The Kids Academy

The Kids Academy

Share

Campus 1: Muhammadi Colony Near Falak Noor Masjid, Karachi. Campus 2: Muhammadi Colony, Mari Chowk N

12/08/2024

بولیں گے کچھ نہیں۔۔

‏جب بچے نوجوانی (13 سے 19 سال ) میں داخل ہوں تو انھیں
کچھ باتیں خاص طور پر بتائیں

1- وہ اپنے ناخن ہمیشہ صاف ستھرے اور درست انداز میں کاٹ کر رکھیں اس لیے کہ لوگ سب سے پہلے آپ کے ناخن دیکھتے ہیں۔
صرف دیکھتے ہیں، کہتے کچھ نہیں،

2:-ڈیڈورنٹ یا کوئی خوشبو ضرور لگایا کریں۔ آپ کے پاس سے کوئی بدبو نہیں آنی چاہیے، کیونکہ آپ کے پاس سے بیڈ اسمیل آنے پر آپ کے دوست، اسکول فیلو، ہمسفر، آفس کولیگز اور آس پاس کے لوگ اس سے سخت پریشان ہوں گے۔
لیکن
بولیں گے کچھ نہیں۔۔۔!
کیونکہ یہ بہت پرسنل معاملہ ہے

3:-اس کے بعد اپنے دانت بہت اچھی طرح صاف رکھیں، منہ سے آنے والی بدبودار سانسیں آپ کے مخاطب کو سخت ناگوار گزرتی ہیں۔
مگر
لوگ کچھ کہیں گے نہیں۔۔۔!
ایسے معاملات میں آپ کو کچھ کہہ ہی نہیں سکتے، کہیں آپ ناراض ہی نہ ہوجائیں۔۔۔

4:-گردن اور کان کی صفائی بہت توجہ سے کرنی ہے، ناک کے بال ہر ہفتے کاٹنے ہیں، گردن بہت اچھی طرح مَل کر دھونی ہے، کہ کوئی میل نظر نہ آئے۔۔۔
کیونکہ
کوئی اس بارے میں سمجھاتا نہیں ہے۔۔۔
دیکھتا ہے مگر خاموش رہتا ہے۔
لیکن
نمبر کٹ جاتے ہیں۔۔۔!

پھر

ناک کان منہ میں انگلیاں نہیں ڈالنی، ناخن نہیں چبانے، بار بار ناک، چہرہ، سر نہیں کھجانا۔
ضرورت ہو تو بہت نفاست سے سلیقے سے ایسا کرسکتے ہیں۔ مثلاً ناک میں خارش ہورہی ہے تو انگلی سے نہیں، ٹشو، رومال یا الٹے ہاتھ کی پشت سے آہستہ سے کھجا سکتے ہیں۔
سیدھے ہاتھ سے تو ہرگز نہیں کیونکہ اس سے آپ نے کسی سے ہاتھ ملانا ہوتا ہے۔

اس لیے بہتر ہے رومال یا ٹشو پیپر ضرور ساتھ رکھیں۔
کیونکہ
نمبر۔۔۔۔۔۔۔!
اسی طرح
جسم کے مخصوص حصوں شرمگاہ وغیرہ پر سر عام کبھی ٹچ نہ کرنا۔

چند مزید ہدایات جو کہ یاد دہانی کے لیے اکثر دہراتے رہیں۔

1۔ چاہے شلوار ہو یا پینٹ، انڈروئیر ضرور پہنیں۔

2۔ گھر سے باہر جاتے وقت منہ اٹھائے جھاڑ جھنکار یا الجھے بکھرے روانہ مت ہونا، اپنا منہ ہاتھ دھو کر، بال بنا کر، درست لباس، اچھے جوتے پہن کر جائیں۔ چاہے قریب کی مارکیٹ سے کچھ سامان ہی کیوں نہ لانا ہو۔

3۔ شوز کی پالش اور صفائی کا خاص خیال رکھیں کیونکہ
آپ کی شخصیت کے بارے میں لباس سے زیادہ آپ کے شوز بتاتے ہیں۔

