29/12/2021
اصحاب الحدیث Ashab ul Hadith
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from اصحاب الحدیث Ashab ul Hadith, Educational Research Center, Karachi, Pakistan, .
29/12/2021
19/10/2021
"لجنہ العلماء للإفتاء" کی طرف سے
انجینئر مرزا محمد علی جہلمی سے متعلق جید مفتیان کرام و علمائے عظام کا متفقہ فتوی۔
■ مفتی جماعت اہل حدیث، شارح صحیح بخاری، شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد حفظہ اللہ کی نگرانی میں ماضی کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے عصر حاضر کے ایک بڑے فتنے انجینئر مرزا محمد علی جہلمی کے خلاف متفقہ فتوی دے کر پہل کر دی گئی ہے۔
ہم امید کرتے ہیں اس فتوے کی تائید دیگر مسالک بریلوی اور دیوبندی علماء بھی کریں گے۔ ان شاء اللہ
16/09/2021
استاذ ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ
"صوم عاشورا اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ "
کے عنوان سے 65صفحات پر مشتمل علمی وتحقیقی مقالہ آج مکمل ہوا ہے۔
الحمد للہ رب العالمین وبنعمتہ تتم الصالحات۔
جس کا خلاصہ چند دنوں تک اسی پیج پر پیش کیا جاے گا۔ان شاء اللہ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
(دورنبوی میں صاع کے متوازی کرنسی)
▪️▪️▪️▪️▪️
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ دورنبوی میں درہم ودینار کی کرنسی کے پائے جانے کے باوجود بھی صدقۃ الفطر اجناس سے نکالنے کاحکم دیاگیا،اور اسے "طہرۃ للصائم وطعمۃ للمساکین" قراردےکرمساکین کے لیے غذاکی فراہمی کابندوبست کیاگیا۔
مگر ہمارے بعض اہل علم کا کہناہے کہ دراصل دورنبوی میں صاع کے متوازی کسی کرنسی کاوجود ہی نہ تھا،اس لیے کرنسی سے صدقۃ الفطر سے اخراج کاحکم نہیں دیاگیا،وغیرہ وغیرہ۔
ان اہل علم کے مطابق گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اگرصاع کے متوازی کوئی کرنسی ہوتی توآپ ضرور اسی سے ہی صدقہ فطر نکالنے کاحکم دیتے،لیکن جب ایسی چھوٹی کرنسی کاوجود ہی نہیں تھاتوپھرصدقۃ الفطر نکالنے کاحکم کیسے دیاجاتا؟
عرض ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ کے زمانے میں صاع کے متوازی کرنسی کاوجود تھا یانہیں (اگرچہ ہمارے پاس ایسے دلائل ہیں جن سے صاع کے متوازی کرنسی کوثبوت ملتا ہے)قطع نظر اس سے اگر بفرض التقدیر علی سبیل التنزل یہ مان بھی لیاجائے کہ : "واقعتااتنی چھوٹی کرنسی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہیں تھی". تواس سے یقینی طور اور مکمل اعتماد کے ساتھ یہ کیسے دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ "اگر اتنی چھوٹی کرنسی دورنبوی میں ہوتی تو اسی سے ہی صدقہ فطر یاکم از کم اجناس کے ساتھ اس سے بھی صدقہ نکالنے کاحکم دیاجاتا".اس دعویٰ اور مکمل اعتماد کی دلیل کیاہے،جویہ رائے قائم کی جائے؟۔ہمارے سامنے تواسی کوئی دلیل یاثبوت نہیں کہ اس دعوے کووثوق کے ساتھ بیان کیاجاسکے۔اس قسم کے دعوے کے لیے دلیل اور ثبوت کی ضرورت ہے، محض قیاس ،اجتہاد یادیگرباتوں کی کوئی اہمیت نہیں۔اماں عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد فرماتی تھیں کہ : "جو سلسلہ عورتوں نے شروع کرکھاہے(یعنی مسجد میں نماز کو جاتے ہوئے خوشبو وغیرہ کااستعمال) اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے تو عورتوں کی یہ حالت دیکھ کرانہیں مسجد میں جانے سے منع کردیتے"۔ اوکماقالتبرضی اللہ عنہا۔
چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عوتوں کو مسجد آنے سے نہیں روکا،اور اللہ تعالی کوبھی خوب علم تھاکہ عورتیں اس قسم کے مسائل شروع کردیں گی، لیکن اس کے باوجود بھی عورتوں کے مسجدمیں جاکرنمازپڑھنے پرپابندی نہیں عائد کی گئی۔اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے علت بتانے کے باوجود بھی یقینی اورقطعی طور حکم صادر نہیں فرمایا، بلکہ منع کی علت بتانے پراکتفاکی۔اس کے باوجود بھی ان کی اس بات کو قبول نہیں کیاگیا،کیونکہ شریعت مکمل ہوچکی ہے،اس لیے بعد کتنی بھی علتیں یامسائل ظاہرہوجائیں، اس سے شریعت کے احکام میں تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔لہذا جب عائشہ رضی اللہ عنہا کی بیان کردہ اس علت کوبھی مروفوع حدیث کے مقابلے میں قابل التفات نہیں سمجھاگیاتوپھر ہماشماکی بیان کردہ علت کیسے قابل التفات ہوسکتی ہے!
