06/05/2026
تین چیزوں کی دعا جس میں نجات ہے
جب ہم رسولِ کریم ﷺ کی درج ذیل دعا مضبوطی سے تھام لیتے ہیں، جو آپ ﷺ نے حضرت معاذ بن جبلؓ کو سکھائی:
رَبِّ أَعِنِّي عَلَىٰ ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ
پھر ضروری ہے کہ ہم اس دعا کے ہر حصے کو شعور کے ساتھ اپنی زندگی میں شامل کریں۔ اس کا دوسرا حصہ شکر کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہے، کیونکہ شکر اعلیٰ عبادت ہے جس کا تعلق قلب سے ہے۔
شکر احسان مندی کو کہتے ہیں، یعنی اللہ کا احسان مان لینا شکر ہے،* جس میں تمام نعمتوں کو اللہ کی طرف منسوب کرنا شامل ہے۔ اس میں تھوڑی نعمت پر راضی ہونا بھی شامل ہے۔
شکر کرنے کا مطلب ہے کہ:
کسی نعمت کے بارے میں سوچنا اور اس کا اظہار کرنا
اللہ سے ان نعمتوں کے بارے میں بات کرنا
نعمتوں کو گننا اور تذکرہ کرنا
جو چیز پسند نہ آئے اس سے تغافل برتنا
ہر لمحہ الحمد للہ کہنا (الحمد للہ تملأ المیزان)
اپنی تعریف سے بے نیاز ہو جانا، کیونکہ ساری تعریف اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے لیے ہے
شکر گزار بننے میں ایک چیز جو رکاوٹ بن سکتی ہے وہ یہ ہے کہ ہم سمجھتے ہیں شکر گزاری اس وقت ہوگی جب حالات اور معاملات ہماری مرضی کے موافق ہوں گے، جبکہ انبیاء کی زندگی کا پیغام اس کے برعکس ہ*۔
نوح علیہ السلام کے لیے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:
إِنَّهُ كَانَ عَبْدًا شَكُورًا
حالانکہ انہوں نے ساڑھے نو سو سال تبلیغ کی، جس کے نتیجے میں سو سے کم لوگ ایمان لائے۔ نہ ان کی قوم نے ان کو سراہا، نہ قبول کیا۔
ان کی شکر گزاری اس بات سے ظاہر تھی کہ مشکل حالات کے باوجود انہوں نے اپنی ڈیوٹی آخری وقت تک نبھائی، اور آخری وقت تک بیٹے کو نصیحت کی۔
ابراہیم علیہ السلام کے لیے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:
شَاكِرًا لِّأَنْعُمِهِ ۚ اجْتَبَاهُ وَهَدَاهُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
ابراہیم علیہ السلام کے نہ حالات بہت اچھے تھے، نہ باپ نے بہت سپورٹ کیا، نہ ساری قوم ان کی شیدائی تھی، اور نہ ہی پوری قوم ایمان لائی۔
ان کی قوم نے ان کو آگ میں ڈالنے کی تیاری کی۔ انہیں ہجرت کرنی پڑی۔ کئی سال تک انہیں اولاد نہیں ہوئی۔
کیا انہوں نے شکوہ کیا؟
ہاجرہ علیہا السلام اکیلی اپنے بیٹے کے ساتھ ایسے علاقے میں بھیجی گئیں جہاں نہ پانی تھا، نہ کھانا، اور نہ کوئی انسان بات کرنے کے لیے۔ کیا یہ حالات سازگار تھے؟
انبیاء علیہم السلام کے اندر شکر بدرجہ اتم موجود تھا حالانکہ وہ کئی آزمائشوں سے گزرے اس سے ہمیں یہ سیکھنا ہے کہ اگر حالات ہمارے موافق نہ بھی ہوں تب بھی ہم نے شکر گزار بننا ہے یعنی:
جب مرضی کا کام نہ ہو…
جب اپنی سوچ کے مطابق سروس نہ ملے…جب کسی علاقے میں اکیلے ہوں…
جب ڈانٹ پڑ جائے…
ایسی تمام تمام صورتحال میں بھی شکر کرنا ہے۔
آج ہی اس کی پریکٹس کا آغاز کریں۔
ایک دن میں جائزہ لیں کہ دن میں کتنی مرتبہ الحمد للہ کہا، پھر دل سے الحمد للہ کہنے کے مواقع بڑھائیں۔
والدین اور شوہر کا شکریہ ادا کریں۔