Motivates Muslims

Motivates Muslims

Share

Assalam-o-Alaikum... Our page is about to give sence to all muslims about what they are in reality.. we want your support for motivate muslim's.... Inshallah. !

And The Truth Is Pop-out....! Muslims Are Aware And Inspired Now. Now This is The Time Of Fall For All The Enemies Of Allah.. !

27/01/2025









01/10/2024

یونیورسٹی میں ایک پروفیسر تھے
جو اپنی کلائی میں لیڈی گھڑی باندھتے تھے، جسے دیکھ سب طلباء کی ہنسی چھوٹ جایا کرتی تھی،
ایک عرصے بعد وائس چانسلر کے ذریعے جب ہم پر انکشاف ہوا
کہ
پروفیسر صاحب جو زنانہ گھڑی پہنتے ہیں وہ ان کی فوت شدہ بیوی کی ہے۔۔۔
اس واقعے سے سیکھا
کہ
‏"کچھ دل بِنا بولے محبوب کی رحلت کے بعد بھی اَلم اور درد محسوس کرتے ہیں۔"

ایک دفعہ ہسپتال میں
کسی مریض کی عیادت کے لیے جانا ہوا، کوریڈور میں چلتے ہوئے ایک جواں سال لڑکی کی
وِگ (بال) گر گئی
وہاں موجود تمام لوگ اس پر ہنسنے لگے،
آگے بڑھ کر جب ایک دوسری عورت نے اس کی مدد کی
‏تو وہ روتے ہوئے کہنے لگی
اِس میں میرا کوئی قصور نہیں
"کینسر"
نے میرے بال لے لیے
اس لیے مجھے یہ آرٹیفشل وِگ لگانا پڑتی ہے۔۔۔

اسی طرح قبرستان میں
دس سالہ بچے کو ایک قبر پر کھڑا کچھ کہتے ہوئے سنا جو کہہ رہا تھا
"ماما اٹھو میرے ساتھ سکول چلو
استاد مجھے تمام لڑکوں کے
‏سامنے مارتا اور کہتا ہے کہ تمہاری ماں کتنی سست اور کاہل ہے جو تمہاری پڑھائی کا خیال نہیں رکھتی۔۔۔

کسی کی ظاہری حالت دیکھ کر ہمیں قطعا مذاق یا کسی قسم کا بھونڈا ری ایکشن نہیں دینا چاہیے
ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے اندر ہزار دُکھ چھپائے ہوئے ہو جس کا ہمیں علم نہ ہو۔۔۔
‏بولنے
سوچنے
اور ری ایکشن
دینے سے پہلے اگلے بندے کی فیلنگز کا خیال رکھیے۔۔۔
بلاشبہ بعض باتیں انسان کو قتل کر دیتیں ہیں۔۔۔

بدگمانی بہت سے معاملات خراب کرتی ہے

عربی میں ایک مقوله ہے

"ترجمہ "
زبان سے نکلنے والے الفاظ دو دھاری تلوار کی طرح ہوتے ہیں۔
احتیاط کیا کریں🙂💔

27/07/2024

"اکیسویں صدی میں خوش آمدید"۔ جہاں زنا مفت ہے اور محبت مہنگی ہے۔ جہاں فون کا کھو جانا آپ کا کنوارا پن کھونے سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ جہاں جدیدیت کا مطلب عریانیت ہے، جہاں اگر آپ شراب نہیں پیتے ہیں تو آپ فیشن سے باہر ہیں، جہاں بچے چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں اور دوسری لڑکیوں کو منفی تبصرے دیتے ہیں۔ یہاں اگر آپ اپنے ساتھی کو دھوکہ نہیں دیتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ ہوشیار نہیں ہیں۔ جہاں باتھ روم فوٹو سٹوڈیو بن چکے ہیں۔ جہاں سکول کالج ڈیٹنگ پوائنٹ بن جاتے ہیں۔ جہاں خدا کی عبادت کرنا مشکل ہے۔ جہاں جھوٹ حقیقت بن جاتا ہے۔ جہاں خواتین ایچ آئی وی سے زیادہ حمل سے ڈرتی ہیں جہاں پیزا کی ڈیلیوری ایمرجنسی رسپانس سے زیادہ تیز ہوتی ہے۔ جہاں لوگ زہریلے ہو جاتے ہیں جب وہ آپ کو آپ کی سچائیاں بتاتے ہیں یا جب آپ تبدیلی کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں۔ جہاں نقطہ نظر اور لباس کسی شخص کی قدر کا فیصلہ کرتے ہیں۔ جہاں پیسہ خاندان اور دوستوں سے زیادہ اہم ہے۔ جہاں بچے لمحہ بہ لمحہ اپنی محبت کے لیے اپنے گھر والوں کو چھوڑنے کو تیار ہوتے ہیں۔ جہاں لڑکے شادی سے ڈرتے ہیں، لیکن وہ جنسی تعلقات کو پسند کرتے ہیں۔ جہاں محبت ایک کھیل ہے۔ جو دماغ سے کھیلتا ہے اسے ہمیشہ خوشی ملتی ہے اور جو دل سے کھیلتا ہے اسے ہمیشہ تکلیف ہوتی ہے۔ جدیدیت، محبت اور مائع تعلیم... انسانیت کی نئی نسل

