Darul Quran Online Academy

Darul Quran Online Academy Online Quran Academy 📖
Teaching Quran & Islamic Studies Online.

13/09/2026

゚
゚viralシ

🌍 Online Quran Classes for Kids & Adults – Worldwide📖 Learn the Holy Quran from qualified and experienced teachers from ...
13/09/2026

🌍 Online Quran Classes for Kids & Adults – Worldwide

📖 Learn the Holy Quran from qualified and experienced teachers from the comfort of your home.

We Offer:
✅ Noorani Qaida
✅ Quran Reading (Nazra)
✅ Tajweed with Proper Pronunciation
✅ Hifz-ul-Quran
✅ Basic Islamic Studies & Daily Duas

✨ Why Choose Us?
✔ Experienced Male & Female Teachers
✔ One-to-One Live Classes
✔ Flexible Timings
✔ Classes for Children & Adults
✔ Free Trial Class Available

📱 WhatsApp: +92 335 7117117
📧 Email: [email protected]

Enroll today and begin your journey of learning the Quran with confidence.

Serving students across the UK 🇬🇧, USA 🇺🇸, Canada 🇨🇦, Australia 🇦🇺, UAE 🇦🇪, Saudi Arabia 🇸🇦, and around the world.

🌍 بچوں اور بڑوں کے لیے آن لائن قرآن کلاسز — دنیا بھر میں دستیاب

کیا آپ اپنے لیے یا اپنے بچوں کے لیے ایک قابل، بااعتماد اور تجربہ کار قرآن استاد تلاش کر رہے ہیں؟

ہماری اکیڈمی دوستانہ اور بہترین تعلیمی ماحول میں تجربہ کار اور مخلص اساتذہ کے ذریعے ذاتی توجہ کے ساتھ آن لائن قرآن کلاسز فراہم کرتی ہے۔

📚 ہمارے کورسز
✅ نورانی قاعدہ
✅ ناظرہ قرآن
✅ تجوید کے ساتھ قرآنِ کریم کی تلاوت
✅ حفظ القرآن
✅ روزمرہ کی دعائیں اور بنیادی اسلامی تعلیمات

✨ ہماری اکیڈمی کا انتخاب کیوں کریں؟
✔ تجربہ کار مرد و خواتین اساتذہ
✔ ون ٹو ون لائیو کلاسز
✔ آپ کی سہولت کے مطابق لچکدار اوقات
✔ بچوں اور بڑوں کے لیے الگ الگ کلاسز
✔ مفت ٹرائل کلاس دستیاب

📱 واٹس ایپ: +92 335 7117117
📧 ای میل: [email protected]

اپنے گھر بیٹھے قرآنِ کریم سیکھنے کا سفر آج ہی شروع کریں۔

🌍 ہم دنیا بھر کے طلبہ کو تعلیم فراہم کر رہے ہیں، جن میں امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور دیگر ممالک شامل ہیں۔

📩 اپنی مفت ٹرائل کلاس بک کرنے کے لیے آج ہی ہم سے رابطہ کریں!

Follow Kare

 ِ_جنازہ_کس_طرح_پڑھی_گئی؟سوال: …آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازِ جنازہ کی امامت کس نے کرائی تھی؟ تفصیل سے لکھیں کہ آپ صلی ...
13/09/2026

ِ_جنازہ_کس_طرح_پڑھی_گئی؟
سوال: …آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازِ جنازہ کی امامت کس نے کرائی تھی؟ تفصیل سے لکھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازِ جنازہ کس ترتیب سے پڑھی گئی تھی؟

