30/07/2025
اسلام آباد ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: سوشل میڈیا پر گستاخی کے مقدمات پر کمیشن آف انکوائری کی تشکیل روک دی گئی!
ملک بھر میں توہین مذہب کے جرائم میں گرفتار افراد کو آزاد کروانے کے لیے سیکولر فارن فنڈڈ این جی اوز کے نمائندگان نے ایک چال چلی اور کچھ ملزمان کے والدین اور ورثا کو ورغلا کر باقاعدہ ایک مہم شروع کر رکھی ہے۔ جس کے ذریعے وہ بلاسفیمی بزنس کی جھوٹی کہانیا ں بنا کر پاکستان اور اسلام اور قوانین توہین مذہب کو بدنام کر رہے ہیں ۔
این جی اوز نے کچھ ملزمان کے ورثا کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں مطالبہ کیا کہ گرفتار ملزمان کو جھوٹے کیسز میں پھنسایا گیا ہے اس لیے ایک تحقیقاتی کمیشن بنایا جائے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس سردار اعجاز خان نے اپنے فیصلے میں حکومت کو ایک ماہ کے اندر اندر کمیشن بنانے کا حکم صادر کردیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس سردار اعجاز خان کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کی گئی جس میں وفاقی حکومت کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت ایک تحقیقی کمیشن تشکیل دے۔ یہ کمیشن تقریباً 400 فوجداری مقدمات کی تفتیش کے لیے بنایا جانا تھا جن میں کئی فیصلے ہو چکے ہیں، جبکہ کچھ کی اپیلیں مختلف عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔
لیگل کمیشن آن بلاسفیمی پاکستان کا مؤقف:
• جب عدالتیں ان مقدمات پر فیصلہ دے چکی ہیں تو اب نیا کمیشن بنانا نئی شہادتیں پیدا کرنے کے مترادف ہوگا، جو انصاف کے عمل پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
• کمیشن کی تشکیل سے زیر التوا اپیلیں متاثر ہوں گی اور عدالتی کارروائی کی ساکھ مجروح ہو گی۔
• یہ معاملہ مکمل طور پر فوجداری نوعیت کا ہے، اور اس پر عدالتوں نے کارروائی مکمل کر لی ہے، لہٰذا کمیشن کا بننا قانون کے خلاف ہوگا۔
عدالت کا مشاہدہ:
• جب کسی مقدمے میں سزا یا بریت کا فیصلہ آ جائے، تو اس پر دوبارہ کمیشن کے ذریعے تفتیش کرنا عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی ہے۔
• ایسی کارروائی سے قانونی نظام کی حتمیت متاثر ہوتی ہے۔
• عدالت نے قرار دیا کہ جس حکم کو چیلنج کیا گیا ہے وہ "عارضی" نہیں بلکہ حتمی نوعیت کا ہے، کیونکہ اس میں اصل درخواست منظور کر لی گئی تھی۔
24 جولائی 2025 کودو رکنی بینچ کا فیصلہ:
• عدالت نے وفاقی حکومت اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔
• کمیشن کی تشکیل کا حکم عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے، جب تک کہ اگلی سماعت نہ ہو۔
• کیس اب گرمیوں کی تعطیلات کے بعد دوبارہ سنا جائے گا۔
خلاصہ:
عدالت نے واضح کیا ہے کہ ایسے مقدمات میں، جن میں عدالتیں فیصلہ سنا چکی ہیں یا اپیلیں زیر التوا ہیں، وہاں کمیشن بنانا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ عدالتی کارروائی کو متوازی یا ثانوی تفتیش سے متاثر نہیں ہونے دیا جا سکتا۔
www.protectblasphemylaws.com