صحیح بخاری میں ہے کہ جب غزوہ احد میں مسلمانوں کو جزوی نقصان ہوا تو حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ (جو اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے) نے کہا : کیا قوم (مسلمانوں) میں محمد ہیں؟ کیا ابو بکر ہیں؟ کیا عمر ہیں ؟ اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے الشیخ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کفار بھی جانتے تھے کہ مسلمانوں میں فضیلت کے اعتبار سے یہی ترتیب ہے ...
Tafhimaat Institute Karachi
Tafheemaat Institute Karachi
multidimensional Islamic and educational organization dedicated to spreading authentic knowledge.
We publish books, conduct specialized classes, and organize impactful workshops to nurture minds and hearts.
15/07/2026
14/07/2026
#غیبت
#نمیمہ
#مسلمان
#اسلام
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا قرآن سے تعلق
مفتی شاہ زیب گل واحد
11/07/2026
مولانا سید جلال الدین عمریؒ
سید جلال الدین عمری برصغیر کے ممتاز اسلامی مفکر، مفسر، محقق، مصنف، داعی اور تنظیمی رہنما تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی قرآن و سنت کی تعلیمات کی اشاعت، اسلامی فکر کی توضیح، علمی تحقیق، تصنیف و تالیف اور دعوتِ دین کے فروغ کے لیے وقف کیے رکھی۔ آپ کا شمار ان اہلِ علم میں ہوتا ہے جنہوں نے جدید دور کے سماجی، فکری اور تہذیبی مسائل کا قرآن و سنت کی روشنی میں گہرا تجزیہ پیش کیا۔
ولادت اور خاندانی پس منظر
مولانا سید جلال الدین عمریؒ کی ولادت 1935ء میں ہندوستان کی ریاست تمل ناڈو کے ضلع شمالی آرکاٹ کے ایک گاؤں پتّگرم (Pattagaram) میں ہوئی۔ آپ کا خاندان دینی مزاج رکھتا تھا، جس کی وجہ سے بچپن ہی سے اسلامی تعلیمات سے گہری وابستگی پیدا ہوئی۔
تعلیم
ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے میں حاصل کی۔ بعد ازاں جنوبی ہند کے معروف دینی ادارے جامعہ دارالسلام، عمرآباد میں داخلہ لیا اور 1954ء میں فضیلت کی سند حاصل کی۔ اس کے بعد آپ نے عصری تعلیم کا بھی اہتمام کیا اور:
مدراس یونیورسٹی سے فارسی زبان و ادب میں منشی فاضل کی سند حاصل کی۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے کیا۔
دینی اور عصری علوم کے امتزاج نے آپ کی شخصیت میں گہرائی، وسعتِ نظر اور فکری توازن پیدا کیا، جو بعد میں آپ کی تصانیف اور خطابات میں نمایاں نظر آتا ہے۔
دعوتی اور تنظیمی خدمات
مولانا عمریؒ ابتدا ہی سے جماعت اسلامی ہند سے وابستہ ہوگئے۔ آپ نے جماعت کے مختلف شعبوں میں ذمہ داریاں ادا کیں اور تنظیمی، دعوتی اور علمی میدان میں نمایاں کردار ادا کیا۔
آپ کی اہم ذمہ داریاں درج ذیل ہیں:
امیر جماعت اسلامی ہند (2007ء تا 2019ء)
نائب امیر جماعت اسلامی ہند
صدر، ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی، علی گڑھ
مدیر، سہ ماہی تحقیقات اسلامی
نائب صدر، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
آپ کی قیادت میں جماعت اسلامی ہند نے دعوت، تعلیم، سماجی خدمت، قومی یکجہتی اور اقلیتوں کے حقوق کے میدان میں اہم خدمات انجام دیں۔
علمی و فکری خدمات
مولانا عمریؒ کی اصل پہچان ان کی علمی خدمات ہیں۔ انہوں نے اسلامی معاشرت، خاندانی نظام، انسانی حقوق، عورت کے مقام، بین المذاہب تعلقات، دعوتِ دین اور اسلامی تہذیب جیسے موضوعات پر نہایت متوازن اور تحقیقی انداز میں لکھا۔
ان کی تحریروں کی خصوصیات یہ ہیں:
قرآن و سنت پر مضبوط استدلال
اعتدال اور توازن
جدید مسائل کا اسلامی حل
سادہ مگر علمی زبان
تحقیقی اسلوب
نمایاں تصانیف
مولانا عمریؒ نے اردو، عربی اور انگریزی میں متعدد کتابیں تصنیف کیں۔ ان کی مشہور کتابوں میں شامل ہیں:
عورت اسلامی معاشرہ میں
اسلام کا عائلی نظام
غیر مسلموں سے تعلقات اور ان کے حقوق
انسانوں کی خدمت (اسلام کی نظر میں)
معروف و منکر
اسلامی معاشرہ میں انسان کا مقام
دعوتِ دین اور اس کے تقاضے
حقوقِ انسانی اور اسلام
ان کی کئی کتابوں کے مختلف زبانوں میں تراجم بھی ہوئے۔
فکر و منہج
مولانا جلال الدین عمریؒ کی فکر پر قرآن کریم، سنتِ نبوی ﷺ اور برصغیر کی اصلاحی تحریکوں، بالخصوص ابوالاعلیٰ مودودی کے علمی منہج کا گہرا اثر تھا، تاہم انہوں نے ہر مسئلے پر مستقل علمی تحقیق اور دلیل کی بنیاد پر اظہارِ رائے کیا۔ وہ اعتدال، مکالمے، رواداری اور حکمت کے ساتھ دعوتِ دین کے قائل تھے۔
