صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم
Aiman Raza Online Quran School
I must strive to reform my self and people of the entire world.
*آج کےدور میں چار رشتےدار* ایک ساتھ تبھی چلتے ہیں جب پانچواں کندھےپر ہوتا ہے!
*ہائےغافل وہ کیا جگہ ہےجہاں*
*پانچ جاتے ہیں چار پھرتےہیں*
*جنتی دروازہ* روزہ داروں کے لیے!
*نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "بے شک جنت میں ایک دروازہ ہے جسے 'رَیَّان' کہا جاتا ہے، قیامت کے دن اس میں سے صرف روزہ دار داخل ہوں گے، ان کے علاوہ کوئی اور داخل نہیں ہوگا۔ کہا جائے گا: 'روزہ دار کہاں ہیں؟' تو وہ اس میں داخل ہو جائیں گے، اور جب وہ داخل ہو جائیں گے تو وہ دروازہ بند کر دیا جائے گا، پھر اس میں سے کوئی داخل نہیں ہوگا۔*
*(صحیح البخاری: 1896)*
لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-یَخْلُقُ مَا یَشَآءُؕ-یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَ(49)اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًاۚ-وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًاؕ-اِنَّهٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ(50)
ترجمہ: کنزالایمان
اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت پیدا کرتا ہے جو چاہے جسے چاہے بیٹیاں عطا فرمائے اور جسے چاہے بیٹے دے یا دونوں ملا دے بیٹے اور بیٹیاں اور جسے چاہے بانجھ کردے بےشک وہ علم و قدرت والا ہے
تفسیر: صراط الجنان
{لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ: آسمانوں اور زمین کی سلطنت اللہ ہی کے لیے ہے۔} یعنی آسمانوں اور زمین کاحقیقی مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے،وہ ان میں جیسا چاہتاہے تَصَرُّف فرماتا ہے اوراس میں کوئی دخل دینے اور اِعتراض کرنے کی مجال نہیں رکھتا۔( روح البیان، الشوری، تحت الآیۃ: ۴۹، ۸ / ۳۴۲، خازن، الشوری، تحت الآیۃ: ۴۹، ۴ / ۱۰۰، ملتقطاً)
اپنی مِلکِیَّت میں موجود چیزوں پر غرور نہ کیا جائے:
امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :یہ بیان فرمانے سے مقصود یہ ہے کہ کوئی انسان اپنی مِلکِیَّت میں موجود مال اور عزت و شہرت کی وجہ سے مغرور نہ ہو ،کیونکہ جب اسے اس بات کا یقین ہو گا کہ ہر چیز کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے اور جو کچھ اس کے ہاتھ میں ہے یہ اس پر اللہ تعالیٰ کا انعام ہے تو اس صورت میں وہ مزید اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی فرمانبرداری کی طرف مائل ہو گا اور جب ا س کا اعتقاد یہ ہو گا کہ ا س کے پاس جو نعمتیں ہیں وہ اس کی عقلمندی اور کوشش کی وجہ سے حاصل ہوئی ہیں تو وہ اپنے نفس پر غرورکرے گا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے دور ہوجائے گا۔(تفسیرکبیر، الشوری، تحت الآیۃ: ۴۹، ۹ / ۶۰۹)
{یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا: جسے چاہے بیٹیاں عطا فرمائے۔} آیت کے اس حصے اور ا س کے بعد والی آیت میں اللہ تعالیٰ نے عالَم میں اپنے تَصَرُّف اور اپنی نعمت کو تقسیم کرنے کی صورتیں بیان فرمائی ہیں ،چنانچہ ارشاد فرمایا کہ وہ جسے چاہے صرف بیٹیاں عطا فرمائے اور بیٹانہ دے اور جسے چاہے صرف بیٹے دے اور بیٹیاں نہ دے اور جسے چاہے بیٹے اور بیٹیاں دونوں ملا کردے اور جسے چاہے بانجھ کردے کہ اس کے ہاں اولاد ہی نہ ہو۔ وہ مالک ہے، اپنی نعمت کو جس طرح چاہے تقسیم کرے اورجسے جو چاہے دے۔ انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں بھی کئی صورتیں پائی جاتی ہیں ، جیسا کہ حضرت لوط اور حضرت شعیب عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ہاں صرف بیٹیاں تھیں ،کوئی بیٹا نہ تھا جبکہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ہاں صرف بیٹے تھے ،کوئی بیٹی نہیں تھی اور انبیاء کے سردار، حبیب ِخدا،محمد مصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اللہ تعالیٰ نے چار (یا تین)فرزند عطا فرمائے اور چار صاحب زادیاں عطا فرمائیں ۔
بیٹے اور بیٹیاں دینے یا نہ دینے کا اختیار اللہ تعالیٰ کے پاس ہے:
ان آیات سے معلوم ہوا کہ کسی کے ہاں صرف بیٹے پیدا کرنے،کسی کے ہاں صرف بیٹیاں پیدا کرنے اور کسی کے ہاں بیٹے اور بیٹیاں دونوں پیدا کرنے کا اختیار اور قدرت صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے،کسی عورت کے بس میں یہ بات نہیں کہ وہ اپنے ہاں بیٹا یا بیٹی جو چاہے پیدا کر لے، اور جب یہ بات روشن دن سے بھی زیادہ واضح ہے تو بیٹی پیدا ہونے پر عورت کو مَشقِ سِتم بنانا،اسے طرح طرح کی اَذِیَّتیں دینا،بات بات پہ طعنوں کے نشتر چبھونا ،آئے دن ذلیل کرتے رہنا،صرف بیٹیاں پیدا ہونے پر اسے منحوس سمجھنا اورطلاق دے دینا،قتل کی دھمکیاں دینا بلکہ بعض اوقات قتل ہی کر ڈالنا ،یہ ا س مجبور اور بے بس کے ساتھ کہاں کا انصاف ہے،افسوس!ہمارے آج کے معاشرے میں مسلمانوں نے اُس طرزِ عمل کو اپنایا ہوا ہے جو دراصل کفار کا طریقہ تھا،جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِالْاُنْثٰى ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌۚ(۵۸) یَتَوَارٰى مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْٓءِ مَا بُشِّرَ بِهٖؕ-اَیُمْسِكُهٗ عَلٰى هُوْنٍ اَمْ یَدُسُّهٗ فِی التُّرَابِؕ-اَلَا سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ‘‘(سورۃ النحل:۵۸،۵۹)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب ان میں کسی کو بیٹی ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہتا ہے اور وہ غصے سے بھراہوتا ہے۔ اس بشارت کی برائی کے سبب لوگوں سے چھپا پھرتا ہے۔ کیا اسے ذلت کے ساتھ رکھے گا یا اسے مٹی میں دبادے گا؟ خبردار! یہ کتنا برا فیصلہ کررہے ہیں ۔
افسوس! اسلام نے عورت کو جس آگ سے نکالا آج کے لوگ اسے پھر سے اسی میں جھونک رہے ہیں ۔ اسلام نے کفار کے چھینے ہوئے جو حق عورت کو واپس دلائے آج کے مسلمان وہی حق چھیننے میں لگے ہوئے ہیں ۔اسلام نے عورت کو ذلت و رسوائی کی چکی سے نکال کر معاشرے میں جو عزت اور مقام عطا کیا ،آج کے مسلمان دوبارہ اسے اسی چکی میں پسنے کے لئے دھکیل رہے ہیں اور شاید انہی بد عملیوں کا نتیجہ ہے کہ آج اسلام کے دشمن عورت کے حقوق کی آڑ میں مسلمانوں کے اسی کردار کو دنیا کے سامنے پیش کر کے دینِ اسلام جیسے امن کے عَلَمْبردار مذہب کو ہی دہشت گرد مذہب ثابت کرنے پر تُلے ہوئے ہیں ۔اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ہدایت عطا فرمائے،اٰمین۔
ُرشد
