17/04/2026
بیتے دنوں کی تصویر جب آنکھوں میں اترتی ہے تو دل ایک انجانی سی مسکراہٹ سے بھر جاتا ہے۔ ہر بستی، ہر گاؤں میں کوئی نہ کوئی ایسا مقام ضرور ہوتا ہے جہاں وقت تھم سا جاتا ہے—جہاں بچپن کی ہنسی، شرارتیں اور معصوم لمحے ہمیشہ کے لیے بس جاتے ہیں۔
یہی وہ جگہ ہوتی ہے جہاں وقت ایک عجیب سا انصاف کرتا ہے؛ وہ باپ اور بیٹے کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھتا۔ جو کل باپ کا بچپن تھا، آج وہی بیٹے کی حقیقت ہے، اور کل یہی سب ایک جیسی یاد بن کر دلوں میں بس جائے گا۔
ہمارے گاؤں میں بھی ایک ایسی ہی آبشار ہے—سادہ مگر یادوں سے بھرپور۔ جب بارش برستی ہے تو گاؤں کے بچوں کے قدم بے اختیار اسی طرف اٹھ جاتے ہیں۔ آبشار کا پانی جب نیچے تالاب میں گرتا ہے تو اس کی چھپاک اور ٹھنڈک میں نہانے کا لطف کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ وہ لمحے، وہ قہقہے، وہ پانی کی بوندیں—سب مل کر ایک ایسی دنیا بنا دیتے ہیں جو وقت گزرنے کے بعد بھی دل سے کبھی نہیں مٹتی