24/06/2024

Keep it in your profile and you will be rewarded for the readers

15/06/2024

صرف چار لوگ تھے جنہوں نے حضرت صالح کی اونٹنی کو مارا۔
لیکن پوری قوم کو عذاب دیا گیا اور حضرت صالح علیہ السلام کی پوری قوم تباہ و برباد ہو گئی۔

ظالم کے ظلم پر خاموش رہنے والوں کو اللہ سزا دیتا ہے۔

اس غریب اونٹ کی ٹانگیں وقت کے ظالموں نے کاٹ دی ہیں، ان پر خدا کا غضب نازل ہوگا، لیکن اپنی خاموشی کو یاد رکھو، جہاں پوری قوم پر عذاب نہیں اترے گا، الزام نہیں، لیکن اب وقت آگیا ہے۔ مزاحمت برائی کے الفاظ پر، بے آواز جانور، اونٹ، لڑا. cp

ہم ایس ایس پی سانگھڑ سے درخواست کرتے ہیں کہ اسے جلد از جلد گرفتار کر کے اس اونٹ کی طرح مارا جائے۔
تمام دوست اس کے خلاف آواز اٹھائیں اور اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔

💯🥀
۔
۔
۔
۔














12/06/2024

ائیر پورٹ پر میں نے اکثر مسافروں کو دیکھا ہے کہ وہ بار بار اپنا پاسپورٹ اور ٹکٹ یا تو ہاتھ میں ہی پکڑے رکھتے ہیں یا پھر کسی جیب یا بیگ میں رکھا ہو تو بار بار چیک کرتے رہتے ہیں کہ موجود ہے نہیں، کہیں گم تو نہیں ہو گیا کیونکہ سب کو پتہ ہوتا ہے کہ جہاز میں سوار ہونے تک کئی بار چیک ہوتا ہے اور پھر جہاز سے اترتے ہی پھر سے اس کی ضرورت پڑتی ہے۔ سب کو معلوم ہوتا ہے کہ اگر غلطی سے کہیں یہ گم ہو جائیں تو فلائٹ میں سوار نہیں ہو سکیں گے۔
ایسا ہی کچھ ہمارے ایمان اور عملِ صالحہ کا حال ہے۔ یہی ہمارے پاسپورٹ اور ٹکٹ ہیں جو جنت میں داخلے کے لیے ضروری ہیں۔ ہونا تو یہی چاہیے کہ بار بار ہم چیک کرتے رہیں کہ ہمارے ایمان کی کیا صورت حال ہے اور ہمارے اعمال کیسے ہیں۔ خود سے سوال لازمی کیجیے کہ کیا جو فرائض اللہ تعالیٰ نے ہمارے ذمہ لگائے ہیں وہ ہم پورے کر رہے ہیں؟ چاہے وہ حقوق اللہ میں سے ہوں یا حقوق العباد میں سے۔ شروعات نماز سے کیجیے کہ سب سے پہلے نماز ہی کے بارے میں سوال ہوگا۔
آخرت کے لیے اپنا پاسپورٹ اور اپنا ٹکٹ آج ہی چیک کیجیے۔
ہہ ایک یاد دہانی ہے جو سب سے پہلے میرے اپنے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا ایمان سلامت رکھے آمین