4۔ آدھے پونے پاجامے، ادھوری شرٹس اور ٹائیٹس سخت معیوب لگتی ہیں، خاص طور پر لڑکوں مسجد میں جاتے ہوئے شلوار قمیض میں ہونا چاہیے۔ آدھے بازو کی چھوٹی شرٹ اور جینز کی قمیض آپ سے پیچھے کھڑے نمازیوں کو بہت پریشان کرتی ہے، ان کی توجہ متاثر ہوتی ہے

5۔ گھر کے اندر کا لباس بھی باوقار ہونا چاہیے۔

6۔ ماں باپ اور بہنوں کے کمروں میں کبھی دروازہ بجائے بغیر نہیں جانا۔ بہنوں کے کمرے اور زنان خانہ میں بلاوجہ اور دیر تک نہیں بیٹھنا چاہیے۔

7۔ لڑکیو۔۔۔ اب آپ بڑی ہو گئی ہیں، اپنے میلے کپڑے خود دھونا سیکھیں۔ انھیں واش روم میں لٹکا چھوڑ کر مت آئیں۔

8۔ اپنی ضرورت کی پرسنل چیزیں اپنی الماری میں رکھیں۔

9۔ بچے جب ٹین ایج میں داخل ہوں تو والدین بازار سے ریزر اور بلیڈز لا کر دیں اور اپنے بازو پر بال صاف کر کے سمجھائیں کہ کس طرح اپنے جسم کے اندرونی حصوں کے بال ہر ہفتے صاف کرنے ہیں؟

10۔ اپنی اور دوسروں کی پرسنل اسپیس کا بہت خیال رکھیں۔ پرسنل اسپیس ناپنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ
اپنا ہاتھ اور پورا بازو کھول لیں، یہ اندازاً ڈھائی سے تین فٹ بنتا ہے۔ نہ کبھی کسی کی پرسنل اسپیس میں جائیں۔۔۔

یعنی تین فٹ دور رہ کر بات کریں۔۔۔ نہ کسی کو زیادہ قریب آنے دیں۔ یقیناً سفر میں، کار، بس یا جہاز کی سیٹ کا معاملہ ذرا مختلف ہے لیکن اس کے بھی آداب ہیں اور سفر کے سب آداب سیکھنے چاہییں۔

11۔ بچوں کو سمجھایا جائے کہ کسی کو فون کریں یا
کسی کے پاس جائیں تو سب سے پہلے ایک سانس میں
یہ چار باتیں بتا دیں۔۔۔

سلام، نام، مقام، کام

یعنی پہلے سلام کریں، پھر اپنا اور اپنے علاقے یا ادارے کا نام بتائیں، پھر آنے کا مقصد بتا کر اجازت لیں کہ
آپ سے بات ہوسکتی ہے؟ میں اندر آسکتا ہوں؟ یا کرسی پر بیٹھ سکتا ہوں؟
اجازت ملے تو ٹھیک ورنہ پھر کبھی سہی۔۔۔!

12۔ بغیر اجازت کسی کی میز سے ایک بال پین یا ٹشو تک نہیں اٹھانا، کیونکہ
"یہ جرم کے زینے کا پہلا قدم ہے۔"

13۔ ایک بات جو اکثر بتائیں کہ بیٹا کسی سے فون پر بات کریں یا کسی کے پاس جائیں تو اپنے چہرے پر ہلکی سی حقیقی مسکراہٹ ضرور رکھیں۔ یہ مسکراہٹ آپ کے لیے کامیابی کے بے شمار دروازے کھول دیتی ہے۔

14۔ لڑکے کسی سے ہاتھ ملائیں تو پورا ہاتھ ملائیں، گرم جوشی سے اس کے ساتھ نظریں بھی ملائیں۔ یہ نہیں کہ منہ اِدھر، ہاتھ اُدھر بات کسی اور سے۔۔۔!