بہرکیف !ہمارے پاس ایسے کوئی دلیل یاثبوت نہیں کہ یقینی طورپردعوے کیا جاسکے کہ : "اگر دورنبوی میں صاع کے متوازی کرنسی ہوتی تو ضرور اس سے صدقہ فطر نکالنے کاحکم دیاجاتا".لہذا جب تک دلیل اور ثبوت نہیں ملتا تک ایسی بات محل نظرہے،واللہ اعلم ۔
✍️ : ابو المحبوب سید انور شاہ راشدی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
( صدقۃ الفطر کے ساتھ ساتھ صدقہ عام کاثبوت)
▪️▪️▪️▪️▪️
ہمارے بعض احباب کایہ پرزور اصرارتھاکہ عید کے دن مساکین کو غلہ دینے سے غریب کی دیگرضروریات کہاں سے حل ہونگی،ان احباب کا مقصد یہ ہے کہ اگرنقدی دی جائے تویہ مساکین اس سے اپنے مسائل حل کرسکتے اور ضروریات پوری کرسکتے ہیں،وغیرہ وغیرہ۔
اولا: یہ تاویلیں انتہائی عجیب ہیں،کیامساکین کی ساری ضروریات کا دارومدار صرف صدقۃ الفطر پرہی ہے جواسی سے ہی سارے مسائل حل کرنے پرزوردیاجارہاہے،الگ سے بھی صدقہ وغیرہ دیاجاسکتاہے،غریب اور مسکین کی مدد کی جاسکتی ہے،لیکن گھماپھراکربات کوصدقہ فطرپرلایاجاتاہے،جوکہ نہایت ہی افسوس ناک ہے
ثانیا: ان احباب کے اس اعتراض کاجواب حدیث میں بھی موجود ہے، والحمدللہ۔ملاحظہ فرمائیں:
عیدالفطرکے دن صدقۃ الفطرکےعلاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نصا عام صدقہ کی ترغیب بھی ثابت ہے،چنانچہ سیدناجابررضی اللہ عنہ سے مروی ہے :
"قَامَ النبيُّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ يَومَ الفِطْرِ فَصَلَّى، فَبَدَأَ بالصَّلَاةِ، ثُمَّ خَطَبَ، فَلَمَّا فَرَغَ نَزَلَ، فأتَى النِّسَاءَ، فَذَكَّرَهُنَّ وهو يَتَوَكَّأُ علَى يَدِ بلَالٍ، وبِلَالٌ بَاسِطٌ ثَوْبَهُ يُلْقِي فيه النِّسَاءُ الصَّدَقَةَ. قُلتُ لِعَطَاءٍ: زَكَاةَ يَومِ الفِطْرِ، قالَ: لَا، ولَكِنْ صَدَقَةً يَتَصَدَّقْنَ حِينَئِذٍ، تُلْقِي فَتَخَهَا، ويُلْقِينَ، قُلتُ: أتُرَى حَقًّا علَى الإمَامِ ذلكَ، ويُذَكِّرُهُنَّ؟ قالَ: إنَّه لَحَقٌّ عليهم، وما لهمْ لا يَفْعَلُونَهُ؟"
اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن خطبہ دینے کے بعد عورتوں کو نصیحت کرنے آئے،اور دوران نصیحت آپ نے انہیں صدقہ نکالنے کی ترغیب دی،جس پر انہوں نے اللہ کی راہ میں صدقہ کے طور پر خرچ کیا،یعنی سونااتارکراللہ کی راہ میں دیدیا،جسے سیدنابلال رضی اللہ عنہ نے جمع کیا۔ابن جریج نے عطاء سے اس صدقہ کے بارے میں پوچھاکہ کیاوہ صدقہ فطرتھا؟توانہوں نے کہاکہ نہیں۔بلکہ عام صدقہ تھا،ابن جریج نے عطاء سے کہاکہ کیاامام کے لیے ضروری ہے کہ وہ عورتوں کو یہ وعظ ونصیحت کرے؟ توعطاء نے جواب دیاکہ جی،بالکل۔ائمہ پرلازم ہے کہ ایساوہ کریں،لیکن پتانہیں وہ ایساکیوں نہیں کرتے۔"
(صحیح بخاری :کتاب العیدین۔باب موعظۃ الامام النساء یوم العید)
