مغرب ہم سے بہتر ہے
بس اگر کلمہ پڑھ لے تو ؟
مغربی اثرات کے تحت ،مسلمانوں کے ذہنوں میں یہ مفروضہ ہے کہ:
"مغرب کی اجتماعی زندگی ،
اعلی انسانی اخلاق کا نمونہ ہے،
لہٰذا مغرب ہم سے بہتر مسلمان ہے ،
بس کلمہ پڑھنے کی دیر ہے۔"
یہی دعویٰ دوسرے انداز میں یوں پیش کیا جاتا ہے:
"اجتماعی زندگی میں مغرب ہم سے بہت بہتر ہے،
البتہ ذاتی معاملات (مثلاً : بد کاری، شراب نوشی وغیرہ کے استعمال ) میں کچھ خامیاں پائی جاتی ہیں۔"
یعنی اہل مغرب کی اجتماعی زندگی ، اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے۔
اس دلیل کو درست ماننے کے نتائج یہ نکلتے ہیں کہ:
(۱) ہم مغرب کے اجتماعی زندگی کو دل و جان سے اپنانے کا اسلامی جواز پیش کرتے ہیں ۔
(۲) اہل مغرب کی انفرادی برائیوں کو سیکنڈری حیثیت دے کر ،
نئی آنے والی نسل کے لیے انہیں برداشت کرنے اور قبول کرنے کا راستہ کھولتے ہیں۔
درج بالا دعوے کی کمزوری :
عام طور پر ہر مسلمان آج یہ اندھا یقین کرتا ہے کہ ،
مغرب میں احترام انسانیت کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے ،
مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ۔۔۔۔
آخر مغربی انسان کی انسانیت کہاں مر گئی ہوتی ہے ،
جب وہ اپنے سگے ماں باپ کو مصیبت و بوجھ سمجھ کر ،
اولڈ ہاوسز کے حوالے کرتا ہے ۔
احترام انسانیت ۔۔۔۔۔
بلکہ احسان انسانیت کا سب سے پہلا حق دار ۔۔۔۔۔
ماں باپ ہیں ،
تو مغرب میں یہ احترام کیوں نہیں پایا جاتا ؟
اسی طرح ۔۔۔
عام طور پر ہر مسلمان آج یہ اندھا یقین کرتا ہے کہ ،
مغرب میں قانون کی پاسداری ہے،
رات کو تین بجے بھی سگنل بند ہو تو لوگ گاڑی روک دیتے ہیں ۔
لیکن یہی مغربی انسان جو قانون کا پاسدار و دیانتدار تھا ،
جونہی اپنے ملک کی سرحدوں سے باہر قدم رکھ کر ۔۔۔۔
کمزور ملکوں کی سرحدوں میں داخل ہوتا ہے۔۔۔۔
تو کیوں کر ہر طرح کی کرپشن، ناانصافی، قتل و غارت گری کو درست سمجھتا ہے ؟
درحقیقت درج بالا تجزیہ پیش کرنے والے مفکرین ۔۔۔۔۔۔۔
مباحث اخلاقیات ۔۔۔۔۔
نیز morality اور ethics کے فرق سے ناواقف ہیں ،
اور یہ لوگ سرمایہ دارانہ ڈسپلن(capitalist disciplines) کو اخلاق کے ساتھ مکس کر دیتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ،
مغرب کی اجتماعی زندگی اعلیٰ اخلاق کا نمونہ نہیں ہے ،
بلکہ انتہائی گھٹیا انسانی عادات پر مبنی ہے،
(یعنی حرص ، حسد، شہوت، حب جاہ، دنیا و مال)
وہاں اعلیٰ اخلاق (مثلاً : للہیت، عشق رسول، شوق عبادت، خوف آخرت ،طہارت، تقوی، عفت ،حیا، ایثار، شوق شہادت، توکل، صبر، شکر، زہد، فقر، قناعت ، عزیمت وغیرہ) پنپنے کا کوئی امکان موجود نہیں۔
ڈاکٹر زاہد مغل
Maulana qari Ismail
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Maulana qari Ismail, Education Website, street 5, Karachi.
"Welcome to Molana Qari Ismail Our page aims to share the beauty and wisdom of Islam, Join us for inspiring quotes, educational posts, and thought-provoking discussions
جب سپین میں چھری اور نیزوں سے ہزاروں بیل ہلاک ہوجاتے ہیں.......
اور اذیت دیتے ہوئے کہتے ہیں ،
"یہ توکھیل ہے! اور جب ڈینمارک میں ہر سال سیکڑوں افراد ہزاروں ڈالفن کو قتل کردیتے ہیں.
(یہاں تک کہ سمندر کا رنگ سرخ ہوجاتا ہے)
وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک "تہوار ( مھرجان) ہے!
