10/03/2021
نماز
اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا : واقیمو الصلوة و اتو الزکوٰۃ۔ اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو۔ سورۃ البقرہ : ۴٣
لغت میں “ صلواۃ “ کے معنی ذکر اور فرمانبرداری کے ہیں اور فقہاء کے نزدیک اس سے مراد معروف عبادت ہے، جس کے متعلق حکم خداوندی ہے کہ پانچ وقت ادا کی جائے، نماز ادا کرنے کی کچھ شرائط ہیں، ان میں سے ایک طہارت ہے، ظاہری طور پر نجاست سے اور باطنی طور پر شہوت سے، دوسری طرف کپڑوں کا پاک ہونا ہے بظاہر کپڑے نجاست سے پاک ہوں اور باطن وہ حلالی کمائی سے حاصل کئے گئے ہوں، تیسری شرط مکان کا پاک ہونا ہے ظاہراً گندگی سے پاک ہو مگر باطناً ہر قسم کی برائی اور معصیت سے پاک ہو، چوتھی شرط قبلہ رخ ہونا ہے، پانچویں شرط بہ ظاہری قبلہ کعبہ ہے مگر باطنی قبلہ عرش معلیٰ ہے جس سے مقصود مشاہدہ حقیقت ہے، پانچویں شرط بہ ظاہر قدرت کی صورت میں قیام مگر بہ باطن قربِ الہیٰ کی جنت میں قیام مگر اس میں ظاہری طور پر شرعی وقت کی موجودگی کا ہونا لیکن مقام حقیقت میں ہر وقت اس کے حضور رہنا ہے، چھٹی شرط حضورِ بارگاہ کے وقت نیت کا خالص رکھنا ہے، ساتویں شرط ہیبت و فنا کے مقام میں تکبیر کہنا، جائے وصل میں قیام کرنا، عظمت و ترتیل کے ساتھ قرات کرنا خشوع کے ساتھ رکوع اور عاجزی کے ساتھ سجدہ ریز ہونا، سکون کے ساتھ تشہد پڑھنا اور بشری صفات کی فنا پر سلام پھیرنا ہے۔۔
حوالہ کتاب : کشف المجوب صفحہ نمبر 561 copy