Al Ilm Islamic Institute

Al Ilm Islamic Institute Our mission is to provide accessible, high-quality Islamic education to students of all ages, regardless of their geographical location.

We offer online Quran and Arabic Tafseer classes with expert teachers specializing in Tajweed Quran.

10/08/2026

ماں باپ کو معاف کر دیں۔ اگر انہوں نے آپکو آئیڈیل بچپن نہیں دیا وہ آسائشیں نہیں دیں جو آپ چاہتے تھے یا آزادی نہیں دی جو آپکو چاہئے۔ وہ آپکو اپنی ہڈیوں کا کیلشیم تک دے چکے وہ اپنا خون اور آنسو دے چکے آپ کو بڑا کرتے کرتے وہ جھریوں زدہ ہو گئے۔ انکے کندھے جھک گئے۔ وقت آگیا ہے ہم اپنے ماں باپ سے شکوے کرنا چھوڑ دیں۔ انکے ساتھ راضی ہو جائیں۔ آپکو شکوے شکایتیں اور ایسی باتیں ہوں گی جو بیان نہیں کر سکتے۔ والدین کی چوائس سے آپ نے مشکلات اٹھائیں ہیں اپنے دل کو ٹٹولنا ہے وہ کیا چیز ہے جو آپکو ماں باپ کے خلاف کر رہی ہے جب تک اس کو باہر نہیں نکالیں گے وہ ختم نہیں ہوگی کب تک اسکا بوجھ اٹھائیں گے؟ اپنے ماں باپ اور دوسرے انسانوں کو الزام دینا ترک کر دیں

10/08/2026

*امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے حاتم الاصم رحمہ اللہ سے سوال کیا:*

"لوگوں کے شر سے محفوظ رہنے کی کیا سبیل ہو سکتی ہے؟"
حاتم الاصم رحمہ اللہ نے جواب دیا:
• اپنا مال دیتے رہو، لیکن ان کا مال کبھی نہ لو۔
• وہ تمہیں تکلیف پہنچائیں تو بھی تم انہیں تکلیف نہ پہنچاؤ۔
• تم ان کی ضرورت کے وقت ان کے کام آیا کرو، لیکن انہیں کبھی ایسا موقع نہ دینا کہ وہ تمہارے کام آئیں۔
امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا:
"حاتم! یہ تو بہت مشکل ہوگا۔"
حاتم رحمہ اللہ نے عرض کیا:
"پھر کوشش کرو کہ تم سلامت رہو!"

📚🖋️

10/08/2026

ہر وہ غیبت جو آپ کی زبان سے نکلتی ہے ممکن ہے کہ وہ آخرت میں آپ کے اعمال میں سے اس شخص کو حصہ دینے کے مترادف ہو جس کی آپ نے برائی کی ہے

- عمر درازؔ - 🖋

02/08/2026

کسی کی بات طبیعت کے خلاف ہوتی تو آپﷺ اس سے تغافل برتتے،
باز پرس و گرفت نہ فرماتے
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ❤️

02/08/2026

پیسے کا نقصان نظر آ جاتا ہے۔
صحت کا نقصان بھی محسوس ہو جاتا ہے۔ لیکن ایک نقصان ایسا ہے جو نظر نہیں آتا ...

وہ ہے دل کا سخت ہو جانا۔۔۔ پھر انسان قرآن سنتا ہے، مگر اثر نہیں ہوتا۔ دعا کرتا ہے، مگر آنسو نہیں آتے۔
گناہ کرتا ہے، مگر شرمندگی محسوس نہیں ہوتی۔ یہ وہ مقام ہے جس سے ہر مسلمان کو ڈرنا چاہیے۔ قرآن پاک ایسے دلوں کا ذکر کرتا ہے جو سخت ہو گئے۔

دل ایک دن میں سخت نہیں ہوتا... دل ہر اُس لمحے سے سخت ہوتا ہے جب ہم حق جان کر بھی اسے ٹال دیتے ہیں۔

