Aafia Montessori School

Aafia Montessori School

Share

Love of learning starts here.

25/05/2026

میری ذاتی نکتہ نظر تو احکامات اسلامی کو محض تسلیم کرنے کا ہے ، ان میں فلسفے کشید کرنا اضافی کام سمجھتا ہوں جو کیا جائے تو کوئی حرج نہیں ۔۔۔۔۔ لیکن :
اصل یہی ہے کہ شدت کی اس گرمی میں ، تپتی دپہروں میں ، سنگلاخ پہاڑوں کے بیچ ، صرف اپنے ربّ عظیم کے حکم کی بجا آوری میں چلے جا رہے ہیں ، اور مطلوب صرف اس رب کی رضا ہے ۔۔۔۔۔ دعا کیجیے کہ اگلے برس ہم سب بھی اس جگہ ہوں ۔۔
محترم ابوبکر قدوسی صاحب

25/05/2026

واجب الاحترام ۔۔۔ مہینہ

25/05/2026

کل بروز منگل 26 مئی کی فجر سے آغاز ہے۔ہر مرد اور خاتون کے لیے ہر فرض نماز سے فارغ ہونے کے بعد ایک دفعہ اونچی آواز سے پڑھنا واجب ہے۔ خواتین اپنی جائے نماز کے ساتھ چھوٹا سا کاغذ اٹیچ کر لیں جس کو دیکھ کر ان کو یاد آجائے گا کہ تکبیر پڑھنی ہے۔

25/05/2026

دنیا کی سب سے بڑی عارضی حیمہ بستی۔۔۔

25/05/2026

ہم نے مانا کہ ثغافل نہ کرو گے تم لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔
#عیدسعید #غزہ #امہ

25/05/2026

عید الاضحی کے موقع پر، قربانی دینے کا بہترین عمل ۔۔۔
اس سے بڑھ کوئی عمل نہیں ان ایام میں ۔۔۔۔
#عیدسعید

25/05/2026

عید الاضحی کے موقع پر خوشیوں کی رفاقت اور رحمتوں کا نزول مبارک ہو۔۔۔

20/05/2026

فرعونوں کی تاریخ پڑھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اپنے وقت میں ان کے پاس کتنی طاقت تھی۔
وہ کوئی عام بادشاہ نہیں تھے، بلکہ اپنے دور کے “خدا” سمجھے جاتے تھے۔ ان کی باقاعدہ پرستش ہوتی تھی۔
ان کے غلاموں کے ساتھ انسانوں جیسا سلوک تو دور کی بات، جانوروں جیسا بھی نہیں ہوتا تھا۔
ان کا کھانا بھی ایک خاص نظام کے تحت تیار ہوتا تھا۔ شاہی باورچی اور پجاری اسے مخصوص طریقے سے بناتے تھے۔ پھر کھانے کو چکھا جاتا، اس کی نگرانی ہوتی، اور سخت پروٹوکول کے بعد فرعون تک پہنچایا جاتا۔
زیادہ تر وہ اپنے ہاتھ سے کھانا نہیں کھاتے تھے، کیونکہ انہیں خدا سمجھا جاتا تھا ۔ اس لیے کھانا کھلانے سے لے کر ان کے ہاتھ اور منہ صاف کرنے تک سب کام غلام کرتے تھے (واش روم کے بارے میں پتہ نہیں کیا صورتحال تھی 😜)
صرف یہی نہیں
کھانے کے دوران اگر کوئی مکھیاں یا کیڑے مکوڑے ان کی طرف آنے کا خدشہ ہوتا، تو بعض روایات کے مطابق غلاموں کے جسم پر شہد لگا کر انہیں پاس کھڑا کر دیا جاتا تاکہ مکھیاں ان کی طرف جائیں۔
اسی طرح جب ان جھوٹے خداؤں کے سونے کا وقت ہوتا تو بھی غلاموں کے جسموں پہ شہد لگا کے ساری رات ان کے پاس کھڑا کیا جاتا تاکہ کیڑے مکوڑے فرعون کی طرف نہ جائے
اور غلاموں کو اپنی جگہ سے ایک انچ ہلنے کی بھی اجازت نہیں ہوتی تھی اگر وہ ہلتے تو ان کو سخت ترین سزائیں دی جاتی مطلب وہ اپنا جسم کھجا بھی نہیں سکتے تھے جب ان کے اوپر مکھیاں بیٹھتی
خود کو ہمیشہ زندہ رکھنے کے لیے وہ اپنی زندگی میں ہی “ہمیشہ کی زندگی” کی تیاری شروع کر دیتے تھے۔ جب کوئی فرعون یا اس کا قریبی مر جاتا تو ان کے جسم کو ممی بنا کر محفوظ کیا جاتا، کیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ روح دوبارہ جسم میں واپس آتی ہے، اور اگر جسم ضائع ہو جائے تو ہمیشہ کی زندگی ختم ہو جاتی ہے۔
کچھ فرعون کے مرنے پر اس کے ساتھ ان کے خاص خادموں کو بھی دفن کر دیا جاتا تاکہ وہ اگلی زندگی میں بھی اس کی خدمت کریں۔ ساتھ ہی سونا، زیورات، کھانا اور ہر قسم کی آسائش کا سامان بھی دفن کیا جاتا تھا۔
فرعونوں کو کیونکہ سورج کا بیٹا سمجھا جاتا ہے اس لیے وہ باقی لوگوں کے لیے مقدس ترین ہستیاں تھیں اور اپنی جھوٹی خدائی اور بادشاہت کو قائم رکھنے کے لیے فرعون صرف خاندان میں ہی شادیاں کرتے تھے تاکہ ان کا خون پاک رہے اور اس میں کسی قسم کی ملاوٹ نہ ہو یہاں تک جب خاندان میں کوئی اور لڑکی نہ ہوتی تو پھر انہوں نے اپنی بہنوں سے شادیاں کی اس کا نتیجہ اہستہ یہ ہوا بہت ساری جنیاتی بیماریوں نے جنم لینا شروع کر دیا