اور جب یہودیوں کا ایک گروہ ہزاروں مرغیوں کو پتھروں پہ ماردیتے ہیں ....
وہ اپنے عقیدے کے مطابق اسی طرح انکے گناہ معاف ہوجاتے ہیں.
وہ کہتے ہیں "عقیدہ اور مذہب! اور جب عیسائی بھارتی پرندوں کو ذبح کرتے ہیں
نئے سال کے دن اور اسکو وہ اپنا مقبول کھانا کہتے ہیں. لیکن جب مسلمان خدا کے لئے کسی جانور کو قربان کرکے اتنا احتیاط برتے ہیں
کہ چھری تیز ہو جانور کو چارہ و پانی ڈال کر پھر کوئی اور جانور سامنے نہ ہو...
اور انکا گوشت مساکین میں تقسیم ہو تو
سرخوں اور کفار کی پلی ہوئی اولاد سوشل میڈیا پہ نمودار ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ قربانی سے بہتر ہے یہ رقم مساکین کو دی جائے۔
اسکی وجہ یہ ہے کہ اسلام دین حق ہے اور حق سے شیطانوں کو تکلیف ہوتی ہے.....
عظیم منافقت
اگر مسلمان لڑکی گھر سے بھاگ کر شادی کرے۔۔۔
تو عورت کی آزادی ،
عورت کا حق۔
لیکن اگر کوئی ہندو لڑکی گھر سے بھاگ کر مسلمان ہونے کے بعد کسی سے نکاح کرے ،
تو یہ زبردستی اسلام قبول کروانا ہے۔
اگر کسی کے مذہب، انبیاء، شعائر، تعلیمات کی صبح سے شام تک توھین کرو ،
تو یہ آپ کا حق ہے،
اور اظہار رائے کی آزادی۔
لیکن کوئی آپ کو اسی لہجے اور الفاظ میں جواب دے ۔۔۔
تو
شدت پسند،
جاہل،
ط۔الب۔ان۔
اگر کوئی مسلمان الله اور اس کے نبی کے حکم اور عشق میں ۔۔۔۔
قربانی کرے اور مکہ مدینہ کی زیارت کو جائے ۔
تو پیسے کا زیاں ،
اور خدمات خلق کے مشورے۔
لیکن خود مہینے کے 10 دن لندن، دہلی، ٹورنٹو، نیو یارک میں ۔۔۔
کروڑوں کی شرابیں اور شاپنگ پر خرچ کریں،
تو
یہ زندگی انجوائے کرنا ہے ،
خدمت خلق کی مروڑ بھی نہیں اٹھتی۔
اگر اقلیتوں کا ایک کتا بھی روڈ پر مارا جائے تو
"اقلیتوں پر ظلم،
بنیاد پرستی کا بڑھنا،
پاکستان ناکام ریاست،
پاکستان غیر محفوظ۔"
لیکن اگر اکثریت کے ساتھ ظلم ہو
تو لمبی طویل گہری خاموشی ۔
کسی چرچ یا مندر کے سامنے ٹائر پھٹ جائے،
تو انگریزی اخباروں اور ٹالک شوز میں مسلمانوں اور اسلام کی سخت مذمت ۔
لیکن
اگر امریکی ڈرون مدرسے میں ،
قرآن پڑھتے 85 پھول جیسے بچوں کے چیتھڑے بنا دیں ،
تو دہشت گرد مارے گئے۔
منقول
سر سید احمد خان
سر سید احمد خان نے ایک باطل مذہب وضع کیا تھا،
جسے انہوں نے "نیچریت" کا نام دیا تھا۔
ان کے منگھڑت عقائد میں سے کوئی ایک عقیدہ رکھنے سے ہی بندہ دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے ،
جبکہ گستاخیاں اس کے علاوہ ہیں
ذیل میں سرسید کے عقائد و نظریات ان کی کتابوں سے نقل کیے گئے ہیں۔
ﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ :
اس کا پسندیدہ دین اسلام ہے (ان الدین عند الله الاسلام)
مگر سر سید اس پر راضی نہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ:
’’جو ہمارے خدا کا مذہب ہے وہی ہمارا مذہب ہے۔
خدا نہ ہندو ہے ،
نہ عرفی مسلمان،
نہ مقلد ،
نہ لامذہب ،
نہ یہودی ،
نہ عیسائی،
وہ تو پکا چھٹا ہوا نیچری ہے‘‘
’’نیچر خدا کا فعل ہے ،
اور مذہب خدا کا قول ہے،
اور سچے خدا کا قول اور فعل کبھی مخالف نہیں ہوسکتا۔
