Asghar Ali Shah Swati Official

Asghar Ali Shah Swati Official

Share

حق کی پہچان ہمارا مقصود و مطلوب ہے

22/12/2025

مرد کی اتنی وفا کافی ہے کہ چار بیویوں کا حق رکھتے ہوئے بھی زندگی ایک کے ساتھ گزار دیتا ہے...
🩷🪽🎀✨💕🕊️...

21/12/2025

اللہ تعالیٰ کے نزدیک اصل اور بنیادی معیار صرف دینِ اسلام ہے،
نہ کہ نام، نسب، خاندان یا لقب۔
قرآنِ مجید نے یہ اصول دو ٹوک انداز میں واضح فرما دیا:
إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ
(الحجرات: 13)
بیشک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو۔
لیکن آج ہمارے معاشرے میں—خواہ خاص ہو یا عام—دینداری کا معیار عمل کے بجائے نام و نسب کو بنا لیا گیا ہے۔
کوئی شخص اگر قرآن و سنت کی کھلی مخالفت کرے، شریعت کے احکام پامال کرے،
لیکن چونکہ وہ پیر ہے، سید ہے یا بڑے خاندان سے تعلق رکھتا ہے،
تو کہا جاتا ہے:
“کوئی بات نہیں، پیر و مرشد تو ہے!”
یہی سوچ دین کی سب سے بڑی ناکامی اور زوال کا آغاز ہے۔
1=ہندوستان کے معروف عالم دین مولانا فضل الرحمان خیرآبادی رحمۃ اللہ علیہ کے پڑپوتاجاویداختر آج اپنے نسب کے چہرے پر ایک بدنما داغ بن چکا ہے
یہ اس صحبت کا اثر ہے جسے وہ اختیار کرچکا ہے
کہ آج وہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر سوالات اٹھائے بیٹھے ہیں
اور ملحد ہوچکے ہیں
یہ ہمارے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے
رسولِ اکرم ﷺ نے صاف فرما دیا:
مَنْ أَبْطَأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ
(مسلم)
جس کے اعمال اسے پیچھے چھوڑ دیں، اس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھا سکتا۔
تاریخ گواہ ہے کہ عظیم خاندان بھی دین سے ہٹنے پر باقی نہ رہ سکے۔
حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا، نبی کا بیٹا ہونے کے باوجود،
جب بدکاروں کی صحبت میں پڑا تو نجات نہ پا سکا:
إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ
(ھود: 46)
اسی حقیقت کو شیخ سعدی شیرازی رحمۃ اللہ علیہ نے یوں بیان فرمایا:
پسرِ نوح با بدان بنشست
خاندانِ نبوتش گم شد
اور اس کے برعکس، حضرت بلال رضی اللہ عنہ—
نہ نسب، نہ خاندان، نہ دنیاوی مقام—
لیکن ایمان، تقویٰ اور استقامت نے انہیں وہاں پہنچا دیا
جہاں جنت میں رسول اللہ ﷺ نے ان کے قدموں کی آہٹ سنی۔
یہ سب ہمیں جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے، خاص طور پر ہم جیسے خاندانوں کے لیے
جو اپنے نام و نسب پر فخر تو کرتے ہیں
لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے دادا پردادا کو عزت
اسلام پر عمل کی وجہ سے ملی تھی،
نہ کہ صرف لقب کی بنا پر۔
حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
ليس الإيمان بالتمني ولا بالتحلي، ولكن ما وقر في القلب وصدقه العمل
ایمان محض دعوے اور آرزو کا نام نہیں، بلکہ وہ ہے جو دل میں راسخ ہو اور عمل سے ثابت ہو۔
لہٰذا آج سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ
ہم کس خاندان سے ہیں،
بلکہ یہ ہے کہ:
ہم کس دین پر کھڑے ہیں؟
اللہ تعالیٰ ہمیں نام و نسب کے فریب سے نکال کر
قرآن و سنت کی سچی پیروی نصیب فرمائے،
اور ہمارے دلوں کو ایسا ایمان عطا کرے
جو عمل میں ڈھل جائے۔
آمین یا رب العالمین۔