04/05/2024

فتوی ہے شيخ کا يہ زمانہ قلم کا ہے

دنيا ميں اب رہي نہيں تلوار کارگر

ليکن جناب شيخ کو معلوم کيا نہيں؟

مسجد ميں اب يہ وعظ ہے بے سود و بے اثر

تيغ و تفنگ دست مسلماں ميں ہے کہاں

ہو بھي، تو دل ہيں موت کي لذت سے بے خبر

کافر کي موت سے بھي لرزتا ہو جس کا دل

کہتا ہے کون اسے کہ مسلماں کي موت مر

تعليم اس کو چاہيے ترک جہاد کي

دنيا کو جس کے پنجہ خونيں سے ہو خطر

باطل کي فال و فر کي حفاظت کے واسطے

يورپ زرہ ميں ڈوب گيا دوش تا کمر

ہم پوچھتے ہيں شيخ کليسا نواز سے

مشرق ميں جنگ شر ہے تو مغرب ميں بھي ہے شر

حق سے اگر غرض ہے تو زيبا ہے کيا يہ بات

اسلام کا محاسبہ، يورپ سے درگزر!

22/02/2024
01/11/2023

ھم زندہ قوم ھیں

14 اگست لاکھوں کا ھجوم زندہ قوم تبلیغیوں کا لاکھوں کا ھجوم سبحان الللہ جماعت اسلامی کی کیا بات پورے پاکستان مے لاکھوں کا ھجوم چندے کا مضبوط نظام 70 سال سے دھرنے وغیرہ وغیرہ میٹ بس غسل کفن دفن اور جناب محترم سنیوں کی کیا بات ھے مزاروں پر رش میلے میلاد جلسے جلوس شیعیوں کہ یہ روڈ بلاک فل پروف اجتماع جواب ھی نھی گلی گلی محلے محلے مضبوط اور لنگر کا نظام
کبھی لانگ مارچ ٹرین مارچ حکومت بچاوُ تحریک کبھی کچھ کبھی کچھ اور تو اور کبھی چلڈرن ڈے فادر ڈے مدرڈے ٹیچر ڈے ھولی بسنت اور تو اور اپریل فل فیسٹیول پروگرام ایک گلوکار کہ ایک گانے مے لاکھوں کا ھجوم مرد عورت بچے سب رات کو ایک ساتھ وہ بھی اپنی خرچے پر
اور الیکشن الیکشن اب دیکھنا کچھ دن بعد سب اپنی اپنی پارٹیوں کہ لئے کیسے نکلتے ھیں سب کو مات دے گے مگر اپنے لیڈر کہ لئے جان دیں بھوک پیاس پیسا ھر طرح سے دل و جان سے حاضر ھونگےاور جھنڈے پوسٹر لاقانونیت دنگا فساد
کوئی ھوا مے خبارے چھوڑ کر کوئی روڈ بند کر کہ کوئی بس مھنگائی کا رونا رو کر کوئی یونیورسٹیوں مے ناانصافیوں اور کوئی انسانی حقوق اور کوئی ڈاکٹروں ھسپتالوں سے تنگ کوئی کم تنخواھوں اور کوئی حج پالیسیوں اور کوئی پولیس کی زیادتیوں کوئی ججوں کہ خلاف تو کوئی وکیلوں اور کوئی عدالتوں کہ خلاف کوئی فوج کہ خلاف کوئی سیاستدانوں کہ خلاف
غرض کہ ھر کوئی اپنے لئے ھر دوسرے کہ خلاف جس طرح جیسے ممکن ھو نکل ھی رھا ھوگا
سوائے مظلوموں بیواوُں یتیموں بے سھارا مسلمانوں کہ لئے کوئی نھی نکل رھا ایک بولتا ھے یہ اس کا کام نھی ھے دوسرا بولتا ھے یہ اس کا کام ھے
تو یہ کس کام کام ھے ایسا مت کریں آپ سب سے اپیل ھے کہ آپ اپنے اپنے رنگ و نصل منصب زات پات قوم زبان فرقہ سے آگے آکر ایک کام کریں
صرف اور صرف گھر پر بیٹھ کہ کر آپ کچھ نہ کریں
نو ھڑتال
نو روڈ بلاک
نو کیش
نو راشن
نو اسلحہ