محترم قارئین! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں سے سونے والے یہ زیورات لےکرغرباء اورمساکین میں صدقہ کردیاکرتے تھے، گویا عید کے دن اجناس کی صورت میں غذااور سونے کی صورت میں مادی اشیاء کو خریدنے کے ذرائع بھی مہیا کرتے تھے،یہ ہے اسلام کی حقیقی روح اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مساکین اور غرباء کے ساتھ ہمدردانہ رویہ ۔مگر یہ صورت آج یہ متروک العمل ہے۔ ائمہ مساجد کو چاہیے کہ خطبہ عید کے بعد عورتوں کوبھی انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب دیں،تاکہ ان کے خرچ کردہ پیسوں کوغرباء ومساکین میں بانٹ کر انہیں اجناس کی صورت میں غذا اور روپیہ کی صورت میں کرنسی میسر ہوسکے ۔
بہرکیف!یہ حدیث اپنے معنی،اور مفہوم میں بالکل واضح ہے ،کہ صدقہ فطر اجناس سے ہو،تاکہ مساکین ان سے اپنی غذا کاپوراؤ کرسکیں،اور روپیہ اور کرنسی کے ذریعے اپنے دیگر مسائل اور ضروریات حل کرسکیں۔
خلاصہ کلام!تاویل سے قبل حتی الامکان دلائل کاتجزیہ ہوناضروری ہے،تاکہ شریعت کے بیان کردہ حکم کی حکمت اور حقیقت مکمل طور پر واضح ہو جائے۔
فائدہ :عام طور پر صدقہ کرنے کی ذمہ داری مرد حضرات پرہے،مگر عید کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد اور عورت دونوں کوہی انفاق کاموقعہ دیاہے،مرد صدقہ فطر کی صورت میں خرچ کرتے ہیں ،جبکہ عورتیں عام صدقہ کرکے مسلمان کی دعاکے ساتھ ساتھ ان کے اس کار خیر یعنی انفاق فی سبیل اللہ میں بھی شریک ہوسکتی ہیں۔سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم۔کیسی عظیم ترتیب ہے کہ مرد مساکین کے لیے غذا مہیا کریں جبکہ عورتیں صدقہ کرکے ان کے باقی مسائل حل کرنے میں ممد و معاون بنیں۔اللہ اکبر کبیرا۔
✍️ابو المحبوب سید انور شاہ راشدی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
[احادیث کے ذریعے امت محمدیہ پراحسان عظیم کاہونا]
▪️▪️▪️▪️▪️
پہلی امتوں پراحکام ومسائل اور شریعت محدود اور مخصوص انداز میں نازل ہوئی، جس میں اختلاف کی گنجائش ہی نہیں تھی،مگر ان اقوام اور امتوں نے جب ان واضح اور مبرہن احکامات یعنی کتاب اللہ میں ہی اختلاف کرڈالا توان پر اللہ تعالی کاغضب نازل ہوا، اور وہ مغضوب علیہم ولا الضالین ٹھہریں۔
مگرامت محمدیہ (علی صاحبھاالصلاۃ والسلام) کا معاملہ اس کے برعکس ہے، کتاب اللہ کے ساتھ ساتھ نبی کاکلام اور عمل بھی شریعت قراردیاگیا، اور یہ سب کچھ احادیث کی صورت میں ہے، اور ان کا دارو مدار صحت و ضعف پر ہے، جس میں اختلاف کی گنجائش باقی رہتی ہے،اسی لیے اہل علم اور محدثین کے مابین اختلاف موجودہے۔
اگر یہ احادیث نہ ہوتیں(جن کا لازمہ اختلاف کا باقی رہنا ہے)تو امت محمدیہ کے اختلاف کی صورت میں اسے بھی سابقہ امتوں کی طرح نشان عبرت بنناتھا، مگراللہ رب العزۃ کا اس امت پر یہ احسان عظیم ہے کہ اسے کتاب کے ساتھ احادیث سے بھی نوازا،تاکہ اختلاف کی گنجائش باقی رہنے کی وجہ سے اسے امم سابقہ کی طرح نشان عبرت نہ ہوناپڑے۔
یادش بخیر! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں دوصحابہ کرام قرآن کریم کی ایک آیت کے بارے میں اختلاف کررہے تھے،توآپ نے جب انہیں اس حال میں دیکھاتوآپ نے سخت ناراضگی کااظہارکیا۔