جواب: …حاکم (ج: ۳ ص: ۶۰) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا یا رسول اللہ! آپ کی نمازِ جنازہ کون پڑھے گا؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: میری تجہیز وتکفین سے فارغ ہو جاؤ تو تھوڑی دیر کے لیے حجرے سے باہر نکل جانا، سب سے پہلے مجھ پر جبرئیل علیہ السلام نماز پڑھیں گے، پھر میکائیل، پھر اسرافیل، پھر ملک الموت، پھر باقی فرشتے، اس کے بعد میرے اہل بیت کے مرد نماز پڑھیں گے، پھر اہل بیت کی عورتیں، پھر گروہ در گروہ آ کر تم سب مجھ پر صلوٰۃ وسلام پڑھنا۔
چنانچہ اسی وصیت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازِ جنازہ پڑھی گئی، اس نماز میں کوئی امام نہیں تھا بلکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین گروہ در گروہ حجرہ شریفہ میں داخل ہو کر صلوٰۃ وسلام پڑھتے تھے، یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازِ جنازہ تھی۔ابن سعد کی روایت میں ہے کہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما ایک گروہ کے ساتھ حجرہ نبوی میں داخل ہوئے اور جنازہ پڑھا، اس طرح تین ہزار مردوں اور عورتوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازِ جنازہ پڑھی




اگر آپ کا کوئی مسلہ ہو تو کمنٹ میں پوچھ سکتےہیں
شیئر کریں ۔


 سوال: …ایک طرف تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فقر و فاقے کے متعلق سیکڑوں واقعات اور احادیثِ شریف کا ذخیرہ ہے اور دوسری...
10/09/2026


سوال: …ایک طرف تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فقر و فاقے کے متعلق سیکڑوں واقعات اور احادیثِ شریف کا ذخیرہ ہے اور دوسری طرف انہیں کتابوں میں اچھا خاصا سامان مثلاً بیس غلام، سو بکریاں، گھوڑے، خچر، اونٹنیاں وغیرہ کی ملکیت آپ کی طرف منسوب کی گئی ہے، ابن قیم نے زاد المعاد اور مولانا تھانوی کی نشر الطیب میں اس کی پوری تفصیل ہے، یہ تضاد کیسے رفع ہو؟
جواب: …آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی چیز رہتی نہیں تھی، آتا تھا اور بہت کچھ آتا تھا مگر چلا جاتا تھا، زاد المعاد یا نشر الطیب میں ان چیزوں کی فہرست ہے جو وقتاً فوقتاً آپ کے پاس رہیں، یہ نہیں کہ ہمہ وقت رہیں۔




اگر آپ کا کوئی مسلہ ہو تو کمنٹ میں پوچھ سکتےہیں
شیئر کریں ۔


゚
゚viralシ

 ؟سوال: …کیا جب سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم طائف تشریف لے گئے تو آپ کی مکہ مکرمہ سے شہریّت ختم کر دی گئی تھی اور پ...
10/09/2026

؟
سوال: …کیا جب سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم طائف تشریف لے گئے تو آپ کی مکہ مکرمہ سے شہریّت ختم کر دی گئی تھی اور پھر آپ کسی شخص کی امان حاصل کر کے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تھے؟ اگر ایسا ہے تو اس شخص کا نام بھی تحریر فرمائیں کہ وہ کون شخص تھا؟
جواب: …مولانا محمد ادریس کاندھلوی نے "سیرۃ المصطفیٰ" (ج: ۱ ص: ۲۸۱) میں، مولانا ابو القاسم رفیق دلاوری نے "سیرتِ کبریٰ" (ج: ۲ ص: ۷۰۱) میں طبقاتِ ابن سعد کے حوالے سے (سیرتِ مصطفیٰ میں زاد المعاد کا حوالہ بھی دیا گیا ہے) اور حافظ ابن کثیر نے "البدایۃ والنہایۃ" (ج: ۳ ص: ۱۳۷) میں اموی کی مغازی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مطعم بن عدی کی پناہ میں تشریف لائے تھے۔ اور پناہ میں آنے کا یہ مطلب نہیں تھا جو آپ نے سمجھا ہے کہ اس سے پہلے مکہ کی شہریّت ختم کر دی گئی تھی، بلکہ یہ مطلب تھا کہ مطعم بن عدی نے ضمانت دی تھی کہ آئندہ اہل مکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں ستائیں گے




