al Saud online Quran and Arabic accedmy

al Saud online Quran and Arabic accedmy

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from al Saud online Quran and Arabic accedmy, Tutor/Teacher, Karachi.

13/11/2025

آپ کا غصہ کچھ کم ہوا ہو تو ایک منٹ کے لیے شانت ہوجائیے، تھوڑی دیر کو جامعۃ الرشید کی پالیسیوں کا تسلسل دیکھئے، کچھ ہمیں سمجھنے کی کوشش کیجئے۔ ہم آپ سے کچھ الگ سوچتے ہیں۔ جامعۃ الرشید کی پہلی پالیسی ہے کہ ہم ریاست کے حریف نہیں، حلیف ہیں۔ ہم ریاستی اداروں کے دشمن نہیں، دوست بن کر کام کریں گے۔ اس لیے یہ تو سوال پیدا ہی نہیں ہوتا کہ ہم سڑکوں پر نکلنے، پہیہ جام کردینے، اسلام آباد سیل کردینے جیسے کسی اقدام کی حمایت کریں۔ پتہ ہے اس پالیسی کی بنیاد قیام پاکستان سے لے کر اب تک کی تاریخ ہے۔ اس تاریخ کے مطالعہ سے ہمارے اکابر سمجھتے ہیں کہ پورا ملک ریاست کا دشمن ہے، ہر شخص روز اٹھتا ہے اور ملک کو کسی نئے بحران سے دوچار کرتا ہے، ہر جماعت کا ایجنڈا جلسے جلوس، مظاہرے اور ہڑتالیں ہے۔ اس کے نتیجے میں ریاست اتنی کمزور ہوچکی ہے کہ سقوط بغداد، سقوط دہلی، سقوط اندلس اور سقوط خلافت عثمانیہ کے بعد پانچویں سقوط کے دہانے پر کھڑی ہے۔ یہ سقوط پہلے تمام سقوط سے بڑا ہمہ جہت، ہمہ گیر اور قیامت خیز ہوگا۔
اب دوسری بات سمجھیے کہ جامعۃ الرشید کی آئیڈیل چار تحریکیں ہیں، ہم انہی کو پچھلے 20 سال سے پڑھتے، پڑھاتے، سنتے، سناتے اور آئیڈیلائز کرتے آئے ہیں۔ تحریک مجدد الف ثانی، تحریک شاہ ولی اللہ، تحریک شیخ الہند، تحریک پاکستان۔ یہ چاروں تحریکیں چلی تھیں، تو ان کے چلانے والوں کے خلاف اپنوں نے بہت کچھ لکھا، الزام و دشنام اور تہمتوں کا ایک دفتر لکھا گیا۔ لیکن وقت نے ثابت کیا کہ یہ چاروں تحریکیں چلانے والے اپنے وقت کے مجدد تھے۔ مجدد الف ثانی نے اس اکبر کی ریاست کے حلیف بننے کا فیصلہ کیا جس نے انہی کو قید کرڈالا، جس اکبر نے اپنا کلمہ ایجاد کیا، نماز، روزہ، حج، زکوۃ کو منسوخ کردیا۔ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ پر دہلی کی جامع مسجد میں حملہ کرنے والوں کی تاریخ پڑھ لیجئے۔ حضرت شیخ الہند کے خلاف کیا کیا کچھ نہیں بولا گیا، حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے قائد اعظم کی کیسے رہنمائی کی۔ آپ ان سب سے متفق نہیں تو آپ جامعۃ الرشید کو بھی نہیں سمجھ سکتے۔
اب تیسری بات سمجھیے جب کوئی حکمران بن جاتا ہے، چاہے وہ دھاندلی سے ہی بنے تو اس کو شریعت کی طرف سے کئی حقوق مل جاتے ہیں، اس کی سمع طاعت لازم ہوجاتی ہے، اس کا ادب و احترام ضروری ہوجاتا ہے، اس کی خیر خواہی ضروری ہوتی ہے، اس کے لیے دعا کرنا اور بددعا نہ کرنا لازم ہوجاتا ہے۔ وہ زرداری صاحب کی حکومت ہو، نواز شریف صاحب، عمران خان صاحب یا شہباز شریف صاحب کی۔ آپ ان سب کی حمایت اس وقت کرنا ضروری سمجھتے ہیں جب آپ بھی ان کے اتحادی ہوں، مگر ہم شرعی دلائل کی روشنی میں سمجھتے ہیں کہ آپ حکومت کا حصہ ہوں یا نہ ہوں، آپ حکمران کو گالیاں نہیں دے سکتے۔ (دیکھئے، اسلام اور سیاسی نظریات، ریاست، بغاوت اور شریعت)