شخصیت و اخلاق
آپ انتہائی منکسر المزاج، بردبار، خوش اخلاق اور سادہ طبیعت کے مالک تھے۔ اختلافِ رائے میں بھی شائستگی، تحمل اور علمی وقار کو ملحوظ رکھتے تھے۔ نوجوانوں کی تربیت، اہلِ علم کی حوصلہ افزائی اور علمی اداروں کی سرپرستی آپ کی نمایاں خصوصیات تھیں۔
وفات
مولانا سید جلال الدین عمریؒ کا انتقال 26 اگست 2022ء کو ہوا۔ ان کی وفات سے برصغیر ایک عظیم اسلامی مفکر، محقق اور داعی سے محروم ہوگیا۔ تاہم ان کی علمی خدمات، تصانیف اور تربیت یافتہ افراد آج بھی ان کے علمی ورثے کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
حیات عامر
09/07/2026
شیخ ابو بکر جابر الجزائریؒ عصرِ حاضر کے ممتاز علماء میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ مسجد نبوی کے معروف اساتذہ میں سے تھے اور نصف صدی سے زیادہ عرصہ قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی ﷺ کی تعلیم و تدریس میں مصروف رہے۔ آپ نے ایک ایسا عظیم علمی سرمایہ چھوڑا جس سے عالمِ اسلام میں لاکھوں افراد نے استفادہ کیا۔
شیخ ابو بکر جابر بن موسیٰ بن عبدالقادر الجزائری 1921ء میں الجزائر کے صوبہ بسکرہ کے شہر طولقہ کے قریب واقع گاؤں لیوہ میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ایک دیندار اور علمی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ بچپن ہی میں قرآنِ مجید حفظ کر لیا اور اپنے علاقے کے علماء سے شریعت کے ابتدائی علوم، عربی زبان اور فقہِ مالکی کی تعلیم حاصل کی۔
بعد ازاں آپ اپنے خاندان کے ساتھ مدینہ منورہ ہجرت کر گئے۔ یہیں سے آپ کی عظیم علمی زندگی کا آغاز ہوا۔ آپ نے مسجد نبوی میں اکابر علماء کی مجالس میں مستقل حاضری دی، یہاں تک کہ آپ کو خود مسجد نبوی میں تدریس کی اجازت مل گئی۔ پھر آپ کی درس گاہ نصف صدی سے زیادہ عرصہ تک قائم رہی، جہاں آپ قرآنِ کریم کی تفسیر، احادیثِ نبوی ﷺ کی شرح، اہلِ سنت والجماعت کے عقائد کی تعلیم اور طلبہ کی قرآن و سنت کے مطابق تربیت فرماتے رہے۔
جب مدینہ منورہ میں اسلامی یونیورسٹی قائم ہوئی تو آپ اس کے اولین اساتذہ میں شامل تھے۔ آپ نے بے شمار علماء اور داعیانِ دین کی علمی تربیت کی۔ اس کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کے مختلف علاقوں اور دیگر ممالک میں دعوتی اسفار بھی کیے اور علمِ دین کو عام کیا۔
شیخ ابو بکر الجزائریؒ کا اندازِ بیان نہایت سادہ، دل نشین اور عام فہم تھا۔ آپ نے علمی تحقیق اور آسان اسلوب کو اس خوبی سے جمع کیا کہ آپ کی کتابیں عام مسلمانوں اور اہلِ علم، دونوں میں یکساں مقبول ہو گئیں۔ آپ کی سب سے مشہور تصنیف "منہاج المسلم" ہے، جو دنیا بھر میں معروف ہوئی، متعدد زبانوں میں اس کے تراجم ہوئے، اور اسلامی احکام و آداب کے بیان میں اسے بڑی اہمیت حاصل ہوئی۔
آپ کی دیگر مشہور تصانیف میں "أيسر التفاسير لكلام العلي الكبير"، "عقيدة المؤمن"، "كمال الأمة في صلاح عقيدتها" اور "هذا الحبيب يا محب" شامل ہیں، اس کے علاوہ بھی آپ نے مختلف اسلامی علوم پر درجنوں کتابیں اور رسائل تصنیف کیے۔
اکابر علماء نے بھی آپ کے علم و فضل کا اعتراف کیا۔ علامہ حماد الأنصاریؒ نے فرمایا:
"آپ ایسے خوبصورت انداز میں بات کو بیان کرتے ہیں کہ میں اس طرح بیان نہیں کر سکتا۔"
اسی طرح شیخ عبدالمحسن العباد نے نقل کیا ہے کہ امام عبدالعزیز بن بازؒ مسجد نبوی میں شیخ ابو بکر الجزائریؒ کے دروس کے بارے میں دریافت فرمایا کرتے تھے، جو ان کی علمی عظمت اور اثر و رسوخ کی واضح دلیل ہے۔
شیخ ابو بکر الجزائریؒ اپنی زندگی کے آخری لمحوں تک تدریس، دعوت اور تصنیف و تالیف میں مصروف رہے۔ آپ ایک ایسے عالم تھے جنہوں نے اپنے علم پر عمل کیا، بہترین مربی تھے اور نہایت حکمت کے ساتھ دعوتِ دین کا فریضہ انجام دیتے رہے۔
سن 2018ء میں تقریباً 97 برس کی عمر میں آپ اس دارِ فانی سے رخصت ہو کر اپنے رب سے جا ملے۔ آپ کی نمازِ جنازہ مسجد نبوی میں ادا کی گئی اور جنت البقیع میں تدفین عمل میں آئی۔
اللہ تعالیٰ شیخ ابو بکر جابر الجزائریؒ پر بے پایاں رحمتیں نازل فرمائے، ان کی علمی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اور ان کے علم کو قیامت تک انسانوں کے لیے نفع بخش بنائے۔ آمین۔
08/07/2026
Click here to claim your Sponsored Listing.