20/12/2025
09/12/2025

یہ گلستان جوہر کراچی ہارون رائل سٹی کے مین روڈ پر کافی دنوں سے
روڈ کاگڈر کے پانی سے برا حال ہوگیا ہے
لوگ کافی مشکلات میں ہے موٹر سائیکل سوار کیلئے کافی پریشانی ہے
برائے کرم اپنی آخرت کی فکر کرکے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ نہ فرمائے

08/12/2025

🌙 اللہ کا خوف نہیں… لیکن میت کے گھر والوں کا خوف ضرور؟

آج عشاء کی نماز سے کچھ دیر پہلے مسجد میں جنازہ لایا گیا۔
نمازِ عشاء ادا کی گئی اور اس کے بعد نمازِ جنازہ کا اعلان ہوا۔
لوگ دور دور سے آئے… رشتے دار، دوست، احباب… سب جنازے کیلئے موجود تھے۔

مگر جو منظر میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا… وہ دل کو ہلا دینے والا تھا۔

کچھ بدقسمت لوگ مسجد میں تو آگئے،
مگر ربّ العالمین کے سامنے فرضِ عین — نمازِ عشاء — ادا نہ کر سکے۔
وہ آخری صف میں کھڑے رہے،
اور کچھ وضو خانے میں ہی نمازِ جنازہ کا انتظار کرتے رہے۔

جیسے ہی امام صاحب نے اعلان کیا:
"نمازِ جنازہ کیلئے صفیں سیدھی کر لیں!"
تو وہ حضرات جو ابھی تک عشاء کی نماز چھوڑے بیٹھے تھے،
فوراً آگے بڑھ کر جنازہ پڑھنے کیلئے کھڑے ہوگئے۔

جس رب کا فرضِ عین چھوڑ دیا گیا،
اسی رب کے بندے کے جنازے میں شامل ہونے کو کافی سمجھا گیا۔

حالانکہ دین کی بنیادی تعلیم یہ ہے کہ:
✔ نمازِ جنازہ فرضِ کفایہ ہے
✔ نمازِ عشاء فرضِ عین ہے

اور فرضِ عین کو چھوڑ کر فرضِ کفایہ کی طرف بھاگنا، عقل و دین دونوں کے خلاف ہے۔

---

📖 حدیثِ مبارکہ

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“اول ما یحاسَبُ بہ العبدُ یومَ القیامۃِ الصلاۃُ، فإن صلُحت صلُح سائرُ عملِہ، وإن فسدت فسَد سائرُ عملِہ”
(سنن ترمذی: 413)

یعنی:
“قیامت کے دن سب سے پہلا حساب نماز کا ہوگا۔ اگر نماز درست ہوئی تو باقی اعمال بھی درست ہوں گے، اور اگر نماز خراب ہوئی تو باقی اعمال بھی خراب ہوں گے۔”

ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“العہدُ الذی بیننا وبینہم الصلاۃُ فمن ترکھا فقد کفر”
(سنن نسائی: 463)

یعنی:
“ہمارے اور ان کے درمیان (ایمان کا) فرق نماز ہے۔ جس نے نماز چھوڑ دی اس نے کفر کے قریب کی چیز اختیار کی۔”

---

🖋 عینی شاہد: اصغر علی شاہ

میں چونکہ مسجد میں نماز کے دوران نگرانی (security/watch) کرتا ہوں،
اور بعد میں ہم جماعت کے ساتھ اپنی نماز ادا کرتا ہوں،
اس لئے یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا اور دل بہت افسردہ ہوا۔

---

🌿 اختتامی جملہ

اے مسلمان! جنازے میں شامل ہونا اچھا ہے،
لیکن زندہ ربّ کے سامنے کھڑا ہونا اس سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔
آؤ! اپنے فرض کو مقدم رکھیں، تاکہ اللہ ہمیں بھی وہ عزت دے
جس کی امید ہم میت کیلئے رکھتے ہیں۔

اللہ ہمیں فرائض کی حفاظت کرنے والا،
اور اپنی عبادتوں کو اہمیت دینے والا بنائے۔
آمین 🤲

07/12/2025

افغانستان اسلامی ریاست میں تیرا سالہ بچی کو انصاف مل گیا اور پاکستان میں غریب کے لیے کوئی انصاف نہیں کوئی قصاص نہیں کوئی قانون نہیں 👇