15۔ جب دسترخوان پر بیٹھیں تو ایک دوسرے کا لحاظ کر کے تمیز سے کھائیں۔۔۔ ایسا نہ سمجھیں کہ آج کے بعد کھانا نہیں ملنا۔

مزید آپ نے کون سے اصول بنائے اور اپنائے ہوئے ہیں؟

بچوں کی اچھی تربیت، ان کے لیے ہمارا سب سے اچھا تحفہ ہے۔

06/08/2024

‏تمام سرکاری ملازمین کے لئے ایک اہم پوسٹ

تمام احباب سے گزارش ہے کہ یہ زندگی عارضی ہے اور ہر کسی کو ایک دن جانا ہے لہذا خدا نخواستہ اگر کوئی ملازم دوران سروس وفات پا جاتا ہے تو بعد میں اس کی فیملی کو کیا مسائل درپیش ہوتے ہیں ان کو مسائل وقت اور پیسے کا ضائع ہونے سے بچانے کیلئے آپ درج ذیل ان باتوں پر فوری عمل کریں تاکہ کل آپ کی فیملی کو کسی تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے خاص طور سے بچوں کو تکلیف نہ اٹھانی پڑے...

1=سب سے پہلے اپنے شناختی کارڈ، سروس بک، سیلری سلپ اور پہلے تقرری آرڈر میں اپنی تاریخ پیدائش تاریخ تقرری چیک کریں کہ اس میں فرق نہ ہو

2=اپنا اور اپنی زوجہ کا شناختی کارڈ اپڈیٹ رکھیں کہ اس کی میعاد ختم ہونے کے قریب نہ ہو

3=اپنا نکاح نامہ کمپیوٹرائزڈ بنا کر رکھیں اور آپ کی زوجہ کے شناختی کارڈ میں والد کی جگہ آپ کا نام لکھا ہو.

4=بچے جو 18 سال سے زیادہ ہوں ان کا شناختی کارڈ ہو اور جو چھوٹے ہوں ان کا ب فارم لازمی بنا لیں اور ان سب کی تاریخ پیدائش نام ولدیت پر غور کریں کہ کسی میں کچھ غلطی نہ ہو

5=اپنی سروس بک جی پی فنڈ رجسٹر کو اپڈیٹ اور مکمل رکھیں اور دیکھیں ٹریژری سے ویرہفائی کی سٹیمپ لگی ہوئی ہو،

6=اگر آپ نے جی پی فنڈ نمبر نہیں لیا ہے تو وہ فوری طور پر لے لیں،

7-- اپنے تمام تعلیمی اسناد کو ویریفایئ کرکے رکھیں اور خصوصاً اپنے پہلے تقرری آرڈر کی لازمی ویریفیکیشن کر کے رکھیں

8=اپنے تنخواہ والے اکاؤنٹ میں پیسے مت رکھیں کیونکہ وہ فوراً بند ہوجاتا ہے پھر وہ رقم عدالت کے فیصلے کے بعد ملتے ہیں جس میں تین چار ماہ لگتے ہیں.

9=اپنا ایک الگ پرائیویٹ اکاؤنٹ ہو جس میں احتیاطاً کچھ رقم رکھیں اور ایک چیک لکھ کر دستخط کرکے گھر کے کسی زمہ دار شخص کے حوالے کریں جو وہ رقم بوقت ضرورت کام آئے گی کیونکہ ملازم کی وفات کے بعد تین چار ماہ کے بعد بیوہ کو پنشن ملتی ہے.

10= نادرا سے FRC فارم بنوا کر رکھیں جس میں آپ کے خاندان کا مکمل ڈیٹا لکھا ہوتا ہے اگر اس میں کوئی غلطی ہو تو ابھی سے درستگی کر لیں اس میں ایک دن کے پیدا ہونے والے بچے کا بھی تصویر اور ریکارڈ ہوتا ہے.
دعاؤں میں یاد رکھئے گا-

19/07/2024

10 ویب سائٽس جن کي نوڪری ڳولھڻ جي لاء استعمال ڪري سگهجي ٿو:
1. Linkedin. com
2. Indeed. com
3. Naukri
4. Monster
5. JobBait
6. Careercloud
7. Dice
8. CareerBuilder
9. Rozee. pk
10. Glassdoor

10 skills
جيڪي اڄڪلھ جي دور جون ڊیمانڊ آھن

1. Machine Learning
2. Mobile Development
3. SEO/SEM Marketing
4. Web development
5. Data Engineering
6. UI/UX Design
7. Cyber-security
8. Graphic designing
9. Blockchain
10. Digital marketing

11 ویب سائٽس جتي اوهان آن لائن تعلیم حاصل ڪري سگهو ٿا:

1. Coursera
2. edX
3. Khan Academy
4. Udemy
5. iTunesU Free Courses
6. MIT OpenCourseWare
7. Stanford Online
8. Codecademy
9. ict it
10 ict iitk
11 NPTEL

10 ویب سائٽس جتي اوهان Excel فري سکي سگهوٿا:

1. Microsoft Excel Help Center
2. Excel Exposure
3. Chandoo
4. Excel Central
5. Contextures
6. Excel Hero b.
7. Mr. Excel
8. Improve Your Excel
9. Excel Easy
10. Excel Jet

10 ویب سائٽس جتي اوهان پنهنجي CV مفت ریویو ڪرائي سگهو ٿا:

1. Zety Resume Builder
2. Resumonk
3. Resume dot com
4. VisualCV
5. Cvmaker
6. ResumUP
7. Resume Genius
8. Resume builder
9. Resume Baking
10. Enhance

10 ویب سائٽس جتي اوهان انٽرویوز جي تیاري ڪري سگهو ٿا:

1. Ambitionbox
2. AceThelnterview
3. Geeksforgeeks
4. Leetcode
5. Gain
6. Careercup
7. Codercareer
8. interview
9. InterviewBest
10. Indiabix

5 ویب سائٽس جتي اوهان فري لانسنگ جون نوڪريون ڪري سگهو ٿا:

1. Fiverr. com
2. Upwork. con
3. Guru. com
4. worksheet com
5. Freelancer . com

08/07/2024

#کھانے کا بل
میں ڈی ایچ اے کے ریسٹونٹ میں کھانا کھا رہا تھا۔
کھانے کے بعد میں نے بل طلب کیا۔
ویٹر نے کہا، سر وہ سامنے جو نوجوان بیٹھا ہے، اس نے آپ کا بل ادا کر دیا ہے
میں حیران ہوا۔
نوجوان کے پاس جا کر ہاتھ ملایا۔
آپ نے میرا بل کیوں ادا کیا؟ میں نے پوچھا۔
آپ منسٹر صاحب ہیں نا؟ وہ مسکرایا۔
جی ہاں، میں نے سر ہلایا۔
اس نے ادائے بے نیازی سے کہا،
اس میں کوئی بڑی بات نہیں آپ کے بجلی، گیس اور فون کے بل بھی تو ہم ہی دیتے ہیں
کھانے کا بھی سہی🎄

28/06/2024

‏میت کاندھوں پہ بعد میں اٹھتی ہے۔ دیگ میں چمچے پہلے کھڑک جاتے ہیں۔ لواحقین کی دھاڑیں کم نہیں ہوتیں کہ "مصالحہ پھڑا اوئے" کی صدائیں بلند ہو جاتی ہیں۔ قبر پر پھول سجتے نہیں کہ کھانے کے برتن سج جاتے ہیں۔ آنکھوں میں آنسو خشک نہیں ہو پاتے کہ عزیز و اقارب کے لہجے پہلے ہی خشک ہو جاتے ہیں۔۔۔ "چاولوں میں بوٹیاں بہت کم ہیں۔ فلاں نے روٹی دی تھی تو کیا غریب تھے جو دو کلو گوشت اور ڈال دیتے۔"
مرنے والا تو چلا جاتا ہے۔ لیکن یہ کیسا رواج ہے کہ جنازہ پڑھنے کے لیے آنے والے اس کی یاد میں بوٹیوں کو چَک مارتے دیگی کھانے کی لذت کے منتظر ہوتے ہیں؟
فرسودہ روایات کو بدلو۔ خیرات و ایصالِ ثواب کی حد تو ٹھیک ہے۔ لیکن یہ کیا طریقہ ہے کہ جنازے پر بھی جاؤ تو "روٹی کھا کے آنا؟"

قرب و جوار کی تو بات ہی نہ کریں۔ دور سے آئے ہوؤں کو بھی چاہیے کہ زیادہ بھوک لگی ہے تو کسی ہوٹل سے کھا لیا کریں۔