گویا کتاب اللہ میں اختلاف کسی صورت برداشت نہیں۔جبکہ احادیث کے فہم کے حوالے سے خود صحابہ کااختلاف موجود تھا،مگرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراضگی کا اظہار نہیں کیا۔
✍️ابوالمحبوب سیدانورشاہ راشدی۔
منہج امام البانی اور مراسیل صغار صحابہ
تحقیق :محمد خبیب احمد
شیخ البانی رحمہ اللہ سبھی صغار صحابہ کرام کی مرویات کو صحیح سمجھتے ہیں، خواہ قسم اول کے ہوں یا قسم ثانی یا ثالث کے. گویا قسم اول ( سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن الزبیر وغیرھما رضی اللہ عنھم) کے صحابہ کرام کی روایات کو صحیح قرار دینے میں وہ جمہور محدثین کے ہم نوا ہیں. اور قسم ثانی وثالث کے صحابہ عظام کا وہی حکم سمجھتے جو قسم اول کا ہے. بالفاظ دیگر وہ مراسیل کی حجیت کا اطلاق سبھی صحابہ کی روایات پر کرتے ہیں، چنانچہ وہ قسم اول کے صحابی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرماتے ہیں :
1⃣"ابن عباس مشہور صحابی ہیں. وہ چھوٹے تھے. رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے وقت سن بلوغت کو پہنچ رہے تھے، اگرچہ یہ حدیث انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے نہیں سنی، یقینا انھوں نے ان صحابہ سے سنی ہے جنھوں نے آپ سے سنی ہے، لہذا وہ مرسل صحابی ہے اور مراسیل صحابہ دلیل ہیں. "
الصحیحۃ :(4/233ح1669).
2⃣دوسرے مقام پر عمومی اصول لکھتے ہیں :
" مرسل صحابی حجت ہے کیونکہ ظن غالب ہے کہ اس نے وہ اپنے جیسے صحابی سے سنی ہے. "
الضعیفۃ :(جلد 13،قسم دوم،ص 883ح 6392).
3⃣وہ سیدنا قرۃ بن ایاس بن ھلال المزنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں لکھتے ہیں :
" وہ مرسل صحابی ہے اور مراسیل صحابہ حجت ہیں."
الصحیحۃ :(جلد 7، قسم اول، ص583ح 3192).
حافظ ابن حجر نے انھیں القسم الاول میں ذکر کیا ہے. الاصابۃ :(9/53_55ترجمہ 7134).
نیز دیکھیے :
4⃣سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ.
الاسراء والمعراج للالبانی :(50).
5⃣سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ.
الصحیحۃ:(2/452ح 813)،( 3/149ح 1158).
6⃣سیدنا ابو امامۃ بن سھل بن حنیف رضی اللہ عنہ.
ارواء الغلیل :(3/306ح 823)،(5/256ح 1431)،تعلیق ابن خزیمہ :(4/39ح 2311،2312).
سیدنا طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ.
ارواء الغلیل :(3/54ح 592).
7⃣سیدنا عبد اللہ بن ثعلبہ بن صعیر رضی اللہ عنہ.
احکام الجنائز: (55).
8⃣سیدنا عبد الرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ.
الصحیحۃ :(جلد 6، قسم دوم، ص1238ح 2989).
مگر شیخ کا یہ موقف محل نظر ہے. جس کے متعدد دلائل ہم پہلے بیان کر چکے ہیں.
امام حاکم اور مراسیل صغار صحابہ
تحقیق :محمد خبیب احمد
امام حاکم صاحب المستدرک (وفات 405ھ) لکھتے ہیں :
"مخضرمین کے بعد تابعین کا ایسا طبقہ ہے جو عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ و سلم میں پیدا ہوا اور اس نے آپ سے سماع نہیں کیا.