کیا اب تک آپ یہ نہیں سمجھ گئے کہ ہم کسی تحریک، احتجاج، حکومتوں کے خلاف پریس کانفرنس کا حصہ کیوں نہیں بنتے؟؟؟ آپ ہم پر جو چاہے الزام لگائیں، لیکن آپ جب حکومت سے لڑنے کے لیے نکلیں گے تو ہمیں اپنے ساتھ نہیں پائیں گے۔ اچھا! آپ کی تان پیسے پر ہی کیوں ٹوٹتی ہے؟ کیا آپ کو پتہ ہے پاکستان کے فقیر ترین مہتمم کون سے ہیں؟ آپ کو معلوم بھی ہے کہ مفتی عبدالرحیم صاحب نے اتنے بڑے نظام کو قائم کیا ہے، مگر ان کا ذاتی ایک پلاٹ، ایک انچ زمین بھی نہیں۔ اساتذہ میں پلاٹس تقسیم کرنے والے کی ذاتی کوئی جاگیر نہیں۔ مزید بات نہیں کرتا کہ اس کی تفصیلات بہت طویل ہیں۔
اب تیسری بات سمجھیے ہم اپنے مدارس کو کسی بھی سیاسی جنگ کا حصہ نہیں بنانا چاہتے، نہ اپنے طلبہ کو جلسہ و جلوس کے لیے نکالنے والے ہیں۔ ہمارا مقصد مدارس کے نظام میں ایسی اصلاحات ہیں، جن کے بعد مدرسہ کا طالب علم ریاستی عہدوں پر پہنچے۔ وہ خود فیصلہ سازوں کا حصہ بنے۔ اس ملک کی بیوروکریسی کا حصہ بنے۔ اس ملک کی لیڈر شپ کا حصہ بنے۔ انتظامیہ، عدلیہ، مقننہ تک پہنچے۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ یہ منزل احتجاجی سیاست سے حاصل ہوگی؟ ریاست کو حریف و دشمن سمجھ کرحاصل ہوگی؟ جلسے، جلوس، مظاہرے، دھرنے سے؟ نہیں! ہرگز نہیں!
اس سے آپ سمجھ جائیں کہ ہم جمعیت علمائے اسلام کی احتجاجی کال کا حصہ کیوں نہیں بنتے؟ آپ کا رستہ احتجاج کا ہے، ہمارا رستہ لابنگ کا ہے۔ آپ مظاہروں پر یقین رکھتے ہیں، ہم ڈائیلاگ پر۔ آپ طاقت اور زور بازو دکھانا چاہتے ہیں، ہم مفاہمت کا راستہ اپنا رہے ہیں۔ ایسا ہوا ہے اور آئندہ بھی ہوتا رہے گا۔ لیکن جب بھی ایسا ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم جمعیت یا کسی سیاسی جماعت کی دشمنی یا حمایت میں یہ کررہے ہیں۔ بلکہ ہم نے اپنے ادارے کو سیاسی وابستگی سے بالاتر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہر سیاسی جماعت کا طالب علم یہاں آکر پڑھ سکتا ہے۔
لیکن اس سب کے باوجود ہم ان لوگوں کی دل سے قدر کرتے ہیں جو احتجاجی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔ ان سب لوگوں کی نیتوں پر ذرہ برابر شک نہیں کرتے جو ہم سے مختلف سوچتے ہیں۔ ان بزرگوں کی دل سے قدر کرتے ہیں جو دین کا نام لے رہے ہیں یا دین کے تحفظ کے لیے سوچتے اور کوشش کرتے ہیں۔ وہ ہمارے بزرگ تھے، ہیں اور رہیں گے۔ ہم ان کے احترام میں ذرہ برابر بھی کمی نہیں آنے دیتے۔ کہ علمائے کرام سے یہی محبت تو
ہمارا اثاثہ ہے۔

عبدالمنعم فائز

18/10/2025
16/10/2025

Anyone need TikTok UK account just contact on WhatsApp 03149760580 and earn money

16/10/2025

Capcut pro prompt tu video direct WhatsApp no 03149760580

16/10/2025

Capcut pro agar koi Chahta he jis me prompt se video direct banate he or TikTok YouTube par upload karki pesy k**a sakte he only 500 WhatsApp no 03149760580
So come quickly and start working

10/10/2025

Dgispr shuda ka zikr karte waqt abdeda hogye Salam to pak foj zindiabad

05/10/2025

الله اس كو ایمان کی دولت سے نوازے آمین

05/10/2025

Senator mustaq Ahmed flotila

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

Karachi
70340