𝐀𝐛𝐬𝐨𝐥𝐮𝐭𝐞 𝐊𝐧𝐨𝐰𝐥𝐞𝐝𝐠𝐞
This page is an educational platform, all the major subjects of science will be taken into account. Do not hesitate to send us feedback.
The goal of this page is to provide you an environment to understand physics through discussion and questions.
Are you looking for PhD and Master/MPhil scholarships?
Here are 30 websites where you can find currently available scholarships.
1. https://www.findaphd.com/
2. https://academicpositions.com/
3. https://www.scholars4dev.com/
4. https://jobs.sciencecareers.org/
5. https://www.studyinternational.com/
6. https://scholarshipdb.net/
7. https://www.scholars4dev.com/
8. https://www.sciencejobs.org/
9. https://www.jobs.ac.uk/phd
10. https://euraxess.ec.europa.eu/jobs/search
11. https://bandi.miur.it/
12. https://www.acad.jobs/
13. https://grants.at/de/
14. https://jobs.csiro.au/
15. https://www.chinesescholarshipcouncil.com/
16. https://www.acad.jobs/
17. https://www.postgraduatestudentships.co.uk/
18. https://universitypositions.eu/
19. https://scholarship-positions.com/
20. https://www.phdportal.com/
21. https://scholarshiproar.com/
22. https://www.cucas.cn/china_scholarships
23. https://doctorat.campusfrance.org/en/phd/offers
24. https://www.postdocjobs.com/
25. https://vacancyedu.com/
26. https://phdposition.com/
27. https://scholarship-positions.com/
28. https://www.scholarshipsads.com/
29. https://www.scholarshipportal.com/
30. https://ascholarship.com/
Fully Funded Scholarships 2023 | Send Applications - Fully Funded Scholarships 2023
03/09/2022
مونسٹر بلیک ہولز آپس میں ٹکرانے والے ہیں 🕳 🌌
سپر میسیو بلیک ہولز کی ایک نایاب تینوں ایک ساتھ آنے کے عمل میں پکڑی گئی ہے۔ 🔭
SDSS J084905.51+111447.2 میں ہلکے ہلنے والے تین عفریت کندھے سے کندھا ملا رہے ہیں، جو کہ زمین سے تقریباً ایک بلیین نوری سال کے فاصلے پر واقع تین کہکشاؤں کا نظام ہے۔
ورجینیا میں جارج میسن یونیورسٹی کے لیڈ مصنف ریان فیفل نے ایک بیان میں کہا، "ہم اس وقت صرف بلیک ہولز کے جوڑے تلاش کر رہے تھے، اور پھر بھی، اپنی سلیکشن تکنیک کے ذریعے، ہم نے اس حیرت انگیز نظام کو ٹھوکر مار دی۔"
"یہ سب سے مضبوط ثبوت ہے جو ابھی تک اس طرح کے ٹرپل سسٹم کو فعال طور پر سپر میسیو بلیک ہولز کو کھانا کھلانے کے لئے پایا گیا ہے۔"
مہاکاوی تلاش کرنا آسان نہیں تھا؛ اس نے متعدد آلات کے ذریعے مشاہدات اور بہت سے شہری سائنسدانوں سے مدد لی۔ 🔭
03/09/2022
پتھراے جانے کا عمل