ان میں یوسف بن عبد اللہ بن سلام.
(2)محمد بن ابی بکر الصدیق.
(3)بشیر بن ابی مسعود الانصاری.
(4)ابو امامہ بن سہل بن حنیف.
(5)عبد اللہ بن عامر بن کریز.
(6)سعید بن سعد بن عبادۃ.
(7)ولید بن عبادۃ بن الصامت.
(8)عبد اللہ بن عامر بن ربیعہ.
(9)عبد اللہ بن ثعلبۃ بن صعیر.
(10)ابو عبد اللہ الصنابحی.
(11)عمرو بن سلمۃ الجرمی.
(12)عبید بن عمیر.
(13)سلیمان بن ربیعہ
(14)اور علقمہ بن قیس شامل ہیں. "
معرفۃ علوم الحدیث للحاکم (45).
رضی اللہ عنھم.
انھوں نے صحابہ کرام کے بارہ طبقات ذکر کیے ہیں. آخری طبقہ کے بارے میں لکھتے ہیں :
" بارھواں طبقہ :وہ شیر خوار اور چھوٹے بچے جنھوں نے فتح مکہ، حجۃ الوداع وغیرہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا دیدار کیا، ان کا شمار صحابہ کرام میں ہوتا ہے. ان میں سائب بن یزید، عبد اللہ بن ثعلبہ بن ابی صعیر شامل ہیں. وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت اقدس میں لاے گئے، آپ نے ان دونوں اور دیگر کے لیے دعا فرمائی، جن کا ذکر طوالت کا باعث ہو گا.
انھیں میں ابو الطفیل عامر بن واثلہ، ابو جحیفہ وھب بن عبد اللہ ہیں، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو طواف کرتے اور زمزم کے کنویں پر دیکھا ہے. "
معرفۃ علوم الحدیث للحاکم :(24).
رضی اللہ عنھم.
ہم نے ان روات کا تقابل الاصابۃ لابن حجر سے کیا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ امام حاکم نے جن کو تابعین میں ذکر کیا ہے ان کے بارے میں حافظ ابن حجر کی تحقیق یہ ہے :
القسم الاول میں چار روات، القسم الثانی میں سات، القسم الثالث میں دو روات ذکر کیے، جب کہ ایک کے بارے میں کچھ نہیں کہا.
جن چار روات کو امام حاکم نے صحابہ میں ذکر کیا ہے ان میں سے تین کو حافظ ابن حجر نے القسم الاول میں ذکر کیا ہے، چوتھے کو القسم الثانی میں درج کیا ہے.
معلوم شد کہ امام حاکم کا تساہل المستدرک علی الصحیحین کی احادیث پر حکم لگانے میں ہے. ان کی باقی کتب اس تساہل سے خالی ہیں لہذا معتبر ہیں.
18/03/2021
بسم اللہ الرحمن الرحیم
(ابن حجر کے کلام کونقل کرنےمیں خیانت کاارتکاب)
-----------------------------------------------------
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم،وبعد!
واضح ہو کہ نقل کرنے میں قائل کے قول اور کلام کو ہمیشہ سیاق وسباق کومدنظررکھنانہایت ضروری ہوتاہے، اگرکوئی شخص اپنے مقصد کی بات کونقل کرتے ہوئے قائل کے کلام میں کتروبیونت سے کام لیتا ہے تواس کایہ مطلب ہے کہ اس کی نیت کھوٹی ہے۔ایساشخص اہل علم کے ہاں اعتماد کھوبیٹھتاہے۔
اس تمہید کے بعدہم اپنے اصل مدعا کی طرف آتے ہیں:
قاضی عیاض رحمہ اللہ اپنی مایہ ناز کتاب"الالماع" میں " باب وجوب طلب علم الحدیث والسنن واتقان ذالک وضبطہ وحفظہ ووعیہ۔۔"کے عنوان کے تحت گفتگو کے دوران ائمہ سابقین اور متقدم محدثین کی ثناء کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
"وكل هذا - يعني معرفة الأحاديث النبوية - إنما يوصل إليه، ويعرف بالتطلب والرواية، والبحث والتنقير عنه، والتصحيح له. ورحم الله سلفنا من الأئمة المرضيين، والأعلام السابقين، والقدوة الصالحين، من أهل الحديث وفقهائهم، قرناً بعد قرن، فلولا اهتبالهم، وتوفرهم على سماعه وحمله، واحتسابهم في إذاعته ونشره، وبحثهم عن مشهوره وغريبه، وتنخيلهم لصحيحه من سقيمه، لضاعت السنن والأثار، ولاختلط الأمر والنهي، وبطل الاستنباط والاعتبار.كمااعتري من لم يعتن بهاواعرض عنها بتزيين الشيطان ذالك له من الخوارج والمعتزلة وضعفة اهل الرای حتي انسل اكثرهم من الدين واتت فتاواهم ومذاهبهم مختلفة القوانين".