ایک مشہور فرعون توتنخامن جو کہ جسمانی معذوری کے ساتھ پیدا ہوا تھا کیونکہ اس کے ماں باپ بہن بھائی تھے ۔
یہ فرعون 9 سال کی عمر میں بادشاہ بنا اور 19 سال کی عمر میں دنیا سے دنیا سے رخصت ہو گیا
جب اس کا اہرام دریافت ہوا تو تو وہ اج تک دریافت ہونے والے سب فرعونوں کے مقبروں سے زیادہ خزانہ تھا اس میں
اس فرعون کی شہرت کی وجہ بھی اس کی بادشاہت نہیں بلکہ اس کے مقبرے کی حالت تھی جب کثیر قسم کے سونے کی اور قیمتی ایشیاء اس کے مقبرے سے برامد ہوئی جو دنیا کو حیران کرنے کے لیے کافی تھی
اور اس کے ساتھ ڈھیر ساری لاٹھیاں بھی کیونکہ وہ معذور تھا تو لاٹھیوں کے ساتھ اس کے دفن کیا گیا کہ مرنے کے بعد بھی اس کو اس کی ضرورت پڑے گی
فرعونوں کے جانوروں کو بھی ان کی رعایا سے زیادہ پروٹوکول ملتا تھا جانوروں کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ بلیوں کے لیے خاص کھانا، ان کی حفاظت، اور مرنے کے بعد ان کے لیے مقبرے تک بنائے جاتے تھے ان کو سونے کے تابوتوں میں دفن کیا جاتا ۔۔

یہ تھے وہ لوگ…
جو اپنے وقت کے خدا بنے بیٹھے تھے، طاقت کے نشے میں گم۔
جن کی اجازت کے بغیر کوئی انہیں چھو بھی نہیں سکتا تھا یہاں تک کہ ان کی رعایا میں سے کسی کو اجازت نہیں تھی کہ نظریں اٹھا کے ان کی طرف دیکھ لے لیکن اج ان ہی کی لاشوں پہ مختلف تجربات ہو رہے ہیں ان کی مرضی کے بغیر کبھی ایک جگہ سے دوسری جگہ ان کو شفٹ کیا جاتا ہے اور اب وہ ایک ملک کی قدیم تاریخ کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔۔۔

کیونکہ ہمیشہ رہنے والی ذات اور بادشاہت صرف اور صرف اللہ کی ہے ۔۔
اسی طرح اج سے 100 سال بعد تک اس روئے زمین پر موجود ہر ذی روح فنا ہو جائے گی چاہے کوئی نیک ہے یا بد زمانے کا ولی ہے یا وقت کا فرعون سب مٹ جائیں گے
دنیا کی طاقت دولت ہر چیز کو زوال ہے
باقی رہنے والا کوئی ہے تو وہ میرا رب

كُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍﭕ(26) وَّ یَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِۚ

زمین پر جتنی مخلوق ہے سب فنا ہونے والی ہے۔ اور تمہارے رب کی عظمت اور بزرگی والی ذات باقی رہے گی۔
#مـــــــاریــــᷧـــᷜـــᷧـــᷦــــہ @

20/05/2026

مسکرائیں۔۔۔۔۔

18/05/2026

چار چیزوں کی قسم کھا کر اللہ سبحان و تعالی نے فرمایا ہے کہ اس نے انسان کو حسین تخلیق کیا۔

کسی کے بارے میں یاد دلانا ہو تو ہماری گفتگو کچھ اس قسم کی ہوتی ہے.
کونسی؟
وہ چھوٹے سے قد کی؟
بڑے سے منہ والی؟
جو یوں چلتی تھی؟ (نقل اتار کر دکھائی جاتی ہے)
کونسا؟
وہ گنجا؟
موٹی گردن والا؟
وہ جو خود اتنا "کوجا" ہے اور بیوی اسے اتنی پیاری مل گئی ہے؟

ہم سورہ تین کی ابتدائی آیات پڑھیں تو واضح ہوتا ہے کہ چار چیزوں کی قسم کھا کر اللہ سبحان و تعالی نے فرمایا ہے کہ اس نے انسان کو حسین تخلیق کیا۔

قسم ہے انجیر
اور زیتون کی
اور طورِ سینا کی
اور امن والے اس شہر کی
بیشک ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا۔

کتنے آرام سے ہم اللہ کی تخلیق کا مذاق اڑا لیتے ہیں اور محسوس بھی نہیں کرتے۔ کسی کو لمبا ہونے پر باتیں سننی پڑتی ہیں، کسی کو چھوٹا ہونے پر، کسی کا رنگ کالا، کسی کی ناک موٹی، کسی کو چہرے پر دانے نکل آئیں تو پوچھ پوچھ کر اسکی مت مار دیتے ہیں، بالوں پر تبصرے، ہونٹوں پر باتیں۔۔

حالانکہ انسان کا ان میں سے کسی پر بھی اختیار نہیں۔ یقیناً حسین چہرا سبھی کو اچھا لگتا ہے لیکن وہ حسن بھی رب نے ہی دیا تو تعریف اسی کی، اور اگر کسی کے چہرے مہرے کا مذاق آپ اڑا رہے ہیں تو کس ذات کا مذاق اڑانے کے مرتکب ہو رہے ہیں، یہ جاننا زیادہ مشکل نہیں۔ وہ رب جو ایک کے بعد دوسری، تسیری اور پھر چوتھی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ اس نے انسان کو احسن تقویم (بہترین ساخت) پر بنایا ہے لیکن ہمیں دوسروں کا مذق اڑاتے وقت یہ یاد ہی کب رہتا ہے؟!

یہاں ایک بات اور قابلِ ذکر ہے کہ ہم اگر ایک دوسرے کی شکل کا مذاق نہ بھی اڑاتے ہوں تو بھی مختلف جغرافیائی علاقوں میں رہنے والوں کے لئے ہم بغیر سوچے سمجھے ایسے الفاظ ادا کر دیتے ہیں۔ چائنیز لوگوں کا ذکر ہو تو ممکن نہیں کہ انکے قد اور ناک کا، انکی آنکھوں کا ذکر نہ کریں۔ عموماً پھینی/چپٹی ناک والے کہہ کر انکی طرف refer کیا جاتا ہے۔ اسی طرح افریقن لوگوں کے گھنگریالے بال، چوڑی جسامت، اور بھرے ہونٹوں کو بھی حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ حالانکہ انکو تخلیق کرنے والا بھی وہی مصور ہے جس نے ہمیں خوبصورت بنایا۔

اللَّهُمَّ أَنْتَ حَسَّنْتَ خَلْقِي فَحَسِّنْ خُلُقِي
اے اللہ! جس طرح تو نے ہمیں (باہر) خوبصورت بنایا ہے، ہمارا (اندر) کردار بھی خوبصورت بنا دے۔

روزویلٹ کا ایک بڑا مشہور قول یاد آ رہا ہے:
"Great minds discuss ideas; average minds discuss events; small minds discuss people."

اسکی روشنی میں اپنی گفتگو اور اپنے آپ کو پرکھنے سے ہم بڑی آسانی سے اندازہ لگا لیں گے کہ ہمارا شمار کس کیٹیگری میں ہوتا ہے۔

تحریر نیر تاباں

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

Frontier Colony # 3 Near Attock Pertol Pump Metroville SITE Karachi
Karachi
35800