (Thailand, Asia)
Dark ContinentAfrica
Father of Waters Mississipi River (USA)
Holy LandPalestine
Isle of Pearls Bahrain (Asia)
Isle of Death Kahoulawe (Hawai, USA)
Island Continent Australia
Key to Mediterranean Gibraltar (Europe)
Manchester of the Orient Osaka (Japan, Asia)
Manchester of Pakistan Faisalabad (Pakistan,
Asia)
Paradise on Earth Kashmir Valley (Asia)
Pearl of East Penang (China, Asia)
Queen of the South Sydney (Australia)
Gift of Nyle Egypt
Land of morning calm Korea
Land of Kangroos Australia
Land of perpetual greenness Denmark
Land of maple Canada
Land of contrasts Columbia
Land of Queen Sheba Ethiopia
Land of Silver fibre Pakistan
Land mighty rivers Nigeria
Land of golden place Australia
Land of million elephants Laos
Land of deserts Africa
Land of free people Thailand
Land of milk and honey Lebanon
Land of thunder holt Bhutan
Land of south slaves Yugoslavia
City of seven hills Rome (Italy)
City of space flights Cape kennedy (USA)
City of skyscrapers New York (USA)
City of colleges Lahore (Pakistan)
City of ghosts and temples Benaras (India)
City of water Stockhulm (Sweden)
Amsterdam
City of Romance Uenice (Italy)
City of Magnificent distances Washington
(USA)
City of stars The cosmonant space centre
(Moscow)
A city of solution Brasilia (Brazil)
Bengal’s sorrow Damodar River
Blue River The Yangstsekiang (China)
Blue Mountain The Nilgiri Hills (India)
Capital of cooperation Brussels (Belgium)
China’s sorrow Hwang-Ho-River
Cockpit of Europe Belgium
Emerald IslandIreland
Empire CityNew York (USA)
Farbidden city lhasa (Tibet)
Flower garden of Europe Netherland
Free and Hanseatic city Hamberg (Germany)
Gate way of tears Strait of belel mandab
(Jerusalem)
Gate way of India Bombay
Gate way of East Beirut (Lebanon)
Gate way of Pakistan Sindh (Karachi)
Gate way of Gulf Abu Dhabi
Garden of South IndiaTanjore (India)
Gibraltar of the West Quebec
Gibraltar of the Indian ocean Aden
Garanite City Abereen Scotland
George Cross IslandMalta
Homeland of Gaucbas Argentina
Hospital CityChicago (USA)
Human Equator of the Earth The Himalayas
Hermit KingdomKorea
Isle of death Kahoulawe (Hawai USA)
Isle of June Bahaman
Land of Cakes Scotland
Meeting place of world Vienna (Austria)
Most serene republic San Marino
Never Never land Vast prairies of Northern
Australia
Pearls of East Penany (China)
Pearl of Antilles Cuba
Pearl of Srinea’s Southern Coast Yalta
(USSR)
Queen of Adriatic Venice (Italy)
River in the sea The gulf stream
Rome of India Delhi
Rose pink city Jaipur (India)
Star and key of Indian Ocean Mauritius
Sickman of Europe Turkey
Silver CityAlgiers
Venice of the North Stockholm (Sweden)
Venice of the East Bangkok (Thailand)
White CityMerida (Mexico)
Windy City Chicago (USA)
Whitman’s Grave Guinea coast of
Wilderness of Bamboo and Paper Tokyo
(Japan)
World’s loveliest Island Tristan de
Cunna (Mid Atlantic)