*آج خود سے پوچھیں... کیا میرا دل اب بھی نصیحت سن کر بدلتا ہے؟*

02/08/2026

انسان کا سب سے بہترین دوست اللہ ہے، جو مشکل ہو یا آسانی، رات ہو یا دن، کبھی بھی، کہیں بھی، کسی بھی حال میں اکیلا نہیں چھوڑتا۔ ناراض ہوتا ہے تو بہت جلدی مان بھی جاتا ہے، کبھی رسوا نہیں کرتا۔ ہمیشہ ساتھ رہتا ہے، ہمیشہ ساتھ دیتا ہے۔ اور اللہ سے دوستی کے بعد پھر ایک وقت آتا ہے جب آپ کو تنہائی سے ڈر نہیں لگتا، اکیلا رہنا برا نہیں لگتا، آنکھوں میں لوگوں کی وجہ سے آنسو نہیں آتے، ہونٹوں پر ہر وقت مسکراہٹ رہتی ہے، اور ہم سے کوئی بات کرے نہ کرے، دل مطمئن رہتا ہے۔

02/08/2026

خود کو بہترین انسان کہنے سے پہلے دیکھ لیں کہ کیا واقعی آپ بہترین اور اچھے خلوص والے ہیں کی نہیں
کیوں کہ میں نے ایسے بہت سے لوگوں کو دیکھا ہے خواہ وہ مرد ہو یا عورت
جن کو اگر انسان ٹائم دینے لگے تو وہ اپنی منافقت اور دوغلہ پن ظاہر کر دیتے ہیں
کبھی کوئی کام کا بہانہ بنا کر آپکو اگنور کریں گے
کبھی آپ پر بنا وجہ غصّہ دیکھا کر کریں گے
ایسے لوگ آپ کو تبھی یاد کرتے ہیں جب یہ فری ہوتے ہیں
اپنے بزی وقت میں جو آپکو یاد رکھے وہی آپکا خالص اور مخلص ہے باقی دنیا میں دوغلے انسان اور منافق کی کمی نہیں ہے
تو بہتر ہے اگر آپ خالص ہیں تو ان سے ہی تعلق رکھیں جو آپ سے خالص ہے اگر کوئی آپ سے خالص نہیں ہے تو پھر اُن سے دوری اختیار کریں کیوں کہ ایسے منافق لوگ آپکو ذہنی مریض بنا دیں گے اور خود سکون سے رہیں گے تو ایسے دوغلے اور منافق چاہے مرد ہو یا عورت اُن سے بچ کر رہیں اپنا سکون برباد کرنے سے بچیں اور خوش رہیں۔۔۔۔۔🌹

01/08/2026

*جہنم کے اسباب اور نجات کی راہیں!*
(خواتین کے لیے ایک اصلاحی پیغام)

اسلام نے عورت کو عزت، وقار اور بلند مقام عطا فرمایا ہے، اور اس کے ساتھ دینی فرائض اور اخلاقی ذمہ داریوں کی ادائیگی کا بھی حکم دیا ہے۔ موجودہ دور میں بعض خواتین دینی غفلت اور مختلف فتنوں کی وجہ سے ایسے اعمال میں مبتلا ہو جاتی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس مضمون میں قرآنِ کریم اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں انہی چند اعمال کی نشاندہی کی گئی ہے، تاکہ ہر مسلمان عورت اپنی اصلاح کرے، گناہوں سے بچے اور اللہ تعالیٰ کی رضا و مغفرت حاصل کرنے کی کوشش کرے۔

1 *جہنم کا خوف اور فکر آخرت*

انسان دنیا کی معمولی آگ کی تپش بھی برداشت نہیں کر سکتا، پھر جہنم کی اس ہولناک آگ کا سامنا کیسے کرے گا جو دنیا کی آگ سے ستر گنا زیادہ شدید ہے؟ یہی احساس بندۂ مؤمن کے دل میں آخرت کی فکر پیدا کرتا اور اسے گناہوں سے دور رکھتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

«يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ
(سورۃ التحریم: 6)

ترجمہ: "اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔"»

*اصلاح کا راستہ:*
ہر مسلمان عورت کو چاہیے کہ دنیا پر آخرت کو ترجیح دے، گناہ کے وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کو یاد رکھے، اور توبہ، استغفار اور ذکرِ الٰہی کو اپنی زندگی کا معمول بنالے، اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھیں۔

2۔ *دینی غفلت اور فرائض میں کوتاہی*

نماز بندۂ مؤمن اور اس کے رب کے درمیان تعلق کی مضبوط کڑی ہے۔ جب انسان اس سے غفلت برتتا ہے تو دل پر بے حسی چھا جاتی ہے، ایمان کمزور ہونے لگتا ہے اور آہستہ آہستہ دین سے دوری پیدا ہو جاتی ہے۔ موجودہ دور میں بعض خواتین دنیاوی مصروفیات کی وجہ سے نماز، ذکرِ الٰہی، تلاوتِ قرآن اور دینی علم کی طرف مطلوبہ توجہ نہیں دے پاتیں، حالانکہ یہی اعمال دنیا و آخرت کی کامیابی کا اصل سرمایہ ہیں۔

حدیثِ پاک:

«بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ
(صحیح مسلم: 82)»

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "آدمی اور شرک و کفر کے درمیان حدِّ فاصل نماز کا ترک ہے۔"

*اصلاح کا راستہ:*
ہر مسلمان عورت کو چاہیے کہ نماز کو اپنی زندگی کی اولین ترجیح بنائے، تمام مشاغل پر اس کی پابندی کو مقدم رکھے، اور روزانہ کچھ وقت قرآنِ کریم کی تلاوت، اس کے ترجمے اور دینی علم کے حصول کے لیے ضرور نکالے۔ توبہ، استغفار اور ذکرِ الٰہی سے اپنے دل کو آباد رکھے، کیونکہ جس دل میں نماز کی روشنی زندہ رہتی ہے، وہی اللہ تعالیٰ کی قربت اور آخرت کی کامیابی سے سرفراز ہوتا ہے

3 *مال کمانے کی خواہش اور شرعی حدود کی پامالی*

اسلام نے عورت کو جائز طریقے سے کسبِ معاش کی اجازت دی ہے، لیکن اس کے ساتھ حیا، پردے اور شرعی حدود کی پابندی بھی لازم قرار دی ہے۔ ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ایک کامیاب تاجرہ تھیں، لیکن ان کی تجارت وقار، عفت اور شرعی اصولوں کے مطابق ہوتی تھی۔ یہی ہر مسلمان خاتون کے لیے بہترین نمونہ ہے۔

افسوس کہ آج بعض خواتین دنیاوی آسائشوں یا زیادہ مال کمانے کی خواہش میں ایسے ماحول کا حصہ بن جاتی ہیں جہاں غیر ضروری اختلاط، بے پردگی اور شرعی حدود سے غفلت پائی جاتی ہے۔ حالانکہ اسلام کی نظر میں اصل کامیابی صرف زیادہ مال کمانے میں نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت، حیا اور پاکیزگی کے ساتھ حلال روزی حاصل کرنے میں ہے۔

قرآنی دلیل:

«وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ
(سورۃ الأحزاب، آیت: 33)

ترجمہ: "اور اپنے گھروں میں وقار کے ساتھ رہو اور جاہلیتِ اولیٰ کی طرح اپنی زینت کی نمائش نہ کرتی پھرو۔"»

