Fikr-e-Usama Foundation

Fikr-e-Usama Foundation

Share

Fikr-e-Usama Foundation is a non-profit working for education, awareness, and social reform.

22/09/2025

💥 *بس اونچے خواب دے دو*💥

تعلیم وتربیت کا ایک انوکھا تجربہ

ایک استاد کہتے ہیں:
میں ایک پرائمری اسکول میں منتقل ہوا۔ پرنسپل نے مجھے تیسری جماعت پڑھانے کے لیے دیا اور اپنے دفتر بلایا۔ انہوں نے کہا: "میں تم سے صاف صاف بات کرتا ہوں۔ ہمارے اسکول میں تیسری جماعت کی تین کلاسیں ہیں۔
اس تعلیمی سال ہم نے باقی اساتذہ کے ساتھ مل کر فیصلہ کیا ہے کہ ان میں سے دو کلاسوں میں بہترین طلبہ ہوں گے، اور جو تیسری کلاس تمہیں ملی ہے اس کے تمام طلبہ ناکام اور ناامید ہیں۔ اگر تم ان میں سے تین یا چار کو بھی بہتر بنا سکے تو تمہیں پورا احترام ملے گا، اور اگر نہ بنا سکے تو کوئی الزام نہیں، کیونکہ ان کے والدین بھی ان کی کمزوری جانتے ہیں۔"

استاد کہتے ہیں:
میں کلاس میں داخل ہوا اور ہر طالب علم سے پوچھا: "جب تم بڑے ہوگے تو کیا بننا چاہتے ہو؟"
کچھ نے کہا: فوجی افسر، کچھ نے کہا: ڈاکٹر، اور کسی نے کہا: انجینئر۔
*یہ سن کر میرے دل کو بہت خوشی ہوئی اور میں نے کہا: "الحمدللہ! ان کے خواب اب تک مرے نہیں ہیں* ۔"

*اگلے دن میں نے طلبہ کی نشستیں ان کے خوابوں کے مطابق بدل دیں* :
*افسر ایک ساتھ بیٹھیں* -
*ڈاکٹر ایک ساتھ* -
*انجینئر ایک ساتھ* -
اور میں نے ان کی کتابوں پر ان کے خواب کا لقب لکھ دیا:

*افسر محمد* !

*ڈاکٹر عبداللہ* !

*انجینئر خالد!*

پھر میں نے اپنی تدریس کا آغاز کیا اور اپنے ذہن میں یہ بات بٹھا لی کہ یہ سب طلبہ دوسرے بچوں کی طرح ہیں، یہ کمزور نہیں ہیں۔
یقیناً ان میں سے کوئی غلطی کرتا، کوئی سستی کرتا، اور کوئی ہوم ورک نہیں کرتا وغیرہ۔

یہاں سزا دینے کی باری آئی!
*لیکن میری سزا مختلف تھی۔ میں انہیں نہیں مارتا تھا، بلکہ صرف ان کا لقب چھین لیتا تھا، اور یوں ان کے خواب* *چھین لیتا تھا۔*
پھر انہیں ایک خاص جگہ بٹھاتا تھا جسے ہم نے "گلی" کا نام دیا تھا۔ یہ انہیں بہت تکلیف دیتا، اور وہ اپنی پوری کوشش کرتے کہ دوبارہ اپنی کرسی اور اپنا پسندیدہ لقب واپس حاصل کریں۔

اس طریقے سے طلبہ کا معیار بلند ہوگیا۔ وہ روزانہ ہوم ورک کرنے لگے، دل لگا کر پڑھنے لگے، اور آپس میں اچھی مسابقت پیدا ہوگئی۔ میں کبھی کبھار انہیں تحفے بھی دیتا جو ان کے خواب کے شعبے سے متعلق ہوتے۔

*پہلے سمسٹر کے آخر میں میری پوری کلاس کو پڑھائی، اسکول اور استاد سے محبت ہوگئی۔*
اب ش*ذ و نادر ہی کسی کو "گلی" میں بیٹھانا پڑتا۔

سال کے آخر میں، الحمدللہ، میری کلاس نے باقی دونوں کلاسوں کو بڑے فرق سے پیچھے چھوڑ دیا۔