13/07/2017

عطر سے کپڑوں کو مہکانا بڑی بات نہیں
مزہ تو تب ہے جب کردار سے خوشبو نکلے

01/05/2017

🔴۔۔۔مزدور ڈے ۔۔۔🔴

ایک مزدور اور اس کی بیوی پریشان بیٹھے تھے ۔ بیوی نے پوچھا تم کیوں پریشان ہو ؟
مزدور بولا : "میں جن صاحب کی کوٹھی پر مزدوری کر رہا ہوں ، کل ان کی چھٹی ہے۔ جس دن ان کی چھٹی ہوتی ہے ، وہ کوٹھی پر آ کر ایک ایک انچ کا جائزہ لیتے ہیں ، کوئی نقص نکل آے تو ٹھیکیدار ہم مزدوروں کے پیسے کاٹ لیتا ہے ۔ بس یہی پریشانی ہے ۔ ۔ ۔ اور تم بتاؤ تم کیوں پریشان ہو ؟"
بیوی بولی : "جن ڈاکٹر صاحبہ کے گھر میں کام کرتی ہوں ، کل ان کی چھٹی ہے ۔ جس دن ان کی چھٹی ہو اس دن سر پر کھڑے ہو کر کام کرواتی ہیں ۔ کہتی ہیں کہ ایک ایک tile میں تمہاری شکل نظر آنی چاہیے ۔ پتہ نہیں کل کس بات کی چھٹی ہے !"
ان کا چھوٹا بیٹا بولا :" میں بتاتا ہوں ، کل یومِ مزدور ہے ۔ اس لئے سب بڑے صاحب چھٹی کریں گے!"
مزدور اور اس کی بیوی نے حیرت سے بیٹے کو دیکھا اور پوچھا :"تمہیں کیسے پتہ ؟"
بیٹا بولا : "آج استاد کہہ رہا تھا کہ صبح 7 بجے سروس سٹیشن پہنچ جانا ۔ 7 بجے سے دیر ہوئی تو پسلیاں توڑ دوں گا ۔ کل یومِ مزدور ہے اور صاحب لوگوں کی چھٹی ہے ، گاڑیوں کا زیادہ رش ہو گا ۔ ۔ ۔ "

Photos from Education is Not a Business's post 17/04/2017

واحد بلوچ کا یہ ورثہ ہانی اور ماہین نے اٹھا لیا ہے۔ ماہین سترہ برس کی بچی ہے۔ صرف سترہ برس۔ اندازہ کیجیے کہ یہ بچی روزانہ لیاری کے ستر بچوں کو بلا معاوضہ پڑھاتی ہے۔ گلیوں سے بچے پکڑ پکڑ کر لاتی ہے، اس سے پہلے کہ وہ منشیات کے عادی ہوجائیں، ماہین انہیں پینسل کٹر اور ریزر سے اٹھنے والی مہک کے نشے میں مبتلا کر دیتی ہے۔ آپ میرا یقین کیجیے یہ بچی یہ تک پرکھ لیتی ہے کہ میرے کس شاگرد کو قدرت نے کن مہارتوں سے مالا مال اتارا ہے۔ ماہین کسی کی ریاضی سنوار رہی ہے تو کسی کے ننھے وجود میں چھپے آرٹسٹ کو آشکار کر رہی ہے۔ کسی کی انگریزی درست کر رہی ہے تو کسی کی الجبرا سدھار رہی ہے۔ باپ کرائے کے پیسے بچا کر بچوں کے لیے کتابیں خرید رہا ہے، بیٹی ان بچوں کو پڑھا رہی ہے۔ ماہین فخر سے کہہ رہی ہے ’’سر ان بچوں میں سے بہت سے اب اسکول جا چکے ہیں‘‘۔ میں نے کہا تھا نا کہ اس سترہ برس کی بچی کا کردار تعلیمی پراجیکٹس پر کام کرنے والی بیس این جی اوز پر بھاری ہے؟ کراچی ادبی میلے میں دستاویزی فلم کا ایک مقابلہ ہوا۔ اس مقابلے میں اسکول کے بچوں نے اساتذہ کی نگرانی میں حصہ لینا تھا۔ ماہین نے لیاری کی گلیوں سے کچھ ممولے اٹھائے اور شاہینوں سے لڑوانے پہنچ گئی۔ ایک فلم تیار کی جس کا عنوان ’’ہم انتہاپسندی کو شکست دیں گے‘‘ رکھا۔ جو اساتذہ تعلیمی اداروں سے اپنے شاگردوں کو لائے تھے، وہ دیکھتے رہ گئے اور ماہین بلوچ کے ممولے، جن کا والی وارث پندرہ برس کی ماہین کے سوا کوئی نہیں تھا، پہلے انعام کے حقدار ٹھہر گئے
( فرنود عالم )

