Khara Sach - Urdu University

Khara Sach - Urdu University

Share

Welcome to Khara Sach - ہمیشہ سچ کی طلب میں! Let's work together to uncover the real truth. Follow us to keep updated.

At Khara Sach, truth isn't just an idea, it's what we promise.

24/08/2025

یہ گردش کرنے والی خبریں کہ سندھ ہائی کورٹ نے "ڈاکٹر مہ جبین اور ڈاکٹر شاہین عباس کے عہدے بحال کر دیے اور سینیٹ کے فیصلے کو معطل کر دیا" ہیں، غلط اور گمراہ کن ہیں۔ اصل عدالتی حکم، جو C.P. No. D-1257/2021 کے تحت جاری ہوا، صرف یہ ہدایت دیتا ہے کہ یونیورسٹی کے حکام درخواست گزاروں کے سروس ریکارڈ کا جائزہ لیں، متعلقہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کو مدنظر رکھیں، اور تین ماہ کے اندر درخواست گزاروں کو ذاتی سماعت کا موقع فراہم کرنے کے بعد نیا فیصلہ کریں۔ اس دوران بی پی ایس 19 پروموشن کو واپس لینے کا سینیٹ کا فیصلہ عارضی طور پر معطل رہے گا، لیکن سابقہ عہدے خود بخود بحال نہیں ہوں گے، نہ ہی ڈین یا چیئرپرسن کی عارضی بحالی ہوگی، اور نہ ہی عدالت نے سینیٹ کے اختیار کو ختم کیا ہے۔ سینیٹ میں ٹمپیرنگ، خودکار بحالی یا شفافیت کے لیے تاریخی فیصلہ ہونے کے دعوے مکمل طور پر جھوٹے ہیں اور اصل حکم کی عکاسی نہیں کرتے۔

24/08/2025

یہ گردش کرنے والی خبریں کہ سندھ ہائی کورٹ نے "ڈاکٹر مہ جبین اور ڈاکٹر شاہین عباس کے عہدے بحال کر دیے اور سینیٹ کے فیصلے کو معطل کر دیا" ہیں، غلط اور گمراہ کن ہیں۔ اصل عدالتی حکم، جو C.P. No. D-1257/2021 کے تحت جاری ہوا، صرف یہ ہدایت دیتا ہے کہ یونیورسٹی کے حکام درخواست گزاروں کے سروس ریکارڈ کا جائزہ لیں، متعلقہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کو مدنظر رکھیں، اور تین ماہ کے اندر درخواست گزاروں کو ذاتی سماعت کا موقع فراہم کرنے کے بعد نیا فیصلہ کریں۔ اس دوران بی پی ایس 19 پروموشن کو واپس لینے کا سینیٹ کا فیصلہ عارضی طور پر معطل رہے گا، لیکن سابقہ عہدے خود بخود بحال نہیں ہوں گے، نہ ہی ڈین یا چیئرپرسن کی عارضی بحالی ہوگی، اور نہ ہی عدالت نے سینیٹ کے اختیار کو ختم کیا ہے۔ سینیٹ میں ٹمپیرنگ، خودکار بحالی یا شفافیت کے لیے تاریخی فیصلہ ہونے کے دعوے مکمل طور پر جھوٹے ہیں اور اصل حکم کی عکاسی نہیں کرتے۔

*ڈاکٹر مہ جبین اور ڈاکٹر شاہین عباس کے عہدے بحال، ہائی کورٹ نے سینیٹ کے فیصلے کو معطل کر دیا*

*سینیٹ کو تین ماہ میں ذاتی سماعت کے بعد نیا فیصلہ کرنے کی ہدایت*

*کراچی (22 اگست 2025)* — سندھ ہائی کورٹ کراچی نے اپنے ایک اہم فیصلے میں فیڈرل اردو یونیورسٹی آف آرٹس، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (FUUAST) کے دو سینئر اساتذہ، پروفیسر ڈاکٹر مہ جبین (سابق ڈین فیکلٹی آف فارمیسی) اور ڈاکٹر شاہین عباس (چیئرپرسن و ایسوسی ایٹ پروفیسر، شعبہ ریاضیاتی علوم) کے حق میں عبوری ریلیف دیتے ہوئے اُن کے عہدے اور سلیکشن بورڈ ختم کرنے کا سینیٹ کا فیصلہ معطل کر دیا ہے۔