اگر آپ کا کوئی مسلہ ہو تو کمنٹ میں پوچھ سکتےہیں
شیئر کریں ۔


09/09/2026

゚
゚viralシ

 سوال: …ہمارے یہاں ایک مولوی صاحب جو مسجد کے امام بھی ہیں، ان کا عقیدہ یہ ہے کہ شقِ قمر کا جومعجزہ حضور صلی اللہ علیہ وس...
09/09/2026


سوال: …ہمارے یہاں ایک مولوی صاحب جو مسجد کے امام بھی ہیں، ان کا عقیدہ یہ ہے کہ شقِ قمر کا جومعجزہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ظاہر ہوا تھا، وہ صحیح نہیں ہے اور نہ ہی اس کا ثبوت ہے۔ براہِ کرم اس کے متعلق صحیح احادیث لکھ دیں، تاکہ ان کی نفی ہو۔
جواب:
…شقِ قمر کا معجزہ صحیح احادیث میں حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عباس، حضرت انس بن مالک، حضرت جبیر بن مطعم، حضرت حذیفہ، حضرت علی رضی اللہ عنہم وغیرہہم سے مروی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے:
"انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِرْقَتَيْنِ، فِرْقَةً فَوْقَ الْجَبَلِ وَفِرْقَةً دُونَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اشْهَدُوا." (صحیح بخاری ج: ۲ ص: ۷۲۱، واللفظ له، صحیح مسلم ج: ۲ ص: ۳۷۳، ترمذی ج: ۲ ص: ۱۶۱)

ترجمہ:…"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند دو ٹکڑے ہوا، ایک ٹکڑا پہاڑ سے اوپر تھا اور ایک پہاڑ سے نیچے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گواہ رہو۔"
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے:
"انْشَقَّ الْقَمَرُ فِي زَمَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ." (صحیح بخاری ج: ۲ ص: ۷۲۱، واللفظ له، صحیح مسلم ج: ۲ ص: ۳۷۳، ترمذی ج: ۲ ص: ۱۶۱)
ترجمہ:…"آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند دو ٹکڑے ہوا۔"
حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے:
"إِنَّ أَهْلَ مَكَّةَ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرِيَهُمْ آيَةً، فَأَرَاهُمُ انْشِقَاقَ الْقَمَرِ مَرَّتَيْنِ." (صحیح بخاری ج: ۲ ص: ۷۲۲، صحیح مسلم ج: ۲ ص: ۳۷۳، واللفظ له، ترمذی ج: ۲ ص: ۱۶۱)
ترجمہ:…"اہلِ مکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ کوئی معجزہ دکھائیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا معجزہ دکھایا۔"
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے:
"انْفَلَقَ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اشْهَدُوا." (صحیح مسلم ص: ۳۷۳ ج: ۲، ترمذی ص: ۱۶۱ ج: ۲ واللفظ له)
ترجمہ:…"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند دو ٹکڑے ہوا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گواہ رہو۔"
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے:
"انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى صَارَ فِرْقَتَيْنِ عَلَى هَذَا الْجَبَلِ وَعَلَى هَذَا الْجَبَلِ، فَقَالُوا: سَحَرَنَا مُحَمَّدٌ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَئِنْ كَانَ سَحَرَنَا فَمَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْحَرَ النَّاسَ كُلَّهُمْ." (ترمذی ج: ۲ ص: ۱۶۲، سورة القمر، طبع قدیمی)
ترجمہ:…"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند دو ٹکڑے ہوا، یہاں تک کہ ایک ٹکڑا اس پہاڑ پر تھا، اور ایک ٹکڑا اس پہاڑ پر۔ مشرکین نے کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہم پر جادو کر دیا، اس پر ان میں سے بعض نے کہا: اگر انہوں نے ہم پر جادو کر دیا ہے تو وہ تمام لوگوں پر جادو نہیں کر سکتے..(اس لیے باہر کے لوگوں سے معلوم کیا جائے، چنانچہ انہوں نے باہر سے آنے والوں سے تحقیق کی تو انہوں نے بھی تصدیق کی)۔"

