Islam is the great

Islam is the great

Share

Hazrat Aisha(r.a) say rawayat hai kay Nabi Pak(s.a.w.w) nay ek shakhs ko ek lashkar ka sardar bana kar bhaija wo Namaz main har raqat main Surah Ikhlas par

Islamic Academy is dedicated to increase Islamic knowledge to the Muslims all over the world. Knowledge is a very powerful tool to understand and practice Islam. Proper knowledge and practice helps to create fear of ALLAH in a Muslim's

03/07/2017

یہ کلپ لازمی دیکھیں اور شیئر کریں
اس فلم پر پابندی لگنی چاہیئے مسلمانوں جاگو اپنے پیارے نبی ﷺ کے لیئے جاگو
اس ویڈیو کو اتنا پھیلاؤ کے اس فلم پر پابندی لگ جائے

Photos 01/11/2016
19/09/2016

کیا آپ کو معلوم ہے کہ سعودی عرب کے ایک بینک میں خلیفہء سوم حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالٰی عنہ کا آج بھی کرنٹ اکاونٹ ہے۔۔؟
یہ جان کر آپ کو حیرت ہو گی کہ مدینہ منورہ کی میونسپلٹی میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نام پر باقاعدہ جائیداد رجسٹرڈ ہے۔۔ اور آج بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے نام پر بجلی اور پانی کا بل آتا ہے۔۔۔۔۔۔

نبوت کے تیرہوں سال میں جب مسلمان ہجرت کر کے مدینہ منورہ پہنچے تو وہاں پینے کے پانی کی بہت قلت تھی ۔۔ مدینہ منورہ میں ایک یہودی کا کنواں تھا جو مسلمانوں کو پانی مہنگے داموں فروخت کرتا۔۔ اس کنویں کا نام "بئرِ رومہ" یعنی رومہ کا کنواں تھا۔۔
وہاں ان حالات سے پریشان ہو کر مسلمانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی اور اپنی پریشانی سے آگاہ کیا۔۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "کون ہے جو یہ کنواں خریدے اور مسلمانوں کے لیے وقف کر دے۔۔۔؟ ایسا کرنے پر اللہ تعالٰی اسے جنت میں چشمہ عطاء کرے گا۔۔"
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اس یہودی کے پاس گئے اور کنواں خریدنے کی خواہش کا اظہار کیا ۔۔ کنواں چونکہ منافع بخش آمدنی کا ذریعہ تھا اس لیے یہودی نے اسے فروخت کرنے سے انکار کر دیا ۔۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ تدبیر کی کہ یہودی سے کہا "پورا کنواں نہ سہی ۔۔۔ آدھا کنواں مجھے فروخت کر دو ۔۔۔ آدھا کنواں فروخت کرنے پر ایک دن کنویں کا پانی تمہارا ہو گا اور دوسرے دن میرا ہو گا۔۔"
یہودی ان کی اس پیشکش پر لالچ میں آ گیا ۔۔۔ اس نے سوچا کہ حضرت عثمان اپنے دن میں پانی مہنگے داموں فرخت کریں گے۔۔۔ اس طرح اسے زیادہ منافع کمانے کا موقع مل جائے گا ۔۔
چنانچہ اس نے آدھا کنواں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فروخت کر دیا ۔۔۔
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے وہ کنواں اللہ کی رضا کے لئے وقف کر کے اپنے دن مسلمانوں کو کنویں سے مفت پانی حاصل کرنے کی اجازت دے دی ۔۔ لوگ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دن مفت پانی حاصل کرتے اور اگلے دن کے لئے بھی ذخیرہ کر لیتے۔۔ یہودی کے دن کوئی بھی شخص پانی خریدنے نہ جاتا۔۔
یہودی نے دیکھا کہ اس کی تجارت ماند پڑ گئی ہے تو اس نے حضرت عثمان سے باقی آدھا کنواں بھی خریدنے کی پیشکش کر دی۔۔
اس پر حضرت عثمان راضی ہو گئے اور کم و بیش پینتیس ہزار درہم میں پورا کنواں خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا۔۔
اس دوران ایک مالدار آدمی نے عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو کنواں دوگنا قیمت پر خریدنے کی پیش کش کی۔۔
حضرت عثمان نے فرمایا کہ "مجھے اس سے کہیں زیادہ کی پیش کش ہے۔۔۔"
اس شخص نے کہا "میں تین گنا دوں گا۔۔۔"
حضرت عثمان نے فرمایا "مجھے اس سے بھی کئی گنا زیادہ کی پیش کش ہے۔۔۔"
اس آدمی نے کہا میں چار گنا دوں گا۔۔۔ حضرت عثمان نے فرمایا "مجھے اس سے بھی کہیں زیادہ کی پیش کش ہے۔۔۔"
اس طرح وہ شخص رقم بڑھاتا گیا اور حضرت عثمان یہی جواب دیتے رہے۔۔۔
یہاں تک اس آدمی نے کہا کہ "حضرت آخر کون ہے جو آپ کو دس گنا دینے کی پیش کش کر رہا ہے۔۔؟"
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ "میرا رب مجھے ایک نیکی پر دس گنا اجر دینے کی پیش کش کرتا ہے۔۔۔"

