30/07/2025
اسلام آباد ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: سوشل میڈیا پر گستاخی کے مقدمات پر کمیشن آف انکوائری کی تشکیل روک دی گئی!
ملک بھر میں توہین مذہب کے جرائم میں گرفتار افراد کو آزاد کروانے کے لیے سیکولر فارن فنڈڈ این جی اوز کے نمائندگان نے ایک چال چلی اور کچھ ملزمان کے والدین اور ورثا کو ورغلا کر باقاعدہ ایک مہم شروع کر رکھی ہے۔ جس کے ذریعے وہ بلاسفیمی بزنس کی جھوٹی کہانیا ں بنا کر پاکستان اور اسلام اور قوانین توہین مذہب کو بدنام کر رہے ہیں ۔
این جی اوز نے کچھ ملزمان کے ورثا کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں مطالبہ کیا کہ گرفتار ملزمان کو جھوٹے کیسز میں پھنسایا گیا ہے اس لیے ایک تحقیقاتی کمیشن بنایا جائے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس سردار اعجاز خان نے اپنے فیصلے میں حکومت کو ایک ماہ کے اندر اندر کمیشن بنانے کا حکم صادر کردیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس سردار اعجاز خان کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کی گئی جس میں وفاقی حکومت کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت ایک تحقیقی کمیشن تشکیل دے۔ یہ کمیشن تقریباً 400 فوجداری مقدمات کی تفتیش کے لیے بنایا جانا تھا جن میں کئی فیصلے ہو چکے ہیں، جبکہ کچھ کی اپیلیں مختلف عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔
لیگل کمیشن آن بلاسفیمی پاکستان کا مؤقف:
• جب عدالتیں ان مقدمات پر فیصلہ دے چکی ہیں تو اب نیا کمیشن بنانا نئی شہادتیں پیدا کرنے کے مترادف ہوگا، جو انصاف کے عمل پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
• کمیشن کی تشکیل سے زیر التوا اپیلیں متاثر ہوں گی اور عدالتی کارروائی کی ساکھ مجروح ہو گی۔
• یہ معاملہ مکمل طور پر فوجداری نوعیت کا ہے، اور اس پر عدالتوں نے کارروائی مکمل کر لی ہے، لہٰذا کمیشن کا بننا قانون کے خلاف ہوگا۔
عدالت کا مشاہدہ:
• جب کسی مقدمے میں سزا یا بریت کا فیصلہ آ جائے، تو اس پر دوبارہ کمیشن کے ذریعے تفتیش کرنا عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی ہے۔
• ایسی کارروائی سے قانونی نظام کی حتمیت متاثر ہوتی ہے۔
• عدالت نے قرار دیا کہ جس حکم کو چیلنج کیا گیا ہے وہ "عارضی" نہیں بلکہ حتمی نوعیت کا ہے، کیونکہ اس میں اصل درخواست منظور کر لی گئی تھی۔
24 جولائی 2025 کودو رکنی بینچ کا فیصلہ:
• عدالت نے وفاقی حکومت اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔
• کمیشن کی تشکیل کا حکم عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے، جب تک کہ اگلی سماعت نہ ہو۔
• کیس اب گرمیوں کی تعطیلات کے بعد دوبارہ سنا جائے گا۔
خلاصہ:
عدالت نے واضح کیا ہے کہ ایسے مقدمات میں، جن میں عدالتیں فیصلہ سنا چکی ہیں یا اپیلیں زیر التوا ہیں، وہاں کمیشن بنانا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ عدالتی کارروائی کو متوازی یا ثانوی تفتیش سے متاثر نہیں ہونے دیا جا سکتا۔
www.protectblasphemylaws.com
28/07/2025
کمیشن سے کون بھاگ رہا ہے ؟؟؟
عدالت نے "یک رکنی بنچ" کا بلاسفیمی کیس میں کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے دونوں گروہوں کو اپنے دلائل پیش کرنے کا حکم دیا ہے ۔
اگر جسٹس اسحاق صاحب اسی دانائی کا مظاہرہ کرتے تو ہر دو گروہ کے ہاں معزز رہتے ۔ لیکن انہوں نے واضح جانبداری سے کام لیتے ہوئے ، ایک فریق کو سنا ، دوسرے کی باری بساط لپیٹ دی اور ایک غیر آئینی کمیشن قائم کیا ، جسے پہلی پیشی پر اگلی عدالت نے عارضی طور پر معطل کر دیا ۔۔
ہم جانتے ہیں کہ کمیشن کا معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا یہ ایک وقتی تعطل ہے۔۔
۔
❓۔۔۔۔ دوست پوچھتے ہیں کہ کمیشن کے معاملے میں اختلاف کیا ہے ؟
بہت سے دوست جو مجھ سے بہتر سمجھتے اور جانتے ہیں وہ اس پر لکھ چکے ہیں لیکن ہمارے بعض ایسے دوست جو خود بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں لیکن مولویوں کی نفرت کا شکار ہیں وہ اس تمام معاملے کو آنکھیں بند کر کے دیکھ رہے ہیں ۔۔
کمیشن سے اختلاف صرف یہ تھا کہ اس میں پیٹیشنر جیلوں میں بند مجرم خود بنیں کیونکہ متاثرہ فریق وہ خود ہیں ۔
لیکن لبرلز چاہتے تھے کہ والدین پیٹیشنر بنیں تاکہ جب کیس کمیشن میں جائے گا تو تاخیری حربے استعمال کر کے اور تاریخ پر تاریخ لے کر معاملات کو لٹکا دیا جائے گا ۔۔۔۔
اس موقعے پر مجرم کمیشن کے فیصلے کی تاخیر کو عدالت کے سامنے پیش کر کے درخواست ضمانت دائر کر سکیں ۔۔ تب مجرم کا موقف یہ ہو گا کہ :
" جناب ہمارے کیس کا فیصلہ تو آپ کے کمیشن نے لٹکا رکھا ہے اس میں ہمارا کیا قصور ، اس لیے جب تک فیصلہ نہیں "ہوتا ہمیں ضمانت دی جائے ۔۔۔
یاد رہے کہ پاکستانی قانون کے مطابق اگر کسی ملزم کے کیس میں ایسی تاخیر کہ جو ملزم کی طرف سے نہ ہو تو وہ اس بنیاد پر درخواست ضمانت دائر کر سکتا ہے کہ جناب اس تاخیر کا میری ذات سے کوئی تعلق نہیں اس لیے فیصلہ ہونے تک مجھے ضمانت دی جائے ۔۔
لیکن اگر مجرم خود کمیشن میں پٹیشنر اور فریق ہوں تو تب تاخیری حربے کو بطور درخواست ضمانت استعمال نہیں کر سکتے ۔
جسٹس صاحب جو کمیشن بنانا چاہ رہے تھے اور لبرلز جو ان سے کمیشن بنوانا چاہ رہے تھے اس کے پس پردہ یہ گیم تھی ، حالانکہ دوسری پارٹی نے مسلسل آفر کی تھی کہ مجرم پٹیشنر بن جائے تو ہمیں کمیشن پر کوئی اعتراض نہیں یا پھر پارلیمانی کمیٹی بنا لی جائے یا جے آئی ٹی کی تشکیل دے دی جائے اور ان تمام کیسز کی از سر نو تفتیش کر لی جائے ، نیا ٹرائل کر لیا جائے ۔۔۔۔۔
لیکن لبرلز نے سچ کو چھپاتے ہوئے اتنی دھول اڑائی کہ بہت سے دیندار لوگ بھی یہ سوال کرنے لگ گئے کہ آخر کمیشن پر اعتراض ہی کیا ہے ؟.