خوشی، غمی ہر انسان کے ساتھ ہے۔ لیکن روایات کو بدلیں۔

فوتیدگی پر کھانے کی رسومات کو بند کرنے میں ہمارا ساتھ دیں

20/06/2024

مٹی_کےبرتن کا استعمال

مٹی کے برتن میں کھانا آہستہ آہستہ پکتا ہے
اس کے برعکس سِلور، سٹیل، اور پریشر کُکر میں کھانا جلدی جلدی تیار ہوتا ہے لیکن
یہ کھانا پکتا نہیں بلکہ گلتا ھے،
تو سب سے پہلے اپنے برتن بدلیں، جن لوگوں نے برتن بدل لیے، اُن کی زِندگی بدل گئی،
2- کُوکِنگ آئل
کوکنگ آئل وہ استعمال کریں،
جو کبھی نہ جَمے،
دُنیا کا سب سے بہترین تیل جو جمتا نہیں،
وہ زیتون کا تیل ہے،
لیکن یہ مہنگا ھے، ہمارے جیسے غریب لوگوں کے لیے سرسوں کا تیل ہے،
سرسوں کا تیل جمتا نہیں،
یہ وہ واحد تیل ہے،
جو ساری عُمر نہیں جمتا،
اور اگر جم جائے تو سرسوں نہیں ہے،
ہتھیلی پر سرسوں جمانے والی بات
بھی اسی لیے کی جاتی ہے
کیونکہ یہ ممکن نہیں ہے
سرسوں کے تیل کی ایک خوبی یہ بھی ھے کہ اس کے اندر جس چیز کو بھی ڈال دیں گے،
اس کو جمنے نہیں دیتا،
اس کی زِندہ مِثال اچار ہے
جو اچار سرسوں کے تیل کے اندر رہتا ہے
اس کو جالا نہیں لگتا،
اور اِن شاءالله جب یہ سرسوں کا تیل آپ کے جسم کے اندر جاۓ گا تو آپ کو کبھی بھی فالج،
مِرگی یا دل کا دورہ نہیں ہوگا،
أپ کے گُردے فیل نہیں ہونگے،
پوری زندگی آپ بلڈ پریشر سے محفوظ رہیں گے،
اِن شاء الله
کیونکہ
سرسوں کا تیل نالیوں کو صاف کرتا ہے،
جب نالیاں صاف ہوجاٸیں گی تو دل کو زور نہیں لگانا پڑے گا،
سرسوں کے تیل کے فاٸدے ہی فاٸدے ہیں،
ہمارے دیہاتوں میں جب جانور بیمار ہوتے ہیں تو بزرگ کہتے ہیں کہ ان کو سرسوں کا تیل پلاٸیں،
أج ہم سب کو بھی سرسوں کے تیل کی ضرورت ہے،

3- نمک (نمک بدلیں)
نمک ہوتا کیا ھے؟
نمک اِنسان کا کِردار بناتا ھے،
ہم کہتے ہیں بندہ بڑا نمک حلال ھے،
یا پھر
بندہ بڑا نمک حرام ھے
نمک انسان کے کردار کی تعمیر کرتا ھے،
ہمیں نمک وہ لینا چاہیٸے جو مٹی سے آیا ہو،
اور وہ نمک أج بھی پوری دنیا میں بہترین پاکستانی کھیوڑا کا گُلابی نمک ھے،
پِنک ہمالین نمک 25 ڈالر کا 90 گرام یعنی 4000 روپے کا نوے گرام اور چالیس ہزار روپے کا 900 گرام بِکتا ھے،
اور ہمارے یہاں دس تا بِیس روپے کلو ھے،
بدقسمتی دیکھیں
ہم گھر میں آیوڈین مِلا نمک لاتے ہیں،
جس نمک نے ہمارا کردار بنانا تھا،
وہ ہم نے کھانا چھوڑ دیا۔
اس لٸے میری أپ سے گذارش ھے کہ ہمیشہ پتھر والا نمک استعمال کریں،

4- مِیٹھا
ہم سب کے دماغ کو چلانے کے لٸے میٹھا چاہیٸے،
اور میٹھا الله نے مٹی میں رکھا ہے ،
یعنی گَنّا اور گُڑ،
اور ہم نے گُڑ چھوڑ کر چِینی کھانا شروع کر رکھی ہے ،
خدارا گُڑ استعمال کریں گڑ

