كَلِمَةُ حَقٍّ

  • Home
  • كَلِمَةُ حَقٍّ

كَلِمَةُ حَقٍّ Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from كَلِمَةُ حَقٍّ, Educational Research Center, Karachi, .

25/07/2026

⚔️🌹مکتوب مجاھد🌹🏹
جب ہم غ ز ہ پر ہونے والے ص ی ہ و ن ی مظالم اور بالعموم امت مسلمہ اور بالخصوص مسلم حکمرانوں اور مسلم افواج کی بے حسی کو دیکھتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشین گوئی حرف بہ حرف اور من و عن سچ ثابت ہو رہی ہے اور امت مسلمہ وھن کا شکار ہو چکی ہے۔
عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُوشِكُ الْأُمَمُ أَنْ تَدَاعَى عَلَيْكُمْ كَمَا تَدَاعَى الْأَكَلَةُ إِلَى قَصْعَتِهَا ". فَقَالَ قَائِلٌ : وَمِنْ قِلَّةٍ نَحْنُ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : " بَلْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ، وَلَكِنَّكُمْ غُثَاءٌ كَغُثَاءِ السَّيْلِ، وَلَيَنْزِعَنَّ اللَّهُ مِنْ صُدُورِ عَدُوِّكُمُ الْمَهَابَةَ مِنْكُمْ، وَلَيَقْذِفَنَّ اللَّهُ فِي قُلُوبِكُمُ الْوَهْنَ ". فَقَالَ قَائِلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْوَهْنُ ؟ قَالَ : " حُبُّ الدُّنْيَا وَكَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ ".(رواه ابوداوود ٤٢٩٧)
اور وھن کا شکار ہوتے ہوئے اس امت سے اور اس امت کی افواج سے یہ توقع کرنا عبث ہے کہ یہ اہل غ ز ہ پر ظلم ڈھانے والوں سے لڑے گی ۔اس لیے اولا تو پوری امت مسلمہ سے یہ درخواست ہے کہ یہ پوری امت مسلمہ کے لیے دعا کرے کہ اللہ جل شانہ اسے وھن سے نجات عطا فرمائے اور ثانیا اگر امت مسلمہ میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو وھن کی بیماری سے محفوظ ہیں تو انہیں آگے آنا ہو گا اور پوری دنیا کی مخالفت کے باوجود لایخافون لومۃ لائم کا مصداق بن کر انہیں میدان میں اترنا ہو گا اور قربانی دینے کے لیے آمادہ ہونا ہو گا تب جا کر یہ امت ظالموں سے لڑنے اور ظلم کا راستہ روکنے کے قابل ہو سکے گی ورنہ
ایں خیال است و محال است و جنوں
زور بازو آزما شکوہ نہ کر صیاد سے
آج تک کوئی قفس ٹوٹا نہیں فریاد سے

Motivational speaker

22/07/2026

عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ : أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " كَلِمَةُ حَقٍّ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ ".
(مسند احمد ١٨٨٣٠)

12/05/2026
10/02/2025

سنن نسائی
کتاب: بیعت سے متعلق احادیث مبارکہ
باب: جو شخص ظالم حکمران کے سامنے حق بات کہے اس کی فضیلت
حدیث نمبر: 4214

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ، ‏‏‏‏‏‏أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَلِمَةُ حَقٍّ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ.

ترجمہ:
طارق بن شہاب ؓ ١ ؎ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا اور وہ یا آپ اپنا پیر رکاب میں رکھے ہوئے تھے، کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ظالم حکمراں کے پاس حق اور سچ کہنا ۔
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٤٩٨٣)، مسند احمد (٤/٣١٤، ٣١٥) (صحیح )
وضاحت: ١ ؎: طارق بن شہاب ؓ کو نبی اکرم ﷺ کو دیکھنے کا شرف تو حاصل ہے مگر آپ سے خود کوئی حدیث نہیں سنی تھی، آپ کی روایت کسی اور صحابی کے واسطہ سے ہوتی ہے، اور اس صحابی کا نام نہ معلوم ہونے سے حدیث کی صحت میں فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ سارے صحابہ کرام ثقہ ہیں اور سند سے معلوم ثقہ، بالخصوص صحابی کا ساقط ہونا حدیث کی صحت میں موثر نہیں، اس لیے کہ سارے صحابہ ثقہ اور عدول ہیں، اس طرح کی حدیث جس میں حدیث نقل کرنے میں صحابی واسطہ صحابی کا ذکر کئے بغیر حدیث کی نسبت رسول اللہ ﷺ کی طرف کر دے، علمائے حدیث کی اصطلاح میں مرسل صحابی کہتے ہیں، اور مرسل صحابی مقبول و مستفید ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4209