حافظ ابن کثیر نے البدایۃ والنہایۃ (ج: ۳ ص: ۱۱۹) میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی نقل کی ہے،اور حافظ ابن حجر نے فتح الباری (ج: ۶ ص: ۶۳۲) میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی حدیث کا بھی حوالہ دیا ہے۔
امام نووی شرح مسلم میں لکھتے ہیں:
"قاضی عیاضؒ فرماتے ہیں کہ چاند کا دو ٹکڑے ہو جانا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہم ترین معجزات میں سے ہے، اور اس کو متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے روایت کیا ہے، علاوہ ازیں آیتِ کریمہ: "اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ" کا ظاہر و سیاق بھی اس کی تائید کرتا ہے۔
زجاج کہتے ہیں کہ بعض اہل بدعت نے، جو مخالفینِ ملت کے مشابہ ہیں، اس کا انکار کیا ہے، اور یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کو اندھا کر دیا ہے، ورنہ عقل کو اس میں مجالِ انکار نہیں




اگر آپ کا کوئی مسلہ ہو تو کمنٹ میں پوچھ سکتےہیں
شیئر کریں ۔


゚
゚viralシ

 سوال: …نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ مبارک کیسا تھا؟ اور آپ کے لباس اور بالوں کے متعلق تفصیل سے بیان فرمائیں۔جواب...
04/09/2026


سوال: …نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ مبارک کیسا تھا؟ اور آپ کے لباس اور بالوں کے متعلق تفصیل سے بیان فرمائیں۔

جواب: …آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ مبارک کی تفصیل شمائلِ ترمذی میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے منقول ہے،اس کو "خصائلِ نبوی" سے نقل کیا جاتا ہے۔
"ابراہیم بن محمد، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد میں سے ہیں (یعنی پوتے ہیں)، وہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ مبارک کا بیان فرماتے تو کہا کرتے تھے کہ: حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نہ زیادہ لمبے تھے، نہ زیادہ پست قد، بلکہ میانہ قد لوگوں میں تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک نہ بالکل پیچ دار تھے نہ بالکل سیدھے تھے، بلکہ تھوڑی سی پیچیدگی لیے ہوئے تھے۔ نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم موٹے بدن کے تھے، نہ گول چہرے کے، البتہ تھوڑی سی گولائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک میں تھی، یعنی (چہرہ نور بالکل گول نہ تھا،نہ بلکہ بالکل لمبا بلکہ دونوں کے درمیان تھا) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ سفید سرخی مائل تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک آنکھیں نہایت سیاہ تھیں اور پلکیں دراز، بدن کے جوڑوں کے ملنے کی ہڈیاں موٹی تھیں (مثلاً: کہنیاں اور گھٹنے)، اور ایسے ہی دونوں مونڈھوں کے درمیان کی جگہ بھی موٹی اور پر گوشت تھی۔ آپ کے بدن مبارک پر (معمولی طور سے زائد) بال نہیں تھے (یعنی بعض آدمی ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے بدن پر بال زیادہ ہو جاتے ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بدن مبارک پر خاص خاص جگہوں کے علاوہ جیسے بازو، پنڈلیاں، وغیرہ ان کے علاوہ اور کہیں بال نہیں تھے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک سے ناف تک بالوں کی لکیر تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ اور قدم مبارک پر گوشت تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے چلتے تو قدموں کو قوت سے اٹھاتے گویا کہ پستی کی طرف چل رہے ہیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کی طرف توجہ فرماتے تو پورے بدن مبارک کے ساتھ توجہ فرماتے (یعنی یہ کہ گردن پھیر کر کسی کی طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے، اس لیے کہ اس طرح دوسرے کے ساتھ لاپرواہی ظاہر ہوتی ہے، اور بعض اوقات متکبرانہ حالت ہو جاتی ہے، بلکہ سینہ مبارک سمیت اس طرف توجہ فرماتے۔ بعض علماء نے اس کا مطلب یہ بھی فرمایا ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم توجہ فرماتے تو تمام چہرہ مبارک سے فرماتے، کن انکھیوں سے نہیں ملاحظہ فرماتے تھے، مگر یہ مطلب اچھا نہیں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں مبارک شانوں کے درمیان مهرِ نبوت تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ختم کرنے والے تھے نبیوں کے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سخی دل والے تھے اور سب سے زیادہ سچی زبان والے، سب سے زیادہ نرم طبیعت والے تھے اور سب سے زیادہ شریف گھرانے والے تھے (غرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم دل و زبان، طبیعت، خاندان، اوصافِ ذاتی اور نسبی ہر چیز میں سب سے افضل تھے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو شخص یکا یک دیکھتا مرعوب ہو جاتا تھا (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وقار اس قدر زیادہ تھا کہ اوّل وہلہ میں دیکھنے والا رعب کی وجہ سے ہیبت میں آ جاتا تھا، اوّل تو جمال و خوبصورتی کے لیے بھی رعب ہوتا ہے:

شوقِ افزوں مانعِ عرضِ تمنا وابِ حسن
بارہا دل نے اٹھائے ایسی لذت کے مزے

اس کے ساتھ جب کمالات کا اضافہ ہو تو پھر رعب کا کیا پوچھنا! اس کے علاوہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو جو مخصوص چیزیں عطا ہوئیں، ان میں رعب بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کیا گیا تھا)۔ البتہ جو شخص پہچان کر میل جول کرتا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ کریمانہ و اوصافِ کاملہ کا گھائل ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو محبوب بنا لیتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ بیان کرنے والا صرف یہ کہہ
سکتا ہے کہ: میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا باجمال و باکمال نہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے دیکھا، نہ بعد میں دیکھا (صلی اللہ علیہ وسلم)۔"
اور لباس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولِ مبارک کا مختصر خلاصہ یہ ہے کہ لباس میں اکثر سوتی کرتا زیبِ تن فرماتے تھے، جس کی آستینیں عموماً گٹوں تک اور لمبائی آدھی پنڈلی تک ہوتی تھی۔ ایک باررومی ساخت کا جبہ بھی، جس کی آستینیں آگے سے تنگ تھیں، استعمال فرمایا۔سفید لباس کو پسند فرماتے تھے اور اس کی ترغیب دیتے تھے،اکثر لنگی استعمال فرماتے تھے، یمانی چادروں کو پسند فرماتے تھے، شلوار کا خریدنا اور پسند فرمانا ثابت ہے، مگر پہننا ثابت نہیں۔سبز چادر میں بھی استعمال فرمایا،گاہے سرخ دھاریوں والی دو چادریں بھی استعمال فرمائیں، بالوں کی بنی ہوئی سیاہ چادر (کالی کملی) بھی استعمال فرمائی، سر مبارک پر کپڑے کی ٹوپی اور اس کے اوپر دستار پہننے کا معمول تھا۔
…سرِ مبارک پر پٹے رکھنے کا معمول تھا، جو اکثر و بیشتر نرمۂ گوش (کانوں کی لو) تک ہوتے اور کبھی کم وبیش بھی ہوتے تھے، حج وعمرہ کا احرام کھولنے کے موقع پر سر کے بال اُسترے سے صاف کرا دیے جاتے اور موئے مبارک رفقاء و احباب میں تقسیم فرما دیے جاتے، صلی اللہ علیہ وعلى آلہ واصحابہ واطباعہ اجمعین!
نعلین شریفین رنگے ہوئے چمڑے کے ہوتے تھے، جن میں دو تسمے ہوا کرتے تھے




اگر آپ کا کوئی مسلہ ہو تو کمنٹ میں پوچھ سکتےہیں
شیئر کریں ۔


 ِ_شمسسوال: …گزشتہ دنوں ایک مولانا صاحب نے مقامی مسجد میں اتباعِ رسول کے موضوع پر وعظ کرتے ہوئے فرمایا کہ: ایک مرتبہ حضو...
03/09/2026