اس منعقش پتھر پر ستارہ مچھلی کی طرح نظر آنے والی یہ سمندری مخلوق سی ارچن ہے آپ اسے یوں سمجھیے کہ جیسے کسی ستارہ مچھلی کو ایک بلکل گول خ*ل کے اندر قید کر دیا گیا ہو دنیا کے کئی سمندروں میں سمندری فرش پر اب بھی 5000 میٹر کی گہرائی میں سی ارچن کی تقریبا نو سو اقسام پائی جاتی ہیں اور یہ سفید پتھر غالبا ایک پتھرایا ہوا سمندی گھونگا ہے۔
دنیا کی مختلف حصوں میں لکڑی، گھونگے، مچھلیاں اور دیگر سمندری مخلوق کے پتھراے ہوئے نمونے ملتے رہتے ہیں اب آتے ہیں اس طرف کیسے کوئی زندہ مخلوق اپنے پورے ڈیزائن کے ساتھ پتھر میں تبدیل ہو کر محفوظ ہو جاتی ہے
علم ارضیات میں اس عمل کو پیٹری فیکیشن کہتے ہیں
جس کا ماخذ یونانی زبان کا لفظ پیٹرا ہے جس کے لفظی معنی پتھر کے ہیں یعنی یہ بنیادی طور پر زندہ چیزوں کے پتھرائے جانے کا انتہائی پیچیدہ اور بہت طویل وقت کا متقاضی عمل ہے۔
مخصوص حالات کے تحت پانی میں موجود معدنیات آہستہ آہستہ زندہ چیز کو سانچہ مان کر ہڈیوں اور پٹھوں کی جگہ لینے لگتی ہیں اور ان میں پوری طرح بھر کےاس زندہ چیز کی شکل اختیار کر لیتی ہیں یوں سمجھیے جیسے ہم کسی ڈیزائن والے سانچے میں پگھلا ہوا لوہا ڈال کر اسے اپنے مطلوبہ پیالے کی شکل دے دیتے ہیں۔
معدنیات بھرنے کا یہ عمل پری مینرلآئزیشن گہلاتا ہے اور اس میں بہت حد تک اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ کچھ نامیاتی مادے جن پر زندہ جسم مشتمل ہوتا ہے ابھی بھی باقی رہیں گے۔
یہاں آتشفشانی مادے کا بھی بہت اہم کردار ہے آتش فشاں کے نتیجے میں پہاڑ اپنے اندر سے جو مادہ اگلتا ہے اس میں سلیکا کی کافی مقدار ہوتی ہے جو سمندری پانی میں حل ہو کر نہ صرف نامیاتی مادے کی جگہ لیتی ہے بلکہ اس میں موجود آکسیجن کی مقدار کو بتدریج کم کرتی ہے اور سمندر میں موجود فنجائی سے بھی اسے تحفظ فراہم کرتی ہے۔
سیلیکا کے علاوہ سمندر کی تہہ میں موجود پارائٹ مادہ بھی ہڈیوں اور پٹھوں کی جگہ لے کر ان کی شکل اختیار کرتا ہے اور اس طرح کروڑوں سالوں میں کوی بھی زندہ چیز اپنی اصل شکل میں پتھر بن کر محفوظ ہو جاتی ہے۔
03/09/2022
آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ ایئرپورٹس پر کپڑے کی ایک سونڈ نما ٹیوب ایک اونچے کھمبے پر نصب ہوتی ہے- اسے Windsock کہا جاتا ہے اور یہ ونڈ سوک ہوا کی سمت اور رفتار کا اندازہ کرنے کے لیے لگایا جاتا ہے- اس پر سفید اور سرخ دھاریاں ہوتی ہیں اور ہر دھاری تین ناٹ ہوا کی رفتار کو ظاہر کرتی ہے- ایک ناٹ 1.15 میل فی گھنٹہ کی رفتار کو کہتے ہیں
ہوائی جہاز اور بحری جہاز عموماً فاصلے اور رفتار کی پیمائش کے لیے میل کی جگہ ناٹیکل مائل استعمال کرتے ہیں- ایک ناٹیکل مائل 1.15 میل کے برابر ہوتا ہے- ایک ناٹیکل مائل دراصل طول بلد کے ایک منٹ کے برابر ہوتا ہے- زمین کو 360 ڈگری کے طول بلد اور عرض بلد میں تقسیم کیا گیا ہے- ایک ڈگری کے ساٹھویں حصے کو ایک منٹ کہا جاتا ہے- ایوی ایشن اور جہاز رانی میں ہمیشہ ناٹیکل مائلز استعمال کیے جاتے ہیں