(الالماع )
قاضی عیاض نے اس جگہ جہاں سابقہ محدثین اوراعلام اہل حدیث کی تعریف کی ہے وہیں خوارج،معتزلہ،اور کمزوراہل الرای کاردبھی کررہے ہیں۔اس پر"الالماع"کے محقق جناب عبد الغنی صاحب حاشیہ میں تعلیق لگاتے ہوئے اہل الرای کادفاع کیا ہے کہ اس سے احناف مرادنہیں۔وغیرہ وغیرہ۔پھرآگے جاکر احناف کے اصول وفروع کے حوالے سے بات کرنے کے ضمن میں انہیں درست بتا تے ہوئے ابن حجرکوبطورتائیدپیش کیاہے،چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
"ویقول ابن حجرفی "مجمع المؤسس" (3/74) :وكنت قلت لكثير من الحنفية إنى لأود لو كنت على مذهبكم فيقال لماذا فاقول لكون الفروع مبنية على الأصول "
"میں کئی ایک احناف سے کہاکرتاکہ کاش میں تمہارے مذہب پرہوتا!جس پرکہاجاتا کہ کس لیے؟میں کہتااس لیے کہ اس کے فروع اصول پر مبنی ہیں"۔
حالانکہ محقق صاحب نےسیاق وسباق کو کانٹ چھانٹ کرمحض اپنے مقصد والی بات کوبطورمدح پیش کردیاہے،کاش کہ آگے پیچھے ابن حجرکامکمل کلام نقل کرتے تو قارئین پر حقیقت منکشف ہوجاتی کہ موصوف جسے مدح کے طورپرپیش کررہے ہیں وہ دراصل مدح نہیں بلکہ وہ ذم ہے۔لیجئے ابن حجرکامکمل کلام ہم پیش کرکے پھراپناتجزیہ پیش کرتے ہیں۔
امام ابن حجررحمه الله أحمد بن محمد بن إسماعيل بن إبراهيم المعروف بابن البرهان کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:
"ورأيته بعد موته فقلت له: أنت میت؟
قال: نعم. فقلت: ما فعل الله بك؟ فتغير تغيرا شديدا حتى ظننت أنه غاب، ثم أفاق،فقال: نحن الآن بخير، لكن النبي -صلى الله عليه وسلم- عتبان عليك، فقلت: لماذا؟ قال: لميلك إلى الحنفية.
فاستيقظت متعجبا!
وكنت قلت لكثير من الحنفية: إني لأود لو كنت على مذهبكم، فيقال: لماذا؟ قلت: لكون الفروع مبنية على الأصول.
فاستغفرت الله تعالى من ذلك".
"میں نے ابن برھان کے فوت ہونے کے بعد اسے (خواب میں)دیکھا،میں نے اسے کہا:تم تومرے ہوئے ہو؟اس نے اثبات میں جواب دیا۔میں نے کہا:اللہ نے تمہارے ساتھ کیسابرتاؤکیا؟اس پروہ بہت زیادہ متغیرہوگئے،میں نے سمجھا کہ آپ شاید غائب ہوگئے ہیں،لیکن پھرآپ ظاہر ہوئے اور کہاکہ ہم اب بخیریت ہیں،مگر تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیرعتاب ہو ۔میں نے اس کی وجہ پوچھیں توکیا:تم احناف کی طرف مائل ہو۔پھرمیں متعجب ہوکرنیند سے بیدارہوا،اورمیں کئی ایک احناف سے کہاکرتاکہ کاش میں تمہارے مذہب پرہوتا،جس پرکہاجاتاکہ کس لیے؟میں کہتااس لیے کہ اس کے فروع اصول پر مبنی ہیں،اس کے بعد میں نے اس (حنفیہ کی طرف میلان والی سوچ)سے استغفارکیا".