اسی لئے ضرور ی ہے کہ مذہب اور نیچر متحد ہوں۔
👈نبی کی شان میں گستاخی۔۔۔۔
علم عقائد کی تقریباً ساری کتابوں میں ،
"نبی" کی یہ تعریف کی گئی ہے:
’’نبی وہ مرد ہے جسے ﷲ تعالیٰ نے مبعوث کیا، احکام کی تبلیغ کے لیے‘‘۔
اور یہی معنی عوام میں مشہور و معروف ہے اور یہی حق ہے ،
مگر سرسید کہتا ہے کہ:
’’نبوت ایک فطری چیز ہے،
ہزاروں قسم کے ملکاتِ (مہارت) انسانی ہیں۔
بعض دفعہ کوئی خاص ملکہ (مہارت) کسی خاص انسان میں از روئے خلقت و فطرت،
ایسا قوی ہوتا ہے کہ ۔۔۔
وہ اس کا امام یا پیغمبر کہلاتا ہے،
لوہار بھی اپنے فن کا امام یا پیغمبر ہوسکتا ہے،
شاعر بھی اپنے فن کا امام یا پیغمبر ہوسکتا ہے۔
ایک طبیب بھی اپنے فن کا امام یا پیغمبر ہوسکتا ہے‘‘۔
’’جتنے بھی پیغمبر گزرے سب نیچری تھے‘‘
👈حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضور ﷺ کی شان میں گستاخی:
’’حج اس بڈھے (ابراہیم علیہ السلام) خدا پرست کی عبادت کی یادگاری میں قائم ہوا تھا ،
اس لیے اس عبادت کو اسی طرح اور اسی لباس میں ادا کرنا قرار پایا تھا۔
جس طرح اور جس لباس میں اس نے کی تھی۔
محمد ﷺ نے اس سویلائزیشن (تہذیب) کے زمانے میں بھی ،
اس وحشیانہ صورت اور وحشیانہ لباس (حج کا احرام شریف) کو ہمارے بڈھے دادا کی عبادت کی یادگار میں قائم رکھا۔
👈موسی علیہ السلام کی شان میں گستاخی۔۔۔۔
"اگر موسیٰ کو کوئی ٹرگنا میٹری کا قاعدہ نہ آتا ہو اور اس نے اس کے بیان میں غلطی کی ہو تو اس کی نبوت اور صاحبِ وحی و الہام ہونے میں نقصان نہیں آتا ،
کیونکہ وہ ٹرگنامیٹری یا اسٹرانومی کا ماسٹر نہیں تھا۔
وہ ان امور میں تو ایسا ناواقف تھا کہ ۔۔۔
ریڈسی (Red Sea) کے کنارہ سے کنعان تک کا جغرافیہ بھی نہیں جانتا تھا ،
اور یہی اس کا فخر اور یہی دلیل اس کے نبی اولو العزم ہونے کی تھی‘
👈حضرت عیسی علیہ السلام کی شان میں گستاخی:
آج تک ملت اسلامیہ اس بات پر متفق ہے کہ عیسٰی علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے ،
مگر سرسید کہتا ہے:
’’میرے نزدیک قرآن مجید سے ان کا بے باپ ہونا ثابت نہیں ہے‘‘
’’اور وہ (حضرت مریم رضی اﷲ عنہا) حسبِ قانونِ فطرتِ انسانی،
اپنے شوہر یوسف سے حاملہ ہوئیں‘‘۔
نعوذباللہ من ذالک
👈حضور ﷺ کی شان میں گستاخی
’ایک یتیم بن ماں باپ کے بچے کا حال سنو ،
جس نے نہ اپنی ماں کے کنارِ عافطت کا لطف اٹھایا،
نہ اپنے باپ کی محبت کا مزہ چکھا،
ایک ریگستان کے ملک میں پیدا ہوا اور اپنے گرد سوائے اونٹ چرانے والوں کے غول کے کچھ نہ دیکھا ،
اور سوائے لات و منات و عزیٰ (بُتوں کے نام) کو پکارنے کی آواز کے کچھ نہ سنا،
مگر خود کبھی نہ بھٹکا‘‘۔
👈قرآن پاک کی شان میں گستاخی۔۔۔
’قرآن مجید کی فصاحتِ بے مثل کو معجزہ سمجھنا ایک غلط فہمی ہے‘‘۔
’’ہم نے تمام قرآن میں کوئی ایسا حکم نہیں پایا ،
اور اس لیے ہم کہتے ہیں کہ قرآن میں ناسخ و منسوخ نہیں ہے‘‘
عیسائیوں کے متعلق لکھتے ہیں:
’’البتہ میری خواہش رہی کہ مسلمانوں اور عیسائیوں میں محبت پیدا ہو ؛