*اصلاح کا راستہ*
اگر ضرورت کے تحت ملازمت یا تجارت کرنی پڑے تو ایسے جائز ذرائع اختیار کیے جائیں جہاں حتیٰ الامکان غیر ضروری اختلاط سے بچا جا سکے، شرعی حجاب اور حیا کی پابندی برقرار رہے، اور دنیاوی فائدے کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھا جائے۔ یہی وہ طرزِ عمل ہے جس سے رزق میں برکت بھی پیدا ہوتی ہے اور دین و عفت بھی محفوظ رہتے ہیں۔

4 *سوشل میڈیا کا فتنہ اور بے راہ روی*

آج سوشل میڈیا، خصوصاً یوٹیوب اور انسٹاگرام نے بہت سی خواتین کی زندگی پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ بعض خواتین دوسروں کی اندھی تقلید میں بے ہودہ یا غیر شرعی ویڈیوز بناتی ہیں، رقص و موسیقی میں دلچسپی لیتی ہیں، ناشائستہ زبان استعمال کرتی ہیں اور اپنی حیا و وقار کو مجروح کر بیٹھتی ہیں۔ افسوس کہ بعض اوقات دینی نصیحتیں سننے کے باوجود ان پر عمل میں کوتاہی کی جاتی ہے، حتیٰ کہ شوہر اور بچوں کے حقوق کی ادائیگی اور گھریلو ذمہ داریوں میں بھی غفلت ہونے لگتی ہے۔

حدیثِ پاک:

«أُرِيتُ النَّارَ فَإِذَا أَكْثَرُ أَهْلِهَا النِّسَاءُ... يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، وَيَكْفُرْنَ الإِحْسَانَ
(صحیح بخاری: 29، 5197)

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مجھے جہنم دکھائی گئی تو میں نے دیکھا کہ اس میں زیادہ تر عورتیں تھیں۔" فرمایا: "وہ اپنے شوہروں کی ناشکری کرتی ہیں اور ان کے احسانات کو بھلا دیتی ہیں۔"»

*اصلاح کا راستہ*
سوشل میڈیا کو اندھی تقلید کا ذریعہ بنانے کے بجائے اسے خیر اور دین کی اشاعت کے لیے استعمال کریں۔ امہات المؤمنین کی پاکیزہ زندگی کو اپنا نمونہ بنائیں، اپنی زبان کی حفاظت کریں، اور شوہر، بچوں اور گھر کے حقوق و ذمہ داریوں کو خوش دلی سے ادا کریں۔

5۔ *خوشبو لگا کر باہر نکلنے کی ممانعت*

اسلام نے عورت کو حیا، عفت اور وقار کا پابند بنایا ہے۔ اسی لیے ایسی خوشبو (عطر) لگا کر گھر سے نکلنا، جس کی مہک غیر محرم مردوں تک پہنچے، شریعت میں حرام اور سخت گناہ قرار دیا گیا ہے۔ البتہ اپنے شوہر کے لیے گھر کے اندر خوشبو لگانا باعثِ اجر اور باعثِ زینت ہے۔

حدیثِ پاک:

«أَيُّمَا امْرَأَةٍ اسْتَعْطَرَتْ فَمَرَّتْ عَلَى قَوْمٍ لِيَجِدُوا مِنْ رِيحِهَا فَهِيَ زَانِيَةٌ
(جامع ترمذی: 2786)

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو عورت خوشبو لگا کر ایسے لوگوں کے پاس سے گزرے تاکہ وہ اس کی خوشبو محسوس کریں، تو وہ زانیہ ہے۔"

(تخریج: امام ترمذیؒ نے اس حدیث کو حسن صحیح کہا ہے)

*اصلاح کا راستہ*
عورت کو چاہیے کہ گھر سے باہر نکلتے وقت مہک والا عطر لگانے سے مکمل اجتناب کرے۔ البتہ اپنے شوہر کے لیے گھر کے اندر خوشبو لگانا باعثِ محبت اور پسندیدہ عمل ہے۔ ایک مسلمان عورت کی حقیقی زینت اس کی حیا، پردہ اور شرعی آداب کی پابندی میں ہے۔