محترم قارئین!یہ ہے ابن حجرکامکمل کلام جسے محقق "الالماع"نے سیاق سباق سے کانٹ چھانٹ کر اپنے لیےبطورتائیدپیش کیا۔حالانکہ ابن حجر نے بیدارہونے کے بعد اپنے سابقہ موقف سے رجوع کرتے ہوئے استغفارکیا کہ ابن البرہان نے انہیں بتایاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے اس رویہ پرناراض ہیں۔لہذایہاں توابن حجرسراسر اس بات کے مخالف ہیں جسے محقق صاحب اپنی تائید میں پیش کررہے ہیں۔
بہرکیف !یہاں ہم نے علمی بحث نہیں کرنی کہ کیا صحیح ہے اورکیاغلط۔ مقصود ہماراصرف اس قدر ہے کہ قائل کامکمل کلام کیوں نہیں نقل کیاگیا۔اب اہل علم طبقہ بھی اس قسم کی خیانتوں کے مرتکب ہونگے توپھرباقی کس پراعتماد رہا!اللہ تعالی رحم فرمائے۔
تحریر : ابوالمحبوب سیدانورشاہ راشدی۔
بسم الله الرحمن الرحيم
(خاموش رہ،تمہاراکوئی استاد نہیں)
------------------------------------------------------
أبو جعفر أحمد بن نصر الداودي الأسدي نامی مغرب میں مالکی ائمہ میں سے اور معروف فی العلم والتالیف تھے،آپ دیگر مؤلفات کے ساتھ ساتھ مؤطا امام مالک المسمی کے شارح بھی تھے۔شرح کانام "القاضي في شرح الموطأ"ہے۔آپ نے یہ سارا علم کسی استاد سے نہیں حاصل کیا،بلکہ خود ہی اپنے آپ کتابیں پڑھ پڑھ کرفقیہ اور مؤلف بنے۔تالیفی مشاغل اورباوجود دین میں تفقہ حاصل کرنے کے آپ پراعتراض ہوتا تھاکہ انہوں نے کسی استاد کے سامنے بیٹھ کرتلقی علم نہیں کیا۔چنانچہ ایک دفعہ آپ نے بنی عبید کے علاقوں میں رہنے والے علماء پر وہاں رہائش رکھنے کے حوالے سے نکیرکی،جس وجہ سے علماء قیروان نے انہیں کہا:أسكت لا شيخ لك"۔"خاموش ہوجاؤ،تمہاراکوئی استاد نہیں".اس واقعہ کوقاضی عیاض یوں بیان کرتے ہیں:"وبلغني أنه كان ينكر على معاصريه من علماء القيروان سكناهم في مملكة بني عبيد، وبقاؤهم بين أظهرهم، وأنه كتب إليهم مرة بذلك. فأجابوه أسكت لا شيخ لك".
قاضی عیاض اس کے بعد بطورتوضیح فرماتے ہیں:"
أي لأن درسه كان وحده، ولم يتفقه في أكثر علمه عند إمام مشهور، وإنما وصل الى ما وصل بإدراكه، ويشيرون أنه لو كان له شيخ يفقهه حقيقة الفقه لعلم أن بقاءهم مع من هناك من عامة المسلمين تثبيت لهم على الإسلام، وبقية صالحة للإيمان، وأنهم لو خرج العلماء عن إفريقية لتشرّق من بقي فيها من العامة الألف والآلاف فرجحوا خير الشرين، والله أعلم"۔
"کہ انہوں (یعنی اںوجعفرداودی)نے غالب طور کسی مشہور اور معروف امام کے ہاں پڑھنے کے بجائے خود ہی(محض کتابوں سے) علم حاصل کیا،اس تنبیہ سے ان علماء کایہ مقصد تھاکہ اگر وہ کسی شیخ اور استاد سے علم حاصل کرتے جو انہیں تفقہ فی الدین کراتے انہیں علم ہوجاتاکہ ان علماء کا(بنی عبید کے علاقوں)میں دیگر عام مسلمانوں کے ساتھ رہنادراصل انہیں دین اسلام پرجمے رہنے اور ثابت قدم رکھنے کے لیےممدومعاون ہوگا،اس طرح ان کے ایمان کی سلامتی ممکن ہے۔ورنہ اگر یہ علماءافریقہ کے ان علاقوں سے ہجرت کرجائیں تو پھرپیچھے باقی رہنے والےہزاروں لوگ شرمیں پڑجائیں گے".(ترتیب المدارک :634)
تحریر :ابوالمحبوب سیدانورشاہ راشدی۔
طبیب العلل اور مراسیل صغار صحابہ
تحقیق :محمد خبیب احمد.