5- پانی
انسان کے لیے سب سے ضروری چیز پانی ہے ،
جس کے بغیر انسان کا زندہ رہنا ممکن نہیں،
پانی بھی ہمیں مٹی سے نِکلا ہُوا ہی پینا چاہیٸے،
پوری دنیا میں زمزم کا پانی سب سے بہترین پانی ہے،
اس کے بعد پھر پنچاب اور وادئ ھزارہ کا پانی ہے ،
اہم بات
کبھی بھی گندم کو چھان کر استعمال نہ کریں،
گندم جس حالت میں آتی ہے،
اُسے ویسے ہی استعمال کریں،
یعنی سُوجی، میدہ اور چھان وغیرہ نکالے بغیر
کیونکہ
ہمارے آقا کریم حضرت محمد بغیر چھانے أٹا کھاتے تھے،
تو پھر طے یہ ہوا کہ ہمیں یہ پانچ کام کرنے چاہٸیں،
1- مٹی کے برتن،
2- سرسوں کا تیل،
3- گُڑ،
4- پتھر والا نمک،
اور
5- زمین کے اندر والا پانی،
یاد رہے یہ پانی مٹی کے برتن میں رکھ کر مٹی کے گلاس یا پیالے میں پئیں،
اس کے علاوہ گندم کا ان چھنا آٹا،
اب سوال یہ ہے کہ ہم یہ ساری چیزیں کیوں لیں ؟
یہ ساری چیزیں ہم نے اس لیے لینی ہیں کہ اسی میں ہماری صحت ہے،
ہم پیدا بھی مٹی سے ہوئے ہیں اور واپس دفن بھی اسی مٹی میں ہونا ہے ..
کاپی

16/06/2024

ھم نے طلاق لے کے عورتوں کو پچھتاتے ھوئے دیکھا ھے۔
جو عورتیں شوہر کے گھر اس لیے چھوڑ آئیں کہ ہماری عزت نہیں ھے انہیں زمانے کی ٹھوکریں کھاتے دیکھا ہے۔

جو سسرال میں رہنا اس لیے گوارا نہیں کرتیں کی ان سے کام نہیں ہوتا ذمہ داری نہیں اٹھا سکتیں وہ جب تن تنہا اولاد کی ذمہ داری اٹھاتی ھیں تو ان کے چودہ طبق روشن ھوتے دیکھے ہیں۔

جنہوں نے شوہر کو سبق سکھانے کے لیے عدالتوں سے طلاقیں لی ان کو رجوع کے لیے تڑپتے ھوئے دیکھا ہے۔

بلقیس ایدھی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا: ”دنیا کے جوتے کھانے سے بہتر ھے ایک آدمی کے جوتے کھالو“۔

یہ جو فیمنسٹ یا لبرل خواتین، عورتوں کو طلاق دلوا کے حقوق دلوانے نکلتی ہیں ان کی تقلید کرنے سے پہلے انکی ذاتی زندگی میں بھی ایک نگاہ ڈال لینی چاہیے کہ وہ گھر کیسے بسا رہی ہیں یا طلاق کے بعد کتنی آئیڈیل لائف گزار رہی ہیں۔

میں طلاق کے خلاف نہیں ہوں کہ اس کا حق اللہ تعالیٰ نے دیا ہے مگر یہ آخری آپشن ھونا چاہیے اس کو پہلا آپشن مت سمجھیے۔ حالات ناگزیر ہیں تب بھی طلاق کا فیصلہ کرنے سے پہلے علیحدہ ہو جائیں چھ ماہ الگ رہیں پھر فیصلہ کریں۔

گھر ٹوٹنے نہیں چاہیئں..
اولادیں برباد ہو جاتی ہے..
انا کو قربان کرنا پڑے..کر دیجیے..
مگر اولاد کو تحفظ دیجیے...
طلاق مسائل کا حل نہیں ہے. بلکہ مسائل کی ابتداء ہے ۔
میاں بیوی کے درمیان جو مسائل ہیں انہیں حل کریں..
مسائل حل کرنا سیکھیں..
زک زیک سیکھیں..
جھوٹی انا اور جھوٹی عزت میں گھر مت اجاڑیں۔
یہ ٹھیک ہے کہ مار مت کھائیں.. ظلم برداشت مت کریں.. آواز اٹھائیں مگر طلاق آخری آپشن ہے۔ کم از کم چھ ماہ علیحدہ رھنے کے بعد فیصلہ کریں۔“...