ِ_شمس
سوال: …گزشتہ دنوں ایک مولانا صاحب نے مقامی مسجد میں اتباعِ رسول کے موضوع پر وعظ کرتے ہوئے فرمایا کہ: ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے زانو پر سر رکھ کر لیٹے کہ اتنے میں انہیں نیند آگئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے، ادھر عصر کا وقت ختم ہو رہا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں جگانا مناسب نہ سمجھا، انہوں نے سوچا کہ نماز تو پھر مل جائے گی مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس طرح کی قربت نہ جانے پھر نصیب ہوگی یا نہیں؟ اتنے میں سورج غروب ہو گیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کھلی تو سورج غروب ہو چکا تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جاگ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ: نماز پڑھنا چاہتے ہو یا قضا پڑھو گے؟ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ: قضا نہیں پڑھنا چاہتا! تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج کو حکم دیا، سورج دوبارہ نکل آیا اور حضرت علیؓ نے نماز پڑھی۔
خلاصہ کلام یہ ہوا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی نماز تو قضا کر لی مگر زانو سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ جگایا۔
اس میں تفصیل طلب بات یہ ہے کہ آیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود نماز پڑھ لی یا نماز پڑھنے سے پہلے سو گئے یا دونوں نے نماز نہیں پڑھی؟ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی تو یہ کیسے ممکن ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ وہاں بیٹھے رہے اور انہوں نے نماز نہیں پڑھی؟ اور پھر نبی جب سوتا ہے تو غافل نہیں ہوتا، نبی کا دل جاگ رہا ہوتا ہے، بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ نبی سو جائے، اس کی اپنی نماز قضا ہو جائے یا اس کے رفیق کی؟
مولانا کی گفتگو سے مندرجہ بالا اشکالات میرے ذہن میں آئے، امید ہے کہ ان کا جواب دے کر ممنون فرمائیں گے اور بتائیں گے کہ آیا یہ واقعہ صحیح احادیث سے ثابت ہے یا واقعہ کی حد تک ہے؟