امام العلل وطبیبھا علی بن المدینی (وفات 234ھ) کی دو کتب ہمارے پاس ہیں:
(1)العلل ومعرفۃ الرجال، روایۃ ابن البراء (وفات 291ھ).
(2)تسمیۃ من رُوی عنہ من اولاد العشرۃ وغیرھم من أصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم.(یہ کتاب اور "تسمیۃ الاخوۃ الذین روی عنھم الحدیث لابی داود صاحب السنن" ، ایک جلد میں مطبوع ہے، جس کا نام:" الرواۃ من الاخوۃ والاخوات" رکھا گیا ہے!).
حافظ ابن حجر عسقلانی (852ھ) المستخرج لابی القاسم ابن مندہ عبد الرحمن بن محمد بن اسحاق (وفات 470ھ) سے صحابی کی تعریف میں امام علی بن مدینی رحمہ اللہ کا قول یوں نقل کرتے ہیں :
" جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی مصاحبت اختیار کی یا آپ کا دیدار کیا، اگرچہ لمحہ بھر ہی کیوں نہ ہو =وہ صحابی ہے."
فتح الباری :(ج7ص 5).
ہمارے نزدیک رؤیت کا یہ موقف ان صحابہ کے لیے ہے جو کم از کم سن شعور کو پہنچ چکے تھے، یا انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے اختصاص تھا، کیوں کہ انھوں نے بعض ایسے صحابہ کو بھی تابعین میں شامل کیا ہے جنھیں صغر سنی میں رؤیت کی سعادت حاصل ہوئی، چناں چہ ان کے الفاظ ہیں :
ومن روی عن زید بن ثابت ممن لقیہ من اھل المدینۃ من التابعین :
(1)ابو امامہ بن سہل بن حنیف.
(2)ومحمود بن لبید.
(3)وقبیصۃ بن ذؤیب...
(4)ومروان بن الحکم....
(5)وعبد اللہ بن عامر بن ربیعہ...."
العلل ومعرفۃ الرجال :(75-76فقرہ 71 _روایۃ ابن البراء).
رضی اللہ عنھم.
ان پانچ میں سے تین صحابہ کرام کے تراجم ہم مستقل طور پر بیان کر چکے ہیں. باقی رہ گئے دو :(1)قبیصہ.(2)اور مروان. رضی اللہ عنھما.
سیدنا قبیصۃ الخزاعی رضی اللہ عنہ یکم ہجری کو پیدا ہوے. الاستیعاب لابن عبد البر: (3/336ترجمہ 2124).
حافظ ابن حجر نے انھیں صحابہ کے طبقہ ثانیہ میں ذکر کیا ہے. الاصابۃ :(9/170_173ترجمہ 7304).
گویا وفاتِ نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کے وقت وہ نو، دس سال کے تھے.
مروان بن الحکم رضی اللہ عنہ کی پیدائش سن دو ہجری میں ہوئی.
الاستیعاب :(3/444_446ترجمہ 2399).
گویا وفات نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے وقت آٹھ سال کے تھے. حافظ ابن حجر نے انھیں القسم الثانی میں ذکر کیا ہے.
الاصابۃ :(10/388_391ترجمہ 8355).
دونوں مدنی ہیں، جیسا کہ امام علی بن المدینی نے بھی توضیح کی ہے.یعنی شہر اور عمر کے حساب سے سماع ممکن ہے.
امام ترمذی مروان کے بارے میں فرماتے ہیں انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے سماع نہیں کیا، ان کا شمار تابعین میں ہوتا ہے. ترمذی :(3033).
یعنی مروان امام ابن المدینی اور امام ترمذی کے نزدیک تابعی ہیں.
امام ابن المدینی نے ان صحابہ کے نام بھی ذکر کیے ہیں جن کے بیٹوں کو شرف سماع حاصل ہوا، ان میں سیدنا الحسین بن علی رضی اللہ عنھما بھی شامل ہیں.
الرواۃ من الاخوۃ والاخوات لابن المدینی :(52_53رقم 218).
معلوم شد کہ وفات نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے وقت ان کی عمر پانچ برس تھی. التقریب :(1469).
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ نہایت گہرے تعلق کی وجہ سے انھیں اعزازی طور پر شرف سماع کے حاملین صحابہ کرام میں داخل کیا گیا ہے.