عدالت عالیہ نے C.P No. D-2313/2024 اور C.P No. D-1647/2024 کی سماعت کے بعد اپنے حکم میں کہا کہ:

* معاملہ دوبارہ غور کے لیے جامعہ کی سینیٹ کو بھیجا جائے؛
* متعلقہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کو مدنظر رکھا جائے؛
* اور دونوں کو ذاتی سماعت کا مکمل موقع فراہم کیا جائے۔

مزید برآں عدالت نے حکم دیا کہ سینیٹ کی 49ویں میٹنگ میں لیے گئے وہ فیصلے، جن کے تحت دونوں اساتذہ کے سلیکشن بورڈ اور عہدوں کو کالعدم قرار دیا گیا تھا، *سینیٹ کے نئے اور حتمی فیصلے تک معطل رہیں گے*۔

اس فیصلے کے نتیجے میں ڈاکٹر مہ جبین اپنی سابقہ حیثیت پروفیسر/ڈین فیکلٹی آف فارمیسی (BPS-21) اور ڈاکٹر شاہین عباس اپنی سابقہ حیثیت *ایسوسی ایٹ پروفیسر و چیئرپرسن شعبہ ریاضیاتی علوم (BPS-20)* پر برقرار رہیں گی، جب تک کہ سینیٹ تین ماہ میں حتمی فیصلہ نہ کر دے۔ عدالت نے واضع کیا کہ سینٹ فیصلہ میں کسی بھی انفلونس کے بغیر ہو۔

یہ عدالتی فیصلہ جامعہ اردو میں شفافیت، میرٹ اور اساتذہ کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی جانب ایک اہم سنگ میل سمجھا جا رہاہے
یہ فیصلہ سندھ ہائی کورٹ کراچی میں C.P No. D-2313/2024 & C.P No. D-1647/2024 کے تحت دیا گیا۔

واضع رہےکہ سینٹ کے 49 ویں اجلاس کے منٹس میں ٹمپپرنگ کے الزام میں سینٹ کے آٹھ اراکین نے میں قاٸمقام رجسٹرار محمد صدیق کے خلاف واٸس چانسلر کو خط لکھ کر منٹس میں ٹمپرنگ کا الزام عاٸد کیا گیا تھا ۔
fans
Federal Urdu University of Arts, Sciences And Technology - Fuuast

Photos from Federal Urdu University of Arts, Sciences And Technology - Fuuast's post 20/07/2025

Zabta Khan Shinwari Zk Shinwari

26/03/2025


‎ریاضیاتی علوم کا شعبہ، جو ایک وقت میں وفاقی جامعہ اردو کے سب سے مضبوط شعبوں میں سے ایک تھا، اب انتہائی خراب حالت میں پہنچ چکا ہے۔ اس بدحالی کی بنیادی وجہ ڈاکٹر شاہین عباس کی قیادت ہے۔ ان کی موجودگی میں شعبے کی فعالیت اور معیار نمایاں طور پر متاثر ہوا ہے۔

‎ڈاکٹر شاہین عباس پر الزام ہے کہ وہ تعلیمی اور انتظامی مسائل کو حل کرنے کے بجائے مذہب کا حوالہ دینے اور خواتین کے حقوق کا کارڈ کھیلنے کا سہارا لیتی ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف شعبے کی ترقی میں رکاوٹ بنا بلکہ اس کے نتیجے میں شعبے کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا۔

‎تاہم، حالیہ تبدیلیاں ایک امید کی کرن کے طور پر دیکھی جا رہی ہیں۔ شعبے میں نئی قیادت کی تقرری سے توقع ہے کہ ریاضیاتی علوم کے شعبے میں دوبارہ نظم و ضبط اور ترقی کا آغاز ہوگا۔ جو افراد واقعی تعلیمی ترقی اور ادارہ جاتی بہتری میں دلچسپی رکھتے ہیں، وہ شعبے کو ایک مستحکم اور مثبت سمت میں لے جا سکتے ہیں۔