کیونکہ قرآن مجید کے موافق اگر کوئی فرقہ ہمارا دوست ہوسکتا ہے تو وہ عیسائی ہیں‘‘۔
نصاب میں تو ہمیں پڑھایا جاتا ہے کہ :
سر سید احمد خان دو قومی نظریے کا بڑا علمبردار تھا،
خود فیصلہ کریں کہ کیا دو قومی نظریے کا حامی عیسائیوں کے متعلق ایسی خواہش رکھ سکتا ہے؟
👈انگریزوں کی چاپلوسی۔۔۔۔۔
برٹش استعمار کے لیے لکھتے ہیں:
’’گو ہندوستان کی حکومت کرنے میں انگریزوں کو متعدد لڑائیاں لڑنی پڑی ہوں،
مگر درحقیقت نہ انہوں نے یہاں کی حکومت بہ زور حاصل کی ،
اور نہ مکروفریب سے۔
بلکہ درحقیقت ہندوستان کو کسی حاکم کی اس کے اصلی معنوں میں ضرورت تھی۔
سو اس ضرورت نے ہندوستان کو انگریزوں کا محکوم بنادیا‘‘۔
’’جن مسلمانوں نے سرکار (انگریز) کی نمک حرامی اور بدخواہی کی(1857ع کی جنگِ آزادی میں حصہ لیا) ،
میں ان کا طرف دار نہیں ہوں۔
میں ان سے بہت زیادہ ناراض ہوں ،
اور ان کو حد سے زیادہ برا جانتا ہوں ؛
کیونکہ یہ ہنگامہ ایسا تھا کہ۔۔۔
مسلمانوں کو اپنے مذہب کے بموجب ۔۔۔
عیسائیوں کے ساتھ رہنا چاہیے تھا ،
جو اہل کتاب اور ہمارے مذہبی بھائی بند ہیں‘‘۔
"تمام اہلِ ہند اپنے وائسرائے لارڈ کیننگ دَامُ اِقْبَالُہُمْ کا یہ رحم اور احسان کبھی دل سے نہیں بھولیں گے ،
جس میں تمام اصلی حالاتِ فساد پر غور کرکے اس پر رحم کے اشتہار جاری ہونے کی صلاح دی…
تمام اہل ہند ان کے اس احسان کے بندے ہیں اور دل و جان سے ان کو دعا دیتے ہیں۔
الٰہی تو ہماری دعا کو قبول کر۔
آمین،
الٰہی جہان ہو اور ہمارا وائسرائے لارڈ کیننگ ہو‘‘۔۔۔۔۔
اسکے علاوہ سر سید کی اپنی کتابیں خطوط مقالات وغیرہ ۔۔۔۔
گستاخیوں خرافات کفریہ کلمات اور انگریز کی چاپلوسی اور مسلمانوں کو گالیوں سے بھرے پڑے ہیں ۔۔۔
ان سب کے باوجود مسلمانوں کے سامنے زبردستی ۔۔۔۔
سرسید احمد ۔۔۔۔
کو ایک ہیرو مدبّر مسلمانوں کے پیشوا ورہنما کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ۔۔۔
الامان و الحفیظ
*پیش خدمت ہے جدید دنیا کا پسندیدہ نظریہ – سیکولر ازم!*
ایک ایسا مکمل پیکج جو آپ کو مذہب اقدار اور غیرت سے چھٹکارا دلائے محض ایک قسط میں!
فوائد:
ضمیر کی آواز بند۔
حلال و حرام کا فرق ختم۔
جنت و دوزخ کی فکر سے نجات۔
مذہب کو صرف فیس بک پر "ریلیکسیشن کوٹ" بنانے کی اجازت
اور سب سے بڑی بات: ہر بات کا الزام مولوی پر!
استعمال کا طریقہ:
روزانہ صبح اٹھ کر تین مرتبہ کہنا،
"ریاست کا کوئی مذہب نہیں!"
پھر فوراً مغربی نیوز چینل لگائیں اور جو وہ بولیں وہی دُہرائیں۔
آپ خود بخود "روشن خیال" بن جائیں گے۔
بونس آفر:
پہلے 100 سیکولر ہونے والوں کو تاریخ کے حافظے سے آزادی دی جائے گی۔
اب آپ سیدنا عمر کے عدل کی بات کو بھی "شدت پسندی" کہہ سکتے ہیں اور فریڈم آف ایکسپریشن کے نام پر کسی بھی مقدس چیز پر تبصرہ کر سکتے ہیں بس نام "فریڈم" رکھنا نہ بھولیں!
ہدایات:
داڑھی والوں سے فاصلہ رکھیں۔
قرآن کو صرف "لٹریچر"
سمجھیں۔
نماز کو "پرسنل میٹر" بنائیں۔
مگر مغربی تہوار ضرور جوش سے منائیں، کیونکہ وہ "ثقافتی ورثہ" ہے!