*خلاصۂ کلام:*

یہ تحریر کسی کی دل آزاری یا تنقیص کے لیے نہیں، بلکہ موجودہ دور کے سنگین فتنوں سے آگاہ کرنے اور اصلاحِ احوال کی دعوت دینے کے لیے لکھی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عورت کو جو عظیم مقام و مرتبہ عطا فرمایا ہے، اس کی حفاظت اسی وقت ممکن ہے جب وہ محض رسومات اور نوافل پر اکتفا کرنے کے بجائے فرائض، خصوصاً نماز، کی پابندی کرے، مال کی حرص میں اپنی حیا و عفت کو مجروح نہ ہونے دے، اور توبہ و استغفار کو اپنا شعار بنا کر اللہ تعالیٰ کی رضا اور جہنم سے نجات کی فکر کرے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر اس عمل سے جو اس کی ناراضی اور جہنم کا سبب بنے، محفوظ فرمائے، اور ہمیں حیا، تقویٰ، اخلاص، استقامت اور حسنِ عمل کے ساتھ اپنی رضا نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

منقول

01/08/2026

💌 *ملفوظات و معارفِ حبیب* 🌙
🌹 *پیرِ طریقت، رہبرِ شریعت حضرت جی مولانا حافظ پیر حبیب الله احمد صاحب نقشبندی مجددی دامت برکاتہم العالیہ* 💖🌺
*جانشینِ حضرت جی*
🌹 *محبوب العلماء والصلحاء حضرت مولانا حافظ پیرذوالفقار احمد صاحب نقشبندی مجددی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ رحمۃً واسعۃً* 💖🤲🏻🌸
🌹━━━━━━━━━━━🌹
💖🌹 *نگاہ کی بے احتیاطی* 🌹💖

*🌿 ہمارے سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ کے ایک بزرگ، خواجہ ابوالحسن خرقانی رحمۃ اللہ علیہ، فرماتے تھے:*

*💔 "مردہ ہیں وہ قلوب جن میں خدا کے سوا اور کی محبت جاگ رہی ہو، وہ خواہ کتنے ہی عبادت گزار کیوں نہ ہوں۔"*

*🤲 محبت اللہ کی نہیں ہے، بلکہ نفسانی، شہوانی اور شیطانی محبتیں پالی ہوئی ہیں۔*

*👀 تو (Continuously) مسلسل بدنظری کرنا۔*

*📱 اور آج کل ہم یہی کرتے ہیں۔ نوجوان بیٹھے ہوتے ہیں، سکرین پر سرفنگ کر رہے ہوتے ہیں، اور گھنٹوں بدنظری چل رہی ہوتی ہے۔ وہ اس کے (Addicted) عادی ہوتے ہیں۔*

*😔 کئی دفعہ چاہتے ہیں کہ جان چھوٹے، لیکن صحبت میسر نہیں ہوتی، پھر جان بھی نہیں چھوٹتی۔*

*🏡 گھر میں بیوی موجود ہوتی ہے، خوبصورت بیوی ہوتی ہے، اللہ نے سب کچھ دیا ہوتا ہے، اس کے باوجود فون کے اوپر لگے ہوتے ہیں؛ نامحرم کو دیکھنا، ان سے باتیں کرنا...*

*💢 اپنا گھر تباہ ہو رہا ہوتا ہے، اپنا گھر برباد ہو رہا ہوتا ہے۔ اس کی فکر نہیں ہوتی، بس وہ ایڈیکشن ایسی لگی ہوتی ہے کہ جان ہی نہیں چھوٹتی۔*
💖🌹💖🌹💖🌹💖🌹💖

01/08/2026

پیارے بچوں کے لیے پیارے نبی ﷺ کی سیرت کہانی، قسط: 200

صلحِ حدیبیہ کے بعد پہلا غزوہ:
غزوۂ ذی قرد یا غزوۂ غابہ:

پیارے بچو!
پچھلی قسط میں ہم نے پڑھا تھا کہ عمان کے دو حکمران بھائی، جیفر اور عبد، حضرت عمرو بن العاص رضي الله عنه کی حکمت، نرمی اور اچھے اخلاق سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر گئے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کا پیغام دور دراز علاقوں تک پہنچنے لگا۔

آج ہم صلحِ حدیبیہ کے بعد پیش آنے والے ایک ایسے واقعے کے بارے میں پڑھیں گے جس میں حضرت سلمہ بن اکوع رضي الله عنه نے اپنی بہادری، حاضر دماغی اور رسول اللہ ﷺ سے محبت کی ایک یادگار مثال قائم کی۔

پیارے بچو!
ایک دن رسول اللہ ﷺ کے چند اونٹ مدینہ کے باہر چر رہے تھے۔ ان کی نگرانی آپ ﷺ کے غلام حضرت رباح رضي الله عنه اور ایک چرواہا کر رہے تھے۔ حضرت سلمہ بن اکوع رضي الله عنه بھی قریب ہی موجود تھے۔

صبح سویرے بنو فزارہ کے چند ڈاکو اچانک حملہ آور ہوئے۔ انہوں نے چرواہے کو شہید کر دیا اور رسول اللہ ﷺ کے اونٹ ہانک کر لے جانے لگے۔

حضرت سلمہ بن اکوعؓ نے ذرا بھی دیر نہ کی۔ انہوں نے حضرت رباحؓ سے فرمایا: "آپ فوراً مدینہ جائیں، رسول اللہ ﷺ کو خبر دیں اور ابوطلحہؓ کا گھوڑا بھی پہنچا دیں۔"

پھر حضرت سلمہؓ خود ایک اونچی جگہ پر چڑھے اور زور سے تین مرتبہ آواز لگائی: "یا صباحاہ!"

یہ عربوں میں خطرے کی اطلاع دینے کی پکار تھی۔ اس کے بعد وہ اکیلے ہی دشمن کے پیچھے روانہ ہو گئے۔ حضرت سلمہؓ نہایت تیزی سے دوڑتے، کبھی تیر چلاتے اور کبھی پہاڑوں کی اوٹ لے لیتے۔ جب بھی کوئی دشمن ان کی طرف بڑھتا، وہ محفوظ جگہ سے تیر چلا کر اسے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیتے۔

دشمن حیران تھا کہ ایک اکیلا مسلمان اتنی بہادری سے ان کا مقابلہ کیسے کر رہا ہے، آخرکار ڈاکو رسول اللہ ﷺ کے تمام اونٹ چھوڑ کر بھاگنے لگے، حضرت سلمہؓ نے ہمت نہیں ہاری بلکہ ان کا تعاقب جاری رکھا۔

دشمن نے اپنی رفتار تیز کرنے کے لیے راستے میں کئی نیزے اور چادریں بھی پھینک دیں۔ حضرت سلمہؓ ہر جگہ چھوٹے چھوٹے پتھر رکھ دیتے تاکہ بعد میں رسول اللہ ﷺ اور صحابۂ کرامؓ آسانی سے ان چیزوں کو پہچان سکیں۔

ادھر مدینہ میں خبر پہنچتے ہی رسول اللہ ﷺ صحابۂ کرامؓ کے ایک دستے کے ساتھ روانہ ہوئے، سب سے آگے حضرت اخرم رضي الله عنه تھے، ان کے بعد حضرت ابو قتادہؓ اور دوسرے بہادر صحابہؓ تھے۔

مقابلے کے دوران حضرت اخرمؓ شہید ہو گئے، لیکن حضرت ابو قتادہؓ نے دشمن کے ایک بڑے سردار عبدالرحمن فزاری کو ہلاک کر دیا۔ باقی حملہ آور خوفزدہ ہو کر بھاگ نکلے۔