وقت گزرتا گیا اور یہ کنواں مسلمانوں کو سیراب کرتا رہا یہاں تک کہ عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دورِ خلافت میں اس کنویں کے اردگرد کھجوروں کا باغ بن گیا اور اسی دور میں ہی اس باغ کی دیکھ بھال ہوئی ۔۔

بعد ازاں آلِ سعود کے عہد میں اس باغ میں کھجور کے درختوں کی تعداد تقریباً پندرہ سو پچاس ہو گئی ۔۔
حکومتِ وقت نے اس باغ کے گرد چاردیواری بنوائی اور یہ جگہ میونسپلٹی میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام پر رجسٹرڈ کر دی ۔۔
وزارتِ زراعت یہاں کی کھجوریں بازار میں فروخت کرتی اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام پر بینک میں جمع کرواتی رہی ۔۔
چلتے چلتے یہاں تک اس اکاونٹ میں اتنی رقم جمع ہو گئی کہ مدینہ منورہ کے مرکزی علاقہ میں اس باغ کی آمدنی سے ایک کشادہ پلاٹ لیا گیا جہاں فندق عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام سے ایک رہائشی ہوٹل تعمیر کیا جانے لگا ۔۔
اس رہائشی ہوٹل سے سالانہ پچاس ملین ریال آمدنی متوقع ہے ۔۔ جس کا آدھا حصہ غریبوں اور مسکینوں کی کفالت اور باقی آدھا حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بینک اکاونٹ میں جمع ہوگا ۔۔
ذوالنورین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے اس عمل اور خلوصِ نیت کو اللہ رب العزت نے اپنی بارگاہ میں ایسے قبول فرمایا اور اس میں اتنی برکت عطا فرمائی کہ قیامت تک ان کے لیے صدقہ جاریہ بنا دیا ۔۔
یہی وہ لوگ ہیں جن کی جانیں اور مال اللہ تعالٰی نے اپنی جنتوں کے بدلے خرید لئے۔۔
یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کے ساتھ تجارت کی ۔۔۔
جنہوں نے اللہ عزوجل کو قرض دیا۔۔۔۔۔ اچھا قرض ۔۔۔۔۔ اور پھر اللہ تعالٰی نے انہیں کئی گنا بڑھا کر لوٹایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