بلکہ آپ اپنا احتجاج نوٹ کروائیں وہ بھی گھر دفتر بس اسٹاپ محلہ جھاں جھاں آپ موجود ھیں
کرنا کیا ھے بہت آسان اور منفرد طاقتور
وہ یہ ھے کہ ایک ھی دن ایک ھی تاریخ ایک وقت پر اپنی اپنی طاقت اور خواہش کہ مطابق تمام لوگ جتنے اور جیسے بھی ھو دیئے گے وقت کہ مطابق ھوا مے غبارے چھوڑیں
وہ وقت دن دوپہر دو بجے بروز جمعرات مورخہ 09/11/2023 ھے
نوٹ
کم از کم آپ کوشش کریں اور تمام گرو

اور ان بے یارو ددگار نھتے مظلوم مسمانوں کہ ساتھ
شرم کرو بس بھت ھو گیا
پس مسلمانوں سمجھوں یہ کس کہ پیرو کار ھیں
خداراہ آپ کوشش کر کہ اپنے اھل و عیال کہ ساتھ نکلیں اور روڈ پر آکر احتجاج کریں
اس ملک کی تمام بڑی و اہم عمارتیں
پارک شاپنگ مال بس اسٹاپ مارکٹیں اور بند و بالا بلڈنگیں
اور تمام گاڑیاں بسیں ٹرک بائیک سب کہ سب جھڈے لگا کر دس منٹ مے دنیا کا نیا چھرا پیش کرسکتے ھیں
اس سے ھو گا کیا آپ کو بھی اپنے ارد گرد موجود چاھئے محلے اسکول کالج یونیورسٹیاں دفاتر دیگر تمام کہ تمام بلکل واضع ھو جائیں گے کہ کس کو کس سے کتنی محبت اور کس کو کس کا خوف ھے

خاص طور پر تمام گاڑیاں دفاتر اور بلخصوص اسکول کہ کم عمر بچے ان کو اس کا حصہ ضرور بنائیں ان دو ھاتھوں مے دو پرچم دیں اور غبارے کہ ساتھ آسمان کی جانب نیک دعاوُں کہ ساتھ رخصت کریں
اور دعا کریں

احتجاج احتجاج
احتجاج بروز جمعرات 09/11/2023 بوقت دن دو بجے 02:00 pm ایک ساتھ پوری قوم فلسطین کا جھنڈا غباروں کہ ساتھ ھوا مے آسمان کہ جانب رواں دواں یہ سوچ کر کہ لاکھ پابندیاں سھی لیکن اس پر کیا
بلکل ایک وقت پر پوری قوم ایک ساتھ ایک کام کرے
تیار ھو جاوُں اب مت کھنا کہ حکومت حکومت اب دیکتے ھی کہ آپ کس کہ ساتھ اپنا روز محشر حشر دیکھنا چاھتے ھو
کوشش کرو سب ھو جاتا ھے

احتجاج
احتجاج بروز جمعرات 09/11/2023 بوقت دن دو بجے 02:00 pm ایک ساتھ پوری قوم فلسطین کا جھنڈا غباروں کہ ساتھ ھوا مے آسمان کہ جانب رواں دواں

31/10/2023

*اسرائیل چھ محاذوں کی یہ جنگ ہار رہا ہے*

اگرآپ اسرائیل کے خیر خواہ ہیں تو آپ کو پریشان ہونا چاہیے، کیونکہ اسرائیل کو چھ محاذوں پر لڑنا پڑ رہا ہے اوروہ یہ جنگ ہار رہا ہے ۔۔۔۔۔ یہ بات میں ،آصف محمود، نہیں لکھ رہا یہ بات نیویارک ٹائمز میں شائع ہوئی ہے اور اس تحریر کا مصنف کوئی عرب مسلمان نہیں بلکہ ایک یہودی ٹامس فریڈ مین ہے ۔ یہ یہودی بھی کوئی شوقیہ قسم کالکھاری نہیں کہ حقوق انسانی تخلص کرتا ہو اور برائے وزن بیت لکھ دیا ہو بلکہ یہ نیویارک ٹائمز کا مستقل کالم نگار ہے۔

یہی نہیں بلکہ یہ اسرائیل کا بہت بڑا مداح بھی ہے۔ یہ یروشلم میں نیویارک تائمز کا بیورو چیف بھی رہ چکا ہے۔لبنان میں اسرائیلی حملوں کو اس نے لبنان کو سبق سکھانے کی جائز کوشش قرار دیا تھا۔ یہ فلسطینیوں پر اسرائیلی تشدد کا بھی حامی ہے اور اس بات پر نام چامسکی جیسا آدمی بھی اسے تنقید کا نشانہ بنا چکا ہے۔س وقت بھی اس کی رائے یہ ہے کہ فلسطینیوں کو سبق سکھا دینا چاہیے اور اسرائیل کو اپنی بستیاں آگے فلسطینی علاقوں میں پھیلانی چاہیں کیونکہ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔

پس منظر جان لینے کے بعد اب آئیے دیکھتے ہیں کہ ٹامس فریڈ مین صاحب اپنے تازہ مضمون میں کیا لکھتے ہیں ۔ اس کالم کا عنون ہے : چھ دنوں کی جنگ سے چھ محاذوں کی جنگ تک۔ وہ لکھتے ہیں کہ اگر آپ اسرائیل کے خیر خواہ ہیں اور اگر آپ اس کا خیال رکھتے ہیں تو آپ کو جان لینا چاہیے کہ اسرائیل یہ جنگ ہار رہا ہے ۔ آ پ کو اس جنگ کے بارے میں پریشان ہونا چاہیے اور اس سے زیادہ پریشان ہونا چاہیے جتنا آپ اسرائیل کے لیے 1967میں پریشان ہوئے تھے۔ کیونکہ وہ جنگ تو چھ دنوں کی جنگ تھی جب کہ یہ جنگ چھ محاذوں پر لڑی جانے والی جنگ ہے اور اسرائیل اکیلے یہ جنگ نہیں جیت سکتا۔

ٹامس فریڈ مین نے اس سے پہلے بھی اسرائیل کی جنگوں کی رپورٹنگ کر رکھی ہے مگر اس بار کی جنگ پر وہ لکھتے ہیں کہ جتنی جنگوں کی بھی اب تک انہوں نے بطور صحافی رپورٹنگ کی ہے ان میں سے یہ والی جنگ سب سے پیچیدہ جنگ ہے اور ایک بات بہت واضح ہے کہ اسرائیل اکیلے یہ جنگ نہیں جیت سکتا۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ پہلی بار ٹامس فریڈ مین کا خیال ہے کہ امریکہ ا ور اسرائیل مل کر بھی یہ جنگ نہیں جیت سکتے۔ چنانچہ وہ تجویز کرتے ہیں کہ جیتنے کی ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ ہے کہ اسرائیل اور امریکہ مل کو ایک عالمی اتحاد بنا لیں۔ یعنی ٹامس فریڈ مین کو ایک بار پھر لیگ آف نیشنز جیسے کسی ”قانونی، اخلاقی“ جواز کی ضرورت ہے۔

جس اتحاد کی جانب وہ اشارہ کر رہے ہیں وہ عسکری اتحاد نہیں ہے کیونکہ اس شعبے میں اسرائیل اورا س کی پشت پر کھڑے امریکہ کو کسی اور سہارے کی ضرورت نہیں۔ یہ عالمی اتحاد وہ کسی اور مقصد کے لیے چاہتے ہیں؟ وہ مقصد کیا ہے؟

اس مقصد کو جاننے کے لیے، پہلے یہ جاننا ہو گا کہ ٹامس فریڈ میں کے نزدیک وہ چیلنج کیا ہے جس کا مقابلہ نہ ا سرائیل کے بس کی بات ہے نہ امریکہ ا ورا سرائیل کے بس کی بات ہے اور جس کے لیے ان دونوں کو مل کر ایک عالمی اتحاد بنانے کی تجویز دی جا رہی ہے۔

یہ چیلنج بڑا دل چسپ ہے۔ یہ چیلنج مسلمان ممالک نہیں، یہ چیلنج مسلمان ملکوں کی افواج بھی نہیں۔ یہ چیلنج اقوام متحدہ یا او آئی سی بھی نہیں ہے۔ یہ چیلنج ہے سوشل میڈیا اور سوشل میڈیا سے پھوٹتا وہ عمومی شعور جس نے عالمی سطح پر رائے عامہ کو ہلا کر رکھ دیا اور باوجودا س بات کے کہ مغربی حکومتیں اسرائیل کی پشت پر کھڑی ہیں، ٹامس فریڈ مین کہہ رہا ہے کہ سوشل میڈیا اور عوامی سطح پر بڑھتے شعور نے اسرائیل کے لیے خطرہ پیدا کر دیا ہے۔