گاے اور بھینس کا دیسی گھی دستیاب ہے اور شہد بھی اعلیٰ کوالٹی میں دستیاب ہے ابھی رابطہ کریں. 03132426292 03052671456
اللہ پاک نے کس طرح رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اندازِ خیر خواہی کو بیان فرمایا ہے؟ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
(حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ)
ترجمہ: تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے۔
امام فخرُالدّین رازی رحمۃُ اللہِ علیہ آیت کے اِس حصّے کی یوں وضاحت فرماتے ہیں: یعنی وہ دنیا و آخرت میں تمہیں بھلائیاں پہنچانے پر حریص ہیں۔
حکیمُ الامّت مفتی احمدیارخان نعیمی رحمۃُ اللہِ علیہ لکھتے ہیں: (حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ )کامعنیٰ یہ ہیں کہ کوئی تو اولاد کے آرام کا حریص ہوتا ہے کوئی مال کا، کوئی عزت کا،کوئی پیسے کا، کوئی کسی اور چیز کا مگر محبوب علیہ السّلام نہ اولاد کے، نہ اپنے آرام کے، (بلکہ)تمہارے حریص ہیں اسی لئے ولادتِ پاک کے موقع پر ہم کو یاد کیا، معراج میں ہماری فکر رکھی،بروقتِ وفات ہم کو یاد فرمایا، قبر میں جب رکھا گیا تو عبد اللہ بن عباس نے دیکھا کہ لب ِ پاک ہل رہے ہیں غور سے سنا تو امّت کی شفاعت ہورہی ہے،رات رات بھر جاگ کر اُمت کے لئے رو رو کر دعائیں کرتے ہیں کہ خدایا!اگر تو اُن کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر ان کو بخش دے تَو تُوعزیز اور حکیم ہے۔ قیامت میں سب کو اپنی اپنی جان کی فکر ہوگی مگر محبوب علیہ السّلام کو جہان کی۔ سب نبی نفسی نفسی فرمائیں گے اور محبوب علیہ السّلام امّتی امّتی۔
ماہنامہ فیضان مدینہ
ربیع الاول 1446 ھ | ستمبر 2024 ء
17/08/2024
*میری زندگی کا مقصد ہو اے کاش عشقِ احمدﷺ 💙*
مُجھے موت بھی جو آئے اِسی جُستُجو میں آئے
*صلى اللہ علیہ وآلہ وسلم💙*
15/08/2024
…............._آج اشک میرے نعت سنائیں تو عجب کیا😭💔_
_سن کر وہ مجھے پاس بلائیں تو عجب کیا😭🤲🏻_
👈 *ہر کام ویسے ہی ہو گا جیسے اللّٰہ رب العزت چاہتا ہے* 👉
کہتے ہیں ایک ماں بیٹے میں مناظرہ چل رہا تھا۔ ماں کا موقف تھا کہ اللہ کھلاتا ہے تو ہم کھاتے ہیں۔ بیٹے کا کہنا تھا ہم کھاتے ہیں، اگر ہم نہ کھانا چاہیں تو اللہ پاک کیسے کھلا سکتے ہیں۔ اس مناظرے کے دوران ماں نے بیٹے کے آگے کھانا رکھدیا تو بیٹے نے کہا، چلیں میں یہ آج رات والا کھانا نہیں کھا رہا، اللہ پاک اب کسے کھلاٸیں گے؟
ماں بیٹے کے پیچھے پڑ گئی کہ پاگل نہ بن کھانا کھا لے اور بیٹے نے ضد پکڑ لی کہ میں نے نہیں کھانا اللہ پاک اب کیسے کھلاتے ہیں ۔ ماں بیٹے کو بھوکا کہاں دیکھ پاتی ہے، اس نے اصرار شروع کیا تو بیٹا گھر سے نکال کر گاؤں کے قبرستان میں جا کے سو گیا۔ ماں نے ایک زبردست قسم کا خوشبودار حلوہ بنایا اور جا کر بیٹے سے کچھ فاصلے پر ایک قبر پر اس خیال سے رکھ آئی کہ رات کو بھوک سے جاگ گیا تو کوئی دیکھنے والا نہ ہوگا اور یہ کھا لیگا۔
رات کے آخری پہر قبرستان میں ڈاکو آگئے جو اس اس گاؤں کو لوٹنے کی غرض سے پہنچے تھے۔ وہ قبرستان میں رک کر سردار سے آخری ہدایات لے رہے تھے کہ حلوے کی مہک نے سردار کو متوجہ کر لیا۔ قبرستان کی تلاشی لی گئی تو حلوہ اور وہ لڑکا دونوں برآمد ہوئے۔