Photos 31/08/2016

کیا ہم اچھے مسلمان ہیں کیا ہم اچھے انسان کہلانے کے حقدار ہیں فیصلہ کریں ؟؟؟

31/08/2016

عالمہ سے شادی
کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے شادی کر لی تو اسکو بیگم نے کہا کہ چونکہ میں عالمہ ھوں اسی وجہ سے ہم شریعت کے مطابق زندگی بسر کریں گے-
وہ آدمی اس بات سے بہت خوش ھوا کہ چلو اچھا ھوا کہ بیگم کی برکت سے گھر کی زندگی تو شریعت کے مطابق گزرے گی لیکن کچھ دنوں بعد بیگم نے اسکو کہا کہ دیکھو ھم نے گھر میں شریعت کے مطابق زندگی گزارنے کا عھد کیا تھا اور شریعت میں بیوی پر سسر و ساس کی خدمت واجب نہیں اور شریعت کے مطابق خاوند نے بیوی کیلئے علیحدہ گھر کا بندوبست بھی کرنا ھے لہذا میرے لئے علیحدہ گھر لے لو۔
وہ آدمی بڑا پریشان ھوا کہ علیحدہ گھر لینا تو مسلہ نہیں لیکن میرے بوڑھے والدین کا کیا بنے گا۔
اس پریشانی میں وہ شھر میں ایک مفتی دوست کے پاس ھیلپ کیلئے پہنچ گیا کہ مفتی صاحب کچھ میری مدد کرو میں تو پھنس گیا ھوں- مفتی نے کہا کہ بھائی بات تو وہ ٹھیک کرتی ھے- اس آدمی نے اس کو کہا کہ میں اپ کے پاس اس مسلہ کے حل کیلئے آیا ھوں فتوی لینے نہیں۔
مفتی نے کہا کہ بات ان کی بالکل ٹھیک ھے لیکن آپ چونکہ میرے دوست ھیں اسلئے دوستی کاحق بھی ادا کروں گا لہذا جا اور بیوی کو بتا کہ شریعت کی رو سے میں دوسری شادی بھی تو کر سکتا ھوں لہذا میں دوسری شادی کر رھا ھوں اور وہ میرے والدین کے ساتھ رہیگی ان کی خدمت بھی کریگی اور اپ کیلئے علیحدہ گھر لیتا ھوں آپ وہاں رھیں اور میری دوسری بیوی ادھر رھیگی۔
بیوی اس کے جواب سے سٹپٹا گئی اور بولی چلو دفعہ کرو دوسری شادی کو ۔۔۔ میں ادھر ہی رہونگی اور اپ کے والدین کی بھی خدمت کرونں گی کیونکہ یہ بھی اکرام مسلم ہے ۔