http://www.humsub.com.pk/37328/farnood-alam-83/

11/03/2017

ابراہم لنکن کا اپنے بیٹے کے ٹیچر کو لکھا گیا وہ شعرہ آفاق خط جو ہر ماں باپ کو ضرور پڑھنا چاہئیے


ابراہم لنکن کا والد ایک کاریگر انسان تھا، وہ کسان بھی تھا، جولاہا بھی او ر موچی بھی، وہ جوانی میں کارڈین کاؤنٹی کے امراء کے گھروں میں جاتا تھا اور ان کے خاندان کے جوتے سیتا تھا، 1861ء میں ابراہام لنکن امریکہ کا صدر بن گیا، اس وقت امریکی سینٹ میں جاگیرداروں، تاجروں ، صنعتکاروں اور سرمایہ داروں کا قبضہ تھا، جوسینٹ میں اپنی کمیونٹی کے مفادات کی حفاظت کرتے تھے۔ ابراہم لنکن صدر بنا تو اس نے امریکہ میں غلامی کا خاتمہ کر دیا، اس نے ایک فرمان کے ذریعے باغی ریاستوں کے غلاموں کو آزاد کر کے فوج میں شامل کر لیا ، امریکی اشرافیہ لنکن کی اصلاحات سے براہ راست متاثر ہو رہی تھیں چنانچہ یہ لوگ ابراہم لنکن کیخلاف ہو گئے، یہ ابراہم لنکن کی شہرت کو بھی نقصان پہنچاتے تھے اور اس کی کردار کشی کا بھی کوئی موقع ضائع نہیں کرتے تھے، یہ لوگ سینٹ کے اجلاس میں عموماً ابراہم لنکن کا مذاق اڑاتے تھے لیکن لنکن کبھی اس مذاق پر دکھی نہیں ہوا، وہ ہمیشہ کہتا تھا میرے جیسے شخص کا امریکہ کا صدر بن جانا ان تمام لوگوں کے ہزاروں لاکھوں اعتراضات کا جواب ہے چنانچہ مجھے جواب دینے کی کیا ضرورت ہے۔ ابراہم لنکن کس قدر مضبوط اعصاب اور حوصلے کا مالک تھا آپ اس کا اندازہ اس واقعے سے لگا لیجئے، یہ اپنے پہلے صدارتی خطاب کیلئے سینٹ میں داخل ہوا، یہ صدر کیلئے مخصوص نشست کی طرف بڑھ رہا تھا اچانک ایک سینیٹر اپنی نشست سے اٹھا اور ابراہم لنکن سے مخاطب ہو کر بولا، ’’لنکن صدر بننے کے بعد یہ مت بھولنا کہ "تمہارا والد میرے خاندان کے جوتے سیتا تھا‘‘۔ یہ فقرہ سن کر پورے سینٹ نے قہقہ لگایا۔
لنکن مسکرایا اور سیدھا ڈائس پر چلا گیا اور اس رئیس سنیٹر سے مخاطب ہو کر بولا ’’سر! میں جانتا ہوں میرا والد آپ کے گھر میں آپ کے خاندان کے جوتے سیتا تھا اور آپ کے علاوہ اس ہال میں موجود دوسرے امراء کے جوتے بھی سیتا رہا لیکن آپ نے کبھی سوچا کہ امریکہ میں ہزاروں موچی تھے مگر آپ کے بزرگ ہمیشہ میرے والد سے جوتے بنواتے تھے، کیوں؟ اس لئے کہ پورے امریکہ میں کوئی موچی میرے والد سے اچھا جوتا نہیں بنا سکتا تھا، میرا والد ایک عظیم فنکار تھا، اس کے بنائے ہوئے جوتے محض جوتے نہیں ہوتے تھے، وہ ان جوتوں میں اپنی روح ڈال دیتا تھا، میرے والد کے پورے کیریئر میں کسی نے ان کے بنائے ہوئے جوتے کی شکایت نہیں کی، آپ کو آج بھی میرے والد کا بنایا جو تا تنگ کرے تو میں حاضر ہوں، میں بھی جو تا بنانا جانتا ہوں، میں آپ کو اپنے ہاتھوں سے نیا جوتا بنا کر دوں گا لیکن مجھے یقین ہے کہ آپ میں سے کوئی میرے والد کے کا م کی شکایت نہیں کرے گا کیونکہ پورے امریکہ میں میرے والد سے اچھا موچی کوئی نہیں تھا۔ وہ ایک عظیم فنکار، ایک جینئس اور ایک عظیم کاریگر تھا اور مجھے اس عظیم موچی کا بیٹا ہونے پر فخر ہے‘‘ ابراہم لنکن نے تقریر ختم کی اور صدارت کی کرسی پر بیٹھ گیا، پورے ہال کو سانپ سونگھ گیا، لنکن پر فقرہ کسنے والے سینیٹر نے شرمندگی کے عالم میں سر جھکایا اور اس کے بعد کسی امریکی سیاستدان نے لنکن کو موچی کا بیٹا نہیں کہا۔
ابراہم لنکن نے اپنے بیٹے کے استاد کو ایک شہرہ آفاق خط لکھا ،جو پاکستان کے تمام والدین کو ضرور پڑھنا چاہئیے، ابراہم لنکن نے اپنے بیٹے کے استاد کو لکھا:

"میرے بیٹے کو وہ طاقت عطا کرنے کی کوشش کیجئیے کہ یہ ہر شخص کی بات سنے لیکن یہ بھی بتائیے کہ جو کچھ سنے اسے سچ کی کسوٹی پر پرکھے اور درست ہو تو عمل کرے۔
اسے دوستوں کیلئے قربانی دینا سکھائیے ۔
اسے بتائیے کہ اداسی میں کیسے مسکرایا جاتا ہے، اسے بتائیے کہ آنسوؤں میں کوئی شرم نہیں۔
اسے سمجھائیے کہ منفی سوچ رکھنے والوں کو خاطر میں مت لائے اور خوشامد اور بہت زیادہ مٹھاس سے ہوشیار رہے۔
اسے سکھائیے کہ اپنی جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کا بہترین معاوضہ وصول کرے لیکن کبھی بھی اپنی روح اور دل کو بیچنے کی کوشش نہ کرے۔ اسے بتائیے کہ شور مچاتے ہوئے ہجوم کی باتوں پر کان نہ دھرے اور اگر وہ سمجھتا ہے کہ وہ صحیح ہے تو اپنی جگہ پر قائم رہے، ڈٹا رہے۔
آپ اس کے استاد ہیں اس سے شفقت سے پیش آئیے مگر پیار اور دلاسہ مت دیجیئے۔ کیونکہ یاد رکھئیے، خام لوہے کو بھڑکتی ہوئی آگ ہی فولاد بنایا کرتی ہے۔
اسے سیکھنا ہو گا کہ ہر شخص کھرا نہیں ہوتا۔ لیکن اسے یہ بھی بتائیے کہ ہر غنڈے کے مقابلے میں ایک ہیرو بھی ہوا کرتا ہے۔ ہر خود غرض سیاستدان کے مقابلے میں ایک دوست بھی ہوا کرتا ہے۔
آپ اسے حسد سے دور کر دیں ۔ اگر آپ کر سکیں تو اسے خاموش قہقہوں کے راز کے بارے میں بھی بتائیے۔
اس کو یہ سیکھ لینا چاہئے کہ بدمعاشوں کا مقابلہ کرنا سب سے آسان کام ہوا کرتا ہے۔
اگر آپ بتا سکیں تو اسے کتابوں کے سحر کے بارے میں بتائیے، لیکن اسے اتنا وقت ضرور دیجیئے کہ وہ آسمانوں پر اڑنے والے پرندوں کے دائمی راز، شہد کی مکھیوں کے سورج سے تعلق اور پہاڑوں سے پھوٹنے والے پھولوں پر بھی غور کر سکے۔
اسے بتائیے کہ سکول میں نقل کر کے پاس ہونے سے فیل ہو جانا زیادہ باعزت ہے۔
اسے بتائیے کہ جب سب کہتے بھی رہیں کہ وہ غلط ہے تو اپنے خیالات پر پختہ یقین رکھے ۔"