سردار نے حلوہ کھانا چاہا توایک نے کہا، سردار ! مجھے لگتا ہے اس حلوے میں زہر ملا کر رکھا گیا تھا تاکہ ہم کھا کر مر جائیں اور یہ لڑکا جاسوسی کے لئے موجود تھا کہ ہمارے انجام کی خبر جا کر گاؤں والوں کو دے سکے۔ سردار نے اس کی عقلمندی کی داد دی اور لڑکے سے کہا چل بچے حلوہ کھا ! لڑکا تو ضد کئے بیٹھا تھا کہ آج رات کچھ نہیں کھائیگا، اس نے سختی سے انکار کیا تو سردار کا شک یقین میں بدل گیا اور اس نے گن تان لی۔ لڑکے نے سر پر منڈلاتی موت دیکھی تو پوری پلیٹ چٹ کر گیا۔ ڈاکو کچھ دیر تک اسکے مرنے کا انتظار کرتے رہے لیکن وہ نہ مرا۔
ایک بار پھر اسی نے ہی گتھی سلجھائی اور کہا، سردار ! سلو پوائزن لگتا ہے۔ کنفیوز ڈاکو لڑکے کو قبرستان میں چھوڑ کر لوٹ گئے۔ فجر کی آذان کے ساتھ لڑکا خالی پلیٹ ہاتھ میں لئے منہ لٹکائے گھر میں داخل ہوا تو ماں نے پو چھا، بیٹا کیا ہوا ؟ لڑکا بولا۔ ماں لمبا قصہ ہے، مجھے نیند آرہی ہے، بس خلاصہ یہ ہے کہ ہم نہ بھی کھانا چاہیں تو اللہ پاک کھلا دیتے ہیں.....
*طالب دعا ریاض احمد مدنی *
غسلِ جمعہ کی ابتداء کیسے ہوئی؟
حضرت سیدنا عکرمہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ کچھ عراقی لوگ آئے اور بولے : اے ابن عباس! کیا آپ جمعہ کے دن کا غُسْل واجب سمجھتے ہیں؟ فرمایا : نہیں،لیکن یہ بہت پاکی ہے اورغسل کرنے والے کے لئے اچھا ہے اور جوغسل نہ کرے اس پر ضروری نہیں،میں تمہیں بتاتا ہوں کہ غسل شروع کیسے ہوا!لوگ مشقت میں تھے کہ اُون پہنتے اور اپنی پیٹھ پرمزدوریاں کرتے تھے ان کی مسجد تنگ تھی جس کی چھت نیچے تھی جو صرف چھپر(خس پوش)تھی ،حضورِ انورصلی اللّٰہ علیہ وسلم ایک گرم دن میں تشریف لائے اور لوگ اسی اُون میں پسینہ پسینہ تھے کہ ان سے بُو پھیل گئی جس کی
وجہ سے بعض نے بعض سے تکلیف پائی تو جب رسول ُاللّٰہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے یہ بو پائی تو فرمایا ا:ے لوگو !جب یہ دن ہوا کرے تونہالیاکرو،اور چاہئے کہ ہرایک اپنا بہترین تیل و خوشبو مل لیا کرے۔حضرت سیدنا عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہمانے فرمایا : پھراللّٰہ پاک نے مال عطا فرمایااورلوگوں نے اُون کے علاوہ دیگر اچھے لباس پہنے اور کام کاج سے چھوٹ گئے ،ان کی مسجد فراخ ہوگئی اور پسینہ سے جو بعض کو بعض سے تکلیف پہنچتی تھی وہ جاتی رہی۔
(ابوداؤد،کتاب الطہارۃ،باب فی الرخصۃ ۔۔۔الخ، ۱/۱۶۰،حدیث:۳۵۳)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے حصے’’ ہرایک اپنا بہترین تیل و خوشبو مل لیا کرے ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں : تیل سروجسم میں اورخوشبوکپڑوں میں۔اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے مجمعوں میں اچھے کپڑے پہن کر جانا چاہئے،شادی،عُرس،تبلیغ کے جلسے سب میں اس بات کا خیال رکھا جائے۔مجلسوں میں ہار پھول ڈالنے کی اصل یہ حدیث ہے۔
(مراٰۃ المناجیح،۱/۳۴۸)
_فَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ وَاسۡتَغۡفِرۡهُ ؔؕ اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا)))🌏🖇️🫀_
_تو اپنے رب کی ثناء کرتے ہوئے اس کی پاکی بولو اور اس سے بخشش چاہو بیشک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے)))🌏🖇️🫀_
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Karachi