06/12/2025

📌 1. کیا ناچ گانا ثقافت ہے یا بے حیائی؟

✅ اسلامی اصول کی روشنی میں

اسلام میں مرد و عورت کا آزادانہ اختلاط (Free mixing)، فحاشی، عریانی، ناچ گانا، موسیقی اور بےقابو محافل سخت ناپسندیدہ ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

> "قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ... وَالْفَوَاحِشَ"
(الاعراف: 33)
اللہ نے ہر قسم کی فحاشی کو حرام کیا ہے۔

لہٰذا یونیورسٹیوں کی مخلوط محفلیں جہاں ناچ گانا ہو، شریعت کے مطابق اخلاقی خرابی ہے، “ثقافت” نہیں۔

---

📌 2. پختون کلچر یا کسی بھی ’’ثقافت‘‘ کا معیار کیا ہے؟

✔️ اسلام میں ثقافت وہ ہے جو:

حیا کے مطابق ہو

اخلاق کے مطابق ہو

غیرت کے مطابق ہو

اللہ اور رسول ﷺ کی تعلیمات کے خلاف نہ ہو

جو رسم، تہوار یا عادت ان اصولوں کے خلاف ہو جائے، وہ ثقافت نہیں، بے حیائی ہے۔

حتیٰ کہ پختون کلچر میں بھی اصل بنیاد غیرت، پردہ، عزت اور حیا ہے۔
ناچ گانا اس اصل روح کی خلاف ورزی ہے۔

---

📌 3. آپ نے جو حدیث ذکر کی، اس کا مفہوم

نبی ﷺ نے فرمایا:

> "وَيَسْتَحِلُّونَ الْحِرَ وَالْحَرِيرَ وَالْخَمْرَ وَالْمَعَازِفَ"
(بخاری معلقاً – صحیح الاسناد، ابن حجر)

مطلب: لوگ زنا، ریشم، شراب اور موسیقی کے آلات کو حلال سمجھ بیٹھیں گے۔

یعنی ایک وقت آئے گا کہ پوری امت اجتماعی طور پر موسیقی اور بے حیائی میں پڑ جائے گی۔

یہی زمانہ آج واضح نظر آتا ہے۔

---

📌 4. حضور ﷺ کے بارے میں آپ کا جملہ — اس کا مفہوم

بعض روایات میں آتا ہے:

> "بُعِثْتُ مَكَاسِرًا لِلْمَعَازِفِ"
یعنی میں موسیقی کے آلات کو مٹانے کے لیے بھیجا گیا ہوں۔

(یہ روایت سنداً کمزور ہے مگر معنی درست ہے کیونکہ متعدد صحیح احادیث میں آلاتِ موسیقی کی مذمت موجود ہے۔)

---

📌 5. امت اس گندگی میں کیوں پڑ گئی؟

یہ چند وجوہات ہیں:

❌ 1. اسلامی شرم و حیا کمزور ہونا

اللہ نے فرمایا:

> "وَإِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً قَالُوا وَجَدْنَا عَلَيْهَا آبَاءَنَا"
(الاعراف: 28)
لوگ کہتے ہیں: یہ تو ہماری ثقافت ہے۔

آج بھی یہی بہانہ دیا جاتا ہے۔

---

❌ 2. مغربی تہذیب کی اندھی تقلید

یونیورسٹیز میں ہر وہ کام ’’مولڈرن‘‘ سمجھا جاتا ہے جو اسلامی اقدار کے خلاف ہو۔

---

❌ 3. اجتماعی بےحسی

جو چیز پہلے گناہ سمجھی جاتی تھی، آج “فن”، “تفریح” اور “کلچر” کہہ کر قبول کی جا رہی ہے۔

---

❌ 4. معاشرہ میں نبی ﷺ کی سنت کا کمزور ہونا

جب قوم اپنی اصل (سیرتِ نبوی) چھوڑ دیتی ہے تو پھر یہ فتنہ آ جاتا ہے۔

---

📌 6. نتیجہ

ناچ گانا ثقافت نہیں، بے حیائی ہے۔

مخلوط ڈانس پارٹیز، میوزک نائٹس، یونیورسٹی فنکشنز… سب اسلامی اخلاق سے باہر ہیں۔

پختون کلچر ہو یا کسی بھی قوم کا کلچر—اصل معیار قرآن و سنت ہے، نہ کہ لوگ کیا کر رہے ہیں۔