سائیڈ ایفیکٹس:
حیا کی کمی
شناخت کا بحران
اقدار کی موت
اور آخر میں:انکی روحانی خلا جسے Netflix ہی پُر کر سکتا ہے
خبردار!
سیکولر ازم دل کو خالی دماغ کو مغلوب اور قوم کو غلام بناتا ہے۔
مگر چونکہ یہ "ماڈرن" ہے اس لیے ہر ٹی وی اینکر، ہر یونیورسٹی کا "جدید مفکر" اور ہر "لبرل بلاگر" اسے بیچ رہا ہے!
نوٹ:
یہ تحریر محض مزاحیہ انداز میں نظریاتی تنقید ہے اگر کوئی سیکولر دوست ناراض ہو جائیں تو...
Well, “Tolerance” is their motto, right?
تحریر
*محمد عبداللہ نوررانی*
2025 ۔ 5 ۔ 1
المورد (غامدی اینڈ کمپنی) کا پورا فہم دین۔۔۔۔
بظاہر چند اصولوں پر کھڑا محسوس ہوتا ہے
1) ہر معاملے میں کوشش کرو کہ ۔۔۔۔۔
نئی بات کرو اور لوگوں کو چونکا دو۔
دوسروں سے منفرد نظر آؤ، کچھ الگ کر کے دکھاؤ۔
2) جو بھی نئی بات کرو ،
وہ مسلمانوں کے شعور اجتماعی سے کٹی ہوئی ہو۔
تاکہ انفرادیت برقرار رہے.
3) دین کی وہ تعبیر پیش کرو ،
جو مغرب اور مغرب زدہ لوگوں کے لیے قابل قبول ہو.
4) ہر نئی بات ایسے حتمی لہجے میں کرو ،
جیسے دین کا فہم تو آپ پر ہی اترا ہے ۔۔۔۔۔
باقی امت کے اکابرین نے تو وقت ہی ضائع کیا ہے.
5) نئی بات کر کے تھیٹر کے پرفارمر کی طرح داد طلب نظروں سے ادھر ادھر ضرور دیکھو.
6) طاقت کے مزاج بدلتے دیکھ کر رائے بدل لو ،
اور ہر نیا یوٹرن اسی فکری رعونت سے لو ،
جس سے رائے قائم کی تھی۔
7) جو رائے قائم کرو یاد رکھو کہ اس باب میں تو کوئی دوسری رائے ہو نہیں سکتی۔
8) دین کو بالکل ہومیو پیتھک کردو۔
9) خلط مبحث پیدا کرو۔
معاملہ کوئی ھی ہو کھینچ تان کے قصور مسلمانوں کا ہی نکالو۔
ظلم غزہ میں ہو تو ظالم کے بجائے ،
پاکستانی علماء پر فکری تنقید شروع کر دو۔
ہوائی جہاز میں ہو یا سمندری جہاز میں مضمون ایک ہی لکھو:
فٹ بال کا میچ۔
آصف محمود
فکری دیوالیہ پن
کاش... ترازو سب کے لیے ایک سا ہوتا۔
ڈاکوؤں اور قاتلوں کی گرفتاری کا حکم دینے والا جج قابل ستائش ہے حالانکہ وہ خود مجرموں کو پکڑنے نہیں جاتا۔ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی منظوری دینے والے وزراء محب وطن ہیں حالانکہ وہ خود جا کر دہشتگردوں سے نہیں لڑتے۔ کرپٹ لوگوں اور لینڈ مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرنے والے وزارت داخلہ کے افسران بڑے فرض شناس ہیں حالانکہ وہ خود صرف کمرے میں بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں۔ دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کا فیصلہ کرنے والا وزیراعظم قوم کا بہادر سپوت ہوتا ہے جبکہ وہ خود بندوق بھی نہیں اٹھا سکتا۔ لیکن مسلم ریاستوں کو جہاد کا فتویٰ دینے والا مفتی غلط ہے کیونکہ وہ خود میدان میں نہیں نکلتا۔
لبرلز کی منافقت ۔۔
تاریخ لکھی جائے گی کہ مصر کے پاس دریائے نیل تھا اور غزہ پیاس سے مر گیا۔😢
تاریخ لکھی جاۓ گی کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے پاس تیل کے سمندر تھے، جبکہ غزہ کے ہسپتالوں اور ایمبولینس کے لیے ایندھن نہیں تھا۔😢