Photos 19/08/2016

جمعہ مبارک

Photos 18/08/2016

میرا اتنا قریب ہو کر تیری بیوی کو دیکھنا برا لگا ہے تو میرا نہیں میری نظر کا قصور ہے
کہتے ہیں قاہرہ سے اسوان جانے والی گاڑی میں سوار اس عمر رسیدہ شخص کی عمر کم از کم ساٹھ تو ہوگی اور اوپر سے اس کی وضع قطع اور لباس، ہر زاویے سے دیہاتی مگر جہاندیدہ اور سمجھدار بندہ لگتا تھا۔ ایک اسٹیشن پر گاڑی رکی تو ایک نوجوان جوڑا سوار ہوا جو اس بوڑھے کے سامنے والی نشست پر آن بیٹھا۔ صاف لگتا تھا کہ نوبیاہتا ہیں۔ مگر افسوس کی بات یہ تھی کہ لڑکی نے انتہائی نامناسب لباس برمودہ پینٹس کے ساتھ ایک بغیر بازؤں کی کھلے گلے والی شرٹ پہن رکھی تھی جس سے اس کے شانے ہی نہیں اور بھی بہت سارا جسم دعوت نظارہ بنا ہوا تھا۔
مصر میں ایسا لباس پہننا کوئی اچھوتا کام نہیں، اور نا ہی کوئی ایسے لباس پہنی کسی لڑکی کو شوہدے پن سے دیکھتا یا تاڑتا ہے۔ مگر دوسرے مسافروں کے ساتھ ساتھ لڑکی کے خاوند کی حیرت دید کے قابل تھی کہ اس بوڑھے نے لڑکی کو دیدے پھاڑ پھاڑ کر دیکھنا شروع کر دیا تھا۔
چہرے سے اتنا پروقار اور محترم نظر آنے والے شخص کی حرکتیں اتنی اوچھی، بوڑھے کی نظریں تھیں کہ کبھی لڑکی کے شانوں پر تو کبھی لڑکی کی عریاں ٹانگوں پر۔ اوپر سے مستزاد یہ کہ بوڑھے نے اب تو باقاعدہ اپنی ٹھوڑی کے نیچے اپنی ہتھیلیاں ٹیک کر گویا منظر سے تسلی کے ساتھ لطف اندوز ہونا شروع کر دیا تھا۔
بوڑھے کی ان حرکات سے جہاں لڑکی بے چین پہلو پر پہلو بدل رہی تھی وہیں لڑکا بھی غصے سے تلملا رہا تھا، بالآخر اس نے پھٹتے ہوئے کہا: بڑے میاں، کچھ تو حیا کرو، شرم آنی چاہئے تمہیں، اپنی عمر دیکھ و اور اپنی حرکتیں دیکھو، اپنا منہ دوسری طرف کرو اور میری بیوی کو سکون سے بیٹھنے دو۔
بوڑھے دیہاتی نے لڑکے کی بات تحمل سے سنی اور متانت سے جواب دیا: لڑکے، میں نا تو جوابا تجھے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ تو خود کچھ شرم و حیاکر۔ نا ہی تجھے یہ کہوں گا کہ تجھے اپنی بیوی کو ایسا لباس پہناتے ہوئے شرم نہیں آتی؟ تو ایک آزاد انسان ہے، بھلے ننگا گھوم اور ساتھ اپنی بیوی کو بھی گھما۔
لیکن میں تجھے ایک بات ضرور کہنا چاہتا ہوں، کیا تو نے اپنی بیوی ایسا لباس اس لئے نہیں پہنایا کہ ہم اسے دیکھیں۔ آگر تیرا منشا ایسا تھا تو پھر کاہے کا غصہ اور کس بات کی تلملاہٹ؟
بوڑھے نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا؛ دیکھ میرے بیٹے، تیری بیوی کا جتنا ایک جسم ڈھکا ہوا ہے اس پر تیرا حق ہے کہ تو دیکھ، مگر اس کا جتنا ایک جسم کھلا ہوا ہے اس پر تو ہم سب کا حق بنتا ہے کہ ہم دیکھیں۔ اور اگر تجھے میرا اتنا قریب ہو کر تیری بیوی کو دیکھنا برا لگا ہے تو میرا نہیں میری نظر کا قصور ہے جو کمزور ہے اور مجھے دیکھنے کیلئے نزدیک ہونا پڑتا ہے۔
بوڑھے کی باتیں نہیں اچھا درس تھا مگر ذرا ہٹ کر، لوگوں نے جان لیا تھا کہ بوڑھا اپنا پیغام اس جوڑے تک پہنچا چکا ہے۔ لڑکی کا چہرہ آگر شرم سے سرخ ہو رہا تھا تو لڑکا منہ چھپائے چلتی گاڑی سے اترنے پر آمادہ۔ اور ہوا بھی ایسے ہی، اگلے اسٹیشن پر لڑکے نے جب گاڑی سے اترنے کیلئے باہر کی طرف لپکنا چاہا تو بوڑھے نے پیچھے سے آواز دیتے ہوئے کہا؛ بیٹے ہمارے دیہات میں درخت پتوں سے ڈھکے رہیں تو ٹھیک، ورنہ آگر کسی درخت سے پتے گر یا جھڑک جائیں تو ہم اسے کلہاڑی سے کاٹ کر تنور میں ڈال دیا کرتے ہیں

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address

Gulshan-e-hadeed
Karachi
75010