میرا ذاتی نقطہ نظر یہ ہے کہ :
📌اگر کوئی شخص بے گناہ ہے تو اس کے پاؤں کا ناخن بھی نہیں اترنا چاہیے۔
📌اور اگر راؤ عبد رحیم مجرم ہے تو اس کو ڈبل سزا دینی چاہیے کیونکہ اس نے توہین کے جرم کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔۔۔۔
🔴لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بات یاد رکھیں۔۔۔ کہ ہمارے ان دو نمبر لبرلز نے باقاعدہ ہیش ٹیگ چلایا کہ ۔۔
گستاخی کے چار سو کے چار سو ملزموں کو رہا کیا جائے۔۔۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ 400 سب کے سب راؤ کے متعلق تھے؟
حقیقت ہوش رُبا ہے کہ راؤ سے متعلق کیس چند ایک ہیں جبکہ باقی ملزمان پورے ملک سے پکڑے گئے ہیں ۔
سوال یہ ہے کہ حکومت پنجاب کے ادارے قران بورڈ نے 75 کے قریب ملزمان گرفتار کروائے جن کا راؤ سے کوئی تعلق نہ تھا۔۔۔۔۔اور ایسے بھی کیسز شامل ہیں جس میں قرآن پاک کی بے حرمتی کی گئی اور 29 قران پاک قبضہ میں کیے گئے جس پر موجود غلاظت کا ڈی این اے ان مجرموں سے مل بھی گیا اور انہوں نے اقرار جرم بھی کیا۔۔۔۔۔
آخر کیا سبب تھا کہ راؤ کے بہانے سارے مجرموں کو چھڑانے کے لیے ہیش ٹیگ چلایا گیا؟
کس عدالت نے اور کس تحقیقیاتی کمیٹی نے لبرلز گینگ کو یہ بتایا تھا کہ یہ سارے کے سارے ملزمان بےگناہ ہیں ؟
جن مجرموں کو عدالت نے بھی مجرم قرار دے دیا تھا ان کے لیے بھی ہیش ٹیگ کیوں چلایا گیا اور ان کی رہائی کی مہم کیوں شروع کی گئی؟
💥لیکن میں پھر کہوں گا کہ اگر ان 400 میں سے ایک شخص بھی ایسا ہے کہ جو بے گناہ ہے تو اس بے گناہ کی جان بچانے کے لیے
۔۔چار سو کے چار سو کا ٹرائل دوبارہ کر لیجیے ،
کہ ایک بے گناہ کی جان بچانا گویا ایک عالم کو اور انسانیت کو بچانا ہے۔۔۔۔۔۔
لیکن کمیشن کی آڑ میں ضمانت کا چور دروازہ کھولنا ہی اس گروہ کی بددیانتی کا ثبوت ہے؟
اور کمیشن سے بھاگنے کا شور بھی وہ کر رہے ہیں کہ جو خود پارلیمانی کمیٹی ، جے آئی ٹی اور آئینی کمیشن سے بھاگ چکے ہیں ۔۔۔۔۔ جبکہ دوسری طرف دین دار طبقات ہرگز کمیشن سے نہیں بھاگ رہے بلکہ کمیشن کے چور دروازوں کی نشاندہی کر رہے ہیں ۔
اصل بات یہ ہے کہ ان کا بنیادی نظریہ ہی یہی ہے کہ کوئی توہین اور گستاخی نہیں ہوتی اگر کوئی ایسی بات کرتا ہے تو وہ آزادی اظہار رائے کا حق ہے۔
Abubakr Quddusi
Send a message to learn more
27/07/2025
🔴 توہین رسالت و مذہب کے قوانین کو عدالتی تشریحات کے ذریعے غیر موثر کرنے سے روکنے کے لیے "آل پارٹیز کانفرنس"، منعقدہ 27 جولائی 2025 بروز اتوار بمقام فلیٹیز ہوٹل لاہور میں شریک*
🟢 پاکستان کی جملہ سیاسی و مذہبی جماعتوں، تنظیموں، علماء کرام، مشائخ عظائم ماہرین شریعت و فقه، وکلاء سول سوسائٹی اور سوشل میڈیا کے نمائندگان پر مشتمل فقید المثال یہ اجتماع متفقہ طور پر درج ذیل قرار داد منظور کرتا ہے۔
⚪️ وطن عزیز پاکستان میں شر پسند عناصر میڈیا اور سوشل میڈیا پر کچھ عرصہ سے توہین مذہب منظم انداز سے کر کے قوم ملک وملت کے امن و استحکام کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کہ عالمی سطح پر پاکستان اور اسلام کے لیے بد نامی کا سبب بن رہی ہیں۔