جواب: …حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے ردِّ شمس کی حدیث امام طحاوی رحمہ اللہ نے "مشکل الآثار" (ج: ۲ ص: ۹) میں حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے، بہت سے حفاظِ حدیث نے اس کی تصحیح فرمائی ہے۔ امام طحاوی نے اس کے رجال کی توثیق کرنے کے بعد حافظ احمد بن صالح مصری کا یہ قول نقل کیا ہے:
"لا ينبغي لمن كان سبيله العلم التخلف عن حفظ حديث اسماء الذى روى لنا عنه، لأنه من اجل علامات النبوة." (مشكل الآثار ج: ۲ ص: ۱۱)
ترجمہ:…"جو شخص علمِ حدیث کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہو، اسے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کیحدیث کے، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے، یاد کرنے میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ یہ جلیل القدر معجزاتِ نبوت میں سے ہے۔"
حافظ سیوطی رحمہ اللہ "اللآلئ المصنوعة" میں لکھتے ہیں:
"ومما يشهد بصحة ذالك قول الإمام الشافعى وغيره ما اوتى نبي معجزة إلّا اوتى نبينا صلى الله عليه وسلم نظيرها، او ابلغ منها، وقد صح ان الشمس حبست على يوشع (عليه السلام) ليالى قاتل الجبارين، فلا بد ان يكون لنبينا صلى الله عليه وسلم نظير ذالك، فكانت هذه القصة نظير تلک." (مشكل الآثار ج: ۱ ص: ۳۳۱)
ترجمہ:…"اور من جملہ ان امور کے جو اس واقعہ کے صحیح ہونے کی شہادت دیتے ہیں، حضرت امام شافعی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات کا یہ ارشاد ہے کہ کسی نبی کو جو معجزہ بھی دیا گیا ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی نظیر عطا کی گئی، یا اس سے بھی بڑھ کر، اور صحیح احادیث میں آ چکا ہے کہ سورج، حضرت یوشع علیہ السلام کے لیے روکا گیا تھا، جبکہ انہوں نے جبارین سے جہاد کیا، پس ضروری تھا کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی اس کی نظیر واقع ہوتی، چنانچہ یہ واقعہ حضرت یوشع علیہ السلام کے واقعہ کی نظیر ہے۔"
امام ابن جوزی رحمہ اللہ نے اس قصہ کو موضوعات میں شمار کیا ہے، اور حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بھی "منہاج السنة" میں بڑی شدومد سے اس کا انکار کیا ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ "فتح الباری" میں لکھتے ہیں:
"وهذا ابلغ المعجزات، وقد أخطأ ابن الجوزى فى ایراده فى الموضوعات، وكذا ابن تيمية فى كتاب الرد على الروافض في زعم وضعه، والله اعلم" (ج: ۲ ص: ۴۴۲)
ترجمہ:…"ردِّ شمس کا یہ واقعہ حضرت یوشع علیہ السلام کے واقعہ سے بلیغ تر ہے، ابن جوزی نے اس واقعہ کو موضوعات میں درج کر کے غلطی کی ہے، اسی طرح ابن تیمیہ نے اپنی کتاب میں جو ردِّ رافض پر لکھی گئی ہے، اس کو موضوع قرار دے کر غلطی کی ہے۔"
حافظ سید مرتضیٰ زبیدی رحمہ اللہ "شرح احیاء" میں لکھتے ہیں:
"وهذا تحامل من ابن الجوزى، وقد ردّ عليه الحافظان السخاوى والسيوطى، وحاله فى ادراج الأحاديث الصحيحة فى حيز الموضوعات معلوم عند الأئمة، وقد ردّ عليه وعابه كثيرون من اهل عصره ومن بعدهم، كما نقله الحافظ العراقى فى اوائل نكته على ابن الصلاح، فلا نطيل بذكره، وهذا الحديث صححه غير واحد من الحفاظ، حتى قال السيوطى ان تعدد طرقه شاهد على صحته، فلا عبرة بقول ابن الجوزى." (اتحاف شرح احياء ج: ۷ ص: ۱۹۳)

ترجمہ:…"اس واقعہ کو موضوعات میں شمار کرنا ابن جوزی کی زیادتی ہے، حافظ سخاوی اور حافظ سیوطی نے ان پر ردّ کیا ہے، اور ابن جوزی جس طرح صحیح احادیث کو موضوعات میں ذکر کر جاتے ہیں وہ ائمہ کو معلوم ہے، ان کی اس روش پر ان کے معاصرین نے بھی اور بعد کے حضرات نے بھی ان کی عیب چینی کی ہے، جیسا کہ حافظ عراقی نے اپنی کتاب "نکت ابن صلاح" کے اوائل میں ذکر کیا ہے اور اس حدیث کو بہت سے حفاظِ حدیث نے صحیح کہا ہے۔ سیوطی کہتے ہیں کہ: اس کے طرق کا متعدد ہونا اس کی صحت پر شاہد ہے، اس لیے ابن جوزی کے قول کا کوئی اعتبار نہیں۔"
بہر کیف! یہ واقعہ صحیح ہے اور اس کا شمار معجزاتِ نبوی میں ہوتا ہے، رہا آپ کا یہ کہنا کہ: "یہ کیسے ممکن ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھ لی ہو اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نہ پڑھی ہو؟" اس کا جواب خود اسی حدیث میں موجود ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کام سے بھیجا تھا، جب وہ اس کام سے واپس آئے تو نماز ہو چکی تھی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سمجھا کہ یہ نماز پڑھ چکے ہوں گے۔
اور آپ کا یہ کہنا کہ: "نبی سوتا ہے تو اس کا دل جاگتا ہے، پھر نماز کیسے قضا ہو سکتی ہے؟" اس کا جواب یہ ہے کہ نماز کے اوقات کا مشاہدہ کرنا دل کا کام نہیں، بلکہ آنکھوں کا کام ہے، اور نیند کی حالت میں نبی کی آنکھ سوتی ہے، دل جاگتا ہے، یہی وجہ ہے کہ "لیلة التعریس" میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رفقا کی نمازِ فجر قضا ہوئی، والله اعلم!