05/10/2024

السلامُ علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
یہ فقیر اپنے طلباء کرام کو اکثر ایک نصیحت کرتا رہتا ہے اس امید پر کہ اگر ان سب نے یا اگر سب نہ بھی سہی تو انمیں سے بعض یا چند نے یا کسی ایک نے بھی اگر اس نصیحت کو عمل کی نیت سے قبول کر لیا اور اس پر عمل شروع کر دیا تو یہ نصیحت ضرور انکو نفع دے گی کیونکہ خالق کائنات اللہ جل شانہ کا کائنات کے سب سے بڑے استاذ، معلم انسانیت حضرت محمد رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم ارشاد ہوا کہ
وذكر فان الذكرى تنفع المؤمنين
آپ برابر اہل ایمان کو نصیحت کرتے رہا کیجئے کیونکہ یقینا نصیحت ایمان والوں کو نفع دیتی ہے ۔
وہ نصیحت یہ ہے کہ
میرے عزیز طلباء کرام آپ جو علم حاصل کر رہے ہیں تو ایک بات یاد رکھیں بلکہ اسے پلے باندھ لیں کہ آپ کا علم وہی ہے جو آپ کے حافظے میں محفوظ ہے جو آپ کے حافظے میں محفوظ نہیں ہے وہ آپ کا علم نہیں ہے۔
وہ کسی کتاب کا کسی شرح کا کسی کاپی یا رجسٹر یا نوٹ بک یا ان اوراق کا علم ہے جن میں وہ محفوظ ہے وہ آپ کا علم نہیں ہے ۔
کیونکہ علم تو وہ خزانہ ہے جسے صاحب علم سے کوئی چرا نہیں سکتا کوئی لے نہیں سکتا جب تک کہ صاحب علم کسی کو خود نہ دینا چاہے ۔
جبکہ کتاب چوری ہو سکتی ہے شرح چوری ہو سکتی ہے کاپی رجسٹر نوٹ بک اوراق چوری ہو سکتے ہیں ۔
تو جن لوگوں کا علم ان کے حافظے کی بجائے ان مذکورہ چیزوں میں محفوظ ہو اور وہ اس علم کو اپنا علم سمجھتے ہوں تو وہ دھوکے میں ہیں کیونکہ اگر یہ چیزیں چوری ہو گئیں تو وہ تو جاہل کے جاہل رہ جائیں گے۔
آپ نے امام غزالی رحمہ اللہ کا وہ واقعہ تو سنا ہو گا کہ جب وہ کئی برس تک مختلف و متعدد اہل علم سے علم حاصل کرنے کی غرض سے مختلف و متعدد علاقوں کی خاک چھانتے رہے اور حاصل کیے ہوئے علم کو کچھ اوراق میں محفوظ کرتے رہے جب واپس اپنے وطن کو لوٹنے لگے تو راستے میں انکے قافلے پر ڈاکوؤں نے حملہ کر دیا جب ڈاکو قافلے والوں سے نقدی زیورات اور دیگر قیمتی سامان لوٹ رہے تھے تو ڈاکوؤں کے سردار نے دیکھا کہ ایک نوجوان اپنے تھیلے کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے وہ اس نوجوان کے پاس آیا اور اس سے وہ تھیلا چھین لیا کھول کر دیکھا تو اس میں تھوڑی سی نقدی اور کچھ اوراق کا مجموعہ تھا اسی دوران اس نوجوان نے ڈاکوؤں کے سردار سے التجاء کی کہ نقدی تم لے لو لیکن یہ اوراق کا مجموعہ مجھے واپس دے دو تو ڈاکوؤں کے سردار نے پوچھا کہ ان اوراق میں ایسا کیا خاص، اہم اور قیمتی ہے کہ جس کے لیے تم اتنے پریشان ہورہے ہو اور انہیں واپس لینے کے لیے منت سماجت کر رہے ہو تو اس نوجوان نے کہا کہ ان اوراق میں میرا وہ علم محفوظ ہے جو میں نے کئی برس تک مختلف و متعدد علاقوں کی خاک چھان کر مختلف و متعدد اہل علم سے حاصل کیا ہے ۔
ڈاکوؤں کے سردار نے یہ سن کر ایک قہقہہ لگایا اور وہ تھیلا اس نوجوان کی طرف اچھالتے ہوئے ایک جملہ کہا
"ایسا علم تمہارے کس کام کا جسے مجھ جیسا ڈاکو اور لٹیرا تم سے چوری کر کے اور لوٹ کر لے جائے اور تم ویسے کے ویسے جاہل کے جاہل رہ جاؤ"
یہ وہ جملہ تھا جس نے اس نوجوان کی زندگی بدل کے رکھ دی اور اسی وقت اس نوجوان نے عزم اور تہیہ کرلیا کہ وہ از سر نو علم حاصل کرے گا اور علم کو اپنے حافظے میں محفوظ کرے گا ۔
چنانچہ پھر دنیا نے دیکھا کہ اس نوجوان نے ازسر نو علم حاصل کیا اور اس علم کو اپنے حافظے میں محفوظ کیا تو وہ امام غزالی بن کر دنیا کے نقشے پر ابھرا ۔
اس لیے میری تمام طلباء کرام کو یہ نصیحت ہے کہ تم اسی علم کی وجہ سے اہل علم کی صف میں شمار ہونے اور عالم کہلانے کے حقدار ہو جو تمہارے حافظے میں محفوظ ہے ۔ اس لیے جو بھی علم حاصل کرو اسے اپنے حافظے میں محفوظ کرو۔
آپ کا خیر خواہ
فقیر ابو محمد محمد آصف مجاہد

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when كَلِمَةُ حَقٍّ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

  • Want your school to be the top-listed School/college?

Share