Online Quran Academy
We Provide Online Quran Teaching According To Your Needed Hours & Budget.
07/09/2021
اسٹوڈنٹس ہمیشہ کی طرح کمرہ جماعت میں اسلامیات کے پروفیسر سر شہاب الدین کے لیکچر شروع ہونے کا بے چینی سے انتظار کر رہے تھے؛ کیونکہ ان کو الحاد کے اس دور میں جہاں بدقسمتی سے ارد گرد کا ماحول ہی ایسا پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تھی کہ (معاذ اللہ) خدا کے وجود میں ہی تشکیک پیدا ہونے لگ جائے، پروفیسر کا ایک ایک جملہ ان کو خدا کے پاس ہونے کا ہی نہیں بلکہ بہت ہی پاس ہونے کا احساس دلاتا تھا، اسٹوڈنٹس دوران لیکچر اپنے آپ کو مثل بغیر پانی کے تڑپتی ہوئی مچھلی محسوس کرتے جو اپنے وجود کو پانی میں پاکر سکھ کا سانس اور جان میں جان محسوس کرتی ہو۔ خدا کے بغیر انسان بھی تو محض لکڑی کے ایک پتلے کے ماند ہی تو ہے؛ جس میں کوئی جان نہ ہو؛ جسے پرانے وقتوں میں لوگ کھیتوں کی فصلوں کو موزی پرندوں سے حفاظت کی خاطر محض نمائشی طور پر گاڑتے تھے تاکہ پرندے اسے کوئی انسان سمجھ کر فصلوں کے قریب نہ آئیں۔ نمائشی پتلے بننے سے بچنے کے لیے ہی تو خلیفہ چہارم، شیر خدا نے فرمایا تھا: " جب میرا جی چاہتا ہے کہ میں خدا سے باتیں کروں تو نماز پڑھتا ہوں اور جب میرا جی یہ چہتا ہے کہ خدا مجھ سے باتیں کرے تو میں قرآن پڑھتا ہوں!
پروفیسر نے لیکچر کا آغاز کرتے ہوئے کہا: جیسا کہ آپ کو معلوم ہی ہے کہ قرآن آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو دیے گئے معجزات میں سے سب سے بڑا معجزہ ہے، اس کی فصاحت و بلاغت اپنی مثل آپ ہے، اس کے پیش کردہ حقائق کو رد نہیں کیا جاسکتا، مختلف لوگوں نے نثر اور نظم میں آہنگ اور چاشنی پیدا کرنے کی خاطر خاص اصول وضوابط بنا رکھے رکھے ہیں، جن کی رعایت سے ہی کلام ادب پر مبنی کہلائے گا۔
پیارے بچو!
آپ کو معلوم ہے نا کہ میں کس ادب کی بات کررہا ہوں؟
کہیں آپ لوگ اپنے والد محترم کے ساتھ ادب سے پیش آنے کو تو نہیں سمجھ رہے؟ یہاں تو اس ادب کی بات ہورہی ہے کہ جس کو یہ ملکہ حاصل ہوجاتا ہے اسے " جدلیات کا اظہار بھی جمالیاتی طور پر کرنا آجاتا ہے" گویا کہ غصّہ کے اظہار کے وقت میں بھی ادبی شخص منہ سے پھول برساتا معلوم ہوگا!
تو میں یہ عرض کر رہا تھا کہ قرآن مجید میں خاص ان اصولوں کی رعایت تو نہیں کی گئی؛ مگر ادب کا مقصد سننے پڑھنے والوں کو چاشنی کا ملنا، بدرجہ اتم پایا جاتا ہے۔۔۔
یہاں تک کہ قرآن میں موجود ایک ایک لفظ جس مقام پر رکھا گیا ہے اس کی بھی اپنی ہی کوئی حکمت ہے؛ جن میں سے بہت سی حکمتوں تلک ابھی تک ذہن انسانی کی رسائی نہیں ہوئی! ہاں۔ جو اس آفاقی کتاب کی گہرائی میں جس قدر غوطہ زنی کریگا اس کی جھولی میں علیم و خبیر ذات کی طرف سے چند علم کے موتی ڈال دیے جائیں گے۔ اسی لیے تو ہمارا رب ہمیں قرآن کو پڑھنے، سمجھنے، اور اس پر عمل کرنے کی دعوت دیتا ہے تاکہ یہ انسان بکھری ہوئی قدرت کی نشانیان جان کر تسخیر عالم کے واسطے سے اپنے رب کے وصل تک پہنچ سکے۔
لیکچر جاری تھا کہ سوچوں میں گم بکھرے بالوں والے طالب علم امجد نے ہاتھ بلند کیا۔۔
پروفیسر: جی بیٹا! آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں؟
سر! آپ نے ابھی بتلایا ہے کہ قرآن میں موجود ہر ایک لفظ کی اپنی ہی ایک حیثیت ہے؛ جبکہ میری نالج کے مطابق اکیسویں پارہ "اتل ما"، سورہ احزاب کی یہ آیت:
ما جعل الله لرجل من قلبین
ترجمہ : اللہ نے کسی شخص کے پہلو میں دو دل نہیں رکھئے
اس آیت پر مجھے ایک اعتراض ہے۔
پروفیسر: کیوں بیٹا؟
طالب علم: اس لیۓ سر کہ اللّہ نے تو کسی عورت کے پہلو میں بھی دو دل نہیں بنائے تو اس آیت میں صرف مرد ہی کی تخصیص کیوں کی گئی ہے؟؟
کلاس کے باقی اسٹوڈنٹس اعتراض سن کر، جواب کے منتظر، نگاہیں پروفیسر پر جمائے، عجیب سی بے چینی میں مبتلا تھے، یہ کیا؛ اب تو کچھ طالب علموں نے ایک دوسرے کے کانوں میں سرگوشیاں بھی شروع کردی تھی۔۔۔
پروفیسر جو کہ روسٹم پر سر جھکائے شاید کسی گہری سوچ میں گم تھا، خاموشی توڑتے ہوئے سر اُٹھاتا ہے۔
"جی بیٹا! سنو جواب"
عورت جب امید سے ہوتی ہے تو اس کے پہلو میں ایک دل نہیں بلکہ دو دل جمع ہوجاتے ہیں۔ ایک تو عورت کا اپنا دل اور ایک ہونے والے بچے، بچی کا؛ تو اس فرق کی رعایت رکھنے کےلئے اللّہ پاک نے لرجل (for a man) کا لفظ استعمال کیا ہے ناکہ لامراۃ(for a women) کا۔!!
*تحریر: یاسر حنیف*
Yasir Hanif
We Provide Online Quran Teaching According To Your Needed Hours & Budget.
classes
For Details
Whats Aap Number
03430084150
ڈاکٹر اسرار احمد رح
We Provide Online Quran Teaching According To Your Needed Hours & Budget.
For Details
Skype ID Yasir Hanif
Whats Aap Number
03430084150
We Provide Online Quran Teaching According To Your Needed Hours & Budget.
For Details
Whats Aap 0343-0084150
Skype ID Yasir Hanif
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Karachi