اگر آپ کا کوئی مسلہ ہو تو کمنٹ میں پوچھ سکتےہیں
شیئر کریں ۔


سوال: …"فَأَرَدْنَا أَن يُبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا" خضر علیہ السلام نے بظاہر یہاں شریکِ جمع بولا کہ اللہ تعالیٰ کے ارادے ک...
03/09/2026

سوال: …"فَأَرَدْنَا أَن يُبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا" خضر علیہ السلام نے بظاہر یہاں شریکِ جمع بولا کہ اللہ تعالیٰ کے ارادے کے ساتھ اپنا ارادہ بھی شامل کر دیا، حالانکہ بظاہر: "فَأَرَادَ رَبُّكَ أَن يُبْدِلَهُمَا" زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔

جواب: …اس قصے میں تین واقعات ذکر کیے گئے ہیں: ۱: کشتی کا توڑنا۔ ۲: لڑکے کو قتل کرنا۔ ۳: دیوار بنانا۔ ان تینوں کی تاویل بتاتے ہوئے حضرت خضر علیہ السلام نے "أَرَدْتُ"، "أَرَدْنَا" اور "أَرَادَ رَبُّكَ" تین مختلف صیغے استعمال فرمائے ہیں، اس کو تفننِ عبارت بھی کہہ سکتے ہیں اور ہر صیغے کا خاص نکتہ بھی بیان کیا جا سکتا ہے:
۱:… مسکینوں کی کشتی توڑ دینا خصوصاً جبکہ انہوں نے کرایہ بھی نہیں لیا تھا، اگرچہ اپنے انجام کے اعتبار سے ان کا نقصان تھا جس کا بظاہر کوئی بدل بھی نہیں ادا کیا گیا، اور ظاہر نظر میں بھلائی کا بدلہ برائی تھا اور شر بلا بدل بلکہ بعد الاحسان تھا، اس لیے ادعاءً بمعِ اللہ، اس کو اپنی طرف منسوب فرمایا اور "أَرَدْتُ" کہا۔
۲:… بچے کا قتل کرنا بھی بظاہر شر تھا، مگر اللہ تعالیٰ نے اس کا بدل والدین کو عطا فرمایا جو ان کے حق میں خیر تھا، پس یہاں دو پہلو ہو گئے: ایک بظاہر شر؛ اس کو اپنی طرف منسوب کرنا تھا، اور دوسرا خیر یعنی بدل کا عطا کیے جانا، اس کو حق تعالیٰ شانہٗ کی طرف منسوب کرنا تھا، اس لیے جمع کا صیغہ استعمال فرمایا، تا کہ شر کو اپنی طرف اور اس کے بدل کو حق تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جا سکے۔
۳:… اور یتیموں کی دیوار کا بنا دینا خیر محض تھا، جس میں شر کا ظاہری پہلو بھی نہیں تھا، نیز ان یتیموں کا منِ بلوغ کو پہنچنا ارادۂ الہٰی کے تابع تھا، اس لیے یہاں خود بیچ میں سے نکل گئے اور اس کو حق تعالیٰ شانہٗ کی طرف منسوب فرمایا: "فَأَرَادَ رَبُّكَ" اس سے معلوم ہوا کہ دوسرے نمبر پر شرکیہ جملہ نہیں بولا، بلکہ شرکت کا جملہ بولا تاکہ شر اور خیر کو از خود تقسیم کر کے بظاہر شر کو اپنی طرف اور اس کے بدل کو جو خیر تھا، حق تعالیٰ کی طرف منسوب کریں، والله أعلم بأسرار كلامه!




اگر آپ کا کوئی مسلہ ہو تو کمنٹ میں پوچھ سکتےہیں
شیئر کریں ۔


Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Darul Quran Online Academy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share