⚫️ ہم حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے اقدامات کی روک تھام میں فوری اپنا کردار ادا کریں۔
▪️ ہائی کورٹ کے ایک حج نے یکطرفہ سماعت کے دوران حالیہ فیصلے کی نوعیت گستاخان رسول کی سہولت کاری کے زمرے میں آتی ہے اور جج نے یکطرفہ طور پر موقف بیان کرنے اور پاکستان کی صورت کو خراب کرنے کے لیے جھوٹے گواہ اور دلائل کی لائیو کوریج کروائی اس کے پیچھے کون سے عناصر اور مقاصد ہیں ان کی تحقیقات ہونالازمی ہے جس کے لیے سپریم جوڈیشنل کونسل میں انکوائری کروائی جائے۔
▪️ گستاخوں کی سہولت کاری کے لئے آئندہ کسی ایسے کمیشن کو کسی قیمت پر قبول نہیں کیا جائے گا جس سے گستاخوں کے فرار کے لئے چور دروازو کھلنے کا امکان ہو۔
▪️ پاکستان میں توہین مذہب کے ملزمان کی سہولت کاری کرنے والے بلاسفیمی پروٹیکشن گروپ کے افراد کے اثاثہ جات کی تحقیقات کی جائے۔
▪️ قانون ناموس رسالت پر کسی بھی رد و بدل کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
▪️ سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کو فوری طور پر روکا جائے۔
🔷 حکومت ہنگامی بنیادوں پر قانون سازی کرے کہ:
🔹 قرآن پاک کے ساتھ اہانت کے ملزمان کے مقدمات کو ایک مہینے کے عرصہ میں نمٹایا جائے۔
🔹 قرآن پاک کے 29 نسخوں کو فوری غسل دیا جائے۔
▪️ ایف آئی اے نے جو گر تماریاں اسلام آباد ہائی کورٹ کے دباؤ میں روکی ہوئی ہیں انہیں فوری مکمل کیا جائے۔
▪️ وفاقی حکومت کی جانب سے گستاخانہ مواد کی روک تھام کے لئے عدالتوں میں جمع کرائے گئے ایکشن پلان پر فوری عمل درآمد کیا جائے۔
▪️ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر فوری عمل درآمد کیا جائے گا۔
▪️ توہین رسالت ، توہین مذہب اور عقیدہ ختم نبوت سے متعلق قوانین پر سختی سے فوری عملد رآمد کر دیا جائے، جو کیسںز زیر التوا میں انہیں سپیڈی ٹرائل کے ذریعے نمٹایا جائے، اپیل کے تمام مراحل فوری اقدامات کے ذریعے نمٹائے جائیں۔ ایسے حساس نوعیت کے مقدمات میں سست روی شکوک و شبہات کو جنم دیتی ہے اور ماورائے قانون اقدام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی و پزیرائی کا سبب بنتی ہے جو قانون اور عدالتی نظام پر عدم اعتماد کا باعث بن رہا ہے۔
🇵🇰🇵🇰🇵🇰منجانب: اتحاد ملت اسلامیہ*🇵🇰🇵🇰🇵🇰
24/07/2025
*بریکنگ نیوز*
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس اعظم خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے جسٹس اعجاز اسحاق خان کے توہین رسالت کے کیسوں پر کمیشن بنانے کے حکم کو معطل کردیا۔
ہائی کورٹ کی چھٹیوں کے بعد دونوں فریقین کو دوبارہ سنا جائے گا۔ پھر فیصلہ دیا جائے گا۔
23/07/2025
توہینِ مذہب کے الزامات کی تحقیقات کے لیے کمیشن تشکیل دینے کے فیصلے کے خلاف اپیل اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کردی گئی۔
عدالت عالیہ میں دائر درخواست میں انٹراکورٹ اپیل میں سنگل بینچ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے اور درخواست بھی ناقابل سماعت قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔
جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل راؤ عبدالرحیم کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ سنگل بینچ نے درخواست میں استدعا سے آگے بڑھ کر سوموٹو اختیار استعمال کیا۔ سنگل بینچ نے درخواست گزاروں کے الزامات کے جواب میں ہمارا مؤقف ہی نہیں سنا۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ کریمنل کیسز میں کمیشن کی تشکیل قانون کی شقوں اور اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف ہے۔
واضح رہے کہ جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے اپنے فیصلے میں وفاقی حکومت کو ایک ماہ میں کمیشن تشکیل دینے کا حکم دیا تھا
23/07/2025
برطانیہ میں "توہین رسالت قانون" کا خاتمہ: پاکستان میں بھی وہی مرحلہ وار منصوبہ؟
توہینِ رسالت ﷺ کا قانون پاکستان میں محض آئینی دفعہ نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے دینی جذبات اور عشقِ مصطفیٰ ﷺ کا آئینہ دار ہے۔ یہی وہ قانون ہے جس پر عوام کے دل دھڑکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی اگر کوئی حکومت یا ادارہ اس قانون کے خاتمے کی کوشش کرے تو عوامی ردِعمل ایک طوفان کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے: کیا دشمنانِ دین اس قانون سے مایوس ہو کر خاموش بیٹھے ہیں؟ ہرگز نہیں!
یہ عناصر تاریخ سے سیکھ چکے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ کسی "حساس قانون" کو براہِ راست ختم کرنا ممکن نہیں ہوتا، بلکہ اس کو غیر مؤثر بنانے کا طریقہ زیادہ کامیاب ہوتا ہے۔ یعنی:
1. عوام کے شعور سے اس قانون کی اہمیت ختم کر دی جائے۔
2. عدالتی تشریحات کے ذریعے اس کی طاقت کو ختم کر دیا جائے۔
3. اور آخرکار اسے کاغذی طور پر ختم کر دیا جائے۔
یہی حکمت عملی برطانیہ میں اختیار کی گئی تھی، اور اب اسی ماڈل کو پاکستان میں لاگو کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
---
🔹 برطانیہ میں توہین رسالت قانون کی تاریخ
برطانیہ میں "Blasphemy Law" (مسیحی عقائد کی توہین پر مبنی) صدیوں سے موجود رہا۔ کئی افراد کو اس قانون کے تحت سزائیں دی گئیں، جن میں مشہور نام Thomas Aikenhead (1697) شامل ہے، جسے یسوع مسیح کے متعلق "کفر آمیز الفاظ" کہنے پر سزائے موت دی گئی۔
🔹 حوالہ: Andrew Sneddon, “Aikenhead the Atheist: The Trial and Ex*****on of an Edinburgh Student, 1696–7,” The Scottish Historical Review, Vol. 83, No. 2 (2004), pp. 194–207.
بعد ازاں عدالتوں نے آہستہ آہستہ ان قوانین کی تشریح کو محدود کرنا شروع کیا۔
1817 میں "William Hone Case" میں جسٹس ایلن پارک نے کہا کہ ہر طنز یا نکتہ چینی گستاخی نہیں سمجھی جائے گی، بلکہ بدنیتی کو معیار بنایا جائے گا۔
1883 میں "Foote Case" میں Chief Justice Coleridge نے واضح کیا:
> "Every criticism is not blasphemy; the intention to maliciously ridicule is essential."