تاریخ لکھی جاۓ گی کہ مسلمانوں کے پاس 50 لاکھ سے زائد فوجی تھے : مصر، ایران، ترکی اور پاکستان کے پاس جنگی جہاز میزائل بھی تھے مگر وہ نہ کوئی سپاہی غزہ بھیج سکے اور نہ غزہ میں قتل عام اور نسل کشی کو روک سکے۔😢
تاریخ لکھی جاۓ گی کہ سعودی عرب نے اربوں ڈالر ناچ گانے کی پارٹیوں پر لٹا دئیے لیکن غزہ میں روٹی پانی نہیں تھا۔😢
اور تاریخ لکھی جاۓ گی کہ 1947 میں پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا لیکن اس نے غزہ میں اپنے اسلامی بہن اور بھائیوں کی مدد کے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔😢
اور تاریخ لکھی جاۓ گی کہ ایران اور ترکی نے اسلام کا نام تو بہت استعمال کیا لیکن غزہ کے قتل عام کو روکنے کے لیے ایک قدم بھی نہ اٹھایا جبکہ مسلمانوں کے قتل عام میں حصہ بہت ڈالا۔😢
تاریخ لکھی جاۓ گی کہ مسلمان قوم اپنے حکمرانوں کو تو مورد الزام ٹھہراتی رہی لیکن پیپسی، کوک، سپرائٹ اور سٹنگ پینا چھوڑ سکی، نہ میکڈونلڈ اور کے ایف سی (KFC) کے برگر کھانا چھوڑ سکی، نہ ہی دیگر یہود و نصاریٰ کی مصنوعات کی خرید و فروخت چھوڑ سکی😢
تاریخ لکھی جاۓ گی کہ مغرب میں لوگ اسرائیلی تباہ کاریوں کے خلاف سڑکوں پر نکلتی رہی لیکن مسلمان ممالک میں لوگ گھروں میں بیٹھے رھے۔😥
“قیامت کے دن حساب تو سب ہی کا ہوگا،
مگر حشر بتائے گا کہ جیتا کون اور ہارا کون!”
اللھم انصر اہل الفلسطین وغزہ۔ آمین یارب العالمین
کھری کھری باتیں
پاکستانی معاشرے میں ملحد ہونا تو انتہائی آسان ہے،
کلمہ دل کا معاملہ ہے،
ماننا چھوڑ دیں کسی کو خبر نہیں ہوگی،
نماز نہ پڑھنے والے اکثریت رکھتے ہیں ،
ملحد پر بھی کوئی شک نہیں کرے گا،
رمضان آتے ہی بستر پکڑ لیں یا باہر کا ٹور tour کرلیں ،
بلکہ
گھر میں ہوتے ہوئے بھی روزہ رکھنے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے ۔۔۔۔
اپنا الحاد جاری رکھ سکتے ہیں،
کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوگی۔
پورے کا پورا دین آپ چھوڑ دیں،
لیکن آپ کو مسلمان ہی سمجھا جائے گا۔
کتنا آسان اور سہل ہے ملحد ہونا ،
البتہ ۔۔۔۔
مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ۔۔۔۔
جب آپ اپنے الحاد کو اعلانیہ بیان کرتے ہوئے۔۔۔
مسلمانوں کے مقدسات کے خلاف بکواسات شروع کرتے ہیں.
مولویوں کو گالی دینا ۔۔۔ قابل برداشت ہے،
فرقوں پر تنقید سے کچھ نہیں بگڑتا،
لیکن جب آپ کی دریدہ دہنی سے اللّہ ، پیغمبر اور اس کے اصحاب کی مقدس شخصیات بھی محفوظ نہ رہیں ،
اور ان کے متعلق رکیک اور سوقیانہ جملے بازی ۔۔۔
آپ کے گندے الحاد کی تسکین کا ذریعہ بن جائیں ،
تو پھر ذرا پوزیشن درست کر لینی چاہیے۔
جب خدا و نبی کی ذات کو ۔۔۔۔
آپ نے بے توقیر کردیا ۔۔۔
تو پھر ان کے پاکیزہ کلمے کو۔۔۔۔
آپ کے گلے کا ہار کیوں مانا جائے؟؟
آپ اپنے آپ کو ابھی بھی مسلمان کیوں کہلوانا پسند کرتے ہیں ؟؟
یہاں ہمارے کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ ۔۔
خدا کے عفو درگزر کو مدنظر رکھا جائے اور اس کی شان کریمی کی طرف دیکھا جائے،
لیکن وہ ایک مغالطہ کا شکار ہیں۔
جس طرح قرآن مجید میں رب کی رحمتوں کا ذکر ہے ،
اسی کے ساتھ ساتھ منکرین کیلئے اس کے عذاب کا بھی ذکر ہے۔