ٹامس فریڈ مین نے سوشل میڈیا اور سمارٹ فونز کو تیسرا محاذ قرار دیا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ اگر چہ اسرائیل نے غزہ پر ایک بڑا حملہ کیا ہوا ہے لیکن فلسطینی مزاحمت ابھی تک قدم جما کر کھڑی ہے اور یہی نہیں بلکہ وہ سمندر کے راستے اسرائیل کے جنوبی ساحلی شہر جوابی حملہ بھی کر چکی ہے۔وہ چاہتی تھی اسرائیل مخالف محاذ بیک وقت کھل جائیں، اور وہ کھل چکے ہیں اورا سرائیل مخالف قوتیں اکٹھی ہو رہی ہیں۔ لیکن ایک چیلنج اور بھی ہے۔ اور وہ سوشل میڈیا ہے۔ یہ ایک یونیورسل نیٹ ورک ہے۔ یہاں ایک بیانیہ تشکیل پا رہا ہے اور یہ ڈیجیٹل نیریٹو یہ بتا رہا ہے کہ اچھا کون ہے اور برائی کی علامت کون ہے۔

فریڈ مین لکھتے ہیں کہ سوشل میڈیا نیٹ ورکس اور سمارٹ فونوں کی مہربانی سے اب کچھ بھی خفیہ نہیں رہا اور ہم ابھرتی سرگوشیاں سن رہے ہیں، سوشل میڈیا کا غالب بیانیہ ایک حقیقی تزویراتی اہمیت کا حامل ہے۔ مناسب ہو گا یہاں فریڈ مین کے اپنے الفاظ نقل کر دیے جائیں:

Thanks to smartphones and social networks, nothing is hidden and we can hear one and other whisper, the dominant narrative has real strategic value.

فریڈ مین لکھتے ہیں کہ اسرائیل کے خلاف چوتھا محاذ فکری ہے۔ وہ اسے Intellectual struggle قرار دیتے ہیں۔ اور اس کی مثال پیش کرتے ہوئے وہ پریشانی کے عالم میں لکھتے ہیں کہ حتی کہ امریکہ کے کالج کیمپس میں بھی اسرائیل کو مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے ا ور کہا جا رہا ہے کہ فلسطینی تو اسرائیلی کالونیلزم کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں۔امریکی تعلیمی اداروں میں یہ رائے پیدا ہو رہی ہے کہ صرف غزہ ا ور مغربی کنارے پر ہی اسرائیل ناجائز قابض نہیں بلکہ یہ پوری ریاست ہی ’کالونیل انٹر پرائز ‘ ہے۔اس لیے اسرائیلی ریاست کو دفاع کا کوئی حق نہیں ہے کیونکہ وہ غاصب ہے۔یہ حق تو فلسطینیوں کو حاصل ہے جنہیں اسرائیل نے کالونی بنا لیا ہے۔

فریڈ مین کی پریشانی بتاتی ہے کہ میڈیا پر تو کنٹرول ہو سکتا ہے لیکن سوشل میڈیا ان کی گرفت سے نکل رہا ہے۔مغرب کے معاشرے تک حقیقت پہنچ رہی ہے، خود یہودی اب نیویارک میں اسرائیل کی بربریت کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا کو نیو یارک ٹائمز کا سرائیل نواز لکھاری اگر real strategic value. قرار دے رہا ہے تو یہ بے سبب نہیں۔ اس کی بڑی اہمیت ہے۔

تو صاحب اگر آپ کے پاس سوشل میڈیا ہے تو مظلوم کے حق میں لکھیے، انصاف کے لیے لکھیے، انٹر نیشنل لا کے مطابق فلسطینیوں کے جائز حقوق پر لکھیے، اگر محض سوشل میڈیا اکاؤنٹ بچانے کے لیے اگر آپ گونگا شیطان بن جائیں گے یا اکاؤنٹ معطل ہونے کے ڈر سے اس المیے کے دوران بھی آپ ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہیں گے تو آپ اس جرم کے تیسرے محاذ پراسرائیلی جنگی جرائم کے سہولت کار
ہیں۔آپ گونگے شیطان ہیں۔ آپ سے نیویارک کے وہ یہودی اچھے ہیں جو ’ناٹ ان آور نیم‘ کی شرٹس پہن کر اسرائیلی مظالم کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

Sirat-e-Mustaqim
Karachi
021