🔹 حوالہ: Foote's Trial for Blasphemy (1883), Old Bailey Proceedings Online.
1921 میں John William Gott کو آخری بار اس قانون کے تحت سزا ہوئی۔ اس کے بعد اس قانون کا استعمال تقریباً بند ہو گیا، اور 2008 میں پارلیمنٹ نے مکمل طور پر اسے منسوخ کر دیا۔
🔹 حوالہ: Criminal Justice and Immigration Act 2008 (UK), Section 79.
---
🔹 پاکستان میں وہی ماڈل دہرایا جا رہا ہے
پاکستان میں توہینِ رسالت ﷺ کا قانون دفعہ 295 (B, C) کے تحت موجود ہے۔ لیکن اب "نیت" یعنی intent کو بطور دفاع سامنے لا کر اس قانون کی بنیادیں کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلوں میں "بدنیتی کے ثبوت" کو مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے۔
اس عدالتی رجحان سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اگر بدنیتی ثابت نہ ہو تو "توہین" تسلیم ہی نہیں کی جائے گی۔
یہی وہ نکتہ ہے جس سے برطانیہ میں قانون کو غیر مؤثر کیا گیا، اور یہی اسٹیج اب پاکستان میں ترتیب دی جا رہی ہے:
مقدمات کے اندراج میں مشکلات
گرفتاری کے لیے سخت شرائط
پراسیکیوشن میں غیر فطری رکاوٹیں
عدالتی تحفظات اور "بدنیتی" کا دفاع
یہ تمام عناصر ایک واضح منصوبے کا حصہ محسوس ہوتے ہیں: قانون کو کاغذ پر زندہ رکھنا مگر عملی سطح پر ختم کر دینا۔
---
🔹 عوامی شعور کو مفلوج کرنے کی سازش
جب عدالتیں مقدمات کو خارج کرنے لگتی ہیں، جب پراسیکیوشن ناکام ہوتی ہے، جب "نیت" اور "محرک" کے نام پر دفاع مضبوط ہو جاتا ہے—تو ایک وقت ایسا آتا ہے کہ قانون صرف ایک دفعہ بن کر رہ جاتا ہے۔ عوام اسے سنجیدہ لینا چھوڑ دیتے ہیں، اور پھر جب اسے رسمی طور پر ختم کیا جاتا ہے تو کوئی مزاحمت باقی نہیں رہتی۔
برطانیہ میں یہی ہوا، اور اب پاکستان کو بھی اسی راہ پر چلانے کی کوشش ہو رہی ہے۔
---
🔸 نتیجہ: خبردار ہو جائیے!
یہ وہ وقت ہے جب قانون ختم نہیں کیا جا رہا، بلکہ اسے کھوکھلا کرنے کا عمل جاری ہے۔
اگر ہم نے اس وقت چپ سادھ لی، تو کل جب یہ قانون رسمی طور پر ختم کیا جائے گا تو ہم فقط ماضی کو یاد کرنے کے قابل رہ جائیں گے۔
یہ ایک "خاموش انقلاب" ہے، جو قانونی الفاظ، عدالتی فیصلوں اور علمی اصطلاحات میں لپٹا ہوا ہے، لیکن اس کا نتیجہ دین اور شعور کی تباہی کی صورت میں نکلے گا۔
---
📌 حوالہ جات برائے مزید مطالعہ:
1. Sneddon, Andrew. "Blasphemy and the Law in Britain." The Journal of Ecclesiastical History, Cambridge University Press.
2. Levy, Leonard W. Blasphemy: Verbal Offense Against the Sacred, from Moses to Salman Rushdie.
3. Criminal Justice and Immigration Act 2008, UK Government Legislation.
4. Old Bailey Proceedings: Trials for Blasphemy (Foote, Gott, Hone Cases).