اگر اچھے و برے، نیک و بد اور مومن و منکر کو ایک ہی لکڑی سے ہانکا جائے۔۔۔
تو پھر خدا کے انصاف اور عدل کا تصور ہی ختم ہو جاتا ہے۔
ہم بحیثیت مسلمان جزا اور سزا دونوں پر یقین رکھتے ہیں،
اور ہمیں قرآن نے یہی حکم دیا ہے۔
ہمیں قرآن کی ان آیات کو سمجھنے کے لیے۔۔۔
کسی عقل سے پیدل لبرل کی تاویلات کی ضرورت نہ پہلے تھی،
نہ ہے اور نہ ہی کبھی ہوگی۔
لہٰذا ایسے زبان دراز لبرل کو ۔۔۔
کافر ہی کہا جائے گا ۔
اگرچہ ان کافروں کو برا لگے ۔
ولو کرہ الکافرون
(شیخ نوید)
اپنی بچیوں کو مذہب پر عمل کرنے والے داماد کے حوالے مت کرو ۔۔۔
کیونکہ وہ انہیں تین وقت کی روٹی،
دو وقت کی چائے،
من پسند کپڑے،
بلا وقت کھانا پینا،
ہر خاندانی فنکشن کے اخراجات دے،
حمل میں سہولت دے،
گرمی سردی سے بچاؤ دے ،
غیر مردوں سے محفوظ رکھے ،
بچوں کے اخراجات اٹھائے ،
اور پوری زندگی آپ کی بیٹی کی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے جان کھپائے۔۔۔۔
بلکہ۔۔۔
اپنی بچیوں کو کسی دین بیزار ،
لبرل، ملحد ، آزاد خیال ، روشن خیال یا فیمینسٹ کے حوالے کردیں۔۔۔
جو اس سے جاب job کروائے،
بجلی کا بل اور گھر کا کرایہ آدھا بھروائے ،
راشن ڈالنے کے آدھے پیسے لے،
حمل کے دوران کارخانوں اور دفتروں میں ذلیل بھی کروائے،
اس سے بچے بھی پیدا کروائے،
سردی ، گرمی کے کپڑے بھی نہ دلوائے ،
خوش رہو اپنے خرچے پر کا راگ سنائے ،
بچوں کے کام بھی کروائے ،
اور کمپنی میں انچارج اور باس کے نخرے بھی اٹھوائے،
اور آزادی کی سریلی بانسری بجائے ،
ساتھ میں تمام خرچوں سے بھی بچا رہے۔
از قلم
بکاؤ مال لبرلز کا خیر خواہ
::: *ایوبی و غزنوی آج بھی موجود ہیں* :::
ِ_تربیت 14
آج ایوبی و غزنوی اور عثمان غازی کیوں نہیں پیدا ہوتے ؟
`حقیقت یہ ہے کہ اِس وقت سینکڑوں ایوبی بُہتیرے غزنوی اور بے شمار عثمان غازی موجود ہیں`
*آپ پوچھیں گے کہاں ہیں ؟*
تو اس کا جواب ہے
`وہ عوام میں ہیں"
عام لوگ ہیں مگر موجود ضرور ہیں`
یہ امت بانجھ نہیں ہے
*غزنوی و ایوبی حکومت میں نہیں ہیں*
امت کا فائدہ تب ہوگا
جب یہ لوگ حکومت میں ہوں گے
جب یہ لوگ صاحبِ اقتدار ہوں گے
مگر اقتدار پر تو لالچی بھیڑیے اور فوج کے لشکروں پر بزدل مسلط ہیں
*اب بھی وہ مائیں ہیں جو اپنے جوان بیٹوں کو دولہے کی طرح سجا کے شہادت گاہ کی طرف بھیجنے کا حوصلہ رکھتی ہیں*
مگر قیادت کرنے والے بزدل ہیں
جذبہَ عشق سلامت ہے تو انشاء اللہ
کچے دھاگے سے چلے آئیں گے سرکار بندھے
`حکمرانوں میں وہ شوقِ شہادت نہیں سپہ سالاروں میں وہ محبتِ میدانِ جنگ نہیں سپاہیوں میں وہ غیرتِ دینی نہیں جو ایوبی و غزنوی اور ان کے سپاہیوں میں تھی`
کسی نے کیا خوب کہا ھے کہ
اُس قوم میں کوئی بھلائی نہیں ھے
*جس قوم میں تلوار بزدلوں کو تھمائی گئی ہو*
*مال و دولت چوروں اور ڈاکوؤں کے پاس ہو*
*اور قلم منافقوں کے ہاتھوں میں ہو*
کوئی بھی قوم تین چیزوں کی وجہ سے بلند ہوتی ھے
دشمن سے حفاظت کے لئے اسلحہ
قومی ترقی کے لئے پیسہ
اخلاقی ترقی کے لئے علم
مگر جہاں اسلحہ پہ بزدلوں"
مال و دولت پہ چوروں
اور قلم پہ قبضہ منافقوں کا ہو