Multiverse from Quran Point of View
02/09/2022
مُشک کستوری ۔۔
دنیا کی مہنگی ترین خوشبو ہے اور کستوری کی جائے تولید ہرن کی ناف ہے ، جس ہرن کی ناف میں یہ کستوری بنتی ہے وہ خود اس خوشبو کو سونگھ کر مسحور ہو جاتا ہے اور شنید ہے کہ بعد از طعام ہرن اپنا تمام وقت اس کستوری کو کھوجنے میں پہاڑوں میں بھٹکتا رہتا ہے ، مگر اس چیز سے لا علم رہتا ہے کہ وہ خوشبو اس کی اپنی ناف میں سے آ رہی ہے
ہرن کی لا علمی پر آپ یقینا ہنسیں گے یہ آپ کا حق ہے مگر خدا نے ایسا کام صرف ہرن کیساتھ ہی نہیں کر رکھا ، بلکہ گھوڑا وہ طاقت ہے جو طاقت کو ناپنے کا بھی معیار ہے ، یہ موٹر اتنے ہارس پاور کی ہے یہ انجن اتنے ہارس پاور ہے، یہ تو سن رکھا ہو گا آپ نے مگر روایت ہے کہ بروز قیامت گھوڑے کو پتہ چلے گا کہ اس کے پاس کتنی طاقت تھی
آپ گھوڑے پر بھی ہنسنے میں حق بجانب ہیں مگر ایسا کام صرف گھوڑے کیساتھ بھی نہیں آپ کے ساتھ بھی ہے اور میرے ساتھ بھی ، کیونکہ حدیث سرور دو عالم صلى الله عليه وآله وسلم ہے جس نے اپنے آپ کو پا لیا ، اس نے اپنے رب کو پا لیا ، مگر خود تک کی رسائی اور معرفت نہ مجھے ہے اور نہ آپ کو۔۔۔ 😒
اپنے آپ میں چھپی اچھی صلاحیتوں کو اندر ہی مرتا نہ چھوڑیں شاعر کا ایک شعر
ضمیر اگر زندہ ہو تو جاگ ہی جاتا ہے
02/09/2022
صحارا کا ریگستان اتنا بڑا ہے کہ اس میں تقریباً 12 پاکستان سما جائیں۔ دنیا کا گرم ترین صحرا جہاں حدِ نگاہ تک ریت ہی ریت۔ یہاں راستہ بھٹکنے والے مشکل سے ہی مل پاتے ہیں۔
شمالی و وسطی افریقہ کے دس ممالک کے بیچ پھیلا یہ صحرا ہےایک زمانے میں صحرا نہیں تھا بلکہ یہاں پانی ہی پانی تھا۔ جہاں مچھلیاں، سمندری سانپ، اور دیگر آبی حیات موجود تھی- مگر یہ بات ہے آج سے 5 سے 10 کروڑ سال پہلے کی جب یہاں نمکین سمندری پانی کی گزرگاہ تھی۔ اُس دور میں زمین پر سمندروں میں پانی کی سطح کافی بلند تھی۔ مگر سائنسدان اس بارے میں کیسے جانتے ہیں؟ ایسے کہ اُنہیں یہاں کئی سمندری جانداروں کے فوسلز ملے ہیں جو یہ گواہی دیتے ہیں کہ صحارا میں پہلے پانی ہی پانی تھا۔ مگر اب صحارا خشک ہے، یہاں ریت اُڑتی ہے اور دور دور تک سبزے کا نام و نشاں تک نہیں۔
دنیا کا اتنا بڑا علاقہ جہاں سبزا ہی نہیں تو پھر اسکا کیا فائدہ؟ رکیے ابھی بتاتا ہوں۔ پہلے ذرا یہ جان لیں کہ دنیا کے سب سے بڑے اور گھنے جنگلات کہاں پر ہیں؟ تو اسکا جواب ہے ایمازون کے جنگلات جو شمالی امریکہ میں برازیل، کولمبو، پیرو اور لاطینی امریکہ کے دیگر ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان جنگلات میں مسلسل بارشیں ہوتی رہتی ہیں۔
یہاں انواع اقسام کے جانور اور پودے ہیں۔ مگر ان جنگلات میں ایک مسئلہ ہے جو انہیں ختم کر سکتا ہے۔ ان جنگلات کی مٹی دنیا ذرخیز نہیں ہے!!
