Mufti Arif Naqshbandi Shazli

Mufti Arif Naqshbandi Shazli

Share

WhatsApp and calls �
+92 341 2796603

> Teaching Tasawwuf
> Practice in Ruqiya Shariya (Spiritual Healing) > All cure less medical and spiritual illness are cured according to Quran and Sunnah.

30/03/2026

پانی اور انرجی

ہماری تہذیب اور مذہبی روایات میں پانی کو ہمیشہ سے خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔ آپ کسی سے دم کروائیں وہ پانی پر کچھ پڑھ کر دینگے، ختم کروائیں، پانی اور دیگر کھانے کی اشیاء پر کلام پڑھا جاتا ہے۔ دنیا کے ہر مذبہب میں پانی کر خاص اہمیت حاصل ہے۔ ہندو گنگا میں نہا کر اپنے آپکو پاک کرتے ہیں، ہمارے لئے بھی آبِ زم زم متبرک ہے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ایسا کیوں کیا جاتا ہے؟ اس کے پیچھے حکمت کیا ہے۔

اسکی وجہ یہ ہے کہ پانی میں اردگرد کی انرجی جذب کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ آپ کھانے کی میز پر جو باتیں کر رہے ہونگے، پانی اُسے جذب کر لیتا ہے۔ آپ اگر لڑائی جھگڑا کر رہے ہونگے اور پاس پانی پڑا ہوگا تو وہ وہی اثرات جذب کرے گا جو آپ اُسے دینگے۔ یہ اب آپ پر ہے کہ آپ پیتے ہوئے پانی کو کیسا ماحول دیتے ہیں۔ ایک ٹپ دیتا ہوں کہ جب آپ کوئی وظیفہ یا ذکر کر رہے ہوں تو پاس پانی رکھیں اور احتتام پر اُسے پی لیں اس سے آپ کو ڈبل فائدہ ہوگا۔

اسی طرح آپ کے گرد ہر ہر چیز کی اپنی انرجی ہوتی ہے۔ آپ کی والدہ جو کھانا بناتی ہیں وہ آپکو مزےدار اس لئے لگتا ہے کیونکہ اُس میں ماں کی الفت شامل ہو گئی ہوتی ہے جو۔ وہ کھانا بناتے اپنے دل و دماغ میں رکھتیں ہیں کہ میری اولاد کی صحت اچھی ہو اور وہ بناتی بھی زوق و شوق سے ہیں۔ اس کے مقابلے میں کام والی کو آپ دو کے بعد تیسری روٹی بنانے کو کہیں تو اکتاہٹ والے جذبات سے ہی بنائے گی جسے کھا کر آپ میں بھی وہی جذبات آئینگے نا۔ اسی طرح کھانے جو باہر سے کھانا منگواتے ہیں وہ تنخواہ دار باورچی نے پیسے کمانے کے حصول سے بنایا ہوتا ہے جسے کھا کر آپ بھی پیسے کے پیچھے بھاگنے والے ہی بنتے ہیں۔ اب آپ سوچیں ختم اور نیاز والا کھانا کس جذبات کا ہوتا ہے جس سے آپکو برکت ہی ملتی ہے۔

اب اِس نظر سے آپ اپنے اردگرد میں کھانے پینے پر نظر دوڑائیں تو آپ خوب سمجھ جائینگے کہ کھانا اور پانی کیسا ہونا چاہیے اور یہیں سے علاج بلغذا کا کانسپٹ بھی شروع ہوتا ہے۔ ٹینشن میں کھانا نہ بنائیں ، لڑائی والی جگہ کا پانی نہ پیں ، کھانا بناتے بھی دعائیں اور ذکر کریں اور اپنی زندگی بہتر بنائیں۔

مفتی محمد عارف چےچا نقشبندی شاذلی

28/10/2025
29/05/2025

*غرور* پر چند مختصر مگر مؤثر جملے:

1. غرور انسان کو مٹی میں ملا دیتا ہے۔
2. جو اپنے آپ کو بڑا سمجھے، وہ اللہ کے نزدیک چھوٹا ہے۔
3. غرور فرعون کو لے ڈوبا، ہمیں کیا بچائے گا؟
4. عاجزی عزت دیتی ہے، غرور ذلت۔
5. غرور کا انجام پچھتاوا ہوتا ہے۔
6. مت بھولو، جو مٹی سے بنا ہے وہ مٹی میں جائے گا۔
7. انسان کچھ نہیں، غرور کیوں؟
8. جو نرمی کرتا ہے، وہ دلوں میں بس جاتا ہے۔
9. تکبر شیطان کی پہچان ہے۔
10. اپنی اوقات یاد رکھو، غرور ٹوٹنے میں دیر نہیں لگتی۔