11/03/2017

ایک مغربی مفکر کا قول ہے کہ علم کے لئے سب سے زیاده ضروری چیز تواضع ( modesty) ہے - تواضع کے بغیر کوئی شخص علم کے اعلی مرتبہ تک نہیں پہنچ سکتا - آدمی کے اندر اگر کبر کی نفسیات ہو تو اس کے اندر دوسروں سے سیکهنے کا مزاج نہ ہو گا - اس کی بے اعترافی اس میں رکاوٹ بن جائے گی کہ وه اپنے سوا کسی اور کو صاحب علم مانے اور اس سے استفاده کر کے اپنے علم کو بڑهائے - اس کے برعکس جس آدمی کے اندر تواضع کی نفسیات ہو وه ہر لمحہ اس کے لئے تیار رہے گا کہ جو چیز بهی کسی سے ملے اس کو وه فورا شکریہ کے ساته قبول کرلے اور اس طرح اپنے علم کو مسلسل بڑهاتا رہے - تواضع کا مزاج کسی آدمی کے لئے علم کے دروازه کو کهولتا ہے اور کبر کا مزاج اس کے لئے علم کے دروازه کو بند کر دیتا ہے

Photos 11/03/2017

شہد کا ایک قطره زمین پر گر گیا. ایک چھوٹی سی چیونٹی آئی اور اُس نے اس شہد کے قطرے سے تھوڑا سا چکھا۔ اُسے بڑا مزا آیا۔
اسے کام سے جانا تھا تو جب وہ جانے لگی تو اس شہد کا مزہ اس کے منہ میں مزید پانی لانے کا سبب بنا، اُس کا منہ بھر آیا:
کیا زبردست اور مزے دارشہد ہے۔
کتنا میٹھا!
آج تک ایسا شہد نہیں کھایا!!
وہ لوٹی اور شہد میں سے تھوڑا سا اور چکھ لیا...
اس نے دوبارہ جانے کا عزم کیا مگر اُس نے محسوس کیا کہ یہ تھوڑا سا شہد کھانا کافی نہیں ہے، اُسے اور کھانا چاھئے۔
وہ رکی اور اس مرتبہ کھانے کے بجائے شہد پر گر پڑی تا کہ وہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ لذت حاصل کرلے!
وہ چیونٹی شہد میں غوطہ زن ہو گئی اور لطف اندوز ہونے لگی۔
مگر افسوس کہ وہ شہد سے باہر نہ نکل سکی۔
شہد کی چکنائی کی وجہ سے اس کے پیر زمین سے چپک گئے تھے اور اس میں انہیں ہلانے کی طاقت نہ رہی...!
وہ شہد میں رہ گئی یہاں تک کہ وہ اسی میں ہی مر گئی !
اس کی لذت اندوزی نے شہد کو ہی اس کی قبر میں تبدیل کر دیا!
ایک دانا کا قول ھے:
دنیا شہد کے ایک بہت بڑے قطرے کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے!
پس جو بھی اس قطرہ شہد میں سے تھوڑا اور بقدر کفایت کھانے پر اکتفاء کرے گا وہ نجات پا جائے گا اور جو بھی اس شیرینی میں غوطہ زن ہو گا ہلاکت اس کا مقدر بن جائے گی ۔ ۔

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

C-82 Gulshan E Hadeed Ph1
Karachi
75010