پرنسپل اور دوسرے اساتذہ نے مجھ سے پوچھا:
"خدا کے لیے بتاؤ، تم نے کون سا تدریسی طریقہ اپنایا جس نے ان بچوں کو اتنا بدل دیا اور ان کا معیار حیران کن حد تک بلند کردیا؟"

تو میرا جواب یہ تھا:
" *میرا تدریسی طریقہ اور انداز تمہارے جیسا ہی ہے، فرق صرف اتنا*
*ہے کہ میں نے ہر طالب علم کو اپنے خواب کا دفاع کرنے پر لگا دیا۔"*
منقول

19/09/2025

وہ نہ صرف دو دوست تھے بلکہ ہم جماعت اور ہم عمر بھی تھے ان کی دوستی نمایا و مثالی تھی ایک کا نام ابوبکر تھا جن کا خاندان کاروباری تھا اور کافی بینک بیلنس تھا جبکہ دوسرا دوست حارث نسبتاً مالی لحاظ سے زیادہ مستحکم نہیں تھا یہ جب بھی کسی مقام پر سیر و تفریح کیلئے جاتے تو اکثر ابوبکر ہی خرچ کرتا تھا ایک بار اس نے سوچا کہ کہیں میرے دوست نے پیسے کی وجہ سے تو میرے ساتھ دوستی نہیں کی ہوئ اس بات کو پرکھنے کے لئے اس نے سوچا کہ آئیندہ کچھ دن میں اپنا ہاتھ روک لیتا ہوں شروع کے دو چار دن تو حارث نے اپنے دوست پر خرچ کیا لیکن جلد ہی تنگ آ گیا اور کہا آپ دوستی کے لائق نہیں آپ کا فایدہ کیا ہے آپ تو غریب ہو گئے اور ساتھ چھوڑ گیا اس پر ابوبکر کو افسوس نہ ہوا کیونکہ اس نے خود پر مصیبت آنے سے پہلے دوستی کو جانچ لیا تھا ۔
دوست نہ صرف آپ کے ساتھ چلنے والا ایک فرد ہوتا ہے بلکہ اچھے وقت میں خوشیوں کا ذریعہ ہوتا ہے ۔ مشکلات میں سہارا ہوتا ہے لہذا دوست سوچ سمجھ کر بنائے
تحریر محمد خباب

09/09/2025

*زندگی سے مطمئن کیسے رہا جائے؟*

کچھ لوگ بہت کچھ رکھتے ہیں لیکن پھر بھی خوش نہیں ہوتے، اور کچھ لوگ کم چیزوں میں بھی مطمئن اور پُرسکون رہتے ہیں۔ سائیکالوجی کہتی ہے کہ اطمینان کا تعلق دل کی حالت سے ہے، جیب کی حالت سے نہیں۔

☺️ *اطمینان کے تین بڑے راز کیا ہیں؟*
1.پہلا راز، *شکر گزاری* ہے، ہر دن کم از کم ایک چیز کا شکریہ ادا کریں۔ شکریہ دل میں سکون پیدا کرتا ہے اور کمی کا احساس کم کرتا ہے۔

2۔ *دوسروں کے ساتھ موازنہ چھوڑنا* دوسرا راز ہے۔ دوسروں سے اپنا موازنہ کرنے سے حسد اور بے سکونی بڑھتی ہے۔ اپنی زندگی کا سفر اپنا ہے، دوسروں کا اپنا۔

3۔ *حال میں جینا تیسرا راز* ہے،
(Live in the Present)
ماضی کے پچھتاوے اور مستقبل کے خوف کو چھوڑ کر آج کا دن بہتر بنانے پر دھیان دیں، سکھی رہو گے۔

▪️ *جو شخص دو وقت کی روٹی پر شکر کرتا ہے، وہ اس سے زیادہ خوش ہے جو محل میں رہ کر بھی ناشکرہ ہے۔*

▪️ *جو اپنی کامیابی کو اپنی پچھلی حالت سے موازنہ کرتا ہے، وہ ہمیشہ آگے بڑھتا ہے۔*

📊 ایک دلچسپ تحقیق بتاتی ہے کہ جو لوگ روز شکر گزاری کا عمل کرتے ہیں، وہ 30 فی صد زیادہ خوش اور مطمئن رہتے ہیں۔ 💓💓

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

Karachi