31/05/2026
مرحوم بشیر بدر صاحب کے مصرع پر گرہ حاضر ہے ۔۔۔۔
تم کو اندازہ نہیں ہے کیا سے کیا ہو جائے گا
“ اتنا مت چاہو اسے وہ بے وفا ہو جائے گا“
ابراہیم شوبی
Poet,writer & music lover
31/05/2026
مرحوم بشیر بدر صاحب کے مصرع پر گرہ حاضر ہے ۔۔۔۔
تم کو اندازہ نہیں ہے کیا سے کیا ہو جائے گا
“ اتنا مت چاہو اسے وہ بے وفا ہو جائے گا“
ابراہیم شوبی
31/05/2026
آئے ہوۓ ہیں عارضی سیر و سفر پہ ہم
کچھ مُستقل قیام کی صورت جہاں نہیں
ابراہیم شوبی
28/05/2026
27/05/2026
لفظی کہانی مقابلہ (عید الاضحیٰ اسپیشل)
موضوع : قربانی صرف جانور کی نہیں ، نفس کی بھی ہوتی ہے
مصنف : ابراہیم شوبی
کہانی:
عید الاضحیٰ کی آمد آمد تھی علی اپنے والد سے ضد کر رہا تھا کہ بکرا کب لے کر آئیں گے ، محمود صاحب اس انتظار میں تھے کہ انھوں نے جن لوگوں کو ادھار دیا ہوا ہے وہ انھیں واپس کر دیں تو منڈی جا کر علی کے ساتھ قربانی کے لیے بکرا لے آئیں اتنے میں محمود صاحب کے دوست حیدر صاحب آ گئے اور انھوں نے محمود صاحب سے کہا میں اس بات پہ شرمندہ ہوں کہ آپ سے لیا ہوا قرض وقت پہ واپس نہیں کر پایا ، میری بیوی کا آپریشن ہے محمود صاحب نے حیدر سے کہا کوئی بات نہیں ہم قربانی اگلے سال کر لیں گے قربانی صرف جانور کی نہیں نفس کی بھی ہوتی ہے تم اپنی بیوی کا علاج کروا لو میں تمھارا قرض معاف کرتا ہوں۔
17/05/2026
یوں بھی کڑوا انہیں لگوں گا میں
سچ کی عادت ہے سچ کہوں گا میں
ہار مانوں گا کب سہولت سے
جب تلک سانس ہے لڑوں گا میں
لڑکھڑانے لگے قدم میرے
گر گیا بھی تو پھر اُٹھوں گا میں
جیسی کرنی ہے ویسی بھرنی ہے
گر کیا ہے بُرا بھروں گا میں
تم جو چاہو تو کیا نہیں ممکن
تم نہ چاہو تو کیا کروں گا میں
جس میں نورِ خُدا بھرا ہوا ہے
طاقچے میں وہ دل رکھوں گا میں
ایسا سوچا بھی تھا نہیں شوبی
کہ کسی پہ کبھی مروں گا میں
(ابراہیم شوبی)
17/05/2026
اس عنایت پہ Dua Ali کا بیحد شکریہ
17/05/2026
پہلے اُس نے بال و پر نوچے مرے
پھر کہا مجھ سے کہ تو آزاد ہے
ابراہیم شوبی
09/05/2026
یہ مرے باپ کی بدولت ہے
بختِ بیدار میں نے پایا ہے
ابراہیم شوبی