28/05/2025

شکرگزاری سکھائیں، شکایت نہیں — بچوں کے دلوں میں روشنی بھریے
"شکایت وہی کرتا ہے جس کا دل خالی ہو، اور شکر وہی جو دل سے لبریز ہو۔"
آج ہم بچوں کو کامیابی، نظم و ضبط اور مقابلہ بازی کی تربیت تو خوب دے رہے ہیں،
لیکن کیا کبھی یہ سوچا کہ کیا ہم اُن کے دل کو بھی سنوار رہے ہیں؟
اگر بچہ ہر وقت شکایت کرے —
"میرے پاس یہ کیوں نہیں؟ میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟ دوسرے کے پاس زیادہ کیوں ہے؟"
تو سمجھ لیجیے کہ وہ کبھی مطمئن نہیں ہو سکے گا۔
دنیا کی ہر نعمت بھی اس کی اندرونی کمی کو نہیں بھر سکتی۔
یہ بےچینی اس کی زندگی اور اس کے رشتوں، خاص طور پر ازدواجی زندگی کو متاثر کرے گی۔
کیونکہ شکوہ ایک منفی لہجہ ہے،
اور یہ لہجہ رفتہ رفتہ زہر بن جاتا ہے۔
شکرگزاری: ایک دائمی دولت
اگر ہم اپنے بچوں کو شکرگزاری سکھا دیں —
تو وہ ہر حال میں خوشی تلاش کرنا سیکھ لیں گے۔
ایسے لوگ اندھیروں میں بھی روشنی ڈھونڈ لیتے ہیں،
اور خود بھی دوسروں کے لیے چراغ بن جاتے ہیں۔
شکر، دل کی ایک خوشبو ہے —
جو سکون پھیلاتی ہے، محبت بڑھاتی ہے۔
والدین! محافظ بنیے، قیدی دار نہیں
یاد رکھیے، بچے ہمیشہ آپ کے ساتھ نہیں رہیں گے۔
کل کو وہ اپنی راہیں خود چنیں گے، نئے لوگوں کے ساتھ جڑیں گے،
اور آپ کے پاس وقت کم ہوتا جائے گا۔
مگر جو یادیں، رویہ، اور احساس آپ آج اُنہیں دیں گے —
وہ ساری زندگی اُن کے ساتھ رہیں گے۔
لہٰذا:
رزلٹ کارڈ سے زیادہ اُنہیں اعتماد دیجیے
کامیابی کے اصولوں کے ساتھ، قلبی سکون کے راز سکھایے
آپ کی اصل ذمہ داری
اللہ نے آپ کو اولاد کی نعمت دی —
اب یہ آپ کا فرض ہے کہ سوسائٹی کو
خوش اخلاق، شکر گزار، اور مطمئن انسان دیں۔
یہ تربیت صرف نماز یا اسکول تک محدود نہ رکھیں،
بلکہ ان کی سوچ میں ایمان، زبان میں شکر
اور دل میں قناعت اُتاریں۔
آخر میں ایک دعا:
یا اللہ! ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے بچوں کو ایسا دل دے سکیں،
جو ہر حال میں تیرا شکر ادا کرے،
اور جو دوسروں کے لیے آسانی کا ذریعہ بنے۔
آمین

22/04/2025

صل اللہ علیہ وسلم

05/04/2025
04/04/2025

ہر شے کے اعتبار سے علم کے چار درجات ہیں ۔
جب انسان پہلے درجے میں داخل ہوتا ہے تو یہ سمجھتا ہے کہ میں سب سے بڑا عالم ہوں۔

اور جب دوسرے درجے میں داخل ہوتا ہے تو یہ سمجھتا ہے کہ علم کا کچھ حصہ مجھ سے رہ گیا ہے۔

اور جب انسان تیسرے درجے میں داخل ہوتا ہے تو وہ یہ سمجھتا ہے کہ علم میں جوکچھ مجھے حاصل ہے اس سے کئی گنازیادہ تو رہ گیا ہے۔

اور جب انسان چوتھے درجے میں داخل ہوتا ہے تب جا کر یہ سمجھتا ہے کہ میں تو سب سے بڑا جاھل ہوں۔
بقول : شیخ یاسر الددوسری (امام حرم مکی)
ناقل : مفتی محمد عارف چے چا نقشبندی شاذلی

03/04/2025

*غلطی نہ ہونے پر بھی کوئی آپ سے معافی مانگ لیتا ہے تو سمجھ لو کہ وہ آپ سے زندگی بھر رشتہ قائم رکھنا چاہتا ہے۔*
منہ میں زبان تو سبھی رکھتے ہیں، مگر کمال وہ کرتے ہیں جو اسے سنبھال کر رکھتے ہیں۔
*زندگی تو ہلکی پھلکی ہے، سارا بوجھ تو خواہشوں کا ہے۔*

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

Metroville
Karachi
78540