یہاں اگر درختوں کو کاٹا جائے تو وہ دوبارہ مشکل سے ہی اُگیں۔ مگر ایسا کیوں کہ اتنے درخت اور پودے ہونے کے باوجود یہاں کی مٹی زرخیز نہیں؟
وہ اس لئے کہ یہاں پودے اور درخت مٹی میں سے کم و بیش تمام غذائیت جذب کر لیتے ہیں۔یہاں موجود بیکٹریا اور فنگس مردہ پودوں کو کھا جاتے ہیں۔ پیچھے بچ جانے والی غذائی معدنیات درختوں اور پودوں کی جڑیں جذب کر لیتی ہیں۔
اگر ان جنگلات کی مٹی کی اوپری تہہ کو جو چند سینٹی میٹر یے، ہٹائیں تو نیچے محض ریت یا بنجر مٹی ملے گی۔
تو پھر یہ جنگلات زرخیز مٹی کہاں سے لاتے ہیں؟
اسکا جواب حیران کن ہے۔
دراصل یہ زرخیز مٹی ان جنگلات سے ہزاروں میل دور بحرِ اوقیانوس پار کر کے صحارا کے ریگستان سے آتی ہے۔
جی دنیا کے سب سے بڑے اور سرسبز ایمازون کے جنگلات کو دنیا کا سب سے خشک اور گرم صحرائے صحارا زرخیز مٹی مہیا کرتا ہے۔
مگر یہ مٹی کیسے پہنچتی ہے؟
صحارا میں بڑے بڑے آندھیوں کے طوفان آتے ہیں جن سے صحارا کی زرخیز ریت اور مٹی جس میں خاص کر پودوں کی افزائش کے لیے فاسفورس موجود ہوتی ہے بادلوں کی صورت ہوا میں اُٹھتی ہے۔ یہ ریتلے بادل ہزاروں میل دور ایمازون کے جنگلوں کو اپنی زرخیز مٹی بخشتے ہیں۔
ناسا جسکے بجٹ کا ایک خطیر حصہ زمین کی تحقیق پر خرچ ہوتا ہے، اسکے خلا میں موجود سٹلائیٹس زمین کا تفصیلی مشاہدہ کرتے رہتے ہیں۔
ان میں سے ایک CALIPSO سٹلائیٹ ہے جو 2006 میں خلا میں بھیجا گیا تاکہ یہ زمین کی فضا میں مٹی کے ذرات اور بادلوں کا۔مشاہدہ کر سکے۔
اس سٹلائٹ کی 2007 سے 2013 کی تصاویر میں یہ واضح دیکھا جا سکتا ہے(پوسٹ والی تصویروں کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے) کہ ہر سال لاکھوں ٹن مٹی بادلوں کی صورت صحارا سے ایمازون کے جنگلوں میں پہنچتی ہے۔ حیرانگی کی بات یہ کہ اس میں موجود فاسفورس کی مقدار ہر سال تقریباً 22 ہزار ٹن ہوتی ہے جو تقریباً اُتنی ہی ہوتی جو ہر سال بارشوں اور سیلاب کیوجہ سے ایمازون کے جنگلات کھو دیتے ہیں۔
صحارا کی مٹی اور ایمازون کے جنگل!! دو الگ دنیائیں مگر آپس میں جڑی ہوئیں۔
02/09/2022
An alien-hunting telescope has picked up a faint and interesting signal — but it’s not from aliens.
Instead, the recently refurbished Allen Telescope Array in California on 9 July picked up the signal of Voyager 1, the most distant object created by humans.
Launched on 5 September 1977, Nasa’s Voyager 1 mission provided stunning images of the outer Solar System before passing beyond the orbit of Neptune. Voyager has continued flying away from us at more than 38,000 miles per hour and has crossed into interstellar space: the spacecraft is currently about 14.5bn miles from Earth.
That’s more than 150 times the distance of the Earth to the Sun. Nevertheless, the distant probe still makes regular contact with the Deep Space Network, a series of antennas around the globe Nasa uses for keeping in touch with spacecraft in deep space.
The 42 antenna dishes of the Allen Telescope Array were also able to detect Voyager 1’s signal and record about a quarter-hour of data from the space probe, which continues to beam back information about the properties of the “interstellar medium,” the space outside the immediate electromagnetic influence of the Sun.
“The detection of Voyager 1, the farthest human-made object, with the refurbished Allen Telescope Array is an excellent display of the telescope’s capabilities and strengths, and a representation of the outstanding hard work put by the ATA team since the start of the refurbishment program in 201,” Wael Farah, a postdoctoral researcher at the Seti institute wrote in a statement.
02/09/2022
The sun rises over the Atlantic Ocean behind the NASA's Space Launch System rocket and the NASA’s Orion Spacecraft, as teams prepare for our next launch attempt on Sat., Sept. 3.
The I mission embodies a new-dawn space exploration for humanity: go.nasa.gov/3q0chH4
22/07/2022
The 10 Greatest Scientists of All Time Get to know the scientists that impacted the world as we know it via their efforts and discoveries.
22/07/2022
10 FACTS ABOUT ANCIENT EGYPT! #egypt #mummy Egypt is well-known all over the world for its long-ago civilisation as well as the structures left behind by its powerful pharaohs. Some of these sites incl...
Click here to claim your Sponsored Listing.