وہاں ذہنی غلام اور اغیار سے جلد مرعوب ہونے والے جوان پیدا ہوں گے
*ایوبی جیسا فاتح بیت المقدس اور غزنوی جیسا بے شکن اور عثمان غازی جیسا عظیم سلطنت کی بنیاد رکھنے والا فاتح بالکل پیدا نہیں ہو سکتا*
✍️
ملحدین اور غیر مسلمز کو ۔۔۔
غلامی پر اعتراض ہوتا رہتا ہے۔
اگر کوئی کہے کہ
اسلام نے غلامی کو کیوں ختم نہیں کیا؟
تو کہہ دیں کہ
ارسطو نے غلامی کو کیوں ختم نہیں کیا ؟
مگر ۔۔۔۔
بنیادی بات یہ سمجھ لیں کہ۔۔۔۔
اسلام کا مقصد کبھی غلامی ختم کرنا نہیں تھا ،
جس طرح اسلام کا مقصد نکاح و تجارت کو ختم کرنا نہیں تھا ،
بلکہ ان نظاموں کی خرابیوں کو ختم کر کے ،
عدل و مساوات کی فضاء پیدا کی،
اسی طرح غلامی کی خرابیوں کو ختم کر کے ایک عمدہ نظام دیا۔
لہذا دبے دبے الفاظ اور شرمندہ شرمندہ سا منہ لے کر ۔۔۔
غلامی کے مسئلے کو نہ پیش کیا جائے ۔
غلامی کے بڑے فوائد تھے ،
جو کہ خود غلاموں کو بھی حاصل تھے ،
اس کے علاوہ سماجی معاشرتی وغیرہ بھی بے شمار فوائد تھے ،
مغربی مادہ پرستانہ سوچ نے غلامی کو ختم کیا ،
جس کی وجہ سے آج بہت سے نقصانات کا سامنا ہے ۔
( مغرب نے غلاموں سے ہمدردی نہیں کی تھی ، اس سلسلے میں پڑھیں)
https://www.facebook.com/share/p/15nts5MxF2/
غیر مسلموں میں غلام کا مقام
حضرت بلال رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ ،
امیہ بن خلف کافر کے غلام تھے ،
یہ امیہ بن خلف وہی بدبخت ہے جس نے حضرت بلال کو۔۔۔۔
تپتی ریت پر لیٹایا ،
رسیوں میں جکڑ پر پتھر لگوائے،
ذلت سے گلیوں میں گھمایا ،
بچوں تک نے تماشا کیا ،
آج بھی غیر مسلمز کے قید خانوں میں جھانکا جائے ۔۔۔۔
(ابو غریب جیل ، گوانتانامو بے جیل)
تو ظلم کی ایسی داستانیں سننے کو ملیں گی جس سے روح تک لرز جائے ۔
یہ سب انسانیت کے علمبردار کر رہے ہیں ،
اور یونائیٹڈ نیشنز کے سامنے ہو رہا ہے۔
دوسری جانب
دین اسلام ایسا دین ہے ،
جس میں غلام کا ایسا مقام تھا ،
کہ جس کی رہتی دنیا میں کوئی مثال نہیں مل سکتی ۔
1️⃣ جب حضرت بلال حبشی ،
امیہ بن خلف جیسے ظالم شخص کی قید سے آزاد ہوئے ،
صدیق اکبر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے بھاری قیمت دے کر خریدا ،
حضرت بلال حبشی کے آنسوں بہنے لگے تو پیارے آقا ﷺ نے آنسوں صاف کئے ۔
2️⃣حضرت بلال کو وقت کے بادشاہ نے تخت پر بٹھایا ۔
3️⃣ معراج کے سفر پر آقا ﷺ کو حضرت بلال کے قدموں کی آہٹ جنت میں سنائی دیتی ہے ۔
4️⃣ فاروق اعظم جیسا عظیم بادشاہ ،
سر زمین فلسطین ( قبلہ اول ) کی آزادی کے دن ،
غلام کو گھوڑے پر بٹھائے ،
خود ہاتھ میں لگام تھامے ہوئے ،
حاضر ہوتے ہیں ۔
5️⃣ حضرت زید بن حارثہ غلام تھے ،
لیکن آقا ﷺ نے سگے بیٹے کی طرح پالا ،
یہاں تک کہ حضرت زید بن حارثہ "منہ بولا بیٹا" کہلائے ،
حضرت زید بن حارثہ کے بیٹے ،
حضرت اسامہ بن زید سے بھی آقا ﷺ بہت زیادہ محبت کرتے تھے ۔
6️⃣ واحد صحابی جن کا نام قرآن مجید میں آیا ہے ،
وہ حضرت زید بن حارثہ ہیں ۔
اب اندازہ کر لیں کہ غلاموں کا اسلام میں کیا احترام تھا ۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Website
Address
Karachi
75600