🙁🤲🤲 دعا ہے اللہ تعالیٰ ہر کسی کو اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے آمین ۔🤲😔😔

08/06/2024

میری والدہ کا قضائے الٰہی سے انتقال ہوگیا ہے نمازِ جنازہ بعد نماز مغرب جامع مسجد بلال مری چوک محمدی کالونی میں ادا کی جائے گی ۔
نماز جنازہ میں شرکت فرما کر ثواب دارین حاصل کریں.

20/05/2024

🌟کیا ہم ایک مفلوج قوم پروان چڑھا رہے ہیں ؟؟
اسٹیوارٹ کا انتقال 103 سال کی عمر میں کیلیفورنیا میں ہوا‘ یہ اور ان کی بیگم دونوں پچاس سال راولپنڈی میں پڑھاتے رہے‘

پروفیسر اسٹیوارٹ نے 1960میں اپنی الوداعی تقریر میں اس خطے کے بارے میں بڑی خوب صورت بات کی ‘ اس کا کہنا تھا ’’پاکستانی ایک ناکارہ اور مفلوج قوم ہیں‘‘ اس کا کہنا تھا ’’اس قوم کو پہلے اس کی مائیں نکما بناتی ہیں‘ یہ اپنے بچوں کا ہر کام خود کرتی ہیں‘ ان کے کپڑے دھوتی ہیں‘ استری کرتی ہیں‘ بچوں کو جوتے پالش کر کے دیتی ہیں‘ لنچ باکس تیار کرکے بچوں کے بستوں میں رکھتی ہیں اور واپسی پر باکسز کو نکال کر دھو کر خشک بھی خود کرتی ہیں۔

بچوں کی کتابیں اور بستے بھی مائیں صاف کرتی ہیں اور ان کے بستر بھی خود لگاتی ہیں چناں چہ بچے ناکارہ اور سست ہو جاتے ہیں اور یہ پانی کے گلاس کے لیے بھی اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو آواز لگادیتے ہیں یا ماں کو اونچی آواز میں کہتے ہیں امی پانی تو دے دو‘ پاکستانی بچے اس کلچر کے ساتھ جوان ہوتے ہیں‘ اس کے بعد ان کی بیویاں آ جاتی ہیں‘ یہ انھیں اپنا مجازی خدا سمجھتی ہیں اور غلاموں کی طرح ان کی خدمت کرتی ہیں‘ یہ بھی ان کا کھانا بناتی ہیں‘ کپڑے دھو کر استری کرتی ہیں۔

ان کے واش رومز صاف کرتی ہیں‘ ان کے بستر لگاتی ہیں اور پھر ان کی نفرت‘ حقارت اور غصہ برداشت کرتی ہیں چناں چہ میں اگر یہ کہوں پاکستانیوں کی مائیں بچوں کی نرسیں‘ بیویاں ملازمائیں اور چھوٹے بہن بھائی غلام ہوتے ہیں تو یہ غلط نہیں ہوگا لہٰذا سوال یہ ہے جو لوگ اس ماحول میں پل بڑھ کر جوان ہوتے ہیں کیا وہ ناکارہ اور مفلوج نہیں ہوں گے؟‘‘ پروفیسر اسٹیوارٹ کا کہنا تھا ’’اگر تم لوگوں نے واقعی قوم بننا ہے تو پھر تمہیں اپنے بچوں کو شروع سے اپنا کام خود کرنے اور دوسروں بالخصوص والدین کی مدد کی عادت ڈالنا ہو گی تاکہ یہ بچے جوانی تک پہنچ کر خود مختار بھی ہو سکیں اور ذمے دار بھی‘ تم خود فیصلہ کرو جو بچہ خود اٹھ کر پانی کا گلاس نہیں لے سکتا وہ کل قوم کی ذمے داری کیسے اٹھائے گا؟‘‘۔
منقول

