18/05/2026
بے اولاد حضرات کیلئے انتہائی مجرب تحفہ
7.8.9.10 ذی الحج کا مجرب ترین عمل۔۔۔۔۔
(اپنے تمام متعلقین تک پوسٹ کو شیئر لازمی کریں)
جن کے ہاں اولاد نہ ہوں یا اولاد تو ہوں پر نافرمان ہو ضدی یا بد تمیز یا شریر ہو یا بے دین ہو تو ایسے تمام لوگوں کیلئے یہ عمل کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔ اولاد نرینہ کیلئے بھی مجرب ہے۔۔۔
عمل کا طریقہ یہ ہیکہ 7.8.9.10 ذی الحجہ کے ان چار دنوں میں روزانہ درج ذیل تمام آیات کو 101 بار پڑھنا ہے کسی بھی وقت چاہے تو ایک مجلس میں پڑھ لیں یا وقفے وقفے سے پورے دن میں پڑھ لیں میاں بیوی دونوں۔ یا کوئی ایک کرلے۔
پڑھ کر پانی دم کرکے لازمی پئے۔ عورتیں مخصوص ایام
(ناپاکی کی حالت) میں بھی جاری رکھ سکتی ہیں بطورِ دعا۔
لیکن سورہ اخلاص اور سورہ کوثر چھوڑ دیں۔ نہ پڑھیں۔
اسکے بعد روزانہ صرف 11 بار پڑھیں اس طرح 41 دن مکمل کرلیں۔ پڑھنے کے بعد روزانہ اپنے مقاصد کیلئے اللہ سے دعا کریں۔ اور جن کے اولاد موجود ہوں ان پر دم کردیں۔ اور پانی پر دم کرکے پلادیا کریں۔
﴿ رَبِّ ھَبْ لِیْ مِنَ الصَّالِحِیْن﴾
( الصافّات : آیت نمبر 100) (101 دفعہ)
﴿ رَبَّنَا ھَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّیٰتِنَا قُرَّۃَ اَعْیُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا ﴾
( الفرقان : آیت نمبر 74 ) (101 دفعہ)
﴿ رَبِّ لا تَذَرْنِي فَرْدًا وَأَنتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ ﴾
(الانبیاء آیت نمبر 89) (101 دفعہ)
﴿ رَبِّ ھَب٘ لِی مِن٘ لَّدُن٘کَ ذُرِّیَّـۃً طَیِّبَۃً إِنَّکَ سَمِی٘عُ الدُّعَاءِ ﴾
( آل عمران : آیت نمبر 38) (101 دفعہ)
سورہ اخلاص 101 دفعہ
سورہ کوثر 101 دفعہ
نوٹ: جملہ روحانی وجسمانی مسائل کے حل، علاج، ورہنمائی کیلئے یا شرعی وفقہی مسائل کے جوابات کیلئے درج ذیل لنک، گروپ، اور مرکز علاج کے واٹس ایپ پر رابطہ فرمائے۔
https://facebook.com/groups/201554383225875/
واٹس ایپ
https://wa.me/923020940803
تحریر وترتیب:
مولانا محمد جاوید حُسینی
ناشر: خانقاہ حُسینیہ نقشبندیہ شاذلیہ
مرکز علاج روحانی وقرآنی
حُسینی اسلامک سینٹر
03/05/2026
سورہ نساء کی فضیلت
سورۂ نساء ایک جامع سورت ہے جو اسلامی معاشرت، خاندانی نظام اور عدل و انصاف کے بنیادی اصولوں کو واضح کرتی ہے۔ اس کے احکام میں نکاح، طلاق، وراثت، یتیموں کے حقوق، عورتوں کے حقوق اور مالی معاملات میں انصاف کی تاکید شامل ہے، جبکہ ظلم، ناانصافی اور حق تلفی سے سختی سے روکا گیا ہے۔ یہ سورت کمزور طبقات خصوصاً یتیموں اور عورتوں کے حقوق کے تحفظ پر زور دیتی ہے اور معاشرے میں ذمہ داری، تقویٰ اور دیانت داری کو قائم کرنے کی تعلیم دیتی ہے۔ ساتھ ہی اس میں منافقین کے رویّوں کو بے نقاب کیا گیا اور ایمان والوں کو اتحاد، اطاعت اور اللہ کے احکام پر مضبوطی سے قائم رہنے کی تلقین کی گئی ہے، اس لیے یہ سورت ایک منصفانہ اور متوازن اسلامی معاشرے کی مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
03/05/2026
سورہ آل عمران کی فضیلت
سورۂ آلِ عمران ایک عظیم سورت ہے جو عقیدۂ توحید، رسالت اور آخرت کو مضبوط انداز میں واضح کرتی ہے۔ اس میں اہلِ ایمان کو صبر، استقامت اور اللہ پر کامل بھروسہ کی تعلیم دی گئی ہے، جبکہ اہلِ کتاب کے ساتھ مکالمہ، حضرت عیسیٰؑ کی حقیقت، اور حق و باطل کی پہچان بھی بیان کی گئی ہے۔ احکام کے طور پر اس میں جہاد، انفاق (اللہ کی راہ میں خرچ کرنا)، اور اجتماعی نظم و اتحاد کی ہدایات ملتی ہیں، جبکہ فضائل میں احادیث کے مطابق سورۂ بقرہ اور سورۂ آلِ عمران کو “زہراوین” کہا گیا ہے جو قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لیے سایہ اور شفاعت بنیں گی۔ یہ سورت ایمان کو مضبوط، دل کو ثابت قدم اور زندگی کو اللہ کی اطاعت کے مطابق ڈھالنے کی جامع رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