04/12/2025

عقل والوں کے لیے قصاص میں زندگی ہے
اور بےعقلوں کیلئے قصاص میں موت ہے

04/12/2025

قرآن و حدیث: قاتل کی سزا (قصاص) — سرعام یا علانیہ قتل کی مشروعیت

---

1️⃣ قرآن مجید سے واضح حکم

① سورۃ البقرہ – آیت 178

﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى... ﴾

ترجمہ:
"اے ایمان والو! تم پر مقتولوں کے بارے میں قصاص فرض کیا گیا ہے…"

یہ آیت قاتل کو مقتول کے بدلے قتل کرنے کا واضح حکم بتاتی ہے۔

---

② سورۃ البقرہ – آیت 179

﴿ وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ﴾

ترجمہ:
"اور قصاص میں (معاشرے کیلئے) زندگی ہے، اے عقل والو! تاکہ تم باز آؤ۔"

🔹 اس آیت سے معلوم ہوا کہ قاتل کو قتل کرنا (قصاص) معاشرے کو جرائم سے محفوظ رکھتا ہے۔
🔹 علانیہ یا سرعام سزا جرائم کی روک تھام کا مقصد پورا کرتی ہے۔

---

2️⃣ حدیث مبارکہ سے دلائل

① صحیح بخاری – حدیث 6878

« لا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إلا بإحدى ثلاث… والنفس بالنفس »

ترجمہ:
"کسی مسلمان کا خون حلال نہیں مگر تین صورتوں میں… اور جان کے بدلے جان۔"

🔹 رسول اللہ ﷺ نے قاتل کے بدلے قاتل کو قتل کرنے کا واضح حکم دیا۔

---

② سنن نسائی – حدیث 4720

« مَن قَتَلَ عَمْدًا دُفِعَ إلى أولياءِ القَتيل، فإن شاءوا قَتَلوا »

ترجمہ:
"جس نے جان بوجھ کر قتل کیا، اسے مقتول کے وارثوں کے حوالے کیا جاتا ہے،
اگر وہ چاہیں تو اسے قتل کر دیں۔"

🔹 یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ قاتل کو قتل کرنا صرف جائز نہیں بلکہ حق داروں کا حق ہے۔

---

3️⃣ سرعام سزا کے بارے میں فقہی اصول

اگرچہ قرآن و حدیث میں لفظ "سرعام" صراحت سے نہیں آیا،
لیکن قرآن کا یہ اصول موجود ہے:

سورۃ النور – آیت 2

﴿ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَائِفَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ﴾

ترجمہ:
"اور ان کی سزا مومنوں کی ایک جماعت کے سامنے دی جائے۔"

🔹 اس آیت سے فقہاء نے استدلال کیا ہے کہ سنگین جرائم کی سزا علانیہ دی جا سکتی ہے
تاکہ دوسرے عبرت پکڑیں۔
اسی اصول کو بہت سے اسلامی ممالک قصاص میں بھی استعمال کرتے ہیں۔

---

خلاصۂ مسئلہ

✔ قاتل کی سزا قرآن و حدیث میں قصاص کے ذریعے قتل ہی بیان ہوئی ہے۔
✔ علانیہ سزا دینے کی اجازت قرآن کے عمومی اصولوں سے ثابت ہے۔
✔ اس سے معاشرے میں جرائم رک جاتے ہیں، قرآن کہتا ہے: “قصاص میں زندگی ہے”۔

01/12/2025

ډېره کمه زندګي ده لکه شمع زندګي ده
دوه ساګاني لنډي لنډي 💔
دوه قدمه زندګي ده
يي

01/12/2025

یہ نااھل قبضہ مافیاں حکمرانوں کی نااھلی کا کھلا ثبوت ہے
اھلیت بہت بڑی چیز ہے جب اھلیت نہ ہو ،تو پھر عوام کی حفاظت مشکل ہوتی ہے
اس طرح کے واقعات مظلوم عوام کا مقدر بن جاتی ہے
(نوٹ)یہ وہی لوگ ہیں جن کے جلسوں میں زندہ باد کے نعرےلگاتےوقت ہم تکتے نہیں

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

Gulistan E Johar
Karachi
75290