‎یہ فیصلہ ریاضیاتی علوم کے شعبے کے لیے بہتر مستقبل کی راہ ہموار کر سکتا ہے، جہاں میرٹ، شفافیت، اور تعاون کو ترجیح دی جائے گی۔ ان حالات میں، شعبے کی سابقہ حالت کو بحال کرنے اور اسے ترقی کی نئی منزلوں تک پہنچانے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

‎مجھے لگتا ہے کہ یونیورسٹی اور تعلیمی کارکردگی تو اس کے لیے ایسے ہیں جیسے مچھلی کے لیے پہاڑ چڑھنا! وہ بس ذہنی تفریحی موڈ میں ہے اور اسے کسی پروفیسر سے زیادہ کسی ڈاکٹر کی ضرورت ہے۔ لیکن کیا کریں، دل ہے کہ مانتا نہیں، اس کی پھر بھی فکر رہتی ہے!

*وفاقی جامعہ اردو میں اساتذہ کے استحصال کا سلسلہ جاری، ہائی کورٹ کے اسٹے آرڈر کی خلاف ورزی*

کراچی: وفاقی جامعہ اردو کے وائس چانسلر ڈاکٹر ضابطہ خان شینواری اور قائم مقام رجسٹرار سعدیہ خلیل کے مبینہ غیر قانونی اقدامات کے نتیجے میں جامعہ کے اساتذہ اور ملازمین کے استحصال کا سلسلہ جاری ہے۔ حالیہ معاملے میں ہائی کورٹ کے اسٹے آرڈر کے باوجود شعبہ ریاضیاتی علوم کی ایسوسی ایٹ پروفیسر اور چیئرپرسن ڈاکٹر شاہین عباس کو ان کے عہدے سے ہٹا کر ایک جونیئر اسسٹنٹ پروفیسر کو انچارج بنانے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

یہ معاملہ اس وقت مزید مشکوک ہوگیا جب اس فیصلے کے جواز میں ایک نامعلوم کمیٹی کی سفارشات کا حوالہ دیا گیا، حالانکہ ایسا کوئی قانون موجود نہیں کہ کسی فرد پر کمیٹی بنائی جائے اور اسے مطلع تک نہ کیا جائے۔ یہ اقدام جامعہ کی انتظامیہ کی جانب سے شفافیت کی شدید خلاف ورزی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی نشاندہی کرتا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر شاہین عباس کا کہنا ہے کہ انہوں نے چیئرپرسن کا چارج سنبھالنے کے بعد شعبے میں جعلی ورک لوڈ اور سیکشنز کی نشاندہی کی، جن کے ذریعے درجنوں کنٹریکٹ لیکچررز رکھ کر جامعہ کو سالانہ 44 لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا جا رہا تھا، جو گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری تھا۔

مزید برآں، اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر امبر نہاں کاشف، جنہیں انچارج بنانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے، اور ان کے شوہر ڈاکٹر کاشف بن ظہیر مبینہ طور پر جامعہ اردو سے اسکالرشپ کی مد میں لیے گئے کروڑوں روپے کے نادہندہ ہیں، جن سے ریکوری جاری ہے۔

ڈاکٹر شاہین عباس نے وائس چانسلر کو تحریری طور پر آگاہ کیا ہے کہ انہیں ایک خاص ذہنیت کے تحت مسلسل ہراساں اور پریشان کیا جا رہا ہے، جس سے ان کی جان، مال اور کیریئر کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ اگر ان کے خلاف ہراسانی اور توہینِ عدالت کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو وہ وائس چانسلر، رجسٹرار، رئیس کلیہ سائنس محمد زاہد اور دیگر ذمہ داران کے خلاف قانونی چارہ جوئی اور ایف آئی آر درج کرانے کا حق محفوظ رکھتی ہیں۔

یہ صورتحال جامعہ اردو میں بدانتظامی اور اساتذہ کے ساتھ غیر منصفانہ رویے کی عکاسی کرتی ہے، جو اعلیٰ تعلیمی اداروں میں میرٹ اور قانون کی بالادستی کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔
واضع رہے کہ پہلے ہی ہاٸیکورٹ کی جانب سے کورٹ ارڈر کے برخلاف ایسوسی ایٹ پروفیسر کی سیلری جاری نہ کرنے پر توھین عدالت کا کیس بھی زیر سماعت ہے۔
توھین عدالت کے مسلہ کو چھیڑنا دراصل شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شینواری کے خلاف قاٸمقام رجسٹرار ، رٸیس کلیہ ساٸنس محمد زاہد ، اور محمد صدیق کی جانب سے کی گٸی سازش کا شاخسانہ ہے ۔اگر اس بنیاد پر شیخ الجامعہ کو سزا ہوتی ہے تو رٸیس کلیہ ساٸنس قاٸمقام شیخ الجامعہ جاٸیگا۔ اور مستقل شیخ الجامعہ کا خواب دیکھیں گے۔
دوسری جانب یہ بھی کہا جارہا ہے کہ سابقہ رجسٹرار ثمرہ ضمیر کے دور میں اساتذہ کے خلاف انتقامی کارواٸی ختم ہوچکی تھی اور شیخ الجامعہ کے خلاف غم و غصہ کافی حد تک کم ہوتا دیکھاٸی دیتا تھا لیکن ایک بار پھر ایک سازش کے تحت جونٸیر استاد سعدیہ خلیل کو عہدہ دلوا کر رٸیس کلیہ ساٸنس اور محمد صدیق کی جانب سے مرضی کے انتقامی کاروایاں کرواکر مزید شیخ الجامعہ کے خلاف راٸے عامہ میں منفی تاثر قاٸم کرنا ہے۔
خاص طور پر مسلکی نفرت پر مبنی کاروایاں کرکے اور تفرقہ پھیلا کر یہ مخصوص ٹولہ اپنے شیطانی ایجنڈے پر عمل کر رہے ہیں۔ تاکہ شیخ الجامعہ کا دھڑم تختہ ہو
اس بڑی سازش کو سمجھنے کے لٸے شیخ الجامعہ کو اپنی انا کے کھول سے باہر نکلنا ہوگا۔چونکہ انکی نہ تو کسی سے زاتی دشمنی ہے نہ کو ٸی اور مسلہ تو پھر ان لوگوں کی جال میں پھنسنے سے پہلے ان شیطان صفت عہدے داروں کو اپنے عہدوں سے ہٹانا پڑے گا ۔

ورنہ پانی سر سے گزرنے کے بعد کچھ باقی نہیں بچے گا۔

اب پچتاٸے کیا ہوت جب چڑیاں چکھ گٸے کھیت

22/12/2024

The university environment has been significantly deteriorated by the persistent actions of two groups: ISO and PSF. These groups have consistently been at the forefront of creating chaos and unrest within the university premises. Their influence is so pervasive that having connections with either group can easily ensure passing exams, regardless of academic merit. This has led to a culture where students can engage in hooliganism as if the university were their personal domain.

ISO and PSF have been notorious for instigating conflicts, often using religion as a tool to justify their actions. They label their opponents as "Yazid," exploiting religious sentiments to gain support and create divisions among students. This constant bickering and fighting, especially over new female students in the first semester, has further tarnished the university's reputation. It is shameful that these individuals, who claim to be students, are the very reason the university is in such a deplorable state today.

The negative impact of these groups on the university's environment is undeniable. Their actions have not only disrupted the academic atmosphere but have also posed a threat to the safety and well-being of other students. It is high time that the university administration takes stringent measures to ban these useless parties. Only by doing so can we hope to restore peace and ensure a conducive environment for learning and personal growth. The future of our students and the integrity of our educational institutions depend on it.

Photos from Higher Education Commission, Pakistan's post 24/04/2024
21/04/2024

سبق پھر پڑھ صداقت کا ، عدالت کا، شجاعت کا....

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

W36Q+FQJ, Main University Road, Block 9 Gulshan-e-Iqbal City, Sindh
Karachi
75300