03/05/2026
سورہ بقرہ کی فضیلت
سورۂ بقرہ قرآنِ مجید کی سب سے طویل سورت ہے، جس میں ہدایت کے مکمل اصول، عقائد، عبادات اور زندگی کے عملی احکام بیان کیے گئے ہیں۔ اس کے احکام میں نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، نکاح، طلاق، تجارت اور معاشرتی معاملات کے بنیادی اصول شامل ہیں، جبکہ فضائل کے اعتبار سے احادیث میں آیا ہے کہ اس کی تلاوت کرنے والے کے گھر سے شیطان بھاگ جاتا ہے، اور اس کی آخری آیات (آیت الکرسی اور آخری دو آیات) خاص حفاظت اور برکت کا ذریعہ ہیں۔ یہ سورت ایمان والوں کی صفات، کافروں اور منافقوں کے حالات واضح کرتی ہے اور انسان کو مکمل اسلامی طرزِ زندگی سکھاتی ہے، اسی لیے اسے ہدایت، حفاظت اور برکت والی عظیم سورت قرار دیا جاتا ہے۔
03/05/2026
سورہ فاتحہ کی فضیلت
سورہ فاتحہ کے احکام و فضائل نہایت جامع اور اہم ہیں؛ احکام کے طور پر یہ ہر نماز کی ہر رکعت میں پڑھنا لازمی ہے اور اس کے بغیر نماز درست نہیں ہوتی، نیز یہ سورت بندے کو دعا کا مکمل طریقہ سکھاتی ہے کہ پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء، اس کی ربوبیت، رحمت اور یومِ جزا کی مالکیت کا اقرار کیا جائے، پھر اخلاص کے ساتھ اسی سے مدد اور سیدھے راستے کی ہدایت مانگی جائے۔ فضائل کے اعتبار سے یہ قرآنِ مجید کی سب سے عظیم سورت ہے، جسے امّ القرآن اور سبع مثانی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ بار بار پڑھی جاتی ہے اور پورے قرآن کا خلاصہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ یہ سورت اپنی جامعیت اور شان میں منفرد ہے، دیگر آسمانی کتابوں میں اس جیسی نہیں ملتی، اسے “سورۃ الشفاء” بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ روحانی و جسمانی بیماریوں کے لیے مؤثر ذریعۂ شفا ہے، نیز احادیث کے مطابق یہ اللہ اور بندے کے درمیان ایک خاص مکالمہ ہے جس میں ہر آیت پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب ملتا ہے، اور اسے اللہ تعالیٰ کے خاص خزانوں میں سے ایک عظیم خزانہ قرار دیا گیا ہے، اسی لیے یہ ایمان، عبادت، توحید اور دعا کا مکمل خلاصہ سمجھی جاتی ہے۔
02/05/2026
🚨 کراچی میں شدید گرمی کی لہر کا الرٹ آئندہ دن انتہائی احتیاط ضروری ⚠️
کراچی میں اس وقت موسم پہلے ہی غیر معمولی حد تک گرم ریکارڈ ہو رہا ہے، تاہم آج سے گرمی کی شدت میں مزید اضافہ متوقع ہے جو آئندہ 3 سے 5 دن تک جاری رہ سکتی ہے۔ یہ صورتحال صرف کراچی تک محدود نہیں رہے گی بلکہ سندھ کے تقریباً تمام شہروں میں شدید گرمی کی لہر متوقع ہے۔
کراچی میں درجہ حرارت 38 سے 42 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کا امکان ہے، تاہم زیادہ نمی (Humidity)، بلند یو وی انڈیکس (UV Index) اور کیپ انڈیکس (CAPE Index) کی وجہ سے محسوس ہونے والا درجہ حرارت (Feels Like) 44 سے 50 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ بعض علاقوں میں 51 ڈگری تک بھی جا سکتا ہے۔
آج شام اور رات کے اوقات میں کراچی، جبکہ حیدرآباد اور دیگر اندرونی علاقوں میں ان ہواؤں کے بالواسطہ اثر کے باعث شام کے بعد موسم میں کچھ بہتری آ سکتی ہے۔، جس کے باعث شام 4 سے 5 بجے کے بعد موسم میں بتدریج بہتری آنا شروع ہو جائے گی اور گرمی کی شدت میں کچھ کمی محسوس کی جائے گی۔
تمام شہریوں سے گزارش ہے کہ اس صورتحال کو سنجیدگی سے لیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ خاص طور پر اتوار یا پیر سے ہواؤں کی سمت میں تبدیلی متوقع ہے، جہاں سمندر کی جانب سے آنے والی ہوائیں کم ہو کر شمال کی سمت سے چلیں گی، جس کے باعث موسم مزید خشک اور شدید ہو جائے گا۔ شہر میں بارش کا کوئی امکان موجود نہیں ہے۔
حیدرآباد میں بھی شدید گرمی متوقع ہے جہاں درجہ حرارت 39 سے 46 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے۔ ہوائیں غیر مستحکم رہیں گی جبکہ محسوس ہونے والا درجہ حرارت کراچی کی طرح 44 سے 50 ڈگری تک پہنچ سکتا ہے۔
اسی طرح میرپورخاص، ٹھٹھہ، بدین، ٹنڈو جام، ٹنڈو محمد خان، ڈیپلو، مٹھی، دادو، سکھر، لاڑکانہ، شہدادکوٹ، شہدادپور سمیت سندھ کے دیگر شہروں میں بھی شدید گرمی کی یہی صورتحال متوقع ہے۔
تمام شہریوں سے اپیل ہے کہ اپنی حفاظت کے ساتھ ساتھ اپنے اردگرد موجود لوگوں اور جانوروں کا بھی خاص خیال رکھیں۔
شدید گرمی کے دوران غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں، خاص طور پر دوپہر 11 بجے سے شام 4 بجے تک۔ ہلکے اور ڈھیلے کپڑے پہنیں، سر کو ڈھانپیں اور زیادہ سے زیادہ پانی، لیموں پانی یا او آر ایس کا استعمال کریں تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو۔ گھر کو ٹھنڈا رکھنے کی کوشش کریں اور بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کا خاص خیال رکھیں۔ اگر کسی کو چکر، کمزوری یا ہیٹ اسٹروک کی علامات محسوس ہوں تو فوراً ٹھنڈی جگہ پر لے جا کر پانی پلائیں اور طبی مدد حاصل کریں، جبکہ جانوروں کے لیے بھی سایہ اور پانی کا انتظام یقینی بنائیں
کسانوں، فصلوں اور پودوں کے لیے اہم ہدایات
شدید گرمی کی اس لہر کے دوران کسانوں اور زرعی شعبے سے وابستہ افراد کو خصوصی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ فصلوں کو شدید دھوپ اور گرم ہواؤں سے بچانے کے لیے صبح سویرے یا شام کے وقت آبپاشی (Irrigation) کی جائے تاکہ پانی کا ضیاع کم ہو اور زمین میں نمی برقرار رہے۔ نرسری کے پودوں اور سبزیوں پر شیڈ نیٹ (Shade Net) یا عارضی سایہ فراہم کرنا انتہائی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
زمین کی نمی کو برقرار رکھنے کے لیے ملچنگ (Mulching) کا استعمال کیا جائے جبکہ کھاد اور اسپرے کا استعمال دن کے ٹھنڈے اوقات میں کیا جائے تاکہ پودوں کو نقصان نہ پہنچے۔ مویشیوں کے لیے ٹھنڈا اور سایہ دار ماحول فراہم کیا جائے اور انہیں وافر مقدار میں صاف پانی مہیا کیا جائے۔
شدید گرمی کے باعث مٹی کی زرخیزی اور فصلوں کی نشوونما متاثر ہو سکتی ہے، اس لیے کسان حضرات کو چاہیے کہ وہ موسمی صورتحال پر مسلسل نظر رکھیں اور جدید زرعی رہنمائی کے مطابق اقدامات کریں تاکہ ممکنہ نقصانات سے بچا جا سکے۔
آخر میں تمام شہریوں سے گزارش ہے کہ اس اہم موسمی اپڈیٹ کو زیادہ سے زیادہ لائک اور شیئر کریں تاکہ یہ معلومات ہر فرد تک بروقت پہنچ سکے اور سب لوگ اس شدید گرمی کے خطرے سے آگاہ رہیں۔ آپ کی ایک شیئر کسی کی زندگی بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، اس لیے ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور دوسروں کو بھی باخبر رکھیں۔
21/03/2026
*عیدکم سعید* *تهنئـــــة خـــاصــــــة*
کل عام وانتم بخیر
تقبل اللہ منا ومنکم
عالم اسلام خصوصاً اہل پاکستان کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے عید الفطر کی مسرتیں بہت بہت مبارک ہو۔
اس خوشی کے موقع پر اپنے ارد گرد یتیموں مسکینوں اور ضرورت مندوں کا خاص خاص خیال رکھیں۔ اور انہیں بھی اپنی خوشیوں میں شامل حال رکھیں۔
ནྱཾ༩ྀ༄ *تهنئـــــة خـــاصــــــة* ༄ནྱཾ༩ྀ
يسرني أن أتقدم إليكم بأصدق التهاني
*تقبل اللہ منا ومنکم صالح الاعمال*
*کل عام وانتم بخیر*
بمناسبة عيد الفطر
سائلا المولى ان يجعل أيامكم سعيدة،
وأن يعيده علينا وعليكم أعواما عديدة،
وازمنة مديدة، وأنتم في أحسن حال .
*﮼ * حُسینی اسلامک سینٹر*﮼ *
*﮼ * خانقاہ حُسینیہ نقشبندیہ شاذلیہ *﮼ *
*﮼ * مرکز علاج روحانی وقرآنی *﮼ *
19/03/2026
مشائخ وبزرگان دین کے مجربات میں یہ خاص مجرب المجرب عمل انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو درج ذیل آیات مبارکہ کو ایک سفید کورے بغیر لکیر والے کاغذ پر تحریر کر کے اپنے پاس محفوظ کر لیا جائے تو اللہ کے فضل و کرم سے رزق میں بے پناہ اضافہ ہوتا ہے۔ باوضو ہوکر پاکی کی حالت میں لکھیں۔
آیات مبارکہ:
ھوَ الْغَنِیُّ الْعَزِیزُ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ ھوَ الْغَنِیُّ الْعَزِیزُ
اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُضٰعِفْهُ لَكُمْ وَیَغْفِرْ لَكُمْ
وَلَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ فِی الْاَرْضِ وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ
عَالِمُ الْغَیْبِ وَالشَّهَادَةِ۔۔۔
عمل کی اجازت "خاص" کیلئے کمنٹ میں "اللہ" لکھ کر پوسٹ کو دیگر احباب میں شئیر کریں۔
نوٹ :مزید کسی بھی قسم کی تفصیلی رہنمائی، فقہی سوالات کے جوابات، روحانی وجسمانی امراض کے علاج، حل و موثر رہنمائی کیلئے درج ذیل لنک پر رابطہ فرمائے۔
واٹس ایپ:
Message مرکز علاج روحانی و قرآنی on WhatsApp. https://wa.me/923020940803
فیسبک گروپ:
https://www.facebook.com/groups/201554383225875/?ref=share&mibextid=NSMWBT
فیسبک پیج:
https://www.facebook.com/share/1AdezSZidb/
تحقیق وترتیب:
محمد جاوید حُسینی
مدیر :
مرکز علاج روحانی وقرآنی
ناشر:
حُسینی اسلامک سینٹر
خانقاہ حُسینیہ نقشبندیہ شاذلیہ
06/03/2026
❤️اعتکاف❤️
❤️اعتکاف کی شرائط درج ذیل ہیں❤️
1۔ مسلمان ہونا۔
2۔ اعتکاف کی نیت کرنا۔
3۔ حدث اکبر (یعنی جنابت) اور حیض و نفاس سے پاک ہونا۔
4۔ عاقل ہونا۔
5۔ مسجد میں اعتکاف کرنا۔ (مردوں کیلئے)
6۔ روزہ سے ہونا ۔
❤️اعتکاف کی فضیلت❤️
نفسِ اعتکاف ان عبادات میں سے ہے جو پچھلے انبیاءِ کرام علیہم السلام کے زمانے سے چلی آرہی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں بھی ان کا ذکر فرمایاہے، اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بیت اللہ کی تعمیر کے بعد طواف کرنے والوں، اعتکاف کرنے والوں اور نماز ادا کرنے والوں کے لئے اسے (بیت اللہ) پاک صاف رکھنے کا حکم دیا ہے۔ گویا طواف ونماز کی طرح اعتکاف بھی اللہ تعالیٰ کے قرب کا خاص ذریعہ ہے کہ باری تعالیٰ اپنے دو برگزیدہ پیغمبروں کو معتکفین کی خدمت اور ان کے اعزاز میں مسجدِ حرام کی صفائی اور خدمت کا حکم ارشاد فرمارہے ہیں۔
اور رمضان کے اخیر عشرہ کا اعتکاف کرنا رسول اللہ ﷺ کی مستقل سنت ہے، اوراس کی فضیلت اس سے زیادہ کیا ہوگی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ اس کا اہتمام فرماتے تھے، امام زہری ؒ فرماتے ہیں : کہ لوگوں پر تعجب ہے کہ انہوں نے اعتکاف کی سنت کو چھوڑ رکھا ہے حال آں کہ رسول اللہ ﷺبعض امور کو انجام دیتے تھے اور ان کو ترک بھی کرتے تھے ،اور جب سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے اس وقت سے لے کر وفات تک بلا ناغہ آپ اعتکاف کرتے رہے ،کبھی ترک نہیں کیا ۔ (اور اگر ایک سال اعتکاف نہ کرسکے تو اگلے سال بیس دن کا اعتکاف فرمایا۔ کما فی الحدیث)۔اور حضورِ اکرم ﷺ کا ہمیشگی فرمانا (ترک کرنے والوں پر نکیر کیے بغیر) یہ اس کی سنیت کی دلیل ہے ۔
نیز اعتکاف میں اللہ تعالیٰ کے گھر میں قیام کرکے تقربِ باری تعالیٰ کا حصول ہے،دنیا سے منہ موڑنا اور رحمتِ خداوندی کی طرف متوجہ ہونا اور مغفرتِ باری تعالیٰ کی حرص کرنا ہے ۔ اور معتکف کی مثال ایسے بیان فرمائی گئی ہے گویا کوئی شخص کسی کے در پر آکر پڑجائے کہ جب تک مقصود حاصل نہیں ہوگا اس وقت تک نہیں لوٹوں گا، معتکف اللہ کے در پر آکر پڑجاتاہے کہ جب تک رب کی رضا اور مغفرت کا پروانا نہیں مل جاتا وہ نہیں جائے گا، ایسے میں اللہ کی رضا ومغفرت کی قوی امید بلکہ اس کے فضل سے یقین رکھنا چاہیے۔
چناں چہ احادیث میں آپ ﷺ کا طرزعمل اس طرح بیان کیاگیاہے:
صحيح البخاري (3/ 47):
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری دس دنوں کااعتکاف کرتے تھے۔
صحيح البخاري (3/ 47):
" حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، عن عائشة [ص:48] رضي الله عنها، - زوج النبي صلى الله عليه وسلم -: «أن النبي صلى الله عليه وسلم، كان يعتكف العشر الأواخر من رمضان حتى توفاه الله، ثم اعتكف أزواجه من بعده»".
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری دس دنو ں کااعتکاف کیاکرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ نے آپ کووفات دے دی۔
صحيح البخاري (3/ 51):
"حدثنا عبد الله بن أبي شيبة، حدثنا أبو بكر، عن أبي حصين، عن أبي صالح، عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم «يعتكف في كل رمضان عشرة أيام، فلما كان العام الذي قبض فيه اعتكف عشرين يوماً»".
ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہررمضان میں دس دن اعتکاف کرتے تھے ،لیکن جو آپ کی وفات کاسال تھا توآپ نے بیس دن اعتکاف فرمایا۔
علمانے لکھا ہے کہ آپ نے بیس دن کااعتکاف اس لیے فرمایاتھا کہ آپ کو منکشف ہوگیاتھاکہ یہ آپ کا آخری رمضان ہے، آپ نے چاہاکہ اعمالِ خیرمیں کثرت کی جائے ؛تاکہ امت کوعمل خیر میں جدوجہد کرنا ظاہرہوجائے اوربعض نے کہاکہ یہ بیس دن کا اعتکاف اس لیے تھا کہ آپ نے اس سے پہلے سال رمضان میں سفرہوجانے کی بناپر اعتکاف نہیں کیاتھا، اس لیے پچھلے سال اعتکاف نہ کرسکنے کی تلافی کرنے کے لیے اس سال بیس دن کااعتکاف فرمایا۔ بہرحال اس سے معلوم ہواکہ اعتکاف کا عمل آپ ﷺ کی نظر میں کتنی بڑی فضیلت والا اور اہم عمل تھا۔ چنانچہ اعتکاف کے فضائل میں بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں۔
❤️احکام ومسائل❤️
ہر محلہ کی مسجد میں اعتکاف کرنا اہلِ محلہ کے ذمے سنتِ مؤ کدہ علی الکفایہ ہے، اگر تمام محلہ والوں میں سے کوئی بھی اس سنت کو ادا نہ کرے تو سب اس سنت کے چھوڑنے والے اور گناہ گار ہوں گے۔
سنت اعتکاف کا وقت رمضان المبارک کی بیسویں تاریخ کو سورج غروب ہوتے ہی شروع ہوجاتا ہے، اس لیے معتکف کو بیسویں روزے کا سورج غروب ہونے سے پہلے نیت کرکے اعتکاف کی جگہ میں داخل ہونا ضروری ہے۔اگر کوئی شخص بیس رمضان کو سورج غروب ہوتے ہی اعتکاف میں نہ بیٹھ سکا، بلکہ اگلے دن یعنی اکیسویں رمضان سے اعتکاف کرتاہے تو یہ مسنون اعتکاف نہیں کہلائے گا، بلکہ یہ نفلی اعتکاف ہوگا۔
جس شخص نے رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کیا ہو، اس کے لیے بہتر یہ ہے کہ عید کی نماز ادا کرکے گھر لوٹے۔
معتکف وضو كرنے كے ليے مسجد سے باهر نكلے تو اس کے لیے وضو سے پهلے يا اس كے دوران هي جلدی سے صابن سے هاتھ، منہ دھولینے کی گنجائش ہے، البتہ خاص ہاتھ ، منہ دھونے کے لیے باہر نکلنا یا وضو کرنے کے بعد اس کے لیے رکنا جائز نہیں ہوگا، اس سے اعتکاف فاسد ہوجائے گا۔
اگر معتکف پر غسلِ جنابت واجب ہوجائے تو اس کے لیے مسجد سے باہر نکل کر غسل کرنا ضروری ہے۔ لیکن صرف گرمی کی وجہ سے یا جمعہ کے غسل کے لیے مسجد سے باہر نکل کر معتکف کے لیے غسل کرنا جائز نہیں ہے، اس سے اعتکاف فاسد ہوجائے گا۔
درج ذیل امور سے واجب اور مسنون اعتکاف فاسد ہوجاتا ہے:
١۔ کسی طبعی یا شرعی عذر کے بغیر مسجد سے باہر نکلنا۔
٢-روزہ نہ رکھنا یا توڑ دینا۔
٣۔ حالتِ اعتکاف میں مباشرت کرنا۔
٤۔ عورت اعتکاف میں ہو تو حیض و نفاس کا جاری ہو جانا۔
٥۔ کسی عذر کے باعث اعتکاف گاہ سے باہر نکل کر ضرورت سے زیادہ ٹھہرنا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"وبالتعليق ذكره ابن الكمال (وسنة مؤكدة في العشر الأخير من رمضان) أي سنة كفاية كما في البرهان وغيره لاقترانها بعدم الإنكار على من لم يفعله من الصحابة (مستحب في غيره من الأزمنة) هو بمعنى غير المؤكدة."
(کتاب الصوم، باب الاعتکاف، 442/2/ سعید)
الفقہ الاسلامی و ادلتہ میں ہے:
"5 - يندب مكث المعتكف ليلة العيد إذا اتصل اعتكافه بها، ليخرج منه إلى المصلى، فيوصل عبادة بعبادة، ولما ورد من فضل إحياء هذه الليلة: «من قام ليلتي العيد، محتسباً لله تعالى، لم يمت قلبه يوم تموت القلوب» أي أن الله يثبِّته على الإيمان عند النزع وعند سؤال الملكين وسؤال القيامة".
(المبحث الخامس ـ آداب المعتكف ومكروهات الاعتكاف ومبطلاته، آداب المعتكف، ٣ / ١٧٧٣، ط: دار الفكر)
فتح القدير ميں ہے:
"قال العلامة المرغینانی: ولو خرج من المسجد ساعةبغیر عذر فسد اعتکافه عند ابی حنیفة لوجود المنافی وهو القیاس۔"
(کتاب الصوم، باب الاعتکاف، 395/2/ دار الفکر)
تحقیق وترتیب:
محمد جاوید حُسینی
مدیر :
مرکز علاج روحانی وقرآنی 03020940803
ناشر:
حُسینی اسلامک سینٹر
خانقاہ حُسینیہ نقشبندیہ شاذلیہ
25/02/2026
گیارہ روزہ "شادی کا مجرب ترین عمل"
از: مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی رحمہ اللہ۔۔
(دیگر احباب و ضرورت مندوں تک لازمی شیئر کریں)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
جو خواتین و حضرات، لڑکے اور لڑکیاں رشتے کے حوالے سے پریشان ہیں اُن کے لئے یہ ایک انتہائی مجرب عمل ہے جو سابق صدر جامعہ دارالعلوم کراچی مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی محمد رفیع عثمانی رحمہ اللہ کی طرف سے عام استفادہ کے لئے برسوں سے شائع ہو رہا ہے، بزرگوں کا آزمودہ ہے اور بے شمار لوگوں کو اس سے فائدہ ہوا ہے، فرض، واجب یا سنت سمجھے بغیر اِس پر عمل کرنے میں کوٸی حرج نہیں ہے۔
یہ عمل گیارہوے روزہ اور بارہوے کی شب میں کرنا ہے۔
اللّٰہ تعالی اِسے نافع بنائیں اور شادی کے حوالے سے جو لوگ پریشان ہیں اُن کے لیے بہترین انتظام فرمائیں، آمین۔۔
اول آخر 101 ۔101 دفعہ درود شریف کے ساتھ درمیان میں بارہ رکعت نفل دو دو کی نیت کے ساتھ۔ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد بارہ دفعہ سورہ فیل۔
اسکے بعد اللہ سے اپنے حق میں خصوصی دعائیں۔
نوٹ :مزید کسی بھی قسم کی تفصیلی رہنمائی، فقہی سوالات کے جوابات، روحانی وجسمانی امراض کے علاج، حل و موثر رہنمائی کیلئے درج ذیل لنک پر رابطہ فرمائے۔
واٹس ایپ:
Message مرکز علاج روحانی و قرآنی on WhatsApp. https://wa.me/923020940803
فیسبک گروپ:
https://www.facebook.com/groups/201554383225875/?ref=share&mibextid=NSMWBT
فیسبک پیج:
https://www.facebook.com/share/1AdezSZidb/
04/06/2025
*یومِ عرفہ کا روزہ کب ہوگا؟
جانئے مکمل تحقیق*
*یوم عرفہ کی فضیلت*
*یوم عرفہ کا روزہ کی فضیلت*
پاکستان میں *یوم عرفہ یعنی 9 ذوالحجہ 1446 بروز جمعہ 6 جون 2025* کو ہے۔
واضح رہے کی سعودیہ عرب سے پار وہ ممالک جن کے ہاں چاند کی تاریخ عام طور پر ایک دن پیچھے ہوتی ہے، ان ممالک کے لئے *٩ ذی الحج یعنی یوم عرفہ* کا روزہ اپنے ملک کی چاند کی تاریخ کے اعتبار سے ہوگا، کیونکہ *جس طرح رمضان کے فرض روزے میں ہر ملک کی رؤیت کا اعتبار ہے، اسی طرح یوم عرفہ کے نفلی روزے میں بھی اسی ملک کی رؤیت کا اعتبار ہے۔*
*1- یوم عرفہ کے روزے کی فضیلت*
١- حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ *مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ عرفہ کے دن کا روزہ رکھنے سے ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہ معاف فرما دے* (ترمذی)
*2- حاجی کے لئے یوم عرفہ کے دن روزہ رکھنے کا حکم*
٢- حضرت ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ عرفہ کے روز میرے سامنے کچھ لوگ حضور اکرم ﷺ کے روزہ کے بارے میں بحث کرنے لگے، بعض لوگ تو کہہ رہے تھے کہ آپ ﷺ آج روزہ سے ہیں اور بعض لوگوں کا یہ کہنا تھا کہ آپ ﷺ آج روزہ سے نہیں ہیں، یہ دیکھ کر میں نے دودھ کا ایک پیالہ آپ ﷺ کے پاس بھیجا آپ اس وقت میدان عرفات میں اپنے اونٹ پر کھڑے تھے چنانچہ آپ ﷺ نے وہ دودھ لے کر پی لیا۔ (متفق علیہ)
*فائدہ : حضرت ام فضل رضی اللہ عنہا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ اور حضور اکرم ﷺ کی چچی سمجھ دار خاتون تھیں، انہوں نے ایسا طریقہ اختیار فرمایا کہ جس سے معلوم ہوجائے کہ حضور اکرم ﷺ روزہ سے ہیں یا نہیں؟ کیونکہ بسا اوقات پوچھنے میں تکلیف ہوتی ہے، انہوں نے دودھ پیش کیا اور آپ ﷺ نے قبول فرما کر نوش فرمایا، چنانچہ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ عرفہ کے دن روزہ رکھنا حج کرنے والے کے لئے تو مسنون نہیں ہے البتہ دوسرے لوگوں کے لئے مسنون ہے۔
*امام ترمذی رحمہ اللہ* فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حضور اکرم ﷺ کے ساتھ حج کیا تو آپ ﷺ نے عرفہ کے دن روزہ نہیں رکھا، اسی طرح حضرات خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم سے بھی عرفہ کے دن حج میں روزہ نہ رکھنا منقول و مستحب ہے تاکہ حاجی دعاؤں وغیرہ کے وقت کمزوری محسوس نہ کرے۔
*امام ترمذی رحمہ اللہ* نے ذکر کیا ہے کہ عام حالات میں علماء کے نزدیک یوم عرفہ کا روزہ مستحب ہے مگر حاجی کے لئے میدان عرفات میں نہ رکھنا بہتر ہے (یعنی جب میدان عرفات میں ہو تو مستحب نہیں)۔
*3- حاجی کے لئے مشقت کے اندیشہ کی وجہ سے یوم عرفہ کا نفلی روزہ ترک کرنا مستحب ہے*
٣- حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نقل کرتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے عرفات میں عرفہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔ (ابوداؤد)
*فائدہ : حج کرنے والا اگر عرفہ کے دن روزہ رکھے تو ہو سکتا ہے کہ اس کی وجہ سے ضعف لاحق ہوجائے جس کی بناء پر عرفات میں دوسرے افعال وارکان میں نقصان وخلل واقع ہو اس لئے ایسے شخص کے لئے عرفہ کا روزہ رکھنے کی ممانعت فرمائی گئی لیکن یہ ممانعت تحریمی کے طور پر نہیں ہے بلکہ یہ نہی تنزیہی ہے۔(مستفاد از مظاہر حق)
*4- یومِ عرفہ کی تحقیق*
*۹ ذی الحج کو یومِ عرفہ کہنے کی فقہاء نے تین وجوہات بیان کی ہیں*
۱- حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ۸ ذی الحج کی رات خواب میں نظر آیا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں، تو ان کو اس خواب میں اللہ تعالی کی طرف سے ہونے یا نہ ہونےمیں کچھ تردد ہوا، پھر ۹ ذی الحج کو دوبارہ یہی خواب نظر آیا تو ان کو یقین ہوگیا کہ یہ خواب اللہ تعالی کی طرف سے ہی ہے، چونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہ معرفت اور یقین ۹ ذی الحج کو حاصل ہوا تھا، اسی وجہ سے ۹ ذی الحج کو *یومِ عرفہ* کہتے ہیں۔
۲- ٩ ذی الحج کو حضرت جبریل علیہ السلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو تمام مناسکِ حج سکھلائے تھے، مناسکِ حج کی معرفت کی مناسبت سے ۹ ذی الحج کو *یومِ عرفہ* کہتے ہیں۔
۳- ۹ ذی الحج کو حج کرنے والے حضرات چونکہ میدانِ عرفات میں وقوف کیلئے جاتے ہیں، تو اس مناسبت سے ۹ ذی الحج کو *یومِ عرفہ* بھی کہہ دیتے ہیں۔
مذکورہ اقوال سے معلوم ہوا کہ تسمیہ کے اعتبار سے *یومِ عرفہ* کو صرف وقوفِ عرفہ کے ساتھ خاص کرنا درست نہیں ہے، بلکہ یہ ۹ ذی الحج کا مختلف وجوہات کی بنا پر دوسرا نام ہے، لہٰذا یہ ہر ملک میں اپنی تاریخ کے اعتبار سے ہوگا، یعنی پاکستان میں جس دن ۹ ذی الحج ہوگی وہی دن *یومِ عرفہ* کہلائے گا، چاہےاس دن سعودی عرب میں یومِ عرفہ نہ ہو۔
نیز یہ بھی واضح رہے کہ مذکورہ مسئلہ کا دارومدار اس بات پر ہے کہ سعودی عرب کی رؤیت پاکستان کے حق میں معتبر ہے یا نہیں؟ تو اس بارے میں احناف کا راجح قو ل یہ ہے کہ بلادِ بعیدہ جن کے طلوع و غروب میں کافی فرق پایا جاتا ہے، ان کی رؤیت ایک دوسرے کے حق میں معتبر نہیں ہے اور سعودی عرب اور پاکستان کے مطلع میں کافی فرق ہونا بار بار کے مشاہدہ سے ثابت ہے، لہذا جس طرح نمازوں کے اوقات تہجد اور سحر و افطار وغیرہ میں ہر ملک کا اپنا وقت معتبر ہے، سعودی عرب کے نمازوں کے اوقات کو پاکستان میں نمازوں کے لئے معیار قرار نہیں دیا جاسکتا، اسی طرح عید، روزہ اور قربانی میں بھی ہر ملک کی اپنی رؤیت کا اعتبارہے اور عرفہ کے روزہ کے بارے میں بھی ہر ملک کی اپنی رؤیت معتبر ہے، لہذا جس دن پاکستان کے حساب سے ذی الحج کی نویں تاریخ ہوگی، وہی دن پاکستان میں *یوم عرفہ* کہلائے گا اور اسی دن عرفہ کا روزہ رکھنا مستحب ہوگا، اگرچہ اس دن مکہ مکرمہ میں عید کا دن ہو۔
(مأخذہ التبویب : ٣٦٠/٣٩ و نظیرہ فی معارف القرآن ٧٩٤/٨ تحت تفسیر سورة القدر)
ویسے تو یہ دس دن مکمل ہی بہت زیادہ فضیلت کے حامل ہیں۔ لیکن نو ذی الحج کی فضیلت بھی اس سے مزید اوپر ہے۔
اس دن کرنے کے کچھ مسنون مستحب اور مجرب اعمال۔
رات کو نوافل کا اہتمام کریں کثرت سے۔ اللہ سے خوب لو لگائے۔ اپنے گناہوں سے چھٹکارا حاصل کریں۔
اور دن میں روزہ رکھیں۔
کثرت درود شریف کا اہتمام کریں۔
پہلا کلمہ اور تیسرا کلمہ کثرت سے ورد رکھیں۔
تسبیح تمحید کثرت سے پڑھیں۔
استغفار کی کثرت رکھیں۔
سورہ اخلاص کم سے کم 1000 دفعہ پڑھیں کسی بھی مقصد کیلئے۔
*البناية شرح الهداية (٢١١/٤)*
وإنما سمي يوم عرفة لأن جبريل - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - علم إبراهيم - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - المناسك كلها يوم عرفة، فقال: أعرفت في أي موضع تطوف؟ وفي أي موضع تسعى؟ وفي أي موضع تقف؟ وفي أي موضع تنحر وترمي؟ فقال: عرفت فسمي يوم عرفة
● *تبيين الحقائق و حاشية الشلبي (٢٣/٢)*
قَوْلُهُ أَيْ تَفَكَّرَ أَنَّ مَا رَآهُ مِنْ اللَّهِ) أَيْ أَمْ مِنْ الشَّيْطَانِ فَمِنْ ذَلِكَ سُمِّيَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ فَلَمَّا رَأَى اللَّيْلَةَ الثَّانِيَةَ عَرَفَ أَنَّهُ مِنْ اللَّهِ فَمِنْ ثَمَّ سُمِّيَ يَوْمَ عَرَفَةَ فَلَمَّا رَأَى اللَّيْلَةَ الثَّالِثَةَ هَمَّ بِنَحْرِهِ فَسُمِّيَ يَوْمَ النَّحْرِ كَذَلِكَ فِي الْكَشَّافِ۔
نوٹ: جملہ روحانی وجسمانی مسائل و بیماری کے حل، علاج، ورہنمائی کیلئے یا شرعی وفقہی مسائل کے جوابات کیلئے درج ذیل لنک، گروپ، اور مرکز علاج کے واٹس ایپ پر رابطہ فرمائے۔
https://facebook.com/groups/201554383225875/
واٹس ایپ
https://wa.me/923020940803
تحقیق وترتیب :
محمد جاوید حُسینی
ناشر:
حسینی اسلامک سینٹر
مرکز علاج روحانی وقرآنی
زیر انتظام: خانقاہ حُسینیہ نقشبندیہ شاذلیہ