شام کے قریب دشمن ایک چشمے کی طرف پہنچا تاکہ پانی پی سکے، لیکن حضرت سلمہؓ نے اپنی جرأت اور تیزی سے انہیں وہاں بھی نہ رکنے دیا، جب رسول اللہ ﷺ وہاں تشریف لائے تو حضرت سلمہؓ نے عرض کیا:

"یارسول اللہ! اگر آپ اجازت دیں تو میں مزید آدمیوں کے ساتھ جا کر دشمن کو گرفتار کر لاؤں۔"

رسول اللہ ﷺ نے مسکرا کر فرمایا: "اے سلمہ! اب نرمی اختیار کرو، اللہ تعالیٰ نے تمہیں کامیابی عطا فرما دی ہے۔"

اس کامیاب کارروائی کے بعد رسول اللہ ﷺ نے صحابۂ کرامؓ کی تعریف فرمائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "آج ہمارے بہترین شہسوار حضرت ابو قتادہؓ ہیں اور بہترین پیادہ سپاہی حضرت سلمہ بن اکوعؓ ہیں۔"

پیارے بچو!
رسول اللہ ﷺ نے حضرت سلمہؓ کو خصوصی انعام بھی عطا فرمایا اور واپسی کے سفر میں انہیں اپنی مبارک اونٹنی عضباء پر اپنے پیچھے سوار فرمایا۔ یہ حضرت سلمہؓ کے لیے بہت بڑا اعزاز تھا۔

اس غزوے کے دوران رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ کی نگرانی کی ذمہ داری حضرت عبداللہ بن اُمِ مکتومؓ کے سپرد فرمائی اور لشکر کا پرچم حضرت مقداد بن عمروؓ کو عطا فرمایا۔

پیارے بچو!
اس واقعے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ سچا مسلمان ہر حال میں اپنے دین، اپنے نبی ﷺ اور اپنے ساتھیوں کی حفاظت کے لیے تیار رہتا ہے۔ بہادری کے ساتھ ساتھ عقل، صبر، نظم و ضبط اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت بھی کامیابی کی بڑی وجہ ہوتی ہے۔

✺ اس قسط سے حاصل ہونے والے مختصر سبق:

✦ مشکل وقت میں ہمت اور بہادری سے کام لینا چاہیے۔

✦ خطرے کے وقت دوسروں کو بروقت اطلاع دینا بہت اہم کام ہے۔

✦ اللہ تعالیٰ بہادر، مخلص اور صبر کرنے والوں کی مدد فرماتا ہے۔

✦ کامیابی کے بعد غرور نہیں بلکہ نرمی اور شکر اختیار کرنا چاہیے۔

✦ رسول اللہ ﷺ اپنے جانثار صحابۂ کرامؓ کی حوصلہ افزائی فرماتے تھے۔

✦ اپنے دین اور مسلمانوں کی حفاظت کرنا بڑی ذمہ داری ہے۔

✺ بچوں کے لیے سوالات:

سوال ❶: بنو فزارہ کے لوگوں نے کیا کیا تھا؟
سوال ❷: دشمن کے حملے کی خبر سب سے پہلے کس صحابیؓ نے دی؟
سوال ❸: حضرت سلمہؓ نے دشمن کا مقابلہ کس طرح کیا؟
سوال ❹: رسول اللہ ﷺ نے اس غزوے میں بہترین پیادہ سپاہی کسے فرمایا؟
سوال ❺: بہترین شہسوار کس صحابیؓ کو قرار دیا گیا؟
سوال ❻: رسول اللہ ﷺ نے حضرت سلمہؓ کو کون سا خاص اعزاز عطا فرمایا؟
سوال ❼: اس پوری قسط کا سب سے اہم سبق کیا ہے؟

========> جاری ہے ۔۔۔

جمع وترتیب: محمد احمد صارم
پیشکش: ”ٹیم صرف اسلام فیس بک گروپ“

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al Ilm Islamic Institute posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share