16/05/2024

سب سے پہلے والدین ۔۔۔ پھر اساتذہ ۔۔۔۔

سب سے پہلے والدین کیوں ۔۔۔۔۔ کیوں کہ آج کل والدین فون کرتے ہیں کہ آپ کے اسکول/کالج میں میرے بچے اور بچی کا سینٹر ہے آپ ہیلپ کر دیں ۔۔۔ کہہ دیں ۔۔۔۔ غضب خدا کا ۔۔۔۔ اگر انھیں منع کریں تو طعنے تشنوں سے نوازتے ہیں ۔۔۔۔ کہ آپ بڑے شرفاء کمیٹی کے سرپنچ بن رہے ہیں آپ کے اسکول/کالج میں یہ ہو رہا ہے وہ ہو رہا ہے سب کر رہے ہیں میرا بچہ کر لے گا تو کون سی قیامت آجاۓ گی ۔۔۔۔ میری ایک ٹیچر کی دوست نے (جو کہ ٹیوشن والی باجی ہیں) انھیں عرصہ دراز کے بعد فون کرکے حال احوال دریافت کیا دو تین دن مسلسل خوب سہیلیاں سہیلا کا کھیل جاری رہا آخر کار میٹرک کے امتحان سے ایک دن پہلے فون کر کے ان خاتون ٹیچر سے کہا کہ "یار صبح تمھارے اسکول میں کب تک پرچہ آتا ہے تم پیپر سے پہلے واٹس ایپ کر سکتی ہو" اس پر اس خاتون نے صاف انکار کیا تو بجاۓ شرمندہ ہو کر معافی مانگنے کے دیدہ دلیری سے ن ٹیچر کو خوب سنا دی کہ تم بڑی بی حجن بن رہی ہو سب ہوتا ہے ہمیں سب پتہ ہے تمھیں پیسے چاہئیے صاف صاف بتاؤ ۔۔۔۔ مطلب کہ انسان کو نہ اس کل چین نہ اس کل چین ۔۔۔۔ اس قدر آلودہ سسٹم ہوچکا ہے کہ انسان اگر اس سے آلودگی سے بچنا چاہے تو بھی طعنے تشنہ کی زرد میں رہتا ہے اور اپنے ہاتھ آلودہ کرتا تو بھی لوگ اسے نہیں بخشتے ۔۔۔۔ میرے پاس درجنوں رئیل اسٹوریز ہیں ۔۔۔۔۔

میں سمجھتا ہوں اس آلودگی کے یہ دو اہم ذمہ داران ہیں ایک والدین اور دوسرے اساتذہ ۔۔۔۔ جو کہ غلط کو غلط نہیں کہہ رہے بچوں کی تربیت نہیں کر رہے انھیں اس بات سے کوئ فرق ہی نہیں پڑ رہا کہ وہ کیسا جنگل آباد کر رہے ہیں۔۔۔۔ باقی سسٹم کی خامیاں اپنی جگہ 🙏

16/05/2024

‏نیم کا درخت 55C گرمی 10C سردی برداشت کرنے کی طاقت رکھتا ہے ۔ ایک بارہ فٹ کا درخت 3 ایئر کنڈیشنر کے برابر ٹھنڈک پیدا کرتا ہیں۔ درخت زندگی ہیں درخت ایک قیمتی سرمایہ ہیں نیم کے اس پودے کی قیمت 50 سے 100 روپے ھوگی . ۔۔
درخت لگائیں. زندگیاں بچائیں ۔۔۔🥀

نیم کا استعمال برصغیر پاک وہند میں صدیوں سے چلا آ رہا ہے، بدقسمتی سے جدید دور میں ہماری نئی نسل قدرتی اجزاء سے ناواقف ہوتے جارہے ہیں ،جبکہ اسکی افادیت بہت زیادہ ہے اس کے پتے اور چھال ہر قسم کی جلدی امراض میں سب سے زیادہ بہتر ہیں
کوشش کریں اپنے گھر ، رقبہ ، سڑک کنارے جہاں جہاں ممکن ہو اسکا پودا ضرور لگائیں ۔۔۔

ویسے بھی درخت لگانا صدقہ جاریہ ھے۔۔۔

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

Taj Masjid Road, Near Nadeem Clinic, Agrataj
Karachi

Opening Hours

Monday 07:30 - 12:00
Tuesday 07:30 - 12:00
Wednesday 07:30 - 12:00
Thursday 07:30 - 12:00
Friday 07:30 - 